Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

آئی ایٹ شفا ہسپتال کے قریب پولیس نے دھاوا بولا اور ہمیں وہاں سے باہر نکال دیا گیا۔ اس کے بعد ہم فیض آباد پہنچے، جہاں عمران خان صاحب کے قافلے کو قریب سے گزرتے ہوئے دکھانا مقصود تھا۔ عین قافلے کی آمد کے موقع پر پولیس نے پھر...

29,435 просмотров • 5 дней назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

پولیس افسران کیمطابق پہلے پولیس ملازمین کو فوجی اہلکار کے بھائی سے غیر قانونی اسلحہ رکھنے پر اس کے گھر میں پوچھ گچھ کرنے کے دوران مبینہ ملزم کے بھائیوں بشمول فوجی اہلکار نے پولیس افسران و ملازمین کو یرغمال بنایا اور تشدد کیا۔ معاملہ بگڑنے پر فوجی اہلکار نے اپنے کمانڈر سے بات کی جس کے بعد آئی ایس آئی افسران بالخصوص میجر عبداللہ کے احکام پر الٹا پولیس اہلکاروں پر ہی ایف آئی آر کاٹ کر انہیں لاک اپ میں ڈال دیا گیا۔ مگر دوسرے روز کور کمانڈر بہاولپور کے بہاولنگر دورے کے بعد فوج نے منظم انداز میں تھانے پر دھاوا بولا، تھانے کے داخلی اور خارجی راستے بند کردیے گئے، دوکانیں بند کروائیں گئیں، ملوث پولیس افسر اور ملازمین کو لاک اپ سے زبردستی باہر نکالا اور شدید ترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ علاج کے لئے اسپتال بھی نا لے جانے دیا گیا۔ معاملہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد آر پی او، بریگیڈ کمانڈر اور آئی ایس آئی والوں نے ہمیشہ کی طرح معاملے کو دبانے کے لئے زبردستی صلح نامہ کروایا جس کے بعد پولیس لائن میں محصور شدید زخمی پولیس ملازمین کا علاج کروایا جاسکا

Adil Raja

279,422 просмотров • 2 лет назад

ملتان میں کرکٹ ٹیم کے روٹ کے راستے میں آنے والے موٹر سائیکل سوار کی نئی فوٹیج۔ ایس ایچ او کو تو فورا سزا مل گئی کہ اس نے ضرورت سے زیادہ فورس استمعال کی ۔ لیکن اس فوٹیج کے بعد پوچھنا تو بنتا ہے اس چالیس سالہ موٹرسائکل والے کو کس خوشی میں ملتان پولیس نے دس ہزار روپے انعام دیا ہے جو پولیس والوں کے روکنے پر نہیں رکا بلکہ اس نے الٹا پولیس والے کو چلتے ہوئے موٹر سائکل پر اپنے دائیں ہاتھ سے مارا اور نکل گیا اور اسی وقت دو سکینڈز بعد کھلاڑیوں کی گاڑیاں قریب سے گزری ہیں اور ایس ایچ او نے اسے پکڑ کر زمین پرگرایا اور فورس استمعال کی۔ ایس ایچ او نے زیادہ طاقت استمعال کی لیکن جس طرح اس بندے نے پولیس والے کو مار کر پرے کیا اور کھلاڑیوں کے روٹ آگے آنے کی زبردستی کی کوشش کی اس کے بعد وہاں کھڑے ایس ایچ او سے کیا توقع کرنی تھی؟ موٹر سائیکل والا شکر کرے کہ یہ امریکہ نہیں تھا ورنہ وہاں صدر لیول کی سیکورٹی یا پولیس تین سکینڈز میں کچھ اور کر گزرتی۔ Government of Punjab Maryam Nawaz Sharif

Rauf Klasra

317,000 просмотров • 1 год назад

شیخ صاحب سیاست کی دنیا کی رونق تھے۔ ٹاؤٹ منیب فاروق نے شیخ صاحب کا انٹرویو لیا اور کوشش کی کہ عمران خان کے خلاف کوئی بیان حاصل کریں۔ سوالات کہیں اور سے تیار کیے گئے تھے۔ شیخ صاحب کا وہ انٹرویو ہمیشہ زہانت، فطانت اور وفا کی مثال کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ انٹرویو کے دوران، شیخ صاحب نے بڑی دانائی کے ساتھ عمران خان کے بارے میں کسی بھی منفی بات سے اجتناب کیا۔ آخر میں ایک ایسا سوال کیا گیا جس نے شیخ صاحب کو بھی لاجواب کر دیا، اور جس کے جواب کے ساتھ شیخ صاحب کے لیے نرمی کی ضمانت جڑی ہوئی تھی۔ منیب ٹاؤٹ کے سوال کرنے پر شیخ صاحب نے کچھ یاد کرنے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے، اور اپنے آگے پڑی ٹیبل سے ایک پرچی ڈھونڈتے انہوں نے کہا: “اس پر لکھا تھا، مجھے کچھ یاد نہیں۔” بس، شیخ صاحب کی اس پرچی والی بات نے ٹاؤٹ منیب کے پلانٹڈ انٹرویو پر پانی پھیر دیا اور منیب فاروق کی جو اس کے بعد سوشل میڈیا پہ درگت بنی سب کو یاد ہوگی اور ۔۔۔شیخ صاحب عمران خان سے وفا کی مثال چھوڑ گئے۔

Amjad Hameed Chohan

42,667 просмотров • 6 месяцев назад