正在加载视频...

视频加载失败

اسٹیبلشمنٹ کے نام الطاف حسین کا اہم پیغام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں اسٹیبلشمنٹ کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ہم نے اپنی غلطیوں سے بہت کچھ سیکھا ہے اور اسٹیبلشمنٹ نے بھی بہت کچھ سیکھا ہے، لہٰذا اسٹیبلشمنٹ کو چاہیے کہ وہ ایم کیوایم کے خلاف اپنی پالیسی پر نظرثانی کرے۔...

19,649 次观看 • 10 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

میں اسٹیبلشمنٹ،بیوروکریسی،سیاست دانوں،حکمرانوں کو بھی بتانا چاہتا ہوں کہ جب 1977 میں پورے ملک میں الیکشن میں دھاندلی کی گئی، اس دھاندلی کے خلاف پورے ملک میں تحریک اٹھی، اس تحریک کی قیادت مفتی محمود نے کی تھی۔ چوری سے نتیجے برآمد کرنا، الیکشن میں دھاندلیاں کرنا اس کے خلاف سب سے پہلے بڑی تحریک کی قیادت میرے قائد نے کی تھی، مفکر اسلام نے کی تھی، ہماری گٹھی میں یہ بات ڈال دی ہے کہ ہم پاکستان میں چوری کا الیکشن تسلیم نہیں کریں گے۔ چوری ہوئی ہے 2018 میں بھی ہوئی، ہم نے کہا ہم تسلیم نہیں کرتے، 2024 میں ہوئی، پارلیمنٹ میں ہوئی، اس صوبے کی الیکشن میں چوری ہوئی، ہم نے نہ صوبے کی چوری کو تسلیم کیا نہ ہم نے وفاق کی چوری کو تسلیم کیا، لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ پاکستان کے عوام کو اس کے ووٹ کا حق واپس نہ دلا دے۔ یہ وہ سیاست ہے جس کے نام سے کانفرنس منعقد ہو رہی ہے وہی اس نظریے اور اس اصول کے رہبر تھے۔ اگر ہم واقعی ان کے پیروکار ہیں تو پھر ہمیں ثابت کرنا ہوگا کہ ہم نے اصول کی سیاست کرنی ہے، جمہوریت کی سیاست کرنی ہے، اخلاق کی سیاست کرنی ہے، شائستگی کی سیاست کرنی ہے۔ ہم اختلاف کرتے ہیں، ہم اختلاف کریں گے، لیکن ہماری سیاست گالیوں کی سیاست نہیں، بدتمیزی کی سیاست نہیں ہے، بد اخلاقی کی سیاست نہیں ہے، فحاشی اور عریانی کی سیاست نہیں ہے، اعلیٰ اسلامی اقدار کی سیاست ہے۔ ان شاءاللہ جو راستہ ہمیں اپنے راہبر نے دکھایا ہے، ہم اس راستے پر استقامت کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھیں گے اور ان شاءاللہ آج اس ڈیرہ کا شہر جو آج گزرگاہ ہے اگر اللہ نے چاہا اسی راستے سے اسلام آباد پہنچیں گے اور اسلام آباد ہماری منزل گاہ ہوگی۔قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,927 次观看 • 10 个月前

عجیب بات ہے جرم بھی کرتے ہیں اور چونچ بھی اونچی رکھتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے اوپر تنقید نہ کرو تم پاک ہو تو ہم آپ کو پاک کہیں گے۔ ہندوستان نے حملہ کیا، آپ نے جواب دیا، ہم نے آپ کو سراہا ہے، اگر آپ نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی ہے ہم نے آپ کو سپورٹ کیا ہے ،ہم اپنے خطے میں جنگ نہیں چاہتے، لیکن یہ سوال ضرور اٹھاتے ہیں کہ ہماری پالیسیاں کون بناتے ہیں؟ ہمارے پالیسی ساز کون ہیں؟ ہمارے پالیسی ساز کیا پالیسیاں بنا رہے ہیں؟ یہ ہماری عقل ہے، یہ پاکستان کا مفاد ہے کہ ہندوستان کا بارڈر مکمل بند، افغانستان کا بارڈر مکمل بند، مغرب کی طرف بھی آپ تجارت نہیں کرسکتے، کاروبار نہیں کرسکتے، مشرق کی طرف بھی آپ کاروبار نہیں کرسکتے اور ایک چین کا چھوٹا سا کوریڈور ہے وہ بھی آپ نے بند کر رکھا ہوا ہے، اس پر بھی کوئی فعالیت ادھر نہیں آرہی، ایران جن حالات میں ہے وہ آپ کے نہ اچھے کا نہ برے کا، ہر طرف آپ نے پاکستان کو غیر محفوظ بنا دیا ہے، محصور کر دیا ہے، یہ کون سی عقل کی پالیسی ہے کہ آج پاکستان ایک محصور مملکت کی شکل اختیار کر گیا ہے؟ یہ کون سی سیاست ہے؟ یہ کون سی پالیسی ہے دہشتگردی کی خلاف ہم جنگ لڑ رہے ہیں تو دہشتگردی تو بڑھ رہی ہے، تو دہشتگردی کی خلاف تو تین چار دہائیوں سے آپ لڑ رہے ہیں، آپ نے سوات سے لے کر پورے خیبر پختونخوا میں کتنے آپریشنز کیے اور ہر آپریشنز کے نتیجے میں آپ ملک کے لئے لڑ رہے ہیں اور ہم شاید ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں، مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی، کس کس بات کو روئے ہم آپ کے؟ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا پشین میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,437 次观看 • 2 个月前

سوال: اچھا مولانا صاحب ملک کے بہتر مفاد میں آپ عمران خان سے بھی مل سکتے ہیں ان کو شامل ہونے کی دعوت دے سکتے ہیں؟ جواب: دیکھیے ہر چیز باوقار انداز سے ہو اس میں کوئی شک نہیں کہ دس بارہ سال ہم ایک دوسرے کے بڑے مد مقابل رہے ہیں اور ہمارے بڑے تحفظات ہیں اور ان کو اگر دور کیا جاتا ہے تو ہم سیاسی لوگ ہیں مذاکرات سے بھی انکار نہیں کریں گے اور مذاکرات کے لیے اگر ماحول بنتا ہے تو اس کی بھی حوصلہ افزائی کریں گے ہم کوئی مستقل جھگڑے اور جنگ اور تلخیاں اس کو باقی رکھنا نہ ملک کے مفاد میں سمجھتے ہیں نہ ہمارے سوسائٹی کے مفاد میں ہے۔ سوال: آپ کی طرف سے ویلکم ہے عمران خان کے لیے۔۔ تو یہ ذرا واضح کیجیے گا اگر آپ کو ضرورت پڑتی ہے یا۔۔۔۔ جواب: میرے پاس ان کے دو وفود آئے ہیں اس کے باوجود ان کے لوگ جو ہیں وہ مجھے مسلسل مل رہے ہیں چاہے آف دی ریکارڈ مل رہے ہیں یا میڈیا کے سامنے بھی مل رہے ہیں تو ملتے ہیں اور یہی گفتگو چل رہی ہے کہ آپس کے جو تحفظات ہیں کس طرح ان کو دور کرنے کے لیے ماحول بنایا جائے۔ سوال: مولانا صاحب ابھی آپ نے فرمایا کہ 10 12 سال کی تلخیاں تھی اب آپ سیاسی طور پر کہہ رہے ہیں کہ سیاسی لوگ دروازے کھلے رکھتے ہیں تو جو سب سے زیادہ پچھلے سات آٹھ سالوں میں آپ کی طرف سے الزام کہ یہ یہودی لابی ہے تو یہ سیاسی تلخیاں ختم ہوں گی تو آپ ان کو یہودی لابی سے مسلمان لابی میں کیسے دیکھیں گے؟ جواب: یہ بات ذہن میں رکھے اگر ہم نے برصغیر کی سیاست میں کسی کو انگریز کا ایجنٹ کہا ہے یا ہم نے عالمی سطح پر کسی کو امریکہ کا ایجنٹ کہا ہے تو یہ عنوان ہے یہ گالی نہیں ہے مطلب یہ ہے کہ جو عالمی سطح پر ایک ورلڈ وائڈ جو ایکنامک نیٹ ورک ہے اور اس کے اوپر جو جیوش کی ایک بالادستی ہے جب میں دیکھوں گا کہ میرے ملک کو بھی اس نیٹ ورک کے اندر ڈالا جا رہا ہے اور یہاں پر میں سود کے خاتمے کی بات کرتا ہوں اور میں مکمل طور پر عالمی سطح پر سودی نظام کے اندر جا رہا ہوں ان کی معیشت کے اصولوں کے مطابق چلوں گا تو اس سے میرا اختلاف ہوگا اب اس اختلاف کا عنوان اگر یہ ہے کہ یہودی ایجنٹ تو اس کو گالی کیوں کہا گیا اس کو سنجیدگی سے لینا چاہیے تھا مجھ سے پوچھنا چاہیے تھا کہ آپ یہ بات کیوں کہہ رہے ہیں اگر میں کہتا ہوں کہ قادیانیوں کو دوبارہ مسلم سٹیٹس پاکستان میں دینا یہ میرے تحفظات ہیں بجائے اس کے کہ آپ مجھے اس کے بدلے میں گالیاں دیں آپ مجھے مطمئن کریں میں پاکستان کا شہری ہوں میرے پیچھے کچھ لوگ ہیں ان کے ایک سوچ ہے ان کے تحفظات ہیں میں ان کے نمائندگی کر رہا ہوں اگر میں کہتا ہوں کہ پاکستان میں مغربی تہذیب کو فروغ دیا جا رہا ہے اور ہماری اسلامی اور مشرقی تہذیب جو ہے اس کا خاتمہ کیا جا رہا ہے اس کے بدلے میں گالی دینے کی بجائے مجھ سے پوچھا جائے مجھ سے بات کی جائے سیاستدان کا کام یہی ہوتا ہے اگر میں نے آپ کے اوپر کوئی اعتراض کیا ہے یا آپ کے ساتھ میں کوئی ایک تحفظات کا اظہار کیا ہے تو اپ کا فرض بنتا ہے کہ آپ یہ بات کہے کہ فضل الرحمان یہ بات آپ کیوں کر رہے ہیں مجھے تاکہ جب میں آپ کے ساتھ اپنی بات رکھوں تو آپ یا مجھے مطمئن کر سکیں اس بات پر کہ میں میرے ایجنڈا نہیں ہے یا یہ کہ یہ میرا ایجنڈا ہے اور آپ کے مفاد کے لیے ہے کچھ تو کرنا پڑے گا نا جی تو یہ چیزیں جو ہیں ان کو سیاسی طور پر ہم لے رہے ہیں اور آج جب ان کے لوگ آئے ہیں اگر یہ لوگ 12 سال پہلے بھی اتے تب بھی میرے یہی ایٹیٹیوڈ ہوتا اور اگر آج آئے ہیں تب بھی میرا وہی ایٹیٹیوڈ ہے

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,018 次观看 • 2 年前

بریکنگ نیوز 🚨غیرت مند، حلالی ماں کا حلالی بیٹا، جسٹس انوارالحق پنوں چھا گیا۔ شہباز گل نے اپنے ویلاگ میں مکمل کلپ چلا دی۔ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے کچھ پلے نہ چھوڑا، پچھلے اگلے ریکارڈ توڑ ڈالے۔ آج تک آپ نے اپنی پوری زندگی میں کسی جج کی ایسی دبنگ، باکمال، حق پر مبنی گفتگو نہیں سنی ہوگی۔ ایک ایک الفاظ سننے سے تعلق رکھتا ہے۔ شروع سے لے کر اینڈ تک سننا، مس مت کرنا 🔥🔥 ہم جھوٹے ہیں، ہم دغاباز ہیں، ہماری ویلیو سسٹم اپنی زمین کی اتھاہ گہرائیوں میں جا چکا ہے۔ اس لیے اس سے کسی قسم کی توقع فوری طور پر کئی نئے صوبے بنا لیں، لوکل گورنمنٹ لے آئیں، کوئی چانس بہتری کا نہیں ہے۔ مجھے ان دو تین ٹرمز سے بڑی حیرت ہوتی ہے، فلاں حکمران خاندان ڈیموکریسی میں بھی کبھی یہ تصور ہوتا ہے کہ جی فلاں حکمران خاندان، فلاں مقتدرہ۔ کیا ڈیموکریسی میں بھی کسی اسٹیبلشمنٹ کو مقتدرہ کہا جاتا ہے؟ تو جب تک یہ لوگ اپنے اپنے آربٹ (مدار) میں نہیں جاتے، اور یہ اب نہیں جائیں گے، اس لیے کہ اس ملک کے وسائل کم ہوتے جا رہے ہیں، ان کی خواہشات بڑھتی چلی جا رہی ہیں۔ ان کو کاکروچ ماننے کو بھی تیار نہیں ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ انہوں نے انڈیا والوں نے تو خود کو کاک روچ سے آئڈینٹیفائی کیا، ایک سمبولیکلی (علامتی طور پر) کیا کہ ہماری حیثیت یہ ہے، مگر انہوں نے ایک ڈیموکریٹک سسٹم کے اندر ڈیمونسٹریشن کرنے کے بعد اپنی ایک بات کو منوایا۔ یہاں تو آزادی سے سوچنے کی اجازت نہیں ہے۔ حالانکہ آپ کسی سے شیئر نہیں کر رہے، آپ کو سوچنے کی اجازت نہیں ہے، آپ کو کسی سے شیئر کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ جس ملک میں آزادی سے سوچنے کی اجازت نہ ہو، جس ملک میں آزادی سے بات کرنے کی اجازت نہ ہو، وہ ملک کسی قیمت پر ترقی نہیں کر سکتا۔ یہ آفاقی اصول ہیں۔ آپ دنیا بھر کے جو ملک ہیں، جس جس ملک نے ترقی کی ہے، اگر انہوں نے کسی اصول پر، ادارے قائم کر کے ترقی کی ہے، تو ہمیں بھی اسی پر جانا پڑے گا۔ ہمارا کوئی علیحدہ سے خطہ اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم کسی کے کہنے پر یہ اسمبلیاں 15 دنوں میں، 5 دنوں میں اتنی بڑی امینڈمنٹس (ترامیم) ہوتی ہیں، کیا وزیر قانون کو بھی نہیں پتہ ہونا چاہیے کہ کیا امینڈمنٹ انٹروڈیوس ہو رہی ہے؟ کیا پاکستان کی عدلیہ جو ہے، اس کو اس حد تک سبجوگیٹ (ماتحت) ہونا چاہیے تھا؟ کیا پنجاب کے اندر ہر روز ہاف فرائی اور فل فرائی کی جو ٹرم چل رہی ہے، وہ ہزاروں لوگ قتل ہو گئے، یہ گڈ گورننس ہے؟ یہ کیا ہو رہا ہے اس ملک کے ساتھ؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس طرح سے آپ بہت دیر وقت گزار لیں گے؟ ان کو سیکنڈ کون کر رہا ہے؟ اور اس کے بعد ایک ٹی وی پروگرام جو کل میں نے دیکھا، وہ ایک منصور علی خان کوئی جرنلسٹ ہیں، جس انداز میں انہوں نے بات کی ہے، فائلیں تیار ہو چکی ہیں، فلاں جو مسلم لیگ ن ہے اس کی جو لیڈرشپ ہے اس کو یہ کیا جائے گا۔ کیا ہو رہا ہے؟ یہ کیا کر رہے ہیں آپ؟ یہ آپ کا اختیار ہے؟ یہ آپ کے کہنے پر صوبے بننے چاہئیں؟ یہ اس ملک کے جن کی زمین ہے، جن کا آسمان ہے، جن کی فضا ہے، یہ ان کے لیے، ان کے کہنے پر بننے چاہئیں۔ اس ملک کو تنخواہ دار طبقے نے لوٹا ہے۔ خود کو مالک سمجھ کر خواہ ججز ہوں، خواہ بیوروکریٹس ہوں، خواہ فوجی ہوں، انہوں نے تباہ کیا ہے اور ابھی تک کر رہے ہیں۔

‏زہـــرہ لیــاقت

14,172 次观看 • 22 天前

نئے صوبوں سے متعلق سوال پر امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا جواب: ایک بات میں پہلے آپ صحافیوں سے کرنا چاہوں گا جی، ذرا مہربانی کریں، آپ میڈیا کی دنیا میں حمایت اور مخالفت کی لکیر نہ کھینچیں۔ یہ ایک ڈیبیٹیبل ایشو ہے اور اس پر مختلف پہلوؤں سے بات ہو سکتی ہے۔ اصولی طور پر ایک مسئلے کی پوزیشن اور ہوتی ہے، عملی طور پر جب آپ آتے ہیں تو پھر اس کی صورت اور ہوتی ہے۔ اصولی طور پر آپ کو حق ہے کہ آپ اپنا گھر بنائیں، لیکن کیا آپ کے پاس وسائل ہیں کہ آپ بنا سکیں؟ وسائل نہیں ہیں، جیب خالی ہے اور آپ جا کر وہاں اینٹیں رکھنا شروع کر دیں تو لوگ کہیں گے کہ یہ کیا کر رہا ہے؟ تو وہ ایک خامخواہ ضائع ہونے والی بات ہو جاتی ہے۔ میری اپنی ذاتی رائے یہ ہے کہ اصولی طور پر تو ہم یونٹس کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم نے اس سے پہلے بہاولپور صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے سرائیکی صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے ہزارہ صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے خود فاٹا کو صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم سندھ ذرا اس سے مختلف تھا کہ سندھ کے عوام صوبے کی تقسیم کے لیے آمادہ نہیں تھے، اس وقت بھی نہیں تھے اور اب بھی نہیں ہیں۔ لیکن جو میری معلومات ہیں، جب اس وقت صوبہ، صوبہ ہو رہا تھا تو اسٹیبلشمنٹ بھی اس کی مخالف تھی۔ چنانچہ ان عناصر کی حوصلہ شکنی کی گئی جو صوبہ، صوبہ کر رہے تھے اور حکومتوں اور اسمبلیوں میں وہ لوگ نہیں آ سکے، کمزور پوزیشن میں آئے اور بالآخر ان کو وہ ایشوز چھوڑنے پڑ گئے۔ آج پھر کون سی ایسی وحی آ گئی ہے ان کے اوپر کہ آؤ، ان کو پتا نہیں کتنے اور کوئی نقشہ بھی نہیں ہے۔ کبھی آپ سولہ یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی آپ بتیس یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی ہر ڈویژن کو صوبے کا درجہ دے رہے ہیں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ نقشہ کیا ہے۔ تو ایک بات کہہ دینا اور پھر لوگوں کو چھوڑ دینا کہ وہ اس پر بحث کرتے رہیں، میرے خیال میں ملک کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ ایشو پھینکا گیا ہے۔ اس میں کوئی سنجیدگی ہے، نہ اس کے لیے اس وقت کوئی ماحول موجود ہے اور نہ ہی اس کے لیے کوئی تیاری موجود ہے۔ جب ماحول بھی نہیں ہے، اس وقت تیاری بھی نہیں ہے، تو خامخواہ ایک غیر سنجیدہ گفتگو، جس کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔ ہمارے حکمران اس وقت باہر کی دنیا کے ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہیں اور ان کو یہ اندازہ نہیں ہے کہ پاکستان کی سرزمین جو خون سے سرخ ہے، اس کو بھی تو ہمیں سنبھالنا ہے۔ تو جہاں خون بہہ رہا ہو، جہاں ملکی زمین جو ہے وہ خون سے سرخ ہو اور آپ باہر دنیا میں جا کر وہاں پر ریڈ کارپٹ سے لطف اندوز ہو رہے ہوں، تو ذرا گھر کو تو ٹھیک کریں۔ ہم نہیں کہتے کہ آپ باہر کی دنیا سے اچھے تعلقات نہ رکھیں۔ ہم نے تو امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کو سپورٹ کیا ہے۔ ہم نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے کو سپورٹ کیا ہے۔ ترکی کی شمولیت کو ہم نے سپورٹ کیا ہے۔ مصر اس میں آتا ہے، ایران اس میں آتا ہے۔ خیر، مقدم کریں گے ایک اسلامی بلاک کے قیام کا۔ یہ خود جمعیت علماء اسلام کے منشور کا حصہ ہے۔ تو جو چیزیں دنیا میں ہمارے اپنے فکر اور ہمارے نظریے کے مطابق آگے بڑھیں گی، ہم اس کو سپورٹ کریں گے۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

11,199 次观看 • 13 天前

میں اپنے کارکنان کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ وہ مختصر نوٹس پر بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔آج کا دن ہمارے لیے باعثِ فخر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو سرخرو کیا۔بھارت یہ سمجھ رہا تھا کہ پاکستان اندرونی طور پر تقسیم کا شکار ہے۔ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کا قائد اس وقت جیل میں ہے۔بھارت نے سوچا کہ وہ اس صورتِ حال سے فائدہ اٹھا کر پاکستان پر جارحیت کرے گا اور ہمیں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دے گا۔عمران خان نے ہمیشہ کہا کہ پاکستان بھی میرا ہے اور فوج بھی میری ہے۔جب بھی پاکستان کو کسی مشکل کا سامنا ہوا، پی ٹی آئی کے کارکن ہمیشہ فرنٹ لائن پر کھڑے رہے۔ہم پر جو بھی ظلم ہوا، ہم اس کے خلاف اپنے ملک میں آئینی جدوجہد جاری رکھیں گے۔پی ٹی آئی اس وقت ملک کی سب سے بڑی جماعت ہے اور عمران خان اس کے قائد ہیں۔عوام نے ہمیں الیکشن میں کامیاب کرایا ہے، اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ملک کا دفاع کریں۔ہم اپنی ایئر فورس کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ہم ملک کے دفاع کے لیے متحد ہیں، لیکن اگر آپ واقعی قومی یکجہتی چاہتے ہیں تو عمران خان کو رہا کریں۔عمران خان کو جیل میں رکھنا قومی یکجہتی کی کوششوں کو سبوتاژ کرنا ہے۔عمران خان ، پی ٹی آئی قیادت اور کارکنان کو فوری رہا کیا جائے۔

Asad Qaiser

14,200 次观看 • 1 年前

ذرا سوچیے! تعلقات کی جو نوعیت اور تعلقات میں کشیدگی کی جو نوعیت آج حکومتی پارٹیوں اور پی ٹی آئی کے درمیان نظر آ رہی ہے یہ کوئی میرے لیے آج پہلا منظر نہیں ہے، خواجہ آصف صاحب میرے محترم ہیں، میرے بڑے ہیں، مجھ سے عمر میں بھی بڑے ہیں، میں احترام کرتا ہوں یہ سب کچھ خوب جانتے ہیں، پرویز اشرف صاحب بیٹھے ہوئے ہیں، میرے لیے قابل احترام ہیں یہ سارے مناظر انہوں نے دیکھے ہیں، جو کشیدگی کی نوعیت اور ایک دوسرے کے خلاف روئیوں کی جو انتہا پسندی ہے یہ مناظر ہم نے مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی بیچ میں نہیں دیکھے تھے، میاں نواز شریف اور بینظیر بھٹو کے درمیان ہم نے نہیں دیکھے تھے، آج ہم انہی مناظر کو دوبارہ دوسرے شکل میں دہرا رہے ہیں، میں ان روئیوں کے حق میں نہیں ہوں، میں حجم کے مطابق رد عمل دینے کے حق ہوں، اگر عمل چیونٹی کے برابر ہے تو رد عمل چیونٹی کے برابر ہونا چاہیے، لیکن ہم ہیں کہ عمل چیونٹی کے برابر اور رد عمل ہاتھی کے برابر ہوتا ہے۔ مسائل کو اس کے اپنے خاص حدود کے اندر ہمیں سوچنا چاہیے، اپوزیشن کی جماعتیں بیٹھی ہیں، محمود خان اچکزئی ہمارے لیڈر آف دی اپوزیشن ہے، مجھ سے انہیں ووٹ نہیں مانگا لیکن میں نے ان کو سپورٹ کیا ہے اور میں آج بھی یہ سوچتا ہوں کہ جس طرح پرائم منسٹر صاحب نے خطاب کیا اور اس میں انہوں نے میثاق جمہوریت کی بات کی، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے درمیان دوریاں اور تلخ رویوں کی ایک تاریخ وہ میثاق جمہوریت پر جا کر ختم ہوئی، میں اس کا سگنیچری نہیں ہوں، غالباً عمران خان بھی اس کے سگنیچری نہیں ہیں، لیکن بعد کے جو سیمینارز ہوئے، آل پارٹیز ہوئے، ان کے جو اعلامیے سامنے آئے اس پہ ہم سب کی تائید اس کو حاصل ہوئی اور آج ایک متفقہ دستاویز ہے، ہم نے جو عہد کیا تھا، ہم نے جو میثاق کیا تھا کہ ہم اختلاف رائے کریں گے، جو حکومت کر رہی ہے اُس کو حکومت کرنے دیجیے، ملکی معاملات میں ہم تعاون کی ضرورت ہوگی تو وہ بھی کریں گے، ایک دوسرے کے حکومتوں کو گرائیں گے نہیں، اور اگر میں بڑی وضاحت کے ساتھ اس سے بھی اچھے واضح الفاظ کے ساتھ عرض کروں کہ اپوزیشن اپوزیشن کرے گی لیکن وہ اسٹیبلشمنٹ کے لئے سہولت کار نہیں بنے گی، وہ اسٹیبلشمنٹ کے لئے حکومت پر پریشر نہیں ڈالے گی، وہ اس کے لئے ہنگامے نہیں کھڑا کرے گی تاکہ وہ پھر حکومت کو منیج کر سکے، آج وہ ساری چیزیں بگڑ گئی، دوبارہ معاملات خراب کر دئیے گئے۔ میں تو آج بھی کہتا ہوں کہ عمران خان کو باہر آنے دیں، سیاست میں اگر ان کی گرفتاری کی وجہ سے تلخی ہے ہمیں ملک کی بہتری کے لئے اور ملک کے اندر مجموعی طور پر ایک برادرانہ اور ہم آہنگی کی فضاء پیدا کرنے کے لئے ایک شخص کی قربانی کوئی مسئلہ نہیں ہے، آجائیں باہر میدان میں سیاست کرتے ہیں، مجھے لوگ پوچھتے ہیں آپ عمران خان پر بہت تنقید کرتے تھے آج کل کیوں نہیں کر رہے؟ میں نے کہا یہ میرا مزاج نہیں مانتا کہ میرا مخالف جیل میں ہو اس کے ہاتھ پاؤں بندھے ہو اور میں کھل کر ان پر تنقید کرتا رہوں، او وہ بھی باہر آئیں گے، وہ بھی بات کریں گے، ہم بھی بات کریں گے۔ کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے۔ آداب کے اندر کریں گے، یہی تعلقات میں حزب اختلاف اور حکومت کے بھی چاہتا ہوں، میثاق جمہوریت کی طرف آئیں ہم دوبارہ چلیں، اور اس کے لیے یقیناً اپوزیشن کو بھی مشورہ کرنا ہوگا وزیراعظم نے اگر کوئی بات کی ہے لیکن کچھ تو معاملات کے حل کے لیے ہمیں بتایا جائے کہ پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ اور آپ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ اگر آپ کو یہ خطرہ ہے کہ ان کیمرہ میٹنگ ہوگی اور پی ٹی آئی والے کوئی ہنگامہ کریں گے میں اس فلور پر پی ٹی آئی والوں کی زمہ داری خود لیتا ہوں وہ کوئی ہنگامہ نہیں کریں گے۔ اسپیکر کے سوال پر کہ مولانا صاحب آپ کتنے بولیں گے؟ مولانا صاحب کا جواب: بولنے پر تو حضرت اتنے درد ہیں کہ ہر درد کے لیے گھنٹہ چاہیے۔ اور اب جب آپ کے اوپر ایک بوجھ آگیا ہے، ایک دباؤ آگیا تو مجھے آپ کے درد کا بھی احساس ہے، مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ یہ درد آپ کا اکیلا نہیں ہے، یہ درد کہیں سے آ جاتا ہے۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا پارلیمنٹ میں خطاب #MaulanaInParliament

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,697 次观看 • 2 个月前

اگر جنرل صاحب کہتے ہیں آپ مجھے بھی کچھ نہ کہیں میں جو کچھ کروں میری مرضی ہے نہ میری عقل کسی کی پابند ہے نہ میری محنت کسی کی پابند ہے میرے خیال میں یہ درست نہیں ہے اگر ہم سیاسی جماعتوں پر تنقید کر سکتے ہیں ہم صدر اور وزیراعظم پر تنقید کر سکتے ہیں یا تو پھر یہ کہیں کہ ہمارا ادارہ جو ہے وہ سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور جنرل آ کر ٹی وی پر کبھی کہتے بھی ہیں کہ ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں لیکن اگر واقعتا ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے الیکشن میں کوئی دھاندلی نہیں کرتے الیکشن میں ان کا کوئی کردار نہیں ہوتا تو پھر تو ہم بھی کہیں گے کہ ہم نے غلط کیا لیکن اگر وہ الیکشن میں بھی اپنی دھاندلیاں کرتے رہے یعنی عجیب بات یہ ہے کہ اس 24 کے الیکشن میری معلومات کے مطابق 70 ارب روپیہ ایک صوبے سے انہوں نے نکالا کہتے ہیں کہ کس طرح ہم ان کو کہیں ابھی کہتے ہیں کہ اپ حافظ جی یا نابینہ کو نابینا نہ کہیں وہ بتائیں کہ اگر نابینے کو نابینا نہیں دیں گے تو کیا کہیں گے۔ مولانا عطاء الرحمن صاحب #سلیکشن_مافیا_نامنظور #آئین_شکن_مقدس_گائے #معافی_مائی_فٹ #لشکر_نہیں_خود_لڑو #شہداء_کو_ڈھال_نہ_بناؤ #پروپیگنڈہ_چھوڑو_امن_دو

Sadaqat Khan

19,553 次观看 • 1 个月前

میں آج اس بات پر بہت افسوس کرتا ہوں کہ کل عمران خان کی بہن علیمہ خان کے گھر کی چادر و چار دیواری کے تقدس کی پامالی کی گئی۔علیمہ خان کے بیٹے، جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، کو اغوا کیا گیا۔علیمہ خان کے بیٹے کی پی ٹی آئی کے کسی بھی ایونٹ میں کوئی تصویر تک نہیں ہے۔جس طرح اسے اغوا کیا گیا، اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس ملک میں ریاست ماں کے جیسی نہیں ہے۔ظلم و جبر کا نظام ہے، اس ملک میں قانون کا کوئی احترام نہیں ہے۔عدالتوں میں وہ سکت نہیں رہی کہ شہریوں کو محفوظ رکھ سکیں۔آج علیمہ خان کے دوسرے بیٹے شیرشاہ کو اغوا کیا گیا۔میں مریم نواز سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جس طرح پنجاب پولیس کر رہی ہے یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔اتنا ظلم کریں، جتنا کل کو برداشت کر سکیں۔ہم نے تو ہمیشہ اصول کی سیاست کی ہے، ہم ہمیشہ قانون کے احترام کی بات کرتے ہیں۔اب تمام راستے اور حدود کراس کر دی گئی ہیں۔چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عدلیہ ہمیں میرٹ کے مطابق انصاف دے۔جو 8 دنوں کا ریمانڈ دیا گیا ہے، کس بنیاد پر دیا گیا ہے۔واضح ہو گیا ہے کہ یہ سب کچھ حکومت کی ایما پر ہو رہا ہے۔حکومت نے عدالت پر اثر انداز ہو کر سب کچھ کیا ہے۔پنجاب کی فاشسٹ حکومت کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے۔اسمبلی میں بھی آواز اٹھائیں گے، آپ کے حربوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ہم اپنی تحریک کو آگے بڑھائیں گے اور ظلم کی تاریک رات جلد ختم ہوگی۔

Asad Qaiser

36,456 次观看 • 1 年前

آپ اپنے شہداء کی بات کرتے ہیں، مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کس کو کہتے ہیں؟ مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کا مقام کیا ہے؟ میں قرآن و سنت کا ایک طالب علم ہوں، میں شہید کے مقام کو جانتا ہوں، شہید کیا ہوتا ہے؟ جو شہید اپنے وطن کے لیے قربانی دیتا ہے، اس کی قدر و منزلت کو میں جانتا ہوں۔ آپ مجھے اس کی قدر و منزلت نہ سمجھائیں۔ میں تمہیں جانتا ہوں کہ تمہاری نظر میں اپنے شہداء کی کیا قدر و قیمت ہے۔ پاکستان ایک ادارہ جاتی ملک ہے، اور پوری دنیا میں ادارے متعین ہیں، ان کا دائرۂ کار متعین ہے، ان کا دائرۂ اختیار متعین ہے۔ اگر میں نے آپ کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کیا ہے، اگر میں نے آپ کو ان کے اپنے دائرۂ کار اور اس دائرۂ کار کے اندر ان کی صلاحیتوں کی طرف متوجہ کیا ہے، تو میں اب بھی کہتا ہوں: پالیسی ساز لوگو! سپاہی نے تو آپ کا حکم ماننا ہے۔ پالیسی ساز تو آپ بڑے ہیں۔ میں آپ کی پالیسیوں سے اختلاف کر رہا ہوں، بڑے ادب و احترام کے ساتھ اختلاف کر رہا ہوں، لیکن آپ میرے بیان کی ازخود تشریح کر کے جو میری کردار کشی کرنا چاہتے ہیں، اور سمجھتے ہیں کہ فضل الرحمٰن جھک جائے گا، سرنڈر کر جائے گا۔ یاد رکھو! مجھے میرے ماں باپ نے سرنڈر ہونے کے لیے نہیں جنا۔ اور میں نے آپ کو اپنی ذمہ داریوں تک محدود رہنے کی بات کی ہے۔ یہ میں نے پہلی مرتبہ نہیں کی۔ یہ تو پارلیمنٹ میں اور عام جلسوں میں بھی میں نے بار بار کہی ہے۔ قصور والی بات قصوروار ٹھہری، اور عجیب بات بتاؤں، وکلاء حضرات! ذرا اس پر بھی غور کریں کہ اڑتالیس گھنٹے بعد ان کو پتا چلا کہ میں نے یہ بات کہی ہے۔ مجھے افسوس یہ ہے کہ میرے خلاف بدنیتی پر مبنی ایک جملے کی غلط تشریح کر کے قوم کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی، عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی، میڈیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی، اور شہداء کے خاندانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ میں ان کو بتانا چاہتا ہوں کہ صرف ہم ہیں، الحمد للہ، صرف ہم ہیں جنہوں نے ایک سے زیادہ مرتبہ جلسوں میں یہ بات کہی ہے: "اگر میری فوج پر خدا سخت وقت نہ لائے، میرے ملک پر خدا برا وقت نہ لائے، ورنہ جب میری فوج اپنے ملک کا دفاع کرے گی تو میرے یہ فقیر ان شاء اللہ اپنے فوجیوں کے شانہ بشانہ مورچوں میں کھڑے ہوں گے۔" آپ نے کبھی ہمارے اس جذبے کو سراہا؟ اور قربانیاں ہیں، اگر پاکستان کا ایک سپاہی ملک کے لیے قربانی دیتا ہے، اور اسی لیے وہ فوج میں بھرتی ہوا ہے، تو جمعیۃ علماء اسلام تو فوج نہیں ہے، پھر میری جمعیۃ علماء اسلام کی صفوں کے اندر سے بڑے اکابر سے لے کر عام علماء اور طلبہ تک دو سو سے زیادہ شہداء ہم نے کیوں دیے؟ کس کے لیے دیے؟ تم نے اس قسم کی حرکت کر کے جمعیۃ علماء اسلام کے کارکنوں اور ان کی قربانیوں کا مذاق اڑایا ہے، اور اب اس کا ردِعمل آئے گا۔ آپ سمجھتے ہیں کہ ہم پیچھے ہٹ جائیں گے؟ ہم نے ترتیب بنا لی ہے۔ میں چاروں صوبوں میں جاؤں گا۔ چاروں صوبوں میں وہاں کے عوام اور کارکنوں کے درمیان جاؤں گا، بڑے جلسوں سے بھی اور کنونشنوں سے بھی خطاب کروں گا۔ میں اپنا موقف لے کر آگے جاؤں گا۔ تم نے میرے علماء کو شہید کیا۔ علماء کرام شہید ہوئے۔ میرے استاد اور میرے شیخ مولانا حسن جان شہید ہو گئے۔ میرے والد صاحب کے شاگردِ رشید، وزیرستان کے استاد الاساتذہ مولانا نور محمد شہید ہو گئے۔ مولانا معراج الدین، جو میں سمجھتا ہوں کہ میرا دایاں بازو تھے، تم نے وہ بازو توڑ دیا۔ اور میں نے باجوڑ میں ایک جلسے کے ایک سو جنازے اٹھائے ہیں، میں روزانہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں کہیں نہ کہیں دو یا تین جنازے اٹھا رہا ہوں۔ میں تو آپ کے ہر جنازے پر آپ کے ساتھ رویا ہوں۔ کبھی یاد ہے کہ تم میرے جنازے پر میرے ساتھ روئے ہو؟ مجھے کہتے ہو تم نے غلط بات کی ہے؟ میں کہتا ہوں تم نے اپنے شہداء کی بھی تذلیل کی ہے، فوج کے شہداء کی بھی تذلیل کی ہے، ان کے خاندانوں کی بھی تذلیل کی ہے، تم نے میرے شہداء کی بھی تذلیل کی ہے، تم نے ان کی بھی بے توقیری کی ہے۔ معافی کہتے ہو فضل الرحمٰن مانگے؟ نہیں! آج اگر میری بات غلط ہے تو مجھے ضرور رائے دیں۔ آپ قانون کے ماہر ہیں، میری رہنمائی کریں۔ میرا مطالبہ یہ ہے کہ جس فوج نے، جس جنرل نے، جس دفتر سے میرے خلاف اور میری جماعت کے خلاف پروپیگنڈا کمانڈ کیا ہے، اس کو معافی مانگنی ہوگی۔ ہم نے ایسی کوئی کچی گولیاں نہیں کھیلی ہیں۔ بھروسا تم نے توڑا تھا، مگر خود کو سزا یوں دی کہ پھر جو مل گیا مجھ کو، بھروسا کر لیا اُس پر قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب #مرد_آہن_مولانا #پروپیگنڈہ_برگیڈ #چوکیدار_وڑگیا #BroadcastMaulanaNow #LawyersStandWithMaulana

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

24,604 次观看 • 1 个月前

آپ نے ہمارے نصاب کو بھی جائز تسلیم کیا، آپ نے ہمارے مدارس کے نظم و نسق کو بھی جائز تسلیم کیا، آپ نے ہمارے مالیاتی نظام کو بھی جائز تسلیم کیا، پھر اس وقت سے لے کر آج تک مدارس کی رجسٹریشن کیوں نہیں ہو رہی؟ مدارس کے اکاؤنٹس کیوں بند ہیں؟اس کا معنیٰ یہ ہے کہ آپ مسئلے کا حل نہیں چاہتے۔ آپ کسی طرح چاہتے ہیں کہ مدارس اشتعال میں آئیں، سڑکوں پر آئیں، نوجوان کو اشتعال ملے، وہ بندوق کی طرف جائے، اور پھر ریاست بندوق کی طاقت کو طاقت کے ساتھ مارنے کے لیے اپنے لیے ایک جواز مہیا کر سکے۔ سو، ہم نے آپ کو یہ جواز مہیا نہیں کیا۔ ہم نے اس ملک کو پُرامن ملک بنانے کی کوشش کی۔ تاہم ایک گروہ ضرور ہے جو پہاڑوں میں چلا گیا، جو بندوق لے کر کھڑا ہو گیا، لیکن وہ بندوق اٹھا کر جب افغان_ستان جا رہا تھا تو آپ نے افغانس_تان جانے کے لیے اس کا راستہ روکا؟ آپ امریکہ کے اتحادی بھی بنے، آپ نے ہوائی اڈے بھی دیے، فضائیں بھی ان کو دیں، یہاں سے جہاز بھی اڑتے تھے، ان فضاؤں سے گزر کر وہاں پر بمباری بھی کرتے تھے، اور دوسری طرف اس جنگ میں شریک ہونے کے لیے پاکستانی مجاہد بھی جا رہا تھا، اور تم بھی اس کو تھپکی دے رہے تھے کہ آپ مجاہد ہیں۔ پھر انہی حالات میں ان کے ساتھ مصالحت کرنے کے لیے میں نہیں گیا ہوں، ان کے ساتھ مفاہمت کرنے کے لیے میں نے افغانستان کا سفر نہیں کیا۔ میں نے دو ملکوں کے درمیان معاملات ٹھیک کرنے کے لیے سفر کیا، لیکن طال_بان کے ساتھ بات کرنے کے لیے میرے ملک کے آئی ایس آئی کے چیف گئے ہیں، اور اس نے وہاں پر ان سے کیا باتیں کی ہیں، کچھ مجھے معلوم بھی ہے۔ سو اگر ان دہشت گردوں کو کوئی حوصلہ دلانے کا عمل ہے، وہ بھی آپ کے صفوں میں مل رہا ہے، ہمارے صفوں میں تو وہ ہم سے ناراض ہیں۔ آپ اپنے شہداء کی بات کرتے ہیں، مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کس کو کہتے ہیں؟ مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کا مقام کیا ہے؟ میں قرآن و سنت کا ایک طالب علم ہوں، میں شہید کے مقام کو جانتا ہوں، شہید کیا ہوتا ہے؟ جو شہید اپنے وطن کے لیے قربانی دیتا ہے، اس کی قدر و منزلت کو میں جانتا ہوں۔ آپ مجھے اس کی قدر و منزلت نہ سمجھائیں۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب #قائدانقلاب_مولانا #سیاسی_چوکیدار #مولانا_سے_معافی_مانگ #شہداء_صرف_بہانہ #لشکر_نہیں_امن

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

14,945 次观看 • 1 个月前

دنیا میں کسی کے لیے، چاہے اس نے سینکڑوں قتل کیے ہوں، چاہے وہ دنیا کا سب سے بڑا اسمگلر ہو، چاہے اس نے دنیا کی بدکاریاں کی ہوں، آج تک کسی کے لیے یہ نہیں ہوا کہ اس کے گھر والوں سے ملاقات پر پابندی ہو۔ عمران خان کا کیا کام؟ ایک سابق وزیراعظم ہے، نہ سہی ایک اچھا کرکٹر رہ چکا ہے، نہ سہی پاکستان کا سٹیزن تو ہے۔ ان سے ملاقات پر پابندی کس بنیاد پر؟ حالات بغاوت کے بھی پکے ہیں، حالات مردہ باد زندہ باد کے بھی پکے ہیں، حالات خانہ جنگی کے پکے ہیں۔ ہمیں صرف یہ ڈر ہے کہ خدانخواستہ اگر ہم عوام کو سڑکوں پر لے آئے تو پاکستان اس کو سہہ سکے گا یا نہیں؟ اس کے نتیجے میں کیا ہوگا، اس کا ہم سب کو ڈر ہے۔ ہم مجرم سمجھتے ہیں شہباز شریف کو، ہم مجرم سمجھتے ہیں پیپلز پارٹی کو، ہم مجرم سمجھتے ہیں ہر اس پارٹی کو جس نے 24ویں، 25ویں ترامیم میں ووٹ دیا۔ آپ کے ووٹ کے بغیر یہ نہیں ہو سکتا تھا۔ اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔ آپ نے اپنے عدلیہ کے پر کاٹ دیے، آپ نے اپنی میڈیا پر پابندی لگائی، آپ نے اپنے پارلیمنٹ کو کمزور کیا۔ اس کا نتیجہ اب آپ کے خلاف جائے گا۔ زرداری صاحب ہو سکتا ہے آپ صدر نہ رہیں، شہباز صاحب ہو سکتا ہے آپ وزیراعظم نہ رہیں کیونکہ آپ نے ایک غلط تالاب میں پانی ڈال دیا ہے۔ یہ ابھی بھی وقت ہے، مہربانی کریں۔" اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی

Siddique Jan

20,224 次观看 • 3 个月前