Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

امریکہ، ملائیشیا، قطر، ناروے، جنوبی کوریا اور کینیڈا سے تعلق رکھنے والے 20 رکنی بین الاقوامی سرمایہ کار وفد کو کوٹ مومن میں ایک جدید کنو فیکٹری کا خصوصی دورہ کروایا گیا، جہاں انہیں کولڈ سٹوریج، گریڈنگ، پیکنگ اور پوسٹ ہارویسٹ مینجمنٹ کے مکمل عمل سے عملی طور پر...

37,561 görüntüleme • 8 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

بلوچستان میں کھیلوں کے فروغ اور نوجوانوں کی فٹبال صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے اسٹیون جیرارڈ اکیڈمی کے زیر اہتمام پہلا فٹبال ٹریننگ کیمپ قیوم پاپا اسٹیڈیم، کوئٹہ میں کامیابی کے ساتھ جاری ہے، تربیتی کیمپ کا انعقاد حکومت بلوچستان اور ڈی ایچ اے کوئٹہ کے باہمی اشتراک سے کیا جا رہا ہے، جس کا بنیادی مقصد مقامی نوجوان کھلاڑیوں کو عالمی معیار کی فٹبال تربیت فراہم کرنا ہے،، یہ فٹبال ٹریننگ کیمپ 5 فروری 2026 تک جاری رہے گا، جس کے دوران شرکاء کو جدید کھیل کی تکنیک، جسمانی فٹنس، نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ فٹبال مہارتوں پر مشتمل جامع تربیت دی جا رہی ہے،، برطانیہ سے تعلق رکھنے والے معروف اور تجربہ کار فٹبال کوچز کرسچین اور تھامس تربیتی سیشنز کی نگرانی اور قیادت کر رہے ہیں، جو کھلاڑیوں کو بین الاقوامی معیار کے مطابق تیار کرنے میں مصروف ہیں،، اس اقدام کا مقصد بلوچستان کے نوجوان کھلاڑیوں کو بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع فراہم کرنا اور انہیں مستقبل کے پیشہ ور فٹبالرز کے طور پر تیار کرنا ہے،، صوبے کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے نوجوان فٹبالرز کی بھرپور شرکت بلوچستان میں فٹبال کے بڑھتے ہوئے رجحان، نوجوانوں کے عزم اور کھیلوں سے وابستگی کی واضح عکاسی کرتی ہے،، اسٹیون جیرارڈ اکیڈمی کا یہ اقدام نچلی سطح پر ٹیلنٹ کی تلاش، اس کی تربیت اور صوبے میں کھیلوں کے کلچر کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے،،

Architect Jalal Sherazi

27,528 görüntüleme • 8 ay önce

اسلام آباد: 10 اگست 2026. وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس کے آغاز میں کابینہ نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی جس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ان کی مدبرانہ اور دور اندیش قیادت، پاکستان کا عالمی تشخص بلند کرنے اور ملک کے قومی مفادات کے مؤثر دفاع پر خراج تحسین پیش کیا گیا۔ کابینہ ارکان نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کو بھی اہم سفارتی و دفاعی پیش رفت قرار دیا۔ قرارداد نے اس معاہدے کو امت مسلمہ کے مابین اتحاد و اتفاق کو مزید تقویت دینے کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا۔ کابینہ نے نیشنل ہاؤسنگ پالیسی 2026ء اور اس پر عملدرآمد کےلئے ایکشن پلان کی منظوری دے دی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ نیشنل ہاؤسنگ پالیسی قومی و بین الاقوامی ماہرین پر مشتمل ورکنگ گروپ نے تیار کی، جبکہ اس کی تیاری کے دوران وفاقی وزارتوں، صوبائی حکومتوں اور ترقیاتی شراکت داروں سے بھی مشاورت کی گئی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ پالیسی کا بنیادی مقصد تمام شہریوں کے لیے پائیدار، محفوظ اور معیاری رہائش کی فراہمی ہے۔ کابینہ نے ہدایت کی کہ ہاؤسنگ منصوبوں میں زوننگ قوانین کی مکمل پابندی یقینی بنائی جائے اور زمین کے مؤثر استعمال کے لیے عمودی رہائش (Vertical Housing) کو ترجیح دی جائے۔ ساتھ ہی کابینہ نے ہدایت کی کہ انرجی ایفیشنسی کوڈز کو بھی نیشنل ہاؤسنگ پالیسی کا لازمی حصہ بنایا جائے تاکہ نئی تعمیرات توانائی کے مؤثر اور ماحول دوست تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں۔ کابینہ کو وزیراعظم کے ’اپنا گھر‘ اسکیم کے تحت پیش رفت پر بھی بریفنگ دی گئی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ اپنے گھر کے خواہشمند درخواست گزاروں کو مختلف بینکوں کی جانب سے 220 ارب روپے کے قرضوں کی منظوری دی جا چکی ہے، جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو 32 ارب روپے سے زائد کی رقوم بھی جاری کی جا چکی ہیں۔ کابینہ نے بورڈ آف انویسٹمنٹ کی جانب سے پیش کی گئی سمری پر پاکستان اور سویڈن کے درمیان 1981ء میں طے پانے والے دو طرفہ سرمایہ کاری کے معاہدے کے خاتمے کا نوٹس واپس لینے کی منظوری دے دی۔ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے کابینہ کو پاکستان انفارمیشن سکیورٹی فریم ورک 2026ء (PISF 2026) کا مسودہ پیش کیا گیا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ یہ فریم ورک CERT Rules 2023ء کے تحت تیار کیا گیا ہے، جس کا مقصد انفارمیشن سکیورٹی کے بنیادی یکساں معیارات کا ایک جامع اور متحد نظام وضع کرنا اور مرکزی نگرانی کو یقینی بنانا ہے۔ کابینہ نے پاکستان انفارمیشن سکیورٹی فریم ورک 2026ء کی منظوری دیتے ہوئے اسے سائبر سکیورٹی کے لیے ایک اہم راہنما دستاویز قرار دیا اور ہدایت کی کہ اس پر مقررہ مدت کے اندر مؤثر انداز میں عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ وفاقی کابینہ نے 28 جولائی کو منعقدہ کابینہ کمیٹی برائے توانائی (CCoE) کے اجلاس میں لئے گئے فیصلے کی بھی توثیق کی۔ اس فیصلے کے تحت پاکستان آئل ریفایننگ پالیسی 2023 میں مجوزہ ترامیم کی توثیق کی گئی جن کے مطابق آئل ریفائنریز کی اپگریڈیشن کی جائے گی تاکہ ملکی توانائی کی ضروریات کو بہتر انداز میں پورا کیا جا سکے۔ کابینہ نے 27 جولائی اور 4 اگست کو منعقدہ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) کے اجلاسوں میں لئے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔ اجلاس میں کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی (CCLC) کے 24 جولائی کو منعقدہ اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کی بھی توثیق کی گئی.

Prime Minister's Office

29,661 görüntüleme • 1 ay önce

چین کے کسانوں میں گائیوں کے لیے فائر تھراپی (Fire Therapy) کا استعمال روایتی چینی طب (Traditional Chinese Medicine - TCM) کے اصولوں پر مبنی ہے۔ یہ طریقہ کار بنیادی طور پر ان گائیوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو سردیوں میں یا بچے کو جنم دینے سے پہلے یا بعد میں لنگڑی ہو جاتی ہیں، یا جن کے پچھلے پیر خون کی ناقص گردش کی وجہ سے سُن ہو جاتے ہیں۔ یہ علاج گائے کو کھڑا ہونے میں مدد دینے، خون کے بہاؤ کو تیزی سے بحال کرنے اور پٹھوں کو آرام دینے کے لیے کیا جاتا ہے۔ 🔥 فائر تھراپی کا طریقہ کار (عمومی اصول) اگرچہ گائیوں کے لیے اس طریقہ کار کی تفصیلی سائنسی تحقیق یا باقاعدہ ویڈیوز آسانی سے دستیاب نہیں ہیں، لیکن روایتی چینی طب میں جو عمومی اصول اور طریقے استعمال ہوتے ہیں، ان کے مطابق یہ طریقہ کچھ اس طرح سے انجام دیا جا سکتا ہے: 1. تیاری (Preparation) * تشخیص: سب سے پہلے گائے کی حالت کا اندازہ لگایا جاتا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کیا فائر تھراپی موزوں ہے، خصوصاً جب گائے کمزوری یا خون کی گردش کے مسائل کا شکار ہو۔ * سامان: اس کے لیے عام طور پر ایک گیلا تولیہ، الکحل (Alcohol) یا کوئی دوسرا آتش گیر مادہ، اور آگ کی ضرورت ہوتی ہے۔ 2. اطلاق (Application) * حفاظت: گائے کو قابو میں رکھا جاتا ہے اور علاج کی جگہ کو صاف کیا جاتا ہے۔ * گرم کرنا: * علاج کے لیے متاثرہ جگہ (جیسے پچھلے پیروں کے سُن حصے) پر ایک گیلا تولیہ رکھا جاتا ہے۔ * اس گیلے تولیے پر الکحل کی تھوڑی مقدار ڈالی جاتی ہے۔ * اس الکحل کو جلایا جاتا ہے۔ * میکانزم: یہ عمل عارضی طور پر اور مقامی طور پر شدید حرارت پیدا کرتا ہے۔ یہ حرارت روایتی چینی طب کے تصور کے مطابق "یانگ" (Yang) قوت کو بڑھانے، خراب ہوا (Evil Spirits) کو نکالنے، کیوئ (Qi) اور خون کی گردش کو رواں کرنے، جمے ہوئے خون کو دور کرنے، اور پٹھوں کی سختی کو ختم کرنے میں مدد کرتی ہے۔ * دورانیہ: آگ کو جلدی بجھا دیا جاتا ہے (یا خود بجھ جاتی ہے) تاکہ جلد جلنے سے محفوظ رہے۔ یہ عمل مختصر وقت کے لیے ہوتا ہے اور ضرورت کے مطابق کئی بار دہرایا جا سکتا ہے۔ 3. مقصد (Goal) اس طریقہ کار کا بنیادی مقصد تیزی سے خون کے بہاؤ کو بحال کرنا اور پٹھوں کو آرام دے کر گائے کو دوبارہ کھڑا ہونے میں مدد دینا ہوتا ہے۔ > اہم نوٹ: فائر تھراپی ایک شدید اور خطرناک طریقہ کار ہو سکتا ہے اور اسے صرف اسی شخص کو کرنا چاہیے جسے روایتی چینی ویٹرنری طریقہ کار یا اس تکنیک میں مکمل مہارت حاصل ہو۔ جدید ویٹرنری میڈیسن میں ایسے طریقوں کے استعمال سے گریز کیا جاتا ہے کیونکہ یہ جلنے اور جانور کو مزید تکلیف پہنچانے کا خطرہ رکھتے ہیں۔

Dairy & Cattle Farmers Association (DCFA) Pakistan

32,639 görüntüleme • 10 ay önce

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وزیراعظم آفس میں مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید ٹریکنگ اور فیصلہ سازی نظام کا افتتاح کر دیا جس کا مقصد وزیراعظم کی ہدایات پر عملدرآمد، پیشرفت اور نگرانی کو ٹریک کرنا ہے تاکہ خودکار احتسابی نظام کے ساتھ فیصلہ سازی کا عمل تیز ہو اور وزیراعظم کی ہدایات اور حکومتی پالیسیوں کا مؤثرنفاذ یقینی، بروقت اور معیاری بنایا جا سکے۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی جدید ترین ٹریکنگ اور فیصلہ سازی کے نظام کے افتتاح کی تقریب آج وزیراعظم آفس میں منعقد ہوئی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید ٹریکنگ اور فیصلہ سازی کے نظام پر مکمل عملدرآمد کی ہدایت کی اور کہا کہ آج کے بعد کوئی روایتی فائل نظام نہیں ہوگا، عوامی فلاح و بہبود اور خدمت کو یقینی بنانے کے لئے اس نظام کا مکمل نفاذ یقینی بنایا جائے۔ وزیراعظم نے اس نظام کی تیاری اور فعالیت کے لئے وفاقی وزراء احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام کی تعریف کی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام وزارتیں اس نظام کو اختیار کرتے ہوئے اس کے تحت امور سرانجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ اب روایتی انداز میں فائلیں لے کر گھومنے کی ضرورت نہیں، تمام امور اس جدید نظام کے ذریعے نمٹائے جائیں۔ اس موقع پر وفاقی وزیر احد خان چیمہ نے کہا کہ جدید طرز حکمرانی کے لئے مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا پر مبنی نظام فعال کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جدید نظام حکومتی فیصلوں میں شفافیت اور بروقت اقدامات کے حوالے سے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت کی روشنی میں فیصلہ سازی میں جدید ٹیکنالوجی بروئے کار لائی جا رہی ہے، مؤثر پالیسی سازی اور ڈیٹا پر مبنی نتائج کے لئے یہ نظام انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرانے نظام میں تمام تقاضے پورے نہیں ہوتے تھے اور آؤٹ پٹ سے مکمل استفادہ نہیں کیا جا سکتا تھا، اس لئے ان خامیوں کو دور کرتے ہوئے یہ جدید نظام متعارف کرایا گیا ہے، پرانے نظام میں کئی اقدامات اور عوامل موجود نہیں تھے جن کو اس نئے نظام کا حصہ بنایا گیا ہے۔ وفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ نے وزیراعظم آفس سسٹم سے متعلق بریفنگ میں بتایا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بطور وزیراعلیٰ ماضی میں ڈیجیٹائزیشن کا آغاز کیا تھا جس کے بعد اب ہم ڈیجیٹل سے اے آئی کی طرف گامزن ہیں اور تمام شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی بروئے کار لا رہے ہیں، سماجی تحفظ کے سب سے بڑے پروگرام کو بھی ڈیجیٹائز کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپر لیس طرز حکمرانی کی طرف جا رہے ہیں، وزیراعظم آفس سسٹم سے کارکردگی اور خود احتسابی کا عمل بہتر ہوگا۔ وزیراعظم کو اس جدید نظام کے بارے میں دی گئی بریفنگ کے مطابق ’’وزیراعظم آفس سسٹم‘‘ (پی ایم او ایس) پاکستان کا پہلا مصنوعی ذہانت سے چلنے والا نظام ہے، یہ وزیراعظم آفس کا سرکاری ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جس کا مقصد وزیراعظم کے احکامات جاری ہونے سے لے کر ان پر عملدرآمد، ان کی تکمیل اور تکمیل کے بعد نگرانی تک تمام امور کی انجام دہی کا خودکار نظام متعارف کرانا ہے۔ یہ نظام گورننس اور شفافیت کے لئے سنگ میل اور حکومت کی معاشی ترجیحات اور خدمات کی فراہمی کے ضمن میں انتہائی کارآمد ثابت ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے وزیراعظم کی طرف سے ان کے احکامات کی ڈیڈ لائنز کی نشاندہی اور انہیں اجاگر کرنے میں مدد ملے گی اور وزارتوں کی جوابدہی اور کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

Prime Minister's Office

15,456 görüntüleme • 2 ay önce

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملکی برآمدات بڑھانے اور معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے کے حوالے سے جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا. اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ برآمدات میں اضافے کو ملکی معاشی ترقی کی بنیاد بنایا جائے اور روایتی شعبوں کے ساتھ ساتھ مزید شعبوں کو بھی عالمی منڈیوں میں برآمدات کے لیے تیار کیا جائے. تجارت کو متنوع بنانے کے لیے زیادہ سے زیادہ شعبوں اور صنعتوں کو برآمدی سرگرمیوں میں شامل کیا جائے. پاکستانی مصنوعات کے معیار کو عالمی معیار کے مطابق بنانے، کوالٹی اشورنس کے نظام کو مؤثر بنانے اور بین الاقوامی معیار و ضوابط پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات لیے جائیں. گفتگو کے دوران وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ برآمدات میں ویلیو ایڈیشن پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ پاکستانی مصنوعات کی عالمی منڈی میں قدر اور مسابقت دونوں میں اضافہ ہو. وزیراعظم نے برآمدی صنعتوں کے لیے جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور جدت کو فروغ دینے کی ہدایت کی. انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ڈیجیٹلائزیشن اور جدید ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ کیا جائے. برآمد کنندگان کو درپیش انتظامی اور کاروباری رکاوٹیں دور کی جائیں اور برآمدی عمل کو مزید آسان، تیز اور شفاف بنایا جائے. اجلاس میں برآمدات کے فروغ کیلئے منظور شدہ اسٹرٹیجک روڈ میپ پر عملدرآمد سے متعلق پیشرفت پر بریفنگ دی گئی اور نئی عالمی منڈیوں تک رسائی، برآمدی شعبوں میں تنوع، مصنوعات کے معیار میں بہتری اور کاروباری سہولت کاری کے حوالے سے مختلف تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں برآمدی شعبوں کی عالمی سطح پر مسابقتی صلاحیت بہتر بنانے پر بھی تفصیلی غور کیا گیا. بریفنگ میں بتایا گیا کہ عالمی مارکیٹ تک پاکستانی مصنوعات کی رسائی بڑھانے کے لئے متعدد دوست ممالک سے فری ٹریڈ ایگریمنٹ اور رعایتی نرخوں پر تجارت کے معاہدوں کے لیے اقدامات لیے جا رہے ہیں. پاکستانی ہارٹیکلچرل مصنوعات کو برآمدات میں شامل کرنے کے لیے اقدامات لیے جا رہے ہیں. پاکستانی سرجیکل اور میڈیکل آلات کی برآمدات بڑھانے کیلئے بین الاقوامی ہسپتالوں کے ٹینڈرز اور پروکیورمنٹ میں پاکستانی ایکسپورٹرز کی شمولیت کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے. بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ عالمی کمپنیوں کو پاکستانی مصنوعات سے روشناس کرانے کے لیے ٹیکسپو (TEXPO)، ہیلتھ انجینئرنگ اینڈ منرلز شو، فوڈ اینڈ ایگریکلچر (FoodAg) اور دیگر شعبوں سے متعلق نمائشیں ملک کے مختلف شہروں میں منعقد کی جا رہی ہیں. برآمدات میں جدت کو فروغ دینے کے لیے انٹیلیکچؤل پراپرٹی قوانین کو دور حاضر کے تقاضوں ہم آہنگ کرنے پر کام جاری ہے. ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کی تنظیم نو کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور ای ڈی ایف کی جانب سے کاروباری برادری کے لیے سہولت کے حوالے سے اقدامات لیے جا رہے ہیں. اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، جام کمال خان، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، مشیر وزیراعظم ہارون اختر، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔

Prime Minister's Office

23,859 görüntüleme • 11 gün önce

🚨🚨🚨 عوامی سہیل آفریدی نے گزشتہ رات گئے بغیر کسی پروٹوکول کے تھانہ یونیورسٹی ٹاؤن پشاور کا اچانک دورہ کیا اور تھانے کے مختلف حصوں کا تفصیلی معائنہ کیا!!! دورے کے دوران وزیراعلیٰ نے حوالات میں موجود افراد سے ملاقات کی، ان سے ان کی گرفتاری اور زیرِ حراست ہونے کی وجوہات دریافت کیں اور ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کے بارے میں بھی استفسار کیا، وزیراعلیٰ نے اس موقع پر تھانے میں تعینات پولیس اہلکاروں سے بھی گفتگو کی اور ان کے پیشہ ورانہ امور، ڈیوٹی کے حالات اور درپیش مسائل سے آگاہی حاصل کی!!! وزیراعلیٰ نے پولیس حکام کو ہدایت کی کہ زیرِ حراست افراد کے ساتھ ہر صورت انسانی وقار، قانون اور آئین کے تقاضوں کے مطابق برتاؤ یقینی بنایا جائے اور ان کے تمام قانونی حقوق کا مکمل تحفظ کیا جائے!!! انہوں نے مزید ہدایت کی کہ تھانے آنے والے ہر شہری کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آیا جائے، ان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر سنا جائے اور ان کے جائز مسائل کے فوری حل کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں!!! وزیراعلیٰ نے کہا کہ تھانہ عوام کیلئے انصاف اور تحفظ کی پہلی دہلیز ہے، اس لئے ضروری ہے کہ ہر شہری کو وہاں عزت، سہولت اور فوری رسائی کی فراہمی یقینی بنائی جائے، انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے وژن کے مطابق عوام کو باوقار، شفاف اور بلاامتیاز انصاف کی فراہمی ریاستی اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے!!! وزیراعلیٰ نے کہا کہ ریاستِ مدینہ کے تصور کے مطابق ریاست کی اصل طاقت کمزور اور بے سہارا افراد کے حقوق کے تحفظ اور انصاف کی مساوی فراہمی میں مضمر ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت عوام دوست، جوابدہ اور خدمت پر مبنی پولیسنگ کے فروغ کیلئے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گی!!!

Wasim Al Waziri

17,365 görüntüleme • 2 ay önce

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا Sohail Afridi کا یتیم اور بے سہارا بچوں کے لیے قائم زمونگ کور ماڈل انسٹیٹیوٹ کا دورہ! وزیرِ اعلیٰ نے زیرِ کفالت بچوں سے ملاقات کی، ان کے مسائل سنے اور موقع پر ہی فوری حل کے احکامات جاری کیے۔ وزیراعلی نے بچوں سے تعلیم سے متعلق سوالات کیے اور اچھی کارکردگی پر شاباشی دی. وزیراعلی نے کلاس رومز میں کیمروں کی تنصیب اور درکار اساتذہ کی فوری فراہمی کے احکامات جاری کیے تاکہ تعلیمی ماحول مزید محفوظ اور مؤثر بنایا جا سکے۔ وزیراعلیٰ نے بچوں کے لیے ایک مؤثر کمپلینٹ سیل قائم کرنے کا فیصلہ کیا اور اعلان کیا کہ زمونگ کور کے نجی کالجز میں زیرِ تعلیم بچوں کی فیس حکومت ادا کرے گی۔ زمونگ کور کے اکاؤنٹس سسٹم کے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل کرنے، جبکہ کالجز اور اسپورٹس اکیڈمیز جانے والے بچوں کے لیے ٹرانسپورٹ سروس فراہم کرنے کے احکامات بھی جاری کیے گئے۔ وزیراعلیٰ نے انسٹیٹیوٹ کے مختلف سیکشنز کا معائنہ کیا، بچوں کو فراہم کیے جانے والے کھانے کے معیار کا جائزہ لیا اور زمونگ کور کے گرلز کیمپس کا بھی دورہ کیا۔ گزشتہ دورے کے دوران جاری کیے گئے احکامات پر عملدرآمد کا جائزہ بھی لیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر کہا کہ یتیم اور بے سہارا بچوں کی دیکھ بھال حکومت کی آئینی، اخلاقی اور انسانی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ زمونگ کور انسٹیٹیوٹس عمران خان کے احساس وژن کے تحت قائم کیے گئے ہیں اور انہیں اسی اصل روح کے مطابق چلایا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ زمونگ کور کے تمام معاملات کی وہ بذاتِ خود نگرانی کریں گے۔ #CMKPSohailAfridi

PTI

17,150 görüntüleme • 8 ay önce

اسلام آباد: 28 جولائی 2026. وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی, 2023 میں مجوزہ ترامیم کی منظوری دی گئی۔ وزیراعظم نے کہا کہ آئل ریفائنریز کی اپ گریڈیشن وقت کی اہم ضرورت ہے اور یہ پاکستان کے توانائی تحفظ (انرجی سیکیورٹی) کے جامع نظام کا ایک اہم ستون ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ریفائنریز نہ صرف ملک کی توانائی ضروریات کو بہتر انداز میں پورا کریں گی بلکہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے اور ماحول دوست ایندھن کی فراہمی میں بھی معاون ثابت ہوں گی۔ اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موجودہ ریفائنریز کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے ان کی اپ گریڈیشن ناگزیر ہے۔ یورو-4 اور یورو-5 معیار کے ایندھن کی پیداوار پاکستان کے بین الاقوامی ماحولیاتی وعدوں کی تکمیل، فضائی آلودگی میں کمی اور عوام کو بہتر معیار کا ایندھن فراہم کرنے کے لیے ضروری ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اوگرا کی کارکردگی بہتر بنانے اور مارکیٹ کی ضروریات پوری کرنے کے لئےاصلاحات متعارف کرائی جائیں تاکہ شعبہ توانائی میں مسابقت، شفافیت اور سرمایہ کاری کو فروغ ملے۔ وزیراعظم نے زور دیا کہ نئی پالیسی کے نفاذ کے بعد اس پر مؤثر اور بروقت عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور اس ضمن میں کسی بھی قسم کی غفلت یا تاخیر ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو ہدایت کی کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ قریبی رابطہ رکھتے ہوئے اصلاحاتی عمل کو تیز کیا جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت توانائی کے شعبے میں پائیدار اصلاحات، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔ وزیراعظم نے براؤن فیلڈ ریفائینریز کے حوالےسے ترمیمی پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی 2023 کی ترویج کے لئے قطر، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک میں روڈ شوز منعقد کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے براؤن فیلڈ ریفائینریز کے حوالےسے ریفائننگ پالیسی میں ترمیم کے حوالے سے وزیر پیٹرولیم اور ان کی ٹیم کے کام اور کارکردگی کو سراہا۔ وزیراعظم کی ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے اسٹریٹیجک ریزروز بڑھانے کی ہدایت بھی کی. اجلاس کو ملک میں آئل ریفائنریز کی اپ گریڈیشن، توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور پالیسی پر عملدرآمد کی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی. اجلاس کو بتایا گیا کہ براؤن فیلڈ ریفائینریز کے حوالے سے پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی 2023 میں کی گئی ترامیم کا مقصد ماحول دوست یورو-V کی مطابقت رکھنے والے پیٹرول اور ڈیزل کی پیداوار کو یقینی بنانا، فرنس آئل اور کم معیار کی پیٹرولیم مصنوعات میں کمی لانا ہے۔ اجلاس میں وفاقی وزراء احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، علی پرویز ملک، احسن اقبال، متعلقہ وفاقی سیکریٹریز اور اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔

Prime Minister's Office

18,122 görüntüleme • 2 ay önce

بلوچستان میں جبری گمشدگی جیسے سنگین انسانی مسئلے کو کبھی جھوٹ اور من گھڑت قرار دیا جاتا ہے، کبھی کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ لاپتہ نہیں بلکہ پہاڑوں پر چلے گئے ہیں، اور کبھی اس مسئلے کے وجود ہی سے انکار کر دیا جاتا ہے۔ اور ایک ہفتے کے اندر اندر انہی حکومتی نمائندوں کی جانب سے جبری گمشدگیوں کے مسئلے پر مختلف اور متضاد بیانات دئے گئے ہیں۔ دس دن قبل وزیراعلیٰ نے بیان دیا کہ 2 فروری کے بعد کسی کو جبری طور پر لاپتہ نہیں کیا جائے گا۔ یہ بیان بذاتِ خود اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ بلوچستان میں برسوں سے جبری گمشدگیاں ہوتی رہی ہیں۔ اس کے برعکس، ایک ہفتہ قبل وزیر خواجہ آصف نے کہا کہ مسنگ پرسنز کا مسئلہ سراسر فراڈ ہے اور اس کا کوئی وجود ہی نہیں۔ جبکہ پاکستان کے وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ وفاقی حکومت جبری طور پر لاپتہ افراد کے دیرینہ مسئلے کی مزید تحقیقات کے لیے ایک نئی کمیٹی تشکیل دے رہی ہے۔ کل آصمہ جہانگیر کانفرنس میں رانا ثناء اللہ نے نہ صرف اس سنگین مسئلے کو مرغی اور انڈے جیسی غیر سنجیدہ مثال سے جوڑ کر کم اہم ظاہر کرنے کی کوشش کی بلکہ یہ بھی واضح الفاظ میں کہا کہ جب تک بلوچستان میں دہشتگردی ہے، جبری گمشدگیاں ہوتی رہیں گی۔ یہ بیان خود اس بات کا اعتراف ہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیاں ہو رہی ہیں اور آئندہ بھی جاری رہیں گی۔ یہ بات ایک اس بیٹی کے سامنے کہی گئی جس کے والد گزشتہ سترہ برسوں سے جبری طور پر لاپتہ ہیں اور وہ انکی واپسی کی راہ دیکھ رہی ہیں اور اسی بیٹی کے ساتھ اور دیگر گمشدہ افراد کے لواحقین سے ستمبر 2022 میں رانا ثناء اللہ اور اعظم نذیر تارڑ نے کوئٹہ ریڈ زون میں دھرنے کے دوران ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں لواحقین کے دکھ درد کو سمجھنے کا دعویٰ کیا گیا، ایک کمیشن بھی قائم کیا گیا اور واضح الفاظ میں وعدہ کرکے یقین دہانی کرائی گئی کہ آئندہ جبری گمشدگیاں نہیں ہوں گی، جس شخص پر بھی الزام ہے اسے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا اور قانون کے مطابق شفاف ٹرائل کیا جائے گا۔ مگر کل میرے سامنے یہ کہا گیا کہ اگر کسی کو اٹھایا جائے گا تو اسے قانون کے مطابق ڈیل نہیں کیا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس آئین اور قانون کی بالادستی کی بات کی جاتی ہے، خود ایک وفاقی وزیر اس کی نفی کر رہا ہے۔ بطور ایک ایسی بیٹی جس کا والد جبری طور پر لاپتہ ہے، کیا میں یہ امید بھی نہ رکھوں کہ ہمارے پیاروں کو آئین اور قانون کے مطابق ٹریٹ کیا جائے گا؟ جب ایک وزیر خود آئین کی عملداری پر سوال اٹھا دے تو عام شہری انصاف کی امید کس سے رکھے؟ اور آج انہی وعدوں کی نفی خود حکومتی بیانات سے ہو رہی ہے۔ جبری گمشدگیوں کے مسئلے پر ریاست اور ریاست سرگردان ہے حکومتی نمائندے خود شدید تضاد اور کنفیوژن کا شکار ہیں۔ کبھی اس مسئلے کو مکمل طور پر جھٹلایا جاتا ہے اور کبھی دہشتگردی کے نام پر اسے جائز قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مگر یہ جبری گمشدگیاں ریاست کے ماتھے پر سیاہ دھبہ بن چکی ہیں اور جب تک اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل نہیں کیا گیا ہے اس پر بات ہوتی رہے گی، حکومتی نمائندے اس مسئلے کو جیسے چاہیں جھٹلائیں یا جائز قرار دیں اس مسئلے کو حل کئے بغیر بری الزمہ نہیں ہوسکتے ہیں۔ Rana Sana Ullah Khan Azam Nazeer Tarar

Sammi Deen Baloch

31,666 görüntüleme • 7 ay önce

30 ستمبر 23 چیف آف آرمی سٹاف (COAS) جنرل سید عاصم منیر، NI(M) نے آج کوئٹہ کا دورہ کیا، جہاں انہیں مستونگ اور ژوب میں ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں وفاقی وزیر داخلہ، وزیراعلیٰ بلوچستان اور اہم صوبائی وزراء کے علاوہ اعلیٰ سول و عسکری حکام نے بھی شرکت کی۔ شرکاء نے مستونگ، ہنگو اور ژوب کے شہداء کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی۔ سی او اے ایس نے شہدا کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اور ریمارکس دیئے کہ "12 ربیع الاول کو دہشت گردی کے اس طرح کے واقعات خوارج کے مذموم عزائم کو ظاہر کرتے ہیں، جنہیں دہشت گردی کے ریاستی سرپرستوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔ یہ دہشت گرد اور ان کے سہولت کار جن کا مذہب اور نظریے سے کوئی تعلق نہیں، وہ پاکستان اور اس کے عوام کے دشمنوں کے پراکسی ہیں۔ بدی کی یہ قوتیں ریاست اور سیکورٹی فورسز کی بھرپور طاقت کا سامنا کرتی رہیں گی جن کی حمایت ایک مضبوط قوم ہے۔ دہشت گردوں کے خلاف ہمارا آپریشن بلا روک ٹوک جاری رہے گا اور مسلح افواج، انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے جب تک ملک سے دہشت گردی کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا نہیں جاتا۔ سی او اے ایس نے زور دے کر کہا کہ "پاکستان کے لوگوں نے دہشت گردوں کے سیڈو نظریے اور ان کے پشت پناہوں کے پروپیگنڈے کو مسترد کر دیا ہے اور وہ امن، معاشی ترقی اور انسانی ترقی کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں، جس کی وجہ سے پاکستان کے اندر اور باہر شر پسند قوتوں کو بہت زیادہ تکلیف پہنچ رہی ہے"۔ آرمی چیف نے سی ایم ایچ کوئٹہ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے مستونگ واقعے کے زخمیوں اور اہل خانہ سے ملاقات کی جنہیں پاک فوج کی جانب سے مکمل طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔ انہوں نے بلوچستان پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی بہادری اور لچک کو بھی سراہا۔ انہوں نے شہدا کے اہل خانہ کو مکمل تعاون اور حمایت کا یقین دلایا اور انہیں یقین دلایا کہ دہشت گردوں، ان کے سرپرستوں اور سہولت کاروں کو بخشا نہیں جائے گا۔ قبل ازیں آمد پر وزیراعلیٰ بلوچستان اور کور کمانڈر بلوچستان لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور نے آرمی چیف کا استقبال کیا۔ #PakistanArmy #COAS #DGISI #DGISPR #PakistanZindabad

Noman Khan

10,611 görüntüleme • 3 yıl önce