正在加载视频...

视频加载失败

اسلام آباد:ذرائع کےمطابق بحریہ ٹاؤن سوک سنٹروفاقی پولیس کےمساج سنٹرزپرچھاپےمتعددگرفتاریوں کےبعدچھوڑدیےگئے چھوڑےجانےوالےلوگ کون تھےاورکس کےکہنےپرچھوڑےگئے کون ملوث ہےاس سب میں اورکس کافائدہ ہے؟ Islamabad Police

16,846 次观看 • 8 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

آپ اسلام آباد کو اپنی آنکھوں کے سامنے بگڑتے دیکھ رہے ہیں۔ جو کام کبھی دیگر شہروں میں ہوتا تھا وہ اب یہاں شروع ہے۔ یہ جناح ایونیو ہے جہاں اب فٹ پاتھ پارکنگ بنتا جارہا ہے۔ سی ڈی اے ہو یا اسلام آباد ٹریفک پولیس ان کی ترجیح شہر کی خوبصورتی یا ٹریفک/پارکنگ ایشوز پر سختی کرنی نہیں رہ گئی۔ سی ڈی اے بابوز ویسے ہی پانچ دس ارب روپے کم پراجیکٹ سے کم میں ہاتھ نہیں ڈالتے۔ میں حیران ہوتا ہوں کیا سی ڈی اے کے دس بارہ ہزار ملازمین یا ضعلی انتظامیہ کے سینکڑوں ملازم:بابوز/افسران کو شہر کی بگڑتی صورت حال نظر نہیں آتی۔ کیا وہ شہر میں کبھی نہیں نکلے؟ سب شہروں کو دھیرے دھیرے بگاڑنے کے بعد اب اس طرح اپنے فرائض کو پورا کرنے میں ناکامی کے اب انہوں نے اسلام آباد کو بھی برباد کرنے کی ٹھان لی ہے۔ ہمارے بابوز ہوں یا پولیس یہ کام کیوں نہیں کرتے؟ اگر مین روڈ کے فٹ پاتھ پر پارکنگ بن گئی ہے تو اندازہ کر لیں باقی شہر میں یہ افسران اپنے کام میں کتنے سنجیدہ ہیں۔ یہ سب اعلی عہدے سفارشوں پر لیتے پیں لیکن ان عہدوں کے ساتھ جڑی بھاری ذمہ داریاں نہیں لیتے۔ انہیں یقین ہے اعلی عہدے کارگردگی نہیں خوشامد اور سفارش پر ملتے پیں لہذا یہ سب مست ہیں۔ ہوسکتا ہے یہ سب آپ کو بڑی معمولی بات لگے گی لیکن یہ معمولی باتوں کو نظر انداز کر کے ہی آپ نے اپنے شہر برباد کیے ہیں۔ یہی نتیجہ اب یہاں اسلام آباد میں بھی نکل رہا ہے۔ Shehbaz Sharif Mohsin Naqvi Sohail Raja Khurram Nawaz Palwasha Khan Sardar Ayaz Sadiq Capital Development Authority - CDA, Islamabad Islamabad Police Junaid Akbar Ahsan Iqbal Attaullah Tarar

Rauf Klasra

65,630 次观看 • 1 个月前

کلمہ پڑھ، مسلمان ہو جا سندھ پولیس کی شرمناک حرکت ۔ ایک نوجوان شیلنگ اور لاٹھی چارج سے نڈھال ہے، منہ سے خون بہہ رہا ہے۔ اسے سندھ پولیس کے بےشرم اہلکار تشدد کرکے کلمہ پڑھنے کا کہہ رہے ہیں۔ ساتھ میں کہتے ہیں کلمہ پڑھنا نہیں آتا، اور نام اسلام کا لیتے ہو۔ اس نوجوان نے چلتے کلمہ پڑھا، اسے سنا جا سکتا ہے۔ کلمہ پڑھنے کا مطالبہ کرنے والا ساتھ میں گالیاں بھی بک رہا ہے، اور جرم یہ ہے کہ اس نوجوان کا ہاتھ وردی پر لگ جاتا ہے۔ یہ کون لوگ ہیں، کیسے بے حسن اور بےشرم اور اخلاق سے گرے ہوئے لوگ ہیں سندھ پولیس کے اہلکار نہ صرف اسے مار رہے ہیں، بلکہ اس کی جیب میں ہاتھ ڈال کر چوری بھی کر رہے ہیں، ایک اہلکار کو دیکھا جا سکتا ہے۔ پیپلزپارٹی کی فسطائیت اور وڈیرہ شاہی کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ نام جمہوریت کا لیتے ہیں، رویہ فاشسٹوں والا ہے۔ اس موقع پر ان لوگوں کو بھی یاد رکھیں جنھوں نے سندھ بالخصوص کراچی کو پیپلزپارٹی کو کرائے پر دے رکھا ہے۔ کراچی سے کوئی غرض نہیں، زرداری فرنٹ مین بنا رہے، تو سب قبول ہے۔ افسوسناک شرمناک

Shamsuddin Amjad

53,367 次观看 • 6 个月前

ہائی کورٹ بار کے جوائنٹ سیکرٹری ندیم اختر جویہ کی صحافی کے خلاف 7ATA کے تحت درج ایف آئی آر پر اسلام آباد پولیس پر تنقید اسلام آباد – 2 اکتوبر 2024 – سینئر صحافی جاوید اقبال اور ان کے تین کمسن بچوں پر اسلام آباد پولیس کی جانب سے وحشیانہ تشدد اور غیر قانونی گرفتاری پر ملک بھر کی صحافتی اور قانونی تنظیموں نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے جوائنٹ سیکریٹری ندیم اختر جویہ نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ "اسلام آباد پولیس صحافیوں اور وکلاء کی آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس ظلم کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور ہم صحافی برادری کے ساتھ کھڑے ہیں۔" یہ افسوسناک واقعہ اُس وقت پیش آیا جب جاوید اقبال ڈی آئی جی اسلام آباد سید علی رضا کے دفتر میں ملاقات کے لیے پہنچے۔ اس دوران ایس آئی عدیل شوکت، ایس ایچ او آبپارہ اور ایس آئی عظیم، ایس ایچ او شہزاد ٹاؤن نے انہیں جھوٹا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ویڈیو بنائی ہے۔ ان کا موبائل فون چھین لیا اور ان پر بچوں کے سامنے تشدد کیا گیا۔ جب فون کی تلاشی لی گئی تو اس میں کوئی ویڈیو یا تصویر نہیں ملی۔ اس کے باوجود جاوید اقبال اور ان کے تینوں بچوں، جن میں سب سے بڑا بچہ پانچ سال کا تھا، کو گرفتار کر کے تھانہ رمنا منتقل کر دیا گیا۔ پولیس نے اپنی غیر قانونی کارروائی کو چھپانے کے لیے جاوید اقبال کے خلاف ایک جھوٹا ایف آئی آر (نمبر 857/24) درج کرایا، جس میں انسداد دہشت گردی ایکٹ (7ATA)، دفعہ 353، 506-II، 355 اور 186 شامل کی گئیں۔ راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (RIUJ) ورکرز اور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اس ظلم اور زیادتی کی بھرپور مذمت کی ہے۔ جنرل سیکریٹری آر آئی یو جے ورکرز سید بلال عزت نقوی نے اسلام آباد پولیس پر تنقید کرتے ہوئے کہا، "پولیس اپنی اصل ذمہ داریوں سے ہٹ کر ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے میں مصروف ہے۔ اسلام آباد میں جرائم کی شرح بڑھ رہی ہے اور آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی ، جو کہ ایک تجربہ کار افسر ہیں، کو پولیس افسران کے رویے کے حوالے سے تربیتی سیشنز کا اہتمام کرنا چاہیے۔ صرف ٹک ٹاک ویڈیوز جرائم کو روکنے میں مددگار نہیں ہو سکتیں۔" جاوید اقبال اور ان کے کمسن بچوں کے ساتھ ہونے والی یہ ظالمانہ اور غیر قانونی کارروائی نے صحافتی اور قانونی حلقوں میں شدید غصے کی لہر دوڑا دی ہے، جو اس واقعے کو پاکستان میں صحافیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے جبر کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے ندیم اختر جویہ نے مزید کہا کہ پولیس کی یہ کارروائیاں صحافیوں اور وکلاء کو ڈرانے اور دبانے کے لیے کی جا رہی ہیں، لیکن قانونی برادری ان مشکل حالات میں اپنے صحافی ساتھیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔ راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (RIUJ) ورکرز، ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور دیگر شہری تنظیمیں اس واقعے کی فوری اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کر رہی ہیں اور مطالبہ کرتی ہیں کہ جاوید اقبال کے خلاف جھوٹے مقدمات ختم کیے جائیں اور اس واقعے میں ملوث پولیس افسران کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ Islamabad Police Shehbaz Sharif Saleh Mughal Farhan Hussain Matiullah Jan Siddique Jan Sabir Shakir #freejavaidiqbal #islamabadpolice #CHANELSpringSummer Hamid Mir حامد میر

Syed Bilal Izzat Naqvi

42,663 次观看 • 1 年前

ایک رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کے تھانہ لوہی بھیر کی حدود بحریہ ٹاؤن فیز فور میں واقع میڈیسنٹ ہسپتال کے ڈاکٹر ارشد کی مبینہ غفلت کے باعث سات سالہ بچی ذونائشہ عمیر دم توڑ گئی- بچی کی ماں کی دہائی- انصاف کی اپیل- واقعہ 25 جون 2025ء کو اس وقت پیش آیا جب سات سالہ ذونائشہ کو ناک اور گلے کے درمیان غدود (Adenoids) کے آپریشن کے لئے بحریہ ٹاؤن فیز فور اسلام آباد میں واقع میڈیسنٹ ہسپتال لے جایا گیا- ورثاء کے مطابق بچی بالکل صحت مند تھی اور خود چل کر ہسپتال گئی جہاں اس نے ہسپتال کے پیپرز پر خود دستخط کئے اور آپریشن تھیٹر میں جاتے ہوئے اس نے اپنی ماں سے کہاکہ آپریشن کے بعد میں جوس اور چپس کھاؤں گی۔ لیکن وہ ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت کی بھینٹ چڑھ گئی- ورثاء کے مطابق بچی کے انتقال کے باوجود ڈاکٹروں نے ان سے حقیقت چھپائی- والدین کے مطابق ڈاکٹر ارشد چوہان کی نگرانی میں اینستھیزسٹ ڈاکٹر انیق الرحمان نے بچی کو Anesthesia کی زیادہ خوراک دے کر موت کے گھاٹ اتار دیا- ہم انصاف چاہتے ہیں- ارباب اختیار سے اس افسوسناک واقعے کی غیر جانبدارانہ انکوائری کی درخواست ہے- Syed Mustafa Kamal Mohsin Naqvi Islamabad Police

Amir H. Qureshi

129,486 次观看 • 1 年前

اسلام آبادایس پی عدیل اکبر اورانکی فیملی کوانصاف کون دےگا؟ لاہور:یہ خبرروزنامہ ڈان میں15مئی2018کو رپورٹرآصف چوہدری صاحب نےشائع کی تھی جس رپورٹ کےمطابق ایک فیکٹ فائنڈنگ انکوائری ٹربیونل نےپنجاب پولیس کے ایک سینئر افسر معروف مسعودصفدر واهلہ کے بارے میں سفارش کی کہ ان کی کاؤنسلنگ کی جائے تاکہ ان کے رویے اورنظم و ضبط میں بہتری لائی جا سکےیہ سفارش پنجاب ایلیٹ پولیس فورس کےڈی آئی جی افضل محمود بٹ نےتیار کی تھی اور اسے آئی جی پولیس کو بھیجا گیاتھا۔یہ پہلا موقع تھا کہ کسی پولیس سروس آف پاکستان کےافسر کے خلاف بدتمیزی اور غیر مناسب رویے پر اس نوعیت کی کارروائی کی گئی انکوائری میں ان کے خلاف چار میں سے تین الزامات ثابت ہوئےجن میں ماتحت عملے کے ساتھ غیر شائستہ اور سخت زبان کا استعمال،چھٹی کی درخواست براہ راست اعلیٰ افسر کو بھیجنا اوراہم میٹنگز میں شرکت نہ کرناشامل تھا،اسکےساتھ ساتھ ایک بار ایک موقع پرمرحوم پولیس اہلکار کی فیملی کوایک چیک غلط بھیجا جس میں مرحوم اہلکار کے وارثوں کے نام کے بجائےسلف لفظ لکھا گیاالبتہ ان پر لگایا گیا کرپشن کا الزام شواہد کی کمی کی وجہ سے ثابت نہ ہوسکاتھا رپورٹ میں سفارش کی گئی کہ مروف واهلہ کو سینئر سطح پر کاؤنسلنگ کے لیے ان کے عہدے سے فوراً تبدیل کیا جائےمگردلچسپ امر یہ ہے کہ انکوائری کے دوران ہی انہیں اسسٹنٹ انسپکٹر جنرل ٹریننگ تعینات کر دیا گیاتھاوہ ان پولیس افسران میں بھی شامل تھے جن پر سانحہ ماڈل ٹاؤن 2014 میں شہریوں کی ہلاکتوں کا الزام بھی لگایا گیا تھا۔ جبکہ یہی موصوف وہ افسرہیں جنکی وجہ سےایک معصوم ایس پی کی جان گئی انکوفوری طورپرڈسمس فرام سروس کریں اورمقدمہ درج کرکےکاروائی بھی کرنی چائیےنہ جانےکتنے خاندان آج تک موصوف کی وجہ سےازیت کاشکارہوےہوں گےخداراعدیل اکبرکواورانکی فیملی کوانصاف دیں آپ نےبھی اللہ کوجان دینی ہے؟ #justiceforAdeelAkbar

Ali Imran Abbasi

47,810 次观看 • 9 个月前

عون بھائی اور ڈرائیور نے مجھے بار بار زیا۔دتی کا نشانہ بنایا ۔۔ سب سے زیادہ ظلم میرے ساتھ رمضان شریف میں ہوا ، باجی کو سب کچھ بتایا لیکن وہ بولیں ،میرے بیٹے نے تمہارے ساتھ کچھ کیا بھی ہے تو بچہ اسکا نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔ ماڈل ٹاؤن کی ایک کوٹھی میں مسلسل ظلم کا شکار ہونے کے بعد اسقا۔ط حمل کے دوران جان بحق ہونے والی گھریلو ملازمہ کا آخری بیان ۔۔۔۔۔لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن میں اس 17 سترہ سالہ گھریلو ملازمہ کو عون بھائی یعنی کوٹھی مالکن کا بڑا اور شادی شدہ بیٹا ظلم کا نشانہ بناتا رہا ، گھر کے ڈرائیور نے بھی مفت کا مال سمجھ کر اور سب کو بتانے کا کہہ کر لڑکی کو نشانہ بنایا ، لڑکی بدنامی، معصومیت اور نوکری جانے کے ڈر سے چپ رہی ۔ مگر کچھ ہفتے بعد اسکی طبیعت خراب رہنے لگی ، باجی کو بتایا تو انہوں نے حمل ٹیسٹ والی سٹک لاکردی ، جس میں تصدیق ہو گئی مگر مالکن نے کچھ نہ کیا بس ڈرائیور کو نوکری سے نکال دیا ، جب بچی مسلسل بیمار رہنے لگی تو مالکن باجی نے اسے گھر بھجوا دیا بچی نے ماں کو حالات بتائے تو وہ پریشان ہو گئیں علاج کروایا مگر کچھ فرق نہ پڑا ۔۔۔ غلط ادویات کے استعمال سے بچہ پیٹ میں ہی فوت ہو گیا تو ماں اپنی بیٹی کو لے کر مالکن باجی کے پاس آگئی یہاں لاہور کے نواح میں ایک ڈاکٹر سے اسقا۔ط حمل کا آپریشن کروانے کے چند گھنٹوں بعد بچی کی وفات ہو گئی ۔۔۔۔ مذکورہ بالا بیان بچی نے انتقال سے چند گھنٹے پہلے دیا ۔۔۔۔یہ بچی اللہ کی عدالت میں جاکر پوچھے گی تو ضرور کہ اسکو مرنے پر کس نے مجبور کیا اور اسکا مجرم کون کون ہے ؟ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پولیس نے مقدمے میں ق۔ت۔ل کی دفعات بھی شامل کر لی ہیں۔ پولیس کے مطابق متاثرہ لڑکی کے تحریری اور ویڈیو بیانات کی روشنی میں اجتماعی زیا۔دتی کا مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔۔ دعا ہے اس بچی کو ظلم کا نشانہ بنانے والے عبرت کا نشان بنیں ۔۔

Sajid Hussain

14,884 次观看 • 2 个月前

"کل جو ہماری گرفتاری ہوئی تو ہمیں کوئی علم نہیں تھا کہ ہم سے کون سا جرم سرزد ہوا ہے۔ ہمیں اندازہ تو تھا کہ ان کو سنجانی جلسے کی تکلیف ہے۔ پوری قوم کو یہ دو باتیں بتانا چاہتا ہوں، کہ حد کر دی ہے ان لوگوں نے۔ بے شرمی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے! نہ ان کو قانون کا کوئی پاس ہے نہ لحاظ ہے! نہ ارٹیکل 14 کے تحت احترام اہمیت کا حق ہے پاکستانیوں کو! جس طریقے سے یہ لوگوں کو کھینچتے ہیں اور پارلیمنٹیرینز کو کیمرے کے سامنے پارلیمنٹ کے سامنے ان کو حیا ہی نہیں ہے! اور سب سے بڑا گلا میرا اسلام اباد ہائی کورٹ کے جج صاحبان سے بنتا ہے! جج صاحبان اس طرح سے دھڑا دھڑ غلط کیسوں پر ریمانڈ نہ دیں۔ یہاں پولیس کے کیس درج کرنے کی دیر ہے اور جج صاحبان خود ہی اٹھا لیتے ہیں باقی کام! ابھی یہ جو پرچہ دیا ہے اس میں الزام ہے کہ علی امین خان نے ڈی ایس پی کی کنپٹی پر کلیشن کوف رکھی جلسے میں! اور میں نے کسی کے کپڑے پھاڑے اور تو اور شعیب شاہین نے پستول نکال کر کسی تھانیدار کی کنپٹی پہ رکھی! چھ گھنٹے سات گھنٹے کے جلسے میں کسی نے کیا کوئی ایک اسلحہ دیکھا؟ تعزیرات پاکستان کا دفعہ 193 یہ پولیس والوں کے لیے سزا مقرر کرتا ہے کہ اگر یہ کسی پر غلط کیس بنائیں گے تو اتنی ہی سزا ان پر ہوگی جتنی سزا وہ بے قصور کو ملزم بنا کر دلانا چاہتے ہیں۔" شیر افضل خان مروت

Sher Afzal Khan Marwat

224,329 次观看 • 1 年前

آج سب لوگ دیکھ لیں کہ سابق وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی گاڑی بلاوجہ کون توڑ رہا ہے۔ دیکھیں آج اسلام آباد پولیس کے کُچھ یزیدی اہلکاروں نے پہلے Imran Khan کی گاڑی توڑی پھر کیسے میرے ڈالے توڑیں خود دیکھ لیں،پولیس گردی کا یہ ثبوت پوری دنیا کو دکھائیں یہ وہی درندے ہیں جنھوں نے اس دن جوڈیشل کمپلیکس کے باہر بھی لوگوں کی گاڑیاں توڑیں گاڑیوں کو آگ لگائی اپنی گاڑیاں بھی خود جلائیں ہر طرف سے پتھراؤ کیا اور الزام پی ٹی آئی کارکنوں پر لگادیا،آئی جی !! یہ دیکھو تمھارے یزیدی اہلکاروں کے کرتوت کس اختیار کے تحت تمہارے یزیدوں نے ڈنڈے برسائے یہ ویڈیو نہ ہوتی تو تم نے تو یہ بھی ہم پر ڈال دینا تھا کہ ہم نے خود توڑی کیونکہ بے شرمی میں تو تم لوگوں کا کوئی ثانی نہیں دیکھ لیں اس مافیا کے کرتوت!!معزز عدلیہ کے جج صاحبان !!یہ ہورہا ہے اس ملک میں عام شہریوں کے ساتھ محافظ ہی درندے بنے پھر رہے ہیں ہمیں خطرہ ہی اپنے محافظوں سے ہے جنھوں نے ہماری حفاظت کرنی تھی وہ ہماری جان مال املاک کے دشمن بنے ہوئے ہیں

Mehar Sharafat Ali

250,642 次观看 • 3 年前