Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

اوے لڑکو ایتھے مرو 😂😂😂 ہر چمکنے والی چیز کو چیلنج مت سمجھ لیا کرو ۔۔ سنو 📢👇 غور سے شیر دل لڑکو ، اپنے چیلنج کی پھڑکتی رگ کی خود حفاظت کرو 😂 ورنہ تم ہو اسی جوگے ۔۔۔لڑکیوں کے آگے ⚡🤣

41,417 Aufrufe • vor 9 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

📌سادگی چھوڑو چالاکی سیکھو مولانا رومی کے کامیاب 10 اصولِ زندگی✨ مولانا رومی نے سادگی کو بےوقوفی نہیں کہا۔ انہوں نے کہا: معصوم بنو لیکن بے خبر مت رہو۔ دنیا کے ساتھ چلنے کے لیے حکمت اور بصیرت چاہیے۔ یہ ہیں ان کے 10 اصول 👇👌 1. ہر چیز کو دل سے مت لگاؤ لوگ باتیں کریں گے۔ تیر ماریں گے۔ اگر ہر تیر اپنے دل میں چبھاؤ گے تو چل نہیں سکو گے۔ سُنو سمجھو اور آگے بڑھ جاؤ۔ 2. خاموشی سب سے بڑا جواب ہے جہاں جہالت بولے وہاں دلیل مت دو۔ رومی کہتے ہیں خاموشی زبان کا دروازہ ہے اور دل کا خزانہ۔ اپنی توانائی فضول بحث میں ضائع مت کرو۔ 3. لوگوں کو جیسا وہ ہیں ویسا قبول کرو ہر کسی کو اپنا جیسا بنانے کی کوش حماقت ہے۔ کچھ لوگ سبق دینے آتے ہیں کچھ ساتھ دینے۔ پہچاننا سیکھو۔ 4. زخم کے بغیر روشنی نہیں ملتی جو چیز تمہیں توڑتی ہے وہی تمہیں بناتی بھی ہے۔ رومی کہتے ہیں زخم وہ جگہ ہے جہاں سے روشنی اندر آتی ہے۔ تکلیف سے بھاگو مت اس سے سیکھو۔ 5. ماضی کو قبر میں دفن کر دو ماضی کی لاش کو کندھے پر لاد کر چلنے والا کبھی منزل پر نہیں پہنچتا۔ جو گیا سو گیا۔ اب کا سوچو۔ 6. اپنی قدر خود کرو جو خود کو سستا بیچ دیتا ہے دنیا اسے مفت میں خرید لیتی ہے۔ اپنی عزت اپنی حدود اور اپنی وقت کی قیمت مقرر کرو۔ 7. دریا بنو جوہڑ مت بنو جوہڑ کا پانی کھڑا رہ کر بدبو دیتا ہے۔ دریا چلتا ہے صاف کرتا ہے اور سب کو سیراب کرتا ہے۔ زندگی میں بہاؤ پیدا کرو رکاوٹ مت بنو۔ 8. دشمن کو بھی حکمت سے ہراؤ تلوار سے نہیں ظرف سے جیتو۔ رومی کہتے ہیں "نفرت سے نفرت ختم نہیں ہوتی حکمت سے ہوتی ہے۔ چالاکی یہ ہے کہ دشمن کو دوست بنا لو یا بے اثر کر دو۔ 9. امید کا دامن مت چھوڑو اندھیری رات کے بعد صبح ضرور آتی ہے۔ ناامیدی شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ اللہ پر بھروسہ رکھو اور محنت کرتے رہو۔ 10. خود کو پہچانو سب سے بڑی چالاکی خود شناسی ہے۔ "تم سمندر کا ایک قطرہ نہیں ہو تم خود ایک سمندر ہو ۔ جب تم خود کو جان جاؤ گے تو دنیا تمہیں استعمال نہیں کر سکے گی۔ خلاصہ سادہ دل رہو لیکن نادان مت بنو۔ نرم رہو لیکن کمزور مت بنو۔ معاف کرو لیکن استعمال ہونے مت دو۔ یہی رومی کی چالاکی ہے۔ سچ بتائیں کونسا اصول آپ کو سب سے زیادہ اچھا لگا جسے آپ اپنی زندگی کے لئیے لازم سمجھتے ہیں ؟

NEW HOPE

21,188 Aufrufe • vor 2 Monaten

پاکستان میں فساد پھیلانے والے جلاؤ گھیراؤ کرتے پھرتے کتے کے بچو ۔۔۔۔۔ ادھر آؤ تمہیں بتاؤں ، تمہیں سمجھاؤں فلسطینی عوام کو اس وقت کس چیز کی ضرورت ہے ۔۔۔ ناکہ ، تمہاری شیطانیت جو تم پاکستان کی سلامتی کے خلاف کرنے میں مصروف ہو ۔۔۔۔۔ 👇👇👇 الحمدللہ امن معاہدہ کے نفاذ کے بعد ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے ، اب روزانہ 900 سے زیادہ امدادی ٹرک غزہ میں داخل ہو رہے ہیں – جو ہمارے بھائیوں اور بہنوں کے لیے خوراک، ادویات اور ایندھن لے کر جا رہے ہیں جو اتنے عرصے سے مشکلات کا شکار رہے ہیں۔ یہ ریلیف صرف امن کی علامت نہیں ہے بلکہ عالمی اسلامی اتحاد اور ہمدردی کی طاقت ہے۔ ہر اس شخص کے لیے جو انسانیت کے لیے کھڑا ہوا، اپنی آواز بلند کی، چندہ دیا، دعا کی، اور کبھی ہار نہیں مانی — ان سب کا شکریہ۔ یہ ہے اس وقت کام کرنے والے ۔۔۔ فلسطین کو احتجاجی ہمدرد ریلیوں کی کوئ ضرورت نہی ہے ۔۔۔ کر سکتے ہو تو اب فلسطین کی عوام کی خوشیوں کو بحال کرنے میں ان کی مدد کرو ۔۔۔ ناکہ تم فتنہ فساد پھیلاتے پھرو

New Hope 😶‍🌫️

43,392 Aufrufe • vor 11 Monaten

شعور کوئی مادہ نہیں جسے قید کیا جا سکے، نہ ہی یہ کوئی خیال ہے جو جذبات کی نذر ہو جائے۔ شعور ایک طاقت ہے، یہ وہ سرچشمہ جو ظلم کو چیلنج کرتا ہے اور ناانصافی کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ یہ صرف ایک انفرادی احساس نہیں بلکہ ایک اجتماعی آگاہی ہے، ایک ایسی جدوجہد جو قوموں کی تقدیر بدل دیتی ہے۔ آج بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) اسی شعور کا استعارہ بن چکی ہے ۔ایک ایسی امید کی کرن جو ہر بلوچ کے دل میں روشن ہے۔ بی وائی سی کی قیادت کو خاموش کرنے کی کوششیں، جو ریاست کی جانب سے کی جا رہی ہیں، ایک دن خود ریاستی اداروں کے لیے پچھتاوے کا باعث بنیں گی۔ کیونکہ وہ ماہرنگ شاہ جی، بیبرگ، بیبو، گلزادی اور دیگر قائدین کو محض افراد سمجھ کر قید کر رہے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ اب ایک نظریہ بن چکے ہیں ، وہ خود تحریک کی صورت اختیار کرچکے ہیں بلوچستان آج بول رہا ہے۔ ظلم کے خلاف ہر بلوچ، چاہے وہ عمر رسیدہ ہو یا نوجوان، اپنی آواز بلند کر چکا ہے۔ وہ لوگ جن کے گھرانے اس جبر کا براہ راست شکار نہ تھے، صرف بی وائی سی کی قیادت کو سڑکوں پر دیکھ کر متحرک ہوئے، آج وہ خود اس حقیقت سے آشنا ہو چکے ہیں کہ سب سے بڑا قانون شکن خود ریاست ہے۔ جو کچھ عوام کے ساتھ ہو رہا ہے، وہ محض سیکیورٹی کے نام پر نہیں، بلکہ ایک منظم دہشتگردی ہے ۔ ایک خوف پھیلانے کی کوشش۔ بلوچستان نہ کبھی خاموش تھا، نہ کبھی ہوگا۔ ہر نئے جبر کے ساتھ ہمارے حوصلے مزید بلند ہوں گے، ہمارے اعصاب مزید مضبوط ہوں گے، اور ہم اپنی جدوجہد کو نئے زاویوں سے جاری رکھیں گے۔ #NoToPakistanTyranny

Sabiha Baloch

22,164 Aufrufe • vor 1 Jahr

“اگر وہ اب بھی رب کو پکاریں تو اُن کی سزا موت ؟” مان لیا کہ ریاستِ پاکستان نے 1974 میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا۔ مان لیا کہ قانون کے مطابق وہ خود کو مسلمان نہیں کہلا سکتے۔ لیکن اگر کوئی دل سے اللہ کو مانتا ہے اور اُسکے آگے سجدہ ریز ہوتا ہے ،رسولِ پاک (ص ) کو نبی مانتا ہے، اگر وہ محض اپنے عقیدے کے مطابق نماز پڑھ رہا ہے ، رب کو پکار رہا ہے — تو اس کی سزا موت کیسے ہو سکتی ہے؟ یہ کون سا اسلام ہے جو خُدا کو سجدہ کرنے پر جان لیتا ہے؟ یہ کون سا آئین ہے جو اپنے شہریوں کو اپنی چار دیواری میں عبادت سے روکتا ہے ؟ اور یہ کون سی ریاست ہے جو ہجوم کے ہاتھوں خونِ ناحق پر خاموش رہتی ہے؟ اسلام کے تحفظ کے نام پر… کیا سب کچھ جائز ہو گیا؟ ایک جتھہ “اسلام خطرے میں ہے” کا نعرہ لگا کر نکلتا ہے اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے ، قتل کرتا ہے اور “لبیک یا رسول اللہ لبیک “کے نعرے لگاتے ہوئے فاتحانہ اندازمیں چل دیتا ہے ۔ یہ سوال صرف احمدیوں کا نہیں—یہ ہر پاکستانی کا سوال ہے کہ : اگر ہم نے مذہب کے نام پر قتل کو معمول بنا لیا تو کل ہر مسجد، ہر مسلک، ہر مکتبِ فکر کسی نہ کسی کو خطرہ لگنے لگے گا۔ ختمِ نبوت پر ایک ہونے والے، باقی اسلامی شعائر پر اختلاف رکھنے کی بنیاد پر بھی نشانہ بنیں گے۔ اگر عبادت جرم ہے تو بےگناہ کے قتل پر خاموشی گناہ ہے۔ آواز بلند کریں، ورنہ کل آپ کی باری ہے۔

Sonia Khan khattak(SK)

13,405 Aufrufe • vor 1 Jahr

💥ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا ٹرمپ کو کھلا چیلنج: “اگر تم بہادر ہو اور اپنے الفاظ پر قائم ہو تو تمہیں اپنے فوجی ایران بھیجنے چاہئیں، جیسا تم نے کہا تھا، تاکہ آبنائے ہرمز کھول سکو۔ زیادہ بکواس نہ کرو، بس اپنے طاقتور فوجی ایران بھیج دو۔” “اور اگر تمہیں ہوائی جہاز کے ذریعے بھیجنے سے ڈر لگتا ہے جیسا پہلے ہوا تھا، تو ہم تمہیں ایک ایرانی طیارہ بھیج دیں گے تاکہ وہ تمہارے فوجیوں کو لے آئے۔” “میں تم سے کہتا ہوں: 30 دنوں کے اندر، پوری دنیا کے سامنے، ایرانی خودمختاری کے حکم سے آبنائے ہرمز بند کر دیا جائے گا، اور کوئی اسے کھولنے کی جرات نہیں کرے گا، یہاں تک کہ 100 سال بعد بھی نہیں۔” “اپنے دوست نیتن یاہو سے پوچھ لو کہ ہم اس کے اور اس کے لوگوں کے ساتھ ہر روز کیا کر رہے ہیں؛ ہم انہیں مسلسل دہشت کا شکار بنا رہے ہیں، اور تم جلد ہی اس دہشت سے نجات پا لو گے۔” یہ جنگ کے آغاز سے پہلی بار ہے کہ عراقچی اس انداز میں بولے ہیں۔ دوسری جانب متضاد خبریں آرہی ہیں کہ امریکی جنرلوں نے ٹرمپ کے ایران میں فوجوں اتارنے کا حکم ماننے سے انکار کر دیا ہے جس پر ہیگسیتھ نے 12 باغی فوجی جنرلوں کو برخاست کر دیا، کیا نئے آنے والے جنرلز ایران فوج اتارنے کو تیار ہونگے؟

Basit Alvi

38,633 Aufrufe • vor 5 Monaten

مقتدرہ سےکہنا چاہتا ہوں کہ آپ بھی کوئی غیر نہیں ہیں،آپ بھی ہمارے پاکستانی ہیں،آپ بھی ہمارے کلمہ گو بھائی ہیں۔لیکن ملک کے اندر رہنا ہے تو میرے لیے بھی ایک دائرہ ہے، مجھے اپنے دائرے سے باہر نہیں جانا چاہیے۔ پارلیمنٹ کا بھی ایک دائرہ ہے، ہر محکمے کا ایک دائرۂ اختیار ہے، اسی طرح فوج کا بھی ایک دائرۂ اختیار ہے۔ فوج کی بھی ایک ذمہ داری ہے، اپنی ذمہ داری پر نظر رکھو۔ ملک اجڑ رہا ہے۔ خیبر پختونخوا میں آج کوئی حکومت نہیں ہے،مغرب کا سورج غروب ہونے کے بعد، صبح سورج طلوع ہونے تک پولیس اپنے تھانے سے باہر نہیں آتی۔ اور جب پولیس تھانے سے باہر نہیں آئے گی تو پھر سڑکیں مسلح گروہوں کے سپرد ہوں گی، پھر سڑکیں اور راستے ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر ہوں گے۔ آپ کی حاکمیت کو میں اپنے صوبے میں جانتا ہوں، تمہاری کوئی حکومت نہیں ہے۔ تم صرف دارالحکومتوں میں اپنے اپنے بڑے بڑے بنگلوں کے اندر بیٹھے ہوئے ہو، ٹانگ پر ٹانگ ڈال کر سمجھتے ہو کہ ہم حکمران ہیں۔ کم از کم میرے صوبے میں تمہاری کوئی حکومت نہیں ہے۔ اور یہ بات سن لو، دل کے کان کھول کر سن لو، یہ حقائق ہیں۔ میں کوئی اسٹیج پر خطابت نہیں دکھا رہا ہوں۔ بلوچستان میں بلوچ علاقوں میں بغاوتیں تھیں، پورا بلوچ علاقہ پاکستان کے اختیار سے نکل چکا تھا۔آج بھی وہاں پر پاکستان حکومت کی کوئی رٹ موجود نہیں ہے۔لیکن ہم تو بلوچ علاقے کو رو رہے تھے،اب تو پشتون علاقہ بھی خون میں نہا رہا ہے۔پشتون علاقے میں ہم نے دو تین دن کے اندر پچاس سے زیادہ لاشیں وصول کی ہیں۔ ہم نے بازاروں میں ایک ہی کام کیا کہ اپنے پیاروں کے لیے کفن خرید سکیں۔ ہم نے صرف ایک ہی کام کیا کہ اپنے پیاروں کے جنازے پڑھ سکیں۔ یہ کیا پاکستان کے عوام کی قسمت میں ہے کہ ہم نے یہاں پر خون دے کر وقت گزارنا ہے؟ نہ میرا بچہ اسکول پڑھنے کے لیے گھر سے باہر نکل سکتا ہے،نہ میرے صوبے کا غریب انسان روزی مزدوری کے لیے گھر سے باہر جا سکتا ہے، اور اگر گھر سے باہر نکلتا ہے تو وہ اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتا۔ پھر کہتے ہیں، ہمارے جوان جو شہید ہو رہے ہیں۔ او بابا! تیرے جوانوں نے پٹی اسی لیے باندھی ہے، تنخواہ اسی کے لیے لے رہے ہیں کہ اس نے ملک کی سلامتی کے لیے لڑنا ہے۔ تم اپنے خون کا میرے اوپر کیا احسان ڈالتے ہو؟ تم میرے خون پسینے کے ٹیکس سے اسی بات کے لیے تو تنخواہ لے رہے ہو، لیکن ہمیں کہتے ہو کہ تم لشکر نکالو، تم اسلحہ لے کر مسلح گروہوں کے خلاف لڑو۔ میں نے کوئی تنخواہ نہیں لی، میں کوئی لشکر نہیں بناؤں گا۔ تم چلے جاؤ گے، تم میری سرزمین کو آنے والی نسلوں تک ذاتی دشمنیوں کی طرف دھکیل رہے ہو، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے قتل و غارت گری کی طرف دھکیل رہے ہو۔ یہ سیاست کسی اور کو سمجھاؤ، یہ ہمیں مت سمجھایا کرو۔ آپ نے اگر سیاست کرنی ہے تو وردی اتار کر آئیے، الیکشن میں حصہ لیجیے، پتہ چل جائے گا کہ وردی والے کو لوگ کیا ووٹ دیتے ہیں۔ یہ آپ کا اختیار ہے کہ آپ جس کو چاہیں حکومت دیں گے، اور جس سے چاہیں گے حکومت چھین لیں گے۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا قصور پنجاب میں جلسے سے خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

281,140 Aufrufe • vor 2 Monaten

ابوسر ٹاپ کو برا کہنے والو، کبھی دل سے دیکھا ہے؟ کچھ لوگ آئے، بابوسر ٹاپ تک گئے، اور واپسی پر صرف شکایتیں لے کر لوٹے… کہ برف نہیں تھی، خوبصورتی نظر نہ آئی، کھانا اچھا نہیں ملا۔ بابوسر ٹاپ گلگت بلتستان پر تنقید؟ یہ زیادتی ہے! حال ہی میں یہ سیاح فیملی سیمت بابوسر ٹاپ گئے اور وہاں کی خوبصورتی، برف اور کھانے کے بارے میں منفی تبصرے کیے۔ حیرت ہوتی ہے! بابوسر ٹاپ وہ جگہ ہے جہاں سے قدرت کے اصل شاہکاروں کا آغاز ہوتا ہے ارے بھائی! بابوسر ٹاپ کوئی شادی ہال نہیں جہاں پرفیوم لگے ہوں، نہ ہی کوئی فائیو اسٹار ہوٹل ہے جہاں تمہیں نان کباب کے ساتھ کوکا کولا پیش کیا جائے۔ یہ فطرت کا وہ خاموش شاہکار ہے، جہاں ہوا کی ہر سرد لہر، برف کی ہر چمکدار تہہ، اور پہاڑ کی ہر خامشی ایک کہانی سناتی ہے۔ کبھی دل سے دیکھو… پورا دوسائی برف میں ڈوبا ہوا ہوتا ہے، ناران کا راستہ سفیدی کی چادر اوڑھے ہوتا ہے، اور بابوسر ٹاپ پر کھڑے ہو کر آسمان کو اتنا قریب پاتے ہو، جیسے قدرت خود تمہیں سلام کہہ رہی ہو۔ دنیا بھر کے لوگ یہاں آتے ہیں، حیرت میں ڈوب جاتے ہیں۔ اور ہم؟ ہم صرف تنقید کے تیر چلاتے ہیں؟ یہ کوئی طریقہ ہے اپنے ہی ملک کے حسن سے نمٹنے کا؟ اگر تمہیں صرف کھانے کی فکر ہے، تو گھر سے پکا کر لاؤ، یا کسی شہر کے ہوٹل میں بیٹھ جاؤ — لیکن خدا کے لیے، اپنی سرزمین کی توہین مت کرو۔ یہ پہاڑ، یہ وادیاں، ہمارا فخر ہیں، ہمارا چہرہ ہیں، اور تم اُن پہ خاک ڈالنے کی کوشش کر رہے ہو؟ نہیں، ہم یہ برداشت نہیں کریں گے

Gilgit Baltistan Tourism.

76,083 Aufrufe • vor 1 Jahr

کبھی کشمیر کبھی گلگت بلتستان کے لوگوں سے الجھتے ہیں۔ ان کی زمینوں پر قبضہ کرتے ہیں۔ ان کو آئینی شناخت نہیں دیتے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ حیات کہا گیا۔ کشمیریوں کے ساتھ یہ کیا ہو رہا ہے۔ جس طرح پاکستان کے علاقوں میں لوگوں کے مینڈیٹ کو ٹھڈے مار کر پرے پھینکا جاتا ہے اور اپنی مرضی کے حکمران ٹھونسے جاتے ہیں۔جی بی میں بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ عوام کی منتخب حکومت کو گرایا گیا اور لوٹوں کو مسلط کیا گیا۔ کشمیر کے لوگوں کو وہ حقوق نہیں مل رہے جو متنازع علاقے کے حقوق ہوتے ہیں۔ کشمیری بھائی کہتے ہیں کہ بجلی یہاں بنتی ہے ہم سستی دو آئی ایم ایف سے قرضے لے کے بجلی مہنگے کرتے ہو۔ بجلی، پٹرول، ڈیزل، گندم سب کچھ مہنگا کر دیا گیا۔ اگر تم یہاں پر گندم کے حوالے سے کام کرتے تو پاکستان میں گندم کی مطلوبہ مقدار پیدا ہو جاتی ہے۔ پاکستان زرعی ملک ہے۔ اب ان کو مارو مت ان کی بات سنو۔ لوگوں کے اندر کئی سالوں کا غصہ موجود ہے۔ یہ ایک دو دن کی بات نہیں ہے۔ تم نے ناراض کیا انہیں، تم نے انہیں چھوٹا، حقیر اور پست سمجھا۔ اج کشمیر کے لوگوں پر گولیاں جلتی ہیں۔ ان کے ساتھ ملو بات کرو ۔یہ پاکستان سے محبت کرنے والے لوگ ہیں۔ انہیں مایوس نہ کرو جو بھی ان کے ان کو مایوس کر رہا ہے وہ پاکستان کا دوست نہیں ہے۔ وہاں پر اس وقت حکومت کی کوئی رٹ نہیں ہے جیسے پورے پاکستان میں لیک آف ریٹ ہے۔ آپ بلوچستان کو دیکھ لو کیا حالت ہے۔ سندھ کو دیکھ لو۔ کراچی کو دیکھ لو وہاں دن دھاڑے ڈاکے پڑتے ہیں۔ لوگ قتل ہو رہے ہیں کچے کے ڈاکو لوگوں کے بچوں کو اٹھا کے لے جا کر قتل کر رہے ہیں۔ بھتہ لے رہے ہیں۔ کوئی پوچھ نہیں رہا اب لوگ تنگ آچکے ہیں۔ تنگ آمد بجنگ آمد ہوتا ہے۔ جن کے پاس طاقت ہے میں انہیں کہتا ہوں خدا کے لیے مزید آگے نہ بڑھو اس وطن کا خیال رکھو۔ ہر وہ کام جس سے انڈیا طاقتور اور پاکستان کمزور ہو اس سے انڈیا علاقے کا اسرائیل بنے۔ 25 26 کروڑ عوام کا ایٹمی ملک پاکستان سرجیکلی اپ جگہ پر واقع ہے اور ساؤتھ ایشیا کے اندر، اس خطے کے اندر طاقت کا توازن بحال رکھ سکتا ہے۔ پاکستان کمزور ہونے سے طاقت کا توازن بگڑ جائے گا ابھی انڈیا نے ہماری علاقائی حدود میں داخل ہو کر بیس بائیس افراد مارے ہیں۔ گارڈین نے خبر نشر کی ہے انڈین وزیر دفاع نے اعتراف کیا ہے۔ یہاں کوئی کیوں بولتا نہیں ہے۔ ہمیں اپنوں سے نہیں انڈیا سے لڑنا چاہیے۔ ہمیں کشمیر آزاد کروانا چاہیے تھا۔ ہمیں کشمیری مظلوموں کے ساتھ دینا چاہیے تھا۔ کشمیر کے مظلوموں کے ساتھ بات چیت کرو دشمن کو فائدہ اٹھانے کا موقع نہ دو۔ اسے طولانی نہ ہونے دو۔ان سے بات چیت کرو۔ کشمیری اس وطن کے باوفا بیٹے اور سرحدوں کے محافظ ہیں۔ جیسے چمن کے لوگ ہیں وہ بھی پاک افغان بارڈر پر مدت سے بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان پر بھی ظلم ہو رہا ہے ان کے ساتھ بھی گھناونا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ لہذا کشمیر کے لوگوں کو ہم تنہا نہیں چھوڑیں گے وہ ہمارے بھائی ہیں ہماری جانیں ان پر فدا ہوں۔ ہم ان کے ساتھ ہیں ہم کبھی بھی ان پر ظلم کرنے والوں کا ساتھ نہیں دیں گے انشاءاللہ۔ مجھے امید ہے وہاں کی حکومت بھی بات چیت کے ذریعے مسائل حل کریں گی۔ یہ لوگ بڑے سخی ہیں بڑے دل والے ہیں یہ ٹھیک کر لیں گے جیسے جی بی کے لوگ ہیں وہ سب کچھ کر سکتے ہیں لیکن پاکستان سے محبت کی وجہ سے صبر کرتے ہیں برداشت کرتے ہیں لہذا ہم سب کی ذمہ داری ہے ہم میدان میں حاضر ہیں ہم نے پاکستان کو کمزور نہیں ہونے دیتا

Senator Allama Raja Nasir

50,869 Aufrufe • vor 2 Jahren

آپ اپنے شہداء کی بات کرتے ہیں، مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کس کو کہتے ہیں؟ مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کا مقام کیا ہے؟ میں قرآن و سنت کا ایک طالب علم ہوں، میں شہید کے مقام کو جانتا ہوں، شہید کیا ہوتا ہے؟ جو شہید اپنے وطن کے لیے قربانی دیتا ہے، اس کی قدر و منزلت کو میں جانتا ہوں۔ آپ مجھے اس کی قدر و منزلت نہ سمجھائیں۔ میں تمہیں جانتا ہوں کہ تمہاری نظر میں اپنے شہداء کی کیا قدر و قیمت ہے۔ پاکستان ایک ادارہ جاتی ملک ہے، اور پوری دنیا میں ادارے متعین ہیں، ان کا دائرۂ کار متعین ہے، ان کا دائرۂ اختیار متعین ہے۔ اگر میں نے آپ کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کیا ہے، اگر میں نے آپ کو ان کے اپنے دائرۂ کار اور اس دائرۂ کار کے اندر ان کی صلاحیتوں کی طرف متوجہ کیا ہے، تو میں اب بھی کہتا ہوں: پالیسی ساز لوگو! سپاہی نے تو آپ کا حکم ماننا ہے۔ پالیسی ساز تو آپ بڑے ہیں۔ میں آپ کی پالیسیوں سے اختلاف کر رہا ہوں، بڑے ادب و احترام کے ساتھ اختلاف کر رہا ہوں، لیکن آپ میرے بیان کی ازخود تشریح کر کے جو میری کردار کشی کرنا چاہتے ہیں، اور سمجھتے ہیں کہ فضل الرحمٰن جھک جائے گا، سرنڈر کر جائے گا۔ یاد رکھو! مجھے میرے ماں باپ نے سرنڈر ہونے کے لیے نہیں جنا۔ اور میں نے آپ کو اپنی ذمہ داریوں تک محدود رہنے کی بات کی ہے۔ یہ میں نے پہلی مرتبہ نہیں کی۔ یہ تو پارلیمنٹ میں اور عام جلسوں میں بھی میں نے بار بار کہی ہے۔ قصور والی بات قصوروار ٹھہری، اور عجیب بات بتاؤں، وکلاء حضرات! ذرا اس پر بھی غور کریں کہ اڑتالیس گھنٹے بعد ان کو پتا چلا کہ میں نے یہ بات کہی ہے۔ مجھے افسوس یہ ہے کہ میرے خلاف بدنیتی پر مبنی ایک جملے کی غلط تشریح کر کے قوم کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی، عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی، میڈیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی، اور شہداء کے خاندانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ میں ان کو بتانا چاہتا ہوں کہ صرف ہم ہیں، الحمد للہ، صرف ہم ہیں جنہوں نے ایک سے زیادہ مرتبہ جلسوں میں یہ بات کہی ہے: "اگر میری فوج پر خدا سخت وقت نہ لائے، میرے ملک پر خدا برا وقت نہ لائے، ورنہ جب میری فوج اپنے ملک کا دفاع کرے گی تو میرے یہ فقیر ان شاء اللہ اپنے فوجیوں کے شانہ بشانہ مورچوں میں کھڑے ہوں گے۔" آپ نے کبھی ہمارے اس جذبے کو سراہا؟ اور قربانیاں ہیں، اگر پاکستان کا ایک سپاہی ملک کے لیے قربانی دیتا ہے، اور اسی لیے وہ فوج میں بھرتی ہوا ہے، تو جمعیۃ علماء اسلام تو فوج نہیں ہے، پھر میری جمعیۃ علماء اسلام کی صفوں کے اندر سے بڑے اکابر سے لے کر عام علماء اور طلبہ تک دو سو سے زیادہ شہداء ہم نے کیوں دیے؟ کس کے لیے دیے؟ تم نے اس قسم کی حرکت کر کے جمعیۃ علماء اسلام کے کارکنوں اور ان کی قربانیوں کا مذاق اڑایا ہے، اور اب اس کا ردِعمل آئے گا۔ آپ سمجھتے ہیں کہ ہم پیچھے ہٹ جائیں گے؟ ہم نے ترتیب بنا لی ہے۔ میں چاروں صوبوں میں جاؤں گا۔ چاروں صوبوں میں وہاں کے عوام اور کارکنوں کے درمیان جاؤں گا، بڑے جلسوں سے بھی اور کنونشنوں سے بھی خطاب کروں گا۔ میں اپنا موقف لے کر آگے جاؤں گا۔ تم نے میرے علماء کو شہید کیا۔ علماء کرام شہید ہوئے۔ میرے استاد اور میرے شیخ مولانا حسن جان شہید ہو گئے۔ میرے والد صاحب کے شاگردِ رشید، وزیرستان کے استاد الاساتذہ مولانا نور محمد شہید ہو گئے۔ مولانا معراج الدین، جو میں سمجھتا ہوں کہ میرا دایاں بازو تھے، تم نے وہ بازو توڑ دیا۔ اور میں نے باجوڑ میں ایک جلسے کے ایک سو جنازے اٹھائے ہیں، میں روزانہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں کہیں نہ کہیں دو یا تین جنازے اٹھا رہا ہوں۔ میں تو آپ کے ہر جنازے پر آپ کے ساتھ رویا ہوں۔ کبھی یاد ہے کہ تم میرے جنازے پر میرے ساتھ روئے ہو؟ مجھے کہتے ہو تم نے غلط بات کی ہے؟ میں کہتا ہوں تم نے اپنے شہداء کی بھی تذلیل کی ہے، فوج کے شہداء کی بھی تذلیل کی ہے، ان کے خاندانوں کی بھی تذلیل کی ہے، تم نے میرے شہداء کی بھی تذلیل کی ہے، تم نے ان کی بھی بے توقیری کی ہے۔ معافی کہتے ہو فضل الرحمٰن مانگے؟ نہیں! آج اگر میری بات غلط ہے تو مجھے ضرور رائے دیں۔ آپ قانون کے ماہر ہیں، میری رہنمائی کریں۔ میرا مطالبہ یہ ہے کہ جس فوج نے، جس جنرل نے، جس دفتر سے میرے خلاف اور میری جماعت کے خلاف پروپیگنڈا کمانڈ کیا ہے، اس کو معافی مانگنی ہوگی۔ ہم نے ایسی کوئی کچی گولیاں نہیں کھیلی ہیں۔ بھروسا تم نے توڑا تھا، مگر خود کو سزا یوں دی کہ پھر جو مل گیا مجھ کو، بھروسا کر لیا اُس پر قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب #مرد_آہن_مولانا #پروپیگنڈہ_برگیڈ #چوکیدار_وڑگیا #BroadcastMaulanaNow #LawyersStandWithMaulana

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

24,668 Aufrufe • vor 1 Monat