Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

انشااللہ میرا نئے سال 2026 کے پہلے دن کا آغاز کینیڈا میں اور دن کا اختتام"سوئزرلینڈ"میں ہو گا۔پھر ترکی میں 1 دن گزار کر جنوری کے پہلے ہفتے مستقل طور پر پاکستان آمد ہو گی۔ کینیڈا،سوئزرلینڈ اور ترکی کے برف زدہ ماحول سے اپنے معتدل موسم والے سوہنے شہر...

21,866 görüntüleme • 8 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

آپ میرے بڑے بھائیوں جیسے ہیں۔ اور ہمارے حسان کے والد محترم بھی۔ اس لئے آپ کا بے حد احترام۔ اب کیوں کہ آپ کے نزدیک عاصم منیر صاحب تقریبا اولیا اللہ سے بھی اوپر کا درجہ رکھتے ہیں تو ظاہر ہے وہ آپکی بات بھی سنتے ہوں گے۔ تو جیسے ہی میں پاکستان اتروں گا ان ولی اللہ صاحب کے احکامات پر جہاز کے زینے سے سیدھا زندان میں بند کر دیا جاؤں گا۔ اس کا عمران خان کو تو کوئی فاہدہ نہیں ہو سکے گا۔ ہاں جو میں آپکے ولی اللہ کی خدمت میں روز گستاخی کرتا ہوں۔ وہ سلسلہ ختم ہو جائے گا۔ جو حسان نیازی کو ملٹری کورٹس کے سپرد کرنے کا فیصلہ کرنے والے مسرت حلالی جیسے گھٹیا ججوں کا میں منہ کالا کرتا ہوں وہ ختم ہو جائے گا۔ عمران خان کا ارشد شریف کا بشری بی بی یاسمین راشد کا حسان نیازی کا ایک اور ہمدرد خاموش کروا دیا جائے گا۔ آپ جیسے دوست ہوں تو دشمن کی تلاش پھر کیوں۔ اور آخری بات کاش آپ نے ایسا ہی مشورہ اپنے پیارے نواز شریف کو بھی دیا ہوتا۔ مجھے لگا تھا آپ کا غصہ ختم ہو چکا ہو گا۔ لیکن ابھی بھی جوبن پر ہے۔ اللہ آپکے دل میں نرمی پیدا کرے۔ وسلام

Dr. Shahbaz GiLL

317,064 görüntüleme • 13 gün önce

آج اسلام آباد میں بلوچ خاندانوں کے احتجاجی دھرنے کو دو مہینے مکمل ہوگئے ہیں۔ بلوچستان میں بڑے پیمانے پر اور طویل احتجاجوں کی کئی مثالیں ملتی ہیں۔ چاہے وہ 2010 میں جبری گمشدہ افراد کے لواحقین کا کوئٹہ سے اسلام آباد تک مارچ ہو، 2013 کا پیدل لانگ مارچ جو کوئٹہ سے کراچی اور اسلام آباد تک تین مہینے اور آٹھ دن میں مکمل ہوا، 2021 میں اسلام آباد کا ڈی چوک دھرنا، 2022 میں کوئٹہ ریڈ زون کا 55 دن طویل دھرنا، یا 2023 کی لانگ مارچ جو ایک مہینے سے زائد عرصہ اسلام آباد میں جاری رہی یا وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کا بھوک ہڑتالی کیمپ بھی ہے جسے آج5938 دن مکمل ہوچکے ہیں۔ بلوچوں نے پرامن احتجاج اور سیاسی جدوجہد کے ذریعے اپنے مطالبات اٹھائے ہیں۔ شاید ہی پاکستان کی کسی اور قوم نے اتنی مسلسل اور وسیع پیمانے پر اپنے احتجاجات کو ریکارڈ کرایا ہو۔اس کے باوجود ہم پر الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم سیاسی لوگ نہیں، ہمارے مسائل حقیقی نہیں، یا ہم بات چیت اور مذاکرات پر یقین نہیں رکھتے۔ ان احتجاجوں کے دوران مظاہرین نے رکاوٹیں، اذیتیں، بارشیں، سردیاں، گرمیاں، کھلے آسمان تلے دن رات بیٹھنے کی مشقت، کریک ڈاؤن، شیلنگ اور گرفتاریوں سمیت ہر طرح کی مشکلات برداشت کیں، لیکن اپنے مطالبات پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ کئی بار چند حکومتی نمائندے بھیج کر جھوٹے مذاکرات اور وعدے کیے گئے جو کبھی پورے نہ ہوئے، اور کبھی کریک ڈاؤن کیا یا پھر یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ ہمارے احتجاج اور مطالبات کسی کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتے، یہ پالیسی اختیار کی گئی کہ مظاہرین کو سنا ہی نہ جائے تاکہ وہ تھک کر مایوس ہو کر واپس لوٹ جائیں، گویا اس رویے سے اس احساس کو مزید گہرا کیا جائے کہ بلوچ کا ریاست پاکستان سے انصاف کا مطالبہ کرنا محض فضول ہے۔ لیکن جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مظاہرین، جن میں لاپتہ افراد کی مائیں اور عزیز شامل ہیں، آخرکار تھک جائیں گے مایوس ہونگے ، وہ جہالت اور denial دونوں میں مبتلا ہیں کیونکہ وہ یہ نہیں جانتے کہ یہ وہ لواحقین ہیں جو پچھلے بیس پچیس برس سے اپنے گمشدہ پیاروں کی جبری گمشدگی انتہائی اذیت ناک درد کو جھیل رہے ہیں، وہ قوم جو مستقل ریاستی جبر کا سامنا کررہی ہے، جو روزانہ اس کرب کو اس جبر کو محسوس کرتے ہیں۔وہ کیسے تھکیں گے مایوس ہونگے یا احتجاج کرنا چھوڑ دینگے؟ یہ احتجاج صرف سیاسی مطالبہ نہیں بلکہ اُس مسلسل درد کا زندہ ثبوت ہیں جو بلوچ قوم اور گمشدہ افراد کے خاندان ہر روز سہتے ہیں۔ اسلام آباد میں دو مہینے سے جاری موجودہ احتجاج کے بارے میں بھی ریاست نے یہی حکمت عملی اپنائی ہے کہ یہ خاندان تھک جائیں گے، مایوس ہو کر واپس لوٹ جائیں گے، یا ان کے وجود کو نظرانداز کر کے انہیں Invisible اور Non existent بنا دیا جائے گا، لیکن یہ سوچ خام خیالی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حکومتی رویہ ہر دور میں ہمیشہ سے انتہائی مایوس کن رہا ہے۔ اگر ریاست کے بار بار مایوس کرانے کی پاکیسیوں کے باوجود ہر بار یہ خاندان احتجاج پر ڈٹے ہیں، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ریاست سے پرامید ہیں بلکہ یہ احتجاج اُس درد، اُس ناانصافی اور اُس جبر کو دنیا کے سامنے لانے کا ذریعہ ہیں۔ یہ احتجاج دکھ و تکلیف کے اظہار کا وسیلہ ہیں۔ ان خاندانوں کے لیے یہ احتجاج امید کا نہیں بلکہ مزاحمت کا عمل ہے، ریاستی جبر کے انکار کا عمل، اس جبر کو تسلیم نہ کرنے کا اعلان ہیں کہ جب تک ریاستی جبر جاری رہے گا، یہ مزاحمت احتجاجوں کی شکل میں بھی جاری رہیں گے۔ یہ احتجاج صرف مظاہرے نہیں ہیں یہ مزاحمت ہیں۔ #ReleaseBYCLeaders

Sammi Deen Baloch

17,667 görüntüleme • 11 ay önce

پاکستان کو پہلے بھارت کے ذریعے سبق سکھانے کی کوشش کی گئی، مگر وہاں کھیل الٹا پڑ گیا۔ مودی جی مار کھانے کے بعد تلملا اٹھے اور شور مچا دیا کہ پاکستان نے تو ہم پر ہی حملہ کر دیا۔ حالانکہ انہیں یہی یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ حملہ صرف آپ کریں گے اور پاکستان خاموشی سے مار کھاتا رہے گا۔ پاکستان نے اللہ کی مدد سے وہ کر دکھایا جو عالمی صہیونی طاقتوں کے طے شدہ اسکرپٹ میں شامل ہی نہیں تھا۔ پاکستان کو مغربی سرحد پر افغانستان کے ذریعے کمزور کرنا انہی طاقتوں کا پرانا منصوبہ ہے، جس پر اب تک مسلسل محنت جاری ہے۔ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کی فنڈنگ اور محفوظ پناہ گاہیں افغانستان میں موجود ہیں۔ کام جاری رکھنے کے لئے بھول کر یا “غلطی سے” چھوڑا جانے والا اربوں ڈالر مالیت کا جدید اسلحہ، اور ملینز آف ڈالرز کی فنڈنگ، اسی پلاننگ کا حصہ ہے۔ اپنے بندوں کے ذریعے ہزاروں مسلح اور تربیت یافتہ دہشت گردوں کو افغانستان سے پاکستان میں لا کر دوبارہ بسایا گیا۔ لیکن اس سب کے باوجود اس محاذ پر بھی انہیں کوئی خاطر خواہ کامیابی نہ مل سکی۔ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور بارڈر کو ہر قسم کی آمدورفت کے لئے مکمل طور پر سیل کرنا پاکستان کی جانب سے ایک بہترین چال تھی، جو کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ افغانستان میں خوارج پر براہِ راست حملوں کے ذریعے بھی واضح اور مضبوط پیغام دے دیا گیا کہ یہاں بھی آپ کی دال نہیں گلنے والی۔ ایران بھی سمجھ چکا ہے کہ پاکستان سے دوستانہ تعلقات زیادہ بہتر ہیں۔ اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ ایران نے اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے سے گریز کرنے کا فیصلہ کیا ہے (بدقسمتی سے پہلے ایسا نہیں تھا)۔ اب یہ بات ظاہر ہے کہ ایران میں ہونے والے تازہ فسادات دراصل رجیم چینج کی سازش ہے اور یہ بھی انہی مہربانوں کی مہربانی ہے جو موجودہ ایرانی قیادت کی جگہ رضا شاہ پہلوی جیسے اسرائیل کے کسی وفادار کو آگے لانا چاہتے ہیں. اسرائیل اس مقصد کے لیے آخری حد تک جانے کو تیار ہے۔ پاکستان سنجیدگی سے یہ سمجھتا ہے کہ بھارت اور افغانستان کے ذریعے پاکستان کو قابو کرنے میں ناکامی کے بعد اب پاکستان کو ایران کے راستے کنٹرول کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ یاد رہے کہ اس پورے خطے میں اسرائیل کے کھل کر آگے بڑھنے میں واحد بڑی رکاوٹ ایٹمی پاکستان ہے اور یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے۔ سارا کھیل پاکستان کو ایٹمی طاقت سے محروم کرنے کا ہے۔ کبھی اسے اندرونی فتنہ و فساد میں الجھایا جاتا ہے اور کبھی بیرونی دباؤ اور سازشوں کے ذریعے قابو میں لانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مگر اللہ کے کرم سے اب تک کسی محاذ پر انہیں کامیابی نہیں مل سکی۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ عالمی سازشوں کے خلاف کامیابی سے دفاع کر رہی ہے۔ اب حالات اس طرف بڑھ رہے ہیں کہ پاکستان کھل کر کھیلنے کی پوزیشن میں آ رہا ہے۔ اپنے خطے میں نئی صف بندیاں کر رہا ہے، اپنے مفادات کے خلاف جانے والے طاقتور اسلامی ممالک کو واضح اشارے دے رہا ہے، اور مضبوط دفاعی معاہدے کر رہا ہے۔ پہلے سعودی عرب اور پاکستان کا دفاعی تعاون کم نہیں تھا کہ اب ترکی کے ساتھ دونوں ممالک کی دفاعی ڈیل مخالفین کے لئے ایک پریشان کن خبر بن چکی ہے۔ عمران تو باقاعدہ یہ بیان دے چکا تھا کہ اگر پاکستان کے مسائل بھارت کے ساتھ حل ہو جائیں تو پھر پاکستان کو ایٹمی صلاحیت رکھنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔ عمران اتنا سادہ یا ناسمجھ نہیں کہ اتنی بڑی اور حساس بات یوں ہی زبان سے نکال دیں۔ عمران نے پورے ہوش و حواس میں، اچھی طرح سمجھ کر یہ الفاظ ادا کئے تھے، ایسے الفاظ جو اسے سوچ سمجھ کر فیڈ کئے گئے تھے۔ اور پھر اس کے بعد سب نے دیکھا کہ عمران نے مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر عملاً سودے بازی کرتے ہوئے بھارت کے ساتھ حالات درست کرنے کی کوشش بھی کی۔ پلان بھی یہی تھا کہ بھارت سے حالات بہتر کرنے کا تاثر بنایا جائے تاکہ ایٹمی طاقت رکھنے کا جواز بنایا جائے۔ بظاہر ہر چیز ایک طے شدہ منصوبے کے مطابق آگے بڑھ رہی تھی، ہر کردار اپنی لکیر کے مطابق چل رہا تھا۔ لیکن اللہ رب العزت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اس نے نہ صرف پاکستان کے دشمن کرداروں کو بے نقاب کیا بلکہ انہیں ذلیل و رسوا بھی کیا، اور یہ ثابت کر دیا کہ سازشیں چاہے کتنی ہی گہری کیوں نہ ہوں، جب اللہ کی مدد شامل حال ہو تو بڑے سے بڑا منصوبہ بھی زمین بوس ہو جاتا ہے۔ یاد رہے کہ نقب ہمیشہ اسی گھر میں لگائی جاتی ہے جہاں قیمتی مال ہو۔ اور اس دور میں ایٹمی طاقت سے زیادہ قیمتی کوئی شے نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سازشوں، دباؤ اور حملوں کا رخ ہمیشہ اسی طرف ہوتا ہے جہاں اصل طاقت موجود ہو، کمزور گھروں پر کوئی محنت نہیں کرتا۔ اللہ کرے ہمارے قریبی ہمسایہ مسلمان ممالک کو بھی یہ بات سمجھ آ جائے جو سعودیہ اور ترکی وغیرہ سمجھ چکے ہیں۔

Qaimkhani

23,562 görüntüleme • 7 ay önce