Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

بھارت کا regional بالادستی کا خواب چکناچور، ہوچکا ہے دنیا کے ہر فورم پر شرمندگی کا سامنا ہے اور پاکستان کے عالمی وقار میں اضافہ عیاں ہے آج کے On My Radar وی لاگ میں دیکھیں کہ مئی میں پاکستان کے ہاتھوں جنگی شکست کے بعدبھارت کیسے دنیا بھر...

13,538 просмотров • 1 год назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

پاکستان کو پہلے بھارت کے ذریعے سبق سکھانے کی کوشش کی گئی، مگر وہاں کھیل الٹا پڑ گیا۔ مودی جی مار کھانے کے بعد تلملا اٹھے اور شور مچا دیا کہ پاکستان نے تو ہم پر ہی حملہ کر دیا۔ حالانکہ انہیں یہی یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ حملہ صرف آپ کریں گے اور پاکستان خاموشی سے مار کھاتا رہے گا۔ پاکستان نے اللہ کی مدد سے وہ کر دکھایا جو عالمی صہیونی طاقتوں کے طے شدہ اسکرپٹ میں شامل ہی نہیں تھا۔ پاکستان کو مغربی سرحد پر افغانستان کے ذریعے کمزور کرنا انہی طاقتوں کا پرانا منصوبہ ہے، جس پر اب تک مسلسل محنت جاری ہے۔ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کی فنڈنگ اور محفوظ پناہ گاہیں افغانستان میں موجود ہیں۔ کام جاری رکھنے کے لئے بھول کر یا “غلطی سے” چھوڑا جانے والا اربوں ڈالر مالیت کا جدید اسلحہ، اور ملینز آف ڈالرز کی فنڈنگ، اسی پلاننگ کا حصہ ہے۔ اپنے بندوں کے ذریعے ہزاروں مسلح اور تربیت یافتہ دہشت گردوں کو افغانستان سے پاکستان میں لا کر دوبارہ بسایا گیا۔ لیکن اس سب کے باوجود اس محاذ پر بھی انہیں کوئی خاطر خواہ کامیابی نہ مل سکی۔ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور بارڈر کو ہر قسم کی آمدورفت کے لئے مکمل طور پر سیل کرنا پاکستان کی جانب سے ایک بہترین چال تھی، جو کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ افغانستان میں خوارج پر براہِ راست حملوں کے ذریعے بھی واضح اور مضبوط پیغام دے دیا گیا کہ یہاں بھی آپ کی دال نہیں گلنے والی۔ ایران بھی سمجھ چکا ہے کہ پاکستان سے دوستانہ تعلقات زیادہ بہتر ہیں۔ اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ ایران نے اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے سے گریز کرنے کا فیصلہ کیا ہے (بدقسمتی سے پہلے ایسا نہیں تھا)۔ اب یہ بات ظاہر ہے کہ ایران میں ہونے والے تازہ فسادات دراصل رجیم چینج کی سازش ہے اور یہ بھی انہی مہربانوں کی مہربانی ہے جو موجودہ ایرانی قیادت کی جگہ رضا شاہ پہلوی جیسے اسرائیل کے کسی وفادار کو آگے لانا چاہتے ہیں. اسرائیل اس مقصد کے لیے آخری حد تک جانے کو تیار ہے۔ پاکستان سنجیدگی سے یہ سمجھتا ہے کہ بھارت اور افغانستان کے ذریعے پاکستان کو قابو کرنے میں ناکامی کے بعد اب پاکستان کو ایران کے راستے کنٹرول کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ یاد رہے کہ اس پورے خطے میں اسرائیل کے کھل کر آگے بڑھنے میں واحد بڑی رکاوٹ ایٹمی پاکستان ہے اور یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے۔ سارا کھیل پاکستان کو ایٹمی طاقت سے محروم کرنے کا ہے۔ کبھی اسے اندرونی فتنہ و فساد میں الجھایا جاتا ہے اور کبھی بیرونی دباؤ اور سازشوں کے ذریعے قابو میں لانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مگر اللہ کے کرم سے اب تک کسی محاذ پر انہیں کامیابی نہیں مل سکی۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ عالمی سازشوں کے خلاف کامیابی سے دفاع کر رہی ہے۔ اب حالات اس طرف بڑھ رہے ہیں کہ پاکستان کھل کر کھیلنے کی پوزیشن میں آ رہا ہے۔ اپنے خطے میں نئی صف بندیاں کر رہا ہے، اپنے مفادات کے خلاف جانے والے طاقتور اسلامی ممالک کو واضح اشارے دے رہا ہے، اور مضبوط دفاعی معاہدے کر رہا ہے۔ پہلے سعودی عرب اور پاکستان کا دفاعی تعاون کم نہیں تھا کہ اب ترکی کے ساتھ دونوں ممالک کی دفاعی ڈیل مخالفین کے لئے ایک پریشان کن خبر بن چکی ہے۔ عمران تو باقاعدہ یہ بیان دے چکا تھا کہ اگر پاکستان کے مسائل بھارت کے ساتھ حل ہو جائیں تو پھر پاکستان کو ایٹمی صلاحیت رکھنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔ عمران اتنا سادہ یا ناسمجھ نہیں کہ اتنی بڑی اور حساس بات یوں ہی زبان سے نکال دیں۔ عمران نے پورے ہوش و حواس میں، اچھی طرح سمجھ کر یہ الفاظ ادا کئے تھے، ایسے الفاظ جو اسے سوچ سمجھ کر فیڈ کئے گئے تھے۔ اور پھر اس کے بعد سب نے دیکھا کہ عمران نے مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر عملاً سودے بازی کرتے ہوئے بھارت کے ساتھ حالات درست کرنے کی کوشش بھی کی۔ پلان بھی یہی تھا کہ بھارت سے حالات بہتر کرنے کا تاثر بنایا جائے تاکہ ایٹمی طاقت رکھنے کا جواز بنایا جائے۔ بظاہر ہر چیز ایک طے شدہ منصوبے کے مطابق آگے بڑھ رہی تھی، ہر کردار اپنی لکیر کے مطابق چل رہا تھا۔ لیکن اللہ رب العزت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اس نے نہ صرف پاکستان کے دشمن کرداروں کو بے نقاب کیا بلکہ انہیں ذلیل و رسوا بھی کیا، اور یہ ثابت کر دیا کہ سازشیں چاہے کتنی ہی گہری کیوں نہ ہوں، جب اللہ کی مدد شامل حال ہو تو بڑے سے بڑا منصوبہ بھی زمین بوس ہو جاتا ہے۔ یاد رہے کہ نقب ہمیشہ اسی گھر میں لگائی جاتی ہے جہاں قیمتی مال ہو۔ اور اس دور میں ایٹمی طاقت سے زیادہ قیمتی کوئی شے نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سازشوں، دباؤ اور حملوں کا رخ ہمیشہ اسی طرف ہوتا ہے جہاں اصل طاقت موجود ہو، کمزور گھروں پر کوئی محنت نہیں کرتا۔ اللہ کرے ہمارے قریبی ہمسایہ مسلمان ممالک کو بھی یہ بات سمجھ آ جائے جو سعودیہ اور ترکی وغیرہ سمجھ چکے ہیں۔

Qaimkhani

23,562 просмотров • 7 месяцев назад

دیکھو اپنے فیورٹ فیملی وی لاگر کے کام ۔یہ رجب بٹ جیسے پاکستان کی فیملیزبہت شوق سے دیکھتی ہیں ۔۔۔ کیسے قرانی ایت کا مذاق اڑارہا ہے پہلے بھی اس پر اسطرح کے انزام ہیں مگر عوام ہر بار اس کو معاف کر دیتی ہے ۔۔۔ مگر اب تو قرانی ایت کا مذاق اڑا رہا ہے ۔۔ یہ ویڈیو اور یہ پوسٹ پڑھنے کے بعد فیصلہ اپ پر چھوڑتا ہوں ۔۔ کیا یہ شخص قابل معافی ہے ۔۔ یہ اللہ کا حکم سنیے اس بارے میں خدارا اس پر اواز اٹھایے ۔۔ سورۃ التوبہ، آیت 65–66 ترجمہ: “کیا تم اللہ، اس کی آیات اور اس کے رسول کا مذاق اُڑاتے تھے؟ بہانے نہ بناؤ، تم ایمان کے بعد کفر کر بیٹھے ہو۔ 2. سورۃ النساء، آیت 140 ترجمہ: “تم پر کتاب میں یہ حکم نازل کیا گیا ہے کہ جب تم سنو کہ اللہ کی آیات کا انکار کیا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اُڑایا جا رہا ہے تو اُن کے ساتھ مت بیٹھو، یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں لگ جائیں۔ سورۃ الانعام، آیت 68 ترجمہ: “اور جب تم دیکھو کہ لوگ ہماری آیات کے بارے میں لغویات میں پڑ رہے ہیں (یعنی مذاق یا بحثِ باطل میں)، تو اُن سے منہ موڑ لو، یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں مشغول ہوں۔ سورۃ الزمر، آیت 56 ترجمہ: “کہیں کوئی جان یہ نہ کہے: افسوس ہے مجھ پر کہ میں نے اللہ کے حق میں کوتاہی کی، حالانکہ میں (اللہ کی آیات کے) مذاق اُڑانے والوں میں سے تھا ۔ سورۃ الجاثیہ، آیت 9 ترجمہ: “اور جب وہ ہماری آیات میں سے کچھ سنتا ہے تو انہیں مذاق بنا لیتا ہے۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔ سورۃ لقمان، آیت 6 ترجمہ: “اور لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو لغو باتیں خریدتے ہیں تاکہ اللہ کے راستے سے بہکائیں اور اسے مذاق بنائیں۔ ایسے لوگوں کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔ سورۃ الکہف، آیت 106 ترجمہ: “یہی ان کی جزا ہے — جہنم — اس سبب سے کہ انہوں نے میری آیات اور میرے رسولوں کو مذاق بنا لیا تھا۔

Saleem Speaks

54,770 просмотров • 10 месяцев назад

کبھی کبھی منظر آنکھوں سے نہیں، سیدھا دل پر نقش ہو جاتا ہے۔ آج اڈیالہ کے باہر ان تینوں بہنوں کو پریشان دیکھ کر جو کیفیت بنی، وہ لفظوں میں بیان کرنا آسان نہیں۔ چہروں پر تھکن، آنکھوں میں انتظار، اور دل میں ایک ہی دعا… کہ سب خیر ہو جائے۔ ڈھائی ماہ کوئی چھوٹا عرصہ نہیں ہوتا۔ ہر دن ایک سال جیسا لگتا ہے جب کوئی اپنا کوئی دور ہو۔ ایسے لمحوں میں سیاست، بحث یا اختلاف کی گنجائش نہیں رہتی بس انسانیت رہ جاتی ہے۔ دکھ سب کا ایک جیسا ہوتا ہے، آنسو سب کے ایک جیسے ہوتے ہیں، اور انتظار سب کو ایک سا تڑپاتا ہے لیکن جس کا اپنا بھائی ، بیٹا ، والد یا والدہ جس مشکل سے گزر رہے ہوں اس کی تکلیف صرف اسی کا خاندان محسوس کر رہا ہوتا ہے اور یہ ہم نے 9 مئی کے بعد ہر احتجاج میں گرفتار بے گناہ متاثرہ خاندانوں کو اپنی انکھوں سے یہ تکلیف برداشت کرتے ہوئے دیکھا ہے۔۔ اللہ سب کے دلوں کو سکون دے اور آسانی پیدا کرے اور عمران خان سمیت تمام بے گناہ قیدیوں کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے آمین

Ch Awais Younas

12,602 просмотров • 6 месяцев назад

ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان بھارت کے صوبہ بہار کے وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار کے اس نہایت شرمناک، قابلِ مذمت اور غیر انسانی اقدام کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے، جس میں ایک سرکاری تقریب کے دوران ایک مسلم خاتون ڈاکٹر کا نقاب/حجاب زبردستی ہٹایا گیا، جب وہ اپنی تقرری کا سرٹیفیکیٹ وصول کر رہی تھیں۔ یہ واقعہ محض ایک فرد کی توہین نہیں بلکہ انسانی وقار، مذہبی آزادی، خواتین کی ذاتی خودمختاری اور بنیادی انسانی حقوق پر کھلا حملہ ہے، جو کسی بھی مہذب، جمہوری اور نام نہاد سیکولر ریاست میں ناقابلِ قبول ہے۔ ہم واضح طور پر اعلان کرتے ہیں کہ: کسی بھی عورت کے جسم، لباس یا مذہبی شناخت میں زبردستی مداخلت انسانی وقار کی سنگین پامالی ہے۔ ایک مسلم خاتون کے حجاب کو سرِعام زبردستی ہٹانا مسلمان خواتین اور پوری مسلم اُمہ کے مذہبی جذبات کی کھلی توہین ہے۔ اس قسم کا غیر اخلاقی اور غیر انسانی رویہ خواتین کے تحفظ، مساوات اور مذہبی آزادی کے عالمی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ جمہوریت اور سیکولرازم کا دعویٰ کرنے والی ریاستوں میں ایسے اقدامات ریاستی جبر اور تعصب کی عکاسی کرتے ہیں۔ ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان مطالبہ کرتی ہے کہ: بھارتی حکومت اس واقعے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائے۔ متاثرہ خاتون ڈاکٹر کو مکمل تحفظ اور انصاف فراہم کیا جائے۔ ذمہ دار افراد کے خلاف واضح اور سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اقوامِ متحدہ، جنرل اسمبلی اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں اس واقعے کا سخت نوٹس لیں اور مذہبی آزادی کی خلاف ورزی پر بھارت سے جواب طلب کریں۔ مزید برآں، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ بھارتی حکام متاثرہ خاتون سے ذاتی اور سرکاری سطح پر باضابطہ معافی مانگیں اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مضبوط قانونی و ادارہ جاتی اقدامات یقینی بنائیں۔ ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان ہر صورت خواتین کے وقار، مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کے دفاع کے لیے اپنی آواز بلند کرتی رہینگی #HumanRightsViolation #RespectHijab #WomenRights #ReligiousFreedom #StopIslamophobia #JusticeForMuslimWomen #HumanRightsCouncilPakistan #DignityOfWomen #UNTakeNotice

Human Rights Council of Pakistan

22,344 просмотров • 8 месяцев назад

آج کی سب سے بڑی عالمی خبر! پاکستان پر دہشت گردی کا الزام لگانے والے بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا ثبوت پورے یورپ کو مل گیا ثابت ہو گیا کہ سکھ خالصتانی لیڈر ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے پیچھے بھارت کا ہاتھ تھا امریکی ایف بی آئی نے بھارتی دہشت گرد بشونی گینگ کے خلاف کریک ڈاؤن کر کے "آپریشن ہارڈ بال" کے نام سے امریکہ، کینیڈا اور یورپ میں بیک وقت 50 سے زائد چھاپے مارے اور بشونی گینگ کے 24 بھارتی دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا جن میں سے 11 کی گرفتاری امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ہوئی یہ گروہ بھتہ خوری، منشیات کی اسمگلنگ، اور بھارت و شمالی امریکہ میں سیاسی شخصیات، صنعت کاروں، اداکاروں اور موسیقاروں کے قتل میں ملوث ہے بشنوئی گینگ بھارتی حکومت کے لیے ایک "جرائم پیشہ نمائندہ" (criminal surrogate) کے طور پر کام کرتا ہے اور بھارتی حکومت کی خفیہ کارروائیاں، جیسے کہ ٹارگٹ کلنگ، معاوضے اور دیگر فوائد کے بدلے انجام دیتا ہے اس دہشت گرد گروپ میں میں ایک سینئیر بھارتی پولیس افسر کا نام بھی سامنے آیا ہے امریکی حکام نے کارروائی کے دوران اسلحہ، منشیات اور بڑی مقدار میں نقد رقم بھی برآمد کی اور اسے اب تک کی سب سے بڑی بین الاقوامی کارروائیوں میں سے ایک قرار دیا یاد رہے پچھلے سال کینیڈا نے الزام عائد کیا تھا کہ کینیڈا میں سکھ کارکنوں کے قتل کی تحقیقات کے سلسلے میں اس گینگ کے بھارتی حکومت کے بعض اہلکاروں سے روابط تھے امریکی حکام کی جانب سے ہردیپ سنگھ نجار کے قتل کے مقدمے میں لارنس بشنوئی پر فردِ جرم عائد کیے جانے کے بعد اس میں کوئی شک باقی نہیں رہتا کہ اس جرم میں بھارتی حکومت ملوث ہے بھارتی حکام اس میں کیسے ملوث ہیں؟ اس فردِ جرم کے مطابق قید میں موجود گینگسٹر جگگو بھگوانپوریا کی سربراہی میں کام کرنے والا تقریباً ایک ہزار ارکان پر مشتمل یہ بین الاقوامی جرائم پیشہ نیٹ ورک قتل برائے معاوضہ، اسلحہ کی اسمگلنگ اور پیچیدہ بھتہ خوری کی کارروائیوں میں ملوث تھا۔ یہ گروہ بھارت میں بدعنوان قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے ساتھ مل کر کیلیفورنیا اور اوہائیو میں مقیم افراد کے اہلِ خانہ کو نشانہ بناتا تھا اور اپنے مخالفین کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کروانے کے لیے مبینہ تعاون حاصل کرتا تھا اپریل 2026 میں بھگوانپوریا گروہ کے رکن گرلال سنگھ نے کیلیفورنیا میں مقیم ایک شخص کو دھمکیاں دیں اور بھارت میں ایک بدعنوان سرکاری اہلکار کو معلومات فراہم کیں تاکہ اس شخص کے خاندان کے خلاف جھوٹا قتل کا مقدمہ قائم کروایا جا سکے

Sadia Khalid

48,077 просмотров • 1 месяц назад

احمدیوں پر آئینی پابندیاں اپنی جگہ لیکن مذہبی انتہاپسندوں کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت کس نے دی ؟؟ پاکستان کے آئین میں آرٹیکل 260(3) کے تحت احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہے، جبکہ آرڈیننس XX (1984) کے مطابق احمدی کوئی بھی اسلامی شعار اپنانے، خود کو مسلمان کہنے یا اپنے عبادتی مقامات کو مسجد کہنے کے مجاز نہیں ہیں۔ آرٹیکل 14 (پرائیویسی اور انسانی وقار کے تحفظ) آئینی نقطہِ نظر : پاکستان کا آئین ہر شہری کو مذہبی آزادی، پرائیویسی اور بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔آرٹیکل 20 ہر شخص کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کا حق دیتا ہے۔آرٹیکل 14 انسانی عزت و وقار اور پرائیویسی کی حفاظت کرتا ہے۔کسی کی پرائیوٹ پرالرٹی میں زبردستی گھس کر ان کی عبادت میں مداخلت کرنا اور ہتک آمیز سلوک روارکھنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔ پرائیویسی اور انسانی حقوق: کسی بھی فرد یا گروہ کا کسی کی عبادت گاہ میں گھس کر انہیں نشانہ بنانا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان دستخط کنندہ ہے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے (UDHR) کا، جس کی آرٹیکل 18 ہرانسان کے مذہبی آزادی کے حق کو تسلیم کرتی ہے،اور آرٹیکل 12 پرائیویسی کے حق کی حفاظت کرتی ہے یہ قوانین ریاستی سطح پر ایک مخصوص مذہبی گروہ کے عقیدے کو محدود کرتے ہیں، جبکہ احمدی خود کو غیر مسلم نہیں مانتے۔ یہی نکتہ بنیادی انسانی حقوق، مذہبی آزادی، اور بین الاقوامی قوانین سے متصادم ہو جاتا ہے۔مسلۂ یہی سے شروع ہوتا ہے کہ اگر وہ اپنی عبادت اپنے گھروں یا اپنی عبادت گاہوں میں کریں، تو وہاں ریاست یا عوام کا دخل دینا آئین کے آرٹیکل 14 (پرائیویسی اور انسانی وقار کے تحفظ) کے خلاف جاتا ہے۔ جنازہ اور تدفین کا حق/قبر اور کتبے کی روایت: مذہب یا انسانی ارتقا؟ کسی بھی انسان کو دفنانے کا حق محض ایک اسلامی فریضہ نہیں بلکہ ایک عالمی انسانی قدر ہے۔ تدفین اور قبروں پر نشانات (کتبے) لگانے کی روایت صرف اسلام تک محدود نہیں بلکہ انسانی تہذیب کے آغاز سے موجود ہے۔ قدیم ترین انسانی معاشروں، جیسے مصر، میسوپوٹیمیا، یونان،رومن سلطنت،اور وادیٔ سندھ میں تدفین ایک عام رواج تھا۔ انسان ہمیشہ سے اپنے مُردوں کوعزت کے ساتھ دفنانے اوران کی قبروں کی نشاندہی کرنے کا طریقہ اپناتا آیا ہے، تاکہ وہ یادگار رہیں اورنسلیں بعد میں ان سے جُڑی رہیں۔ اسلامی نقطۂ نظر: اسلام نے تدفین کو اہمیت دی اور اس میں سادگی پر زور دیا، مگر قبروں کی بےحرمتی اور لاشوں کی بےعزتی کو سختی سے منع کیا۔ نبی اکرم ﷺ نے دشمنوں کی لاشوں تک کی بےحرمتی سے منع فرمایا اور انہیں دفنانے کا حکم دیا۔ ٹی ایل پی کا کسی بھی فرد کی تدفین میں مداخلت، قبروں کو مسمار کرنا، یا لاشوں کی بےحرمتی کرنا اسلامی تعلیمات، انسانی اقدار، اور قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ کسی کی قبر کو نقصان پہنچانا نہ صرف قرآن و حدیث کے خلاف ہے بلکہ یہ ایک وحشیانہ اور غیر انسانی فعل بھی ہے، کُجا کہ تازہ قبریں کھول کر اسلام کی خدمت سمجھنا۔ کسی بھی گروہ کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اسلام کے نام پر دوسروں کی تدفین روکے یا قبروں کو نقصان پہنچائے۔یہ نہ صرف اسلامی اصولوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ معاشرتی بربریت اور قانون شکنی کا مظہر بھی ہے یہ ایک سنگین مسئلہ ہے کہ عام شہری کسی بھی گروہ کے خلاف خود عدالت، پولیس اور جلاد بن بیٹھتے ہیں۔ قانونی لحاظ سے، کسی بھی جرم کی تحقیقات اور سزا کا اختیار عدالت کے پاس ہوتا ہے، نہ کہ کسی ہجوم یاگروہ کے پاس۔ مگر ہوتا کیا ہے؟ •شدت پسند گروہ (جیسے TLP) ایک ہجوم اکٹھا کرتے ہیں۔ •پولیس اکثر یا تو بے بس ہوتی ہے یا خود بھی ایسے گروہوں کے دباؤ میں آکر ان کے ساتھ کھڑی ہو جاتی ہے۔ •عدالتیں بھی اکثر ان معاملات میں فوری ایکشن نہیں لیتیں، جس کی وجہ سے یہ رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ صورت حال ایک “موب جسٹس” کو فروغ دے رہی ہے،جس میں لوگ خود ہی جج، جیوری،اور جلاد بن جاتے ہیں، جو کہ ایک مکمل لاقانونیت (Anarchy) کی علامت ہے۔ •پولیس اکثر مذہبی انتہا پسند گروہوں کو کنٹرول کرنے کے بجائے ان کے دباؤ میں آکر ان کے احکامات پر چلتی ہے۔ •TLP جیسے گروہوں کو ریاست کبھی کبھار اپنے مفادات کے لیے بھی استعمال کرتی ہے۔ •اگر ریاست یا اسٹیبلشمنٹ کو کسی بڑے سیاسی یا سیکیورٹی معاملے سے عوام کی توجہ ہٹانی ہو، تو ایسے مذہبی گروہوں کو فعال کر دیا جاتا ہے تاکہ عوام کا غصہ کسی اور طرف منتقل ہو جائے۔ یہ ایک بڑا سوال ہے کہ کیا ریاست مذہبی شدت پسندی کو اپنے سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے؟ بلوچوں نے ٹرین پر حملہ کیا اور یرغمال بنایا، جو ریاست کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ ایسے وقت میں جب میڈیا اور عوام کا فوکس بلوچ مسئلے پر ہونا چاہیے تھا،اچانک TLPاور مذہبی شدت پسندی کے واقعات بڑھ جاتے ہیں۔ تحریر :سونیا خان خٹک

Sonia Khan khattak(SK)

31,678 просмотров • 1 год назад

کور کمانڈر پشاور عمر احمد بخاری کا شمار آرمی کے ٹاپ جرنیلوں میں ہوتا ہے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ مستقبل میں انہیں فور اسٹار جنرل بنایا جائے۔ آج کور کمانڈر پشاور عمر احمد بخاری نے چترال کے مشہور پولو پلیئر اور لیجنڈ اظہار علی خان سے ان کے گھر جا کر ملاقات کی۔ چترال کے اس عظیم پولو لیجنڈ کی حوصلہ افزائی کے لیے ان کے گھر جانا ایک قابلِ تحسین اقدام ہے۔ ہم کور کمانڈر پشاور کے مشکور ہیں کہ انہوں نے اس طرح اظہار علی خان جیسے پولو لیجینڈ کو عزت دی وہ واقعی اس اعزاز کے مستحق تھے۔ اظہار علی خان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انہوں نے شندور میں گلگت کے خلاف ایک میچ میں 9 گول اسکور کیے تھے۔ وہ گزشتہ دو دہائیوں سے شندور میں چترال اے ٹیم کی نمائندگی کر رہے ہیں اور انہیں “مسٹر شندور” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ جب سے اظہار علی خان، اصرار ولی اور شہزاد احمد شاہ جی چترال اے کی نمائندگی کر رہے ہیں، گزشتہ 20 سالوں میں گلگت کی ٹیم صرف دو مرتبہ کامیاب ہو سکی ہے، جبکہ باقی تمام میچز میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 2011 سے چترال اے ٹیم شندور میں ناقابلِ شکست رہی ہے، اور گلگت نے آخری بار 2011 میں چترال کو ہرایا تھا، جس کے بعد سے شندور میں اسے مسلسل شکست ہو رہی ہے۔ #نوٹ اس سال شندور میں بہت اچھا میچ دیکھنے کو ملے گا پشاور میں جیتنے کے بعد گلگت کی ٹیم کے حوصلے بلند ہونگے اس سال شندور کے لیے فورسز اور سولین پر مشتمل اچھی ٹیم سلیکٹ کر کے شندور بھیجنا ہوگا #Chitral #Polo

Khalid Hussain Taj

107,208 просмотров • 4 месяцев назад

تابش ہاشمی کا ہنسنا منع ہے آخر تفریحی پروگرام ہے یا پاکستان پیپلزپارٹی کے خلاف پراپیگنڈا سیل ؟؟ تابش ہاشمی بارہا ایسے سوالات اور تبصرے کرتے دکھائی دیتے ہیں جن سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ تفریح کے نام پر ایک مخصوص سیاسی ایجنڈا آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ تقریباً ہر مہمان کے سامنے کراچی اور پاکستان پیپلزپارٹی کو ہی نشانہ بنانا اگر مزاح ہے تو پھر غیر جانبداری کہاں ہے؟ اگر Tabish Hashmi کو ایم کیو ایم کے پلیٹ فارم سے سیاست کرنی ہے تو کھل کر کریں جس کا وہ کئی بار پروگرامز میں اظہار کر چکے مگر Geo News Urdu کے قومی پلیٹ فارم کو ذاتی یا سیاسی تعصبات کے اظہار کے لیے استعمال کرنا صحافتی معیار پر سوالات اٹھاتا ہے۔ تنقید جمہوری حق ہے لیکن مسلسل یکطرفہ بیانیہ اور مخصوص جماعت کو نشانہ بنانا تفریح نہیں بلکہ بہت سے ناظرین کے نزدیک سیاسی پروپیگنڈا محسوس ہوتا ہے۔ Sharjeel Inam Memon اور پیپلزپارٹی کی میڈیا ٹیم کو اس رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔ #HansnaManaHa

Shaista Aslam( PPP)🇱🇾

13,496 просмотров • 2 месяцев назад

سوشل میڈیا: نئی نسل کا دوست یا دشمن؟ سویڈن نے سکولوں میں سکرین اور ڈیجیٹل طریقہ تعلیم پر پابندی لگا کر دوبارہ سے روایتی طریقہ تعلیم کو فروغ دیا ہے اس وقت دنیا بھر میں بالخصوص ترقی یافتہ ممالک میں سوشل میڈیا کے اثرات زیر بحث ہے کئی ممالک نے سولہ سال تک کے بچوں کو سوشل میڈیا تک رسائی ختم کر دی ہے کئی ممالک نے ختم نہیں کی محدود کر دی ہے تاہم ایک بات پر اتفاق ہے کہ سوشل میڈیا لوگوں کو کند ذہن بنا رہا ہے کیونکہ یہ انکو دماغی لحاظ سے سہل پسند اور غیر تنقیدی بنا رہا ہے اسکے سبب ذہنی یکسوئی ختم ہوتی جا رہی ہے صارفین کا کسی بھی نقطے پر سوچ کو مرتکز کرنا چند سیکنڈ تک محدود ہو گیا ہے اور یہ بحران بچوں کے معاملے میں اور خطرناک ثابت ہوتا ہے کیونکہ یہ انکی دماغی اور جسمانی نشوونما کی عمر ہوتی ہے وہ ذہنی طور پر پسماندہ ہو رہے ہیں کھیل کود کی بجائے سکرین پر زیادہ ٹائم گزار رہے ہیں جس سے وہ کئی ذہنی امراض کا شکار ہو رہے ہیں اور اسکے ساتھ ساتھ ان میں بین الشخصی تعلق بنانے کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے وہ ایک دوسرے سے بات کرنے کی بجائے سوشل میڈیا میں مصروف رہنے کو ترجیح دیتے ہیں ان میں emotional intelligence کا فقدان ہے سوال یہ ہے کہ آیا پاکستان میں اس بارے سوچ بچار پائی جاتی ہے جواب بدقسمتی سے نفی میں ہے حکومت تو دور کی بات والدین کو بھی اس بارے زیادہ آگاہی نہیں بلکہ وہ فون کو کھلونے کا درجہ دیتے ہیں کہ بچے کے ہاتھ میں دے دیں وہ اس فون پر لگا رہے اور یہ اپنے فون پر

Umar Cheema

13,621 просмотров • 4 месяцев назад