Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

اسلام آباد کا یہ منظر دیکھا پولیس اہلکاروں کے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔ اب چاہے اس کو گولی مار دی جائے لیکن یہ لونڈا نصف درجن پولیس اہلکاروں کو چوہے کی طرح بھگانے میں کامیاب رہا۔ نہ کوآرڈینیشن نہ ٹریننگ ہمارا پیسہ کس جگہ لگ رہا ہے؟

136,426 Aufrufe • vor 9 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

اس ویڈیو میں ایک خاتون ہاتھ جوڑ کر فریاد کرتی نظر آ رہی ہے، جو کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے تشویشناک منظر ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر وفاقی دارالحکومت میں عوام کو انصاف اور سروس کے لیے اس طرح اپیلیں کرنا پڑیں تو پھر ذمہ داری کس کی بنتی ہے؟ دو سال گزرنے کے باوجود اگر اسلام آباد پولیس کی سروس ڈلیوری پر سوالات اٹھ رہے ہیں تو یہ وقت ہے کہ اس پورے نظام کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے۔ پاکستان میں قابل اور تجربہ کار افسران کی کمی نہیں، اس لیے عوامی حلقوں میں یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا وفاقی پولیس کو ایسے افسران کے سپرد نہیں ہونا چاہیے جو عملی تجربے کے ساتھ دارالحکومت کی پولیس کو بہتر انداز میں چلا سکیں۔اسلام آباد پولیس کے آپریشن ڈویژن کے حوالے سے بھی یہ تاثر سامنے آ رہا ہے کہ اختیارات کا توازن درست نہیں۔ ایس ایس پی آپریشن کو وسیع اختیارات حاصل ہیں جبکہ ڈی آئی جی آپریشن جیسے سینئر عہدے کو مکمل طور پر مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع نہیں مل رہا۔حقیقت یہ ہے کہ ڈی آئی جی آپریشن جیسے تجربہ کار افسران اگر مکمل اختیارات اور سپورٹ کے ساتھ کام کریں تو اسلام آباد پولیس کا آپریشنل نظام کہیں زیادہ مضبوط اور مؤثر ہو سکتا ہے۔ عوام کی توقع صرف ایک ہے: دارالحکومت کی پولیس مضبوط، منظم اور حقیقی معنوں میں عوام دوست نظر آئے۔ Islamabad Police Mohsin Naqvi

Abbas Ahmed

12,152 Aufrufe • vor 5 Monaten