正在加载视频...

视频加载失败

آواز کا جادو یا دل کا اخلاص ؟ آج کے دور میں نعت خوانی اکثر آواز، اسٹیج اور مائیک کی کوالٹی تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ ہم بناوٹ اور دکھاوے کی چمک دمک میں اتنے کھو گئے ہیں کہ وہ "اثر" کہیں کھو گیا ہے جو کبھی...

22,705 次观看 • 5 个月前 •via X (Twitter)

14 条评论

Ch.Muhammad Tufail Guru 的头像
Ch.Muhammad Tufail Guru5 个月前

صلی اللہ علیہ وسلم رحمت العالمین 🌹

Mustafa Nasir 的头像
Mustafa Nasir5 个月前

I can say only subha Allah

jorhan343 的头像
jorhan3435 个月前

اسلام علیک یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم 💓💓💓💓💓 تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم 💓💓💓💓💓 تاجدار ختم نبوت زندہ باد 💓💓💓💓💓

SULTAN 的头像
SULTAN5 个月前

اعلیٰ 💗💝

دشت نورد 的头像
دشت نورد5 个月前

@xaneeera93868 بہت ہی شاندار بہت خوب ماشاءاللہ

میاں جی 🐅🐅🐅 پکا لیگی 的头像
میاں جی 🐅🐅🐅 پکا لیگی5 个月前

ماشاءاللہ سبحان اللہ

Abdul Waheed 的头像
Abdul Waheed5 个月前

its not complete naat pak

Aamir Sattar 的头像
Aamir Sattar5 个月前

اخلاص

Safdar Alvi 的头像
Safdar Alvi5 个月前

ماشاءاللہ ۔۔۔۔۔۔ اللہ پاک جزائے خیر عطا فرمائے

Ibrar 的头像
Ibrar5 个月前

💕💕💕💕😍

azra idrees 的头像
azra idrees5 个月前

Ma sha Allah

Dilawar Hussain Gondal 的头像
Dilawar Hussain Gondal5 个月前

ماشاءاللہ بہت خوب

Naeem iqbal 的头像
Naeem iqbal5 个月前

Subhan Allah

Javed khan 的头像
Javed khan5 个月前

محمد صلی اللہ علیہ وسلم

相关视频

بے قصور بیٹی، ٹوٹا ہوا گھرانہ راولپنڈی کا ایک عام سا گھر… مگر اس گھر میں خوابوں کی دنیا بسی ہوئی تھی۔ ایک بیٹی، جو اپنی ماں کی آنکھوں کا تارا تھی، بہتر مستقبل کے لیے پردیس گئی۔ برسوں کی محنت، تنہائی اور جدائی برداشت کی، لیکن دل میں یہ سکون تھا کہ ماں باپ خوش ہیں اور اس کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی۔ پردیس میں وہ مسکرا کر زندگی گزار رہی تھی، مگر دل ہمیشہ وطن کے ساتھ دھڑکتا تھا۔ پھر ایک دن وطن میں ایسا طوفان اٹھا جس نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔ ایک سازش کے تحت عوام کا محبوب وزیرِاعظم برطرف کر دیا گیا۔ اس کے بعد ظلم و جبر کا وہ سلسلہ شروع ہوا جس نے لاکھوں دل توڑ دیے۔ یہ خبر جب بیٹی نے سنی، تو اس کا دل تڑپ اٹھا۔ وہ ظلم کے خلاف بولنے لگی، سچ کہنے لگی۔ لیکن طاقت کے ایوانوں کو ایک نازک سی لڑکی کی آواز بھی برداشت نہ ہوئی۔ انتقام میں اس کے والد اور بھائی کو اٹھا لیا گیا، دھمکایا گیا، اور حکم دیا گیا: "اپنی بیٹی سے کوئی بات نہ کرو، ورنہ انجام برا ہوگا۔" ایک ماں، جس کا دل ہر لمحہ اپنی بیٹی کے لمس کو ترستا تھا، اپنی جان سے بڑھ کر چاہی جانے والی بچی سے بات نہ کر سکی۔ وہ ماں روز آنسو بہاتی، راتوں کو جاگتی، بیٹی کی آواز سننے کو تڑپتی رہی۔ مگر جب سب دروازے بند کر دیے گئے تو اس کا دل بھی ٹوٹ گیا۔ ماں کی سانسیں مدھم ہونے لگیں۔ رخصتی کے وقت لبوں پر بس ایک ہی فریاد تھی: "میری بیٹی بے قصور ہے… میری بیٹی بے قصور ہے۔" یوں ایک ماں کا دل، ایک بیٹی کی آواز اور ایک گھرانے کا سکون، سب ظلم کی بھینٹ چڑھ گئے۔ Eshaal honey PTI PTI Faisal Khan Shehr Bano Official

Salman Iqbal

68,436 次观看 • 1 年前

آپ کے پاس 15 دن ہیں اگر اس میں خان کی رہائی کے لئے کوئی ٹھوس اقدام نہ اٹھایا گیا تو ہم اس لائحہ عمل پہ کام شروع کر دیں گے جو ہم نے طے کر لیا ہے۔ 15 کے بعد کوئی عذر قابل قبول نہیں ہوگا تمام گراونڈ کے ورکرز جو آج خوشحال گڑھ جرگے میں تشریف لائے ان سب کا تہہ دل سے شکریہ آج کے جرگے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ 26 نومبر 2024 سے لے کر آج تک خان صاحب کی رہائی کے لئے کوئی سنجیدہ کوشش نظر نہیں آئی۔ ہم لائحہ عمل مانگتے رہے لیکن کبھی ایک ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا گیا اور کبھی دوسرے - نوبت یہاں تک آ گئی کہ خان صاحب کی آنکھ ضائع ہونا بھی نارملائز کر دیا گیا۔ اب وقت آ چکا ہے کہ وہ تمام لوگ جو اس ملک یعنی عمران خان سے پیار کرتے ہیں وہ اپنے طور پہ خود سے نہ صرف لائحہ عمل دیں بلکہ سب کو کھینچ کر اپنے پیچھے لے کر آئیں۔ پارٹی کے فیصلوں میں گراونڈ ورکرز کی رائے کو شامل نہ کرنا پارٹی کے عہدیداران اور ورکرز کے درمیان عدم اعتماد کا باعث بن رہی ہے۔ ہمیں کسی بھی صورت پارٹی کی فیصلہ سازی میں ورکرز کی آواز شامل نہ ہونا قبول نہیں۔ ہم ورکرز نے ہمیشہ عہدیداروں اور نمائندوں کی کال پر۔لبیک کہا لیکن افسوس آج کہ جرگے میں پارٹی عہدیداران کا مکمل بائیکاٹ اور ورکرز کو کال کر کر جرگے میں شرکت سے روکنا ایک شرمناک عمل ہے۔ تاہم ہمیں اب آپ سے کوئی امید نہیں اور اب فیصلے ہم۔اپنے ہاتھوں میں لے چکے ہیں، جسے آنا ہو ساتھ اسے خوش آمدید اور جو اس میں روڑے اٹکائے گا وہ ہوشیار رہے کیونکہ اب خان کی جان پہ بات آ چکی ہے اور ایسے میں ہمارے لئے کوئی عہدہ یا عہدیدار کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ ہمارا خان کی رہائی کے علاوہ کوئی ایجنڈا نہیں ہے اور ہم۔صرف اسی پہ فوکس کئے ہوئے ہیں۔ اگلے پندرہ دن ہم دن رات ایک کر کے خود کو عمل کے لئے تیار کریں گے یاد رکھیں ہم۔سب عمران خان کے مقروض ہیں اور ہم کبھی خان صاحب کو تنہا نہیں چھوڑیں گے چاہے اس کی قیمت ہمیں کچھ بھی ادا کرنا پڑے۔ ہم۔جیتیں گے کیونکہ ہم۔حق پر ہیں اور ان شاء اللہ خان صاحب کو اس ظالمانہ قید سے آزادی دلوائیں گے۔ نہ۔کوئی بڑا دعوی کرتے ہیں، نہ کوئی بڑھک، صرف اور صرف عمل کر کے دکھائیں گے۔ تیاری پکڑیں۔ اللہ ہم۔سب کا حامی و ناصر ہو اور ہماری رہنمائی فرمائے

Khurram Zeeshan

55,199 次观看 • 5 个月前

آج اس تاریخی اور فقید المثال اجتماع کا انعقاد کر کے پوری دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ سرزمین فلسطین فلسطینیوں کا ہے اور اس سرزمین پر صہیونیت کا کوئی حق نہیں ہے، چند مہینے قبل یہاں اسی اجتماع میں جس اجتماع کو ہم نے طوفان اقصیٰ کا نام دیا تھا اور ہم نے اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا تھا ہم آج بھی ان کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہم آپ کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، ہم ایک مضبوط موقف پہ قائم ہیں اور جس طرح آپ میدان جنگ میں ہیں ہم بھی پاکستان کی سرزمین پر آپ کے شانہ بشانہ اور قدم بقدم آپ کے جہاد میں شریک ہیں۔ امریکہ ہو یا مغربی دنیا انسانی حقوق کے علمبردار بنتے ہیں مجھے ان کی تاریخ بھی معلوم ہے مجھے ان کا کل بھی معلوم ہے اور آج بھی معلوم ہے۔ جنگ عظیم اول میں اسی مغربی دنیا نے کروڑوں انسانوں کا قتل عام کیا تھا، جنگ عظیم دوم میں اسی مغربی دنیا میں کروڑوں انسانوں کا قتل عام کیا تھا اور آج 20 سال تک افغانستان میں افغانوں کا قتل عام ہوتا رہا، عرب دنیا میں عرب مسلمانوں کا قتل عام ہوتا رہا، آج غزہ کے مسلمانوں پر بمباریاں ہو رہی ہیں، 50 ہزار کے قریب وہ اپنے شہداء دے چکے ہیں، اسرائیل مجاہدین کی مقابلے میں میدان میں نہیں ٹھہر پا رہا وہ معصوموں اور بے بس مسلمانوں پر بمباری کر رہے ہیں، اس وقت بھی اگر 50 ہزار شہدا ہیں جو 15 مہینوں میں دے چکے ہیں 75 فیصد اس میں چھوٹے بچے اور خواتین ہیں، آپ بتائیں کہ اس ظلم اور فلسطینیوں کی اس نسل کشی پر اگر امریکہ انہیں سپورٹ کر رہا ہے، اگر برطانیہ ان کو سپورٹ کر رہا ہے، اگر نیٹو ممالک ان کو سپورٹ کر رہے ہیں تو کیا ان کو آج کے بعد انسانی حقوق کی بات کرنے کا حق حاصل ہے؟ جن کے ہاتھوں انسانی حقوق کا قتل عام ہو رہا ہے، جن کے ہاتھوں انسان کی جان محفوظ نہیں، جن کے ہاتھوں انسان کا مال محفوظ نہیں، جن کے ہاتھوں انسانوں کی عزت و آبرو محفوظ نہیں اور چھوٹے چھوٹے شیر خوار بچے آج وہاں پر یہ نہیں سمجھ پائیں گے کل کہ ہم کس کی اولاد ہیں میرے باپ کا نام کیا تھا اور میری ماں کا نام کیا تھا۔ کیا ان کو بھی انسانی حقوق کی بات کرنے کا حق حاصل ہے؟ تمہارے ہاتھوں سے انسانوں کا خون ٹپک رہا ہے، انسانیت کا خون ٹپک رہا ہے، انسانی حقوق کا قتل عام ہو رہا ہے، تم انسانیت کے قاتل ہو۔ اگر صدام حسین کو اس بنیاد پر پھانسی دی جاتی ہے کہ آپ نے ایک شہر میں آپریشن کیا اور اتنے لوگ آپ نے قتل کیے تھے تو اتنی انسانیت کے قتل عام پر کیا نیتن یاہو کو پھانسی پہ چڑھانا ان کا حق نہیں بنتا؟ یہ انسانیت کا دشمن ہے۔ امریکہ اور مغربی دنیا انسانیت کے قاتل ہیں اور ان شاءاللہ ہم نے یہاں پر حق و انصاف کی آواز بلند کی ہے، ہم نے اس خطے میں انسانیت کو شعور عطا کیا ہے پتہ چل جائے کہ دنیا میں مظلوم کون ہے اور ظالم کون ہے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

30,555 次观看 • 1 年前