Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

آئی جی اسلام آباد کا یہ نیا کارنامہ ملاحظہ ہو عباد عباسی نامی شہری (جو ہزاروں کنال جدی جائیداد کے مالک ہیں اور اپنی زمین نہ بیچنا چاہتے ہیں) کو جائیداد زبردستی فروخت کرنے پر مجبور کرنے لیے آئی جی کے حکم پر پولیس چڑھ دوڑی ان کے گھر...

165,785 görüntüleme • 1 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

ہائی کورٹ بار کے جوائنٹ سیکرٹری ندیم اختر جویہ کی صحافی کے خلاف 7ATA کے تحت درج ایف آئی آر پر اسلام آباد پولیس پر تنقید اسلام آباد – 2 اکتوبر 2024 – سینئر صحافی جاوید اقبال اور ان کے تین کمسن بچوں پر اسلام آباد پولیس کی جانب سے وحشیانہ تشدد اور غیر قانونی گرفتاری پر ملک بھر کی صحافتی اور قانونی تنظیموں نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے جوائنٹ سیکریٹری ندیم اختر جویہ نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ "اسلام آباد پولیس صحافیوں اور وکلاء کی آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس ظلم کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور ہم صحافی برادری کے ساتھ کھڑے ہیں۔" یہ افسوسناک واقعہ اُس وقت پیش آیا جب جاوید اقبال ڈی آئی جی اسلام آباد سید علی رضا کے دفتر میں ملاقات کے لیے پہنچے۔ اس دوران ایس آئی عدیل شوکت، ایس ایچ او آبپارہ اور ایس آئی عظیم، ایس ایچ او شہزاد ٹاؤن نے انہیں جھوٹا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ویڈیو بنائی ہے۔ ان کا موبائل فون چھین لیا اور ان پر بچوں کے سامنے تشدد کیا گیا۔ جب فون کی تلاشی لی گئی تو اس میں کوئی ویڈیو یا تصویر نہیں ملی۔ اس کے باوجود جاوید اقبال اور ان کے تینوں بچوں، جن میں سب سے بڑا بچہ پانچ سال کا تھا، کو گرفتار کر کے تھانہ رمنا منتقل کر دیا گیا۔ پولیس نے اپنی غیر قانونی کارروائی کو چھپانے کے لیے جاوید اقبال کے خلاف ایک جھوٹا ایف آئی آر (نمبر 857/24) درج کرایا، جس میں انسداد دہشت گردی ایکٹ (7ATA)، دفعہ 353، 506-II، 355 اور 186 شامل کی گئیں۔ راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (RIUJ) ورکرز اور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اس ظلم اور زیادتی کی بھرپور مذمت کی ہے۔ جنرل سیکریٹری آر آئی یو جے ورکرز سید بلال عزت نقوی نے اسلام آباد پولیس پر تنقید کرتے ہوئے کہا، "پولیس اپنی اصل ذمہ داریوں سے ہٹ کر ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے میں مصروف ہے۔ اسلام آباد میں جرائم کی شرح بڑھ رہی ہے اور آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی ، جو کہ ایک تجربہ کار افسر ہیں، کو پولیس افسران کے رویے کے حوالے سے تربیتی سیشنز کا اہتمام کرنا چاہیے۔ صرف ٹک ٹاک ویڈیوز جرائم کو روکنے میں مددگار نہیں ہو سکتیں۔" جاوید اقبال اور ان کے کمسن بچوں کے ساتھ ہونے والی یہ ظالمانہ اور غیر قانونی کارروائی نے صحافتی اور قانونی حلقوں میں شدید غصے کی لہر دوڑا دی ہے، جو اس واقعے کو پاکستان میں صحافیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے جبر کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے ندیم اختر جویہ نے مزید کہا کہ پولیس کی یہ کارروائیاں صحافیوں اور وکلاء کو ڈرانے اور دبانے کے لیے کی جا رہی ہیں، لیکن قانونی برادری ان مشکل حالات میں اپنے صحافی ساتھیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔ راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (RIUJ) ورکرز، ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور دیگر شہری تنظیمیں اس واقعے کی فوری اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کر رہی ہیں اور مطالبہ کرتی ہیں کہ جاوید اقبال کے خلاف جھوٹے مقدمات ختم کیے جائیں اور اس واقعے میں ملوث پولیس افسران کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ Islamabad Police Shehbaz Sharif Saleh Mughal Farhan Hussain Matiullah Jan Siddique Jan Sabir Shakir #freejavaidiqbal #islamabadpolice #CHANELSpringSummer Hamid Mir حامد میر

Syed Bilal Izzat Naqvi

42,663 görüntüleme • 1 yıl önce

آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی کا لائسنسنگ میں جدت لانے کے لیے بڑا اقدام۔ اسلام آباد ٹریفک پولیس کے لائسنسنگ پراسیس کو مکمل پیپر لیس کردیا گیا۔ آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی نے پیپر لیس لائسنسنگ کا باقاعدہ افتتاح کردیا۔ آئی جی اسلام آباد نے تمام پیپرلیس کاونٹرز کا جائزہ لیا اور اس نظام کے متعلق احکامات جاری کئے۔ یہ اقدام شہریوں کی سہولت اور قیمتی وقت کے ضیاع کو بچانے کے لئے اٹھایا گیا۔ اب میڈیکل سے لے کر لائسنسنگ کی وصولی تک مکمل نظام پیپر لیس ہوچکا ہے۔ آئی جی اسلام آباد چیف ٹریفک آفیسر اور ان کی ٹیم نے قلیل وقت میں اس پراجیکٹ کو مکمل کیا جس پر انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ آئی جی اسلام آباد لائسنسنگ فیس کے نظام کو بھی جلد ڈیجیٹلائز کردیا جائے گا۔ آئی جی اسلام آباد اب شہری صرف اپنے شناختی کارڈ ساتھ لے کر آئیں اور اسلام آباد ٹریفک پولیس کا لائسنس حاصل کریں۔ آئی جی اسلام آباد #WeRIslamabadPolice #Islamabad #ITP #ICTP

Islamabad Police

10,992 görüntüleme • 4 ay önce

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے آج مورخہ 23 دسمبر، 2023 نیشنل پریس کلب اسلام آباد سے پریس کانفرنس کے توسط سے ریاست کو بلوچ طلبا و مظاہرین کی رہائی اور پر امن مظاہرین پر مختلف شہروں میں ہونے والے جعلی ایف۔آئی۔آرز ختم کرنے کے لئے تین دن تک الٹی میٹم دیا ہے۔ اور اس دوران بلوچستان میں جتنی جگہوں پر بلوچ نسل کشی اور بلوچ فرزندوں کی جبری گمشدگی کے خلاف جاری لانگ مارچ پر اسلام آباد پولیس کے تشدد کے خلاف دھرنے اور مظاہرے چل رہے ہیں، ہم ان سب کا بہت بہت شکریہ ادا کرتے ہیں اور ان کو یہ پیغام دیتے ہیں، کہ تین دن تک اپنے مظاہرے اور دھرنے معطل کردیں۔ اگر تین دن کے اندر اندر ریاست مظاہرین کو چھوڑ کر ان پر لگائی گئی جعلی ایف۔آئی۔آر ختم نہیں کرتی، تو ہم سخت اقدام لینے پر مجبور ہوں گے، اور اس کی ذمہ دار ریاست اور اس کی انتظامیہ ہوگی۔ اس حوالے تمام بلوچستان اور مظلوم اقوام سے کمک اور تعاون کی اپیل کرتے ہیں۔ #MarchAgainstBalochGenocide #ReleaseBalochProtestors

BYC - Kech Zone

40,249 görüntüleme • 2 yıl önce

بلوچ مائیں اور بچیاں جُرأت و استقامت کی علامت ہیں۔ آج اسلام آباد میں احتجاج کو آٹھ دن مکمل ہو چکے ہیں۔ اسلام آباد پولیس کی بدسلوکیاں اور جبر بدستور جاری ہے، لیکن وہ نہ ان ماؤں کے حوصلے کو توڑ سکی ہے اور نہ ہی انہیں پسپا کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ یہ مائیں سخت بارش، آندھی، طوفان اور جھلسا دینے والی گرمی میں بھی اپنے پرامن احتجاج کو مسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا مطالبہ مکمل طور پر آئینی اور قانونی ہے: ڈاکٹر ماہ رنگ، بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قیادت، اور دیگر جبری طور پر لاپتہ یا گرفتار افراد کی رہائی۔ ریاست کو چاہیے کہ ان کے آئینی مطالبات کو تسلیم کرے، لیکن افسوس کہ اس کے بجائے ریاست ان باہمت ماؤں کو ہراساں کررہی ہے، اسلام آباد سے نکالنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، اور انہیں رہائش گاہوں سے زبردستی بےدخل کیا جا رہا ہے۔ لیکن یاد رکھیں: یہ بلوچ مائیں ہیں، ان کے حوصلے کو توڑنا آپ کے بس کی بات نہیں۔ #Releasebycleaderes #StopBalochGenocide

Mahrang Baloch

33,974 görüntüleme • 1 yıl önce

شہر کو بند کرنے اور شہریوں کو رات گئے سڑکوں پر ذلیل کرنے بعد وزیراعظم شہباز شریف اور وزیرداخلہ محسن نقوی یقینا سکون سے سو رہے ہوں گے۔ جس عو ام کے ٹیکس سے ان کی اپنی سیکورٹی اور عیاشیاں چل رہی ہیں وہ رات گئے سڑکوں پر ذلیل ہورہے ہیں اور حکمران شہر کو تالا لگا کر مطمئن ہیں۔ قدیم زمانوں میں جب انسانی آبادیوں پر گھوڑوں پر سوار خونخوار بیرونی حملہ آور نازل ہوتے اور محاصرہ کر لیتے تو بھی قلعے کے اندر کے حکمران قلعے کی فصیلیوں کے ساتھ خندقیں کھود کر خود کو محفوظ سمجھ کر سو جاتے تھے۔ وہی قدیم مناظر آج اسلام آباد میں نظر آرہے ہیں۔نہ حملہ آوروں کی سوچ بدلی اور نہ ہے قلعے میں قید بادشاہوں کی۔ عوام اس وقت بھی مرتے تھے آج بھی وہی مرتے ہیں ان بادشاہوں کی بادشاہت کو محفوظ بنانے یا اپنا بادشاہ لانے کے لیے۔ اس ملک میں لڑائی صرف اور صرف اپنی مرضی کا لیٹرا لانے کی ہے اور ہر ایک کے پاس اپنا اپنا بادشاہ اور اپنا جھتہ ہے۔
1:32

Sensitive content

شہر کو بند کرنے اور شہریوں کو رات گئے سڑکوں پر ذلیل کرنے بعد وزیراعظم شہباز شریف اور وزیرداخلہ محسن نقوی یقینا سکون سے سو رہے ہوں گے۔ جس عو ام کے ٹیکس سے ان کی اپنی سیکورٹی اور عیاشیاں چل رہی ہیں وہ رات گئے سڑکوں پر ذلیل ہورہے ہیں اور حکمران شہر کو تالا لگا کر مطمئن ہیں۔ قدیم زمانوں میں جب انسانی آبادیوں پر گھوڑوں پر سوار خونخوار بیرونی حملہ آور نازل ہوتے اور محاصرہ کر لیتے تو بھی قلعے کے اندر کے حکمران قلعے کی فصیلیوں کے ساتھ خندقیں کھود کر خود کو محفوظ سمجھ کر سو جاتے تھے۔ وہی قدیم مناظر آج اسلام آباد میں نظر آرہے ہیں۔نہ حملہ آوروں کی سوچ بدلی اور نہ ہے قلعے میں قید بادشاہوں کی۔ عوام اس وقت بھی مرتے تھے آج بھی وہی مرتے ہیں ان بادشاہوں کی بادشاہت کو محفوظ بنانے یا اپنا بادشاہ لانے کے لیے۔ اس ملک میں لڑائی صرف اور صرف اپنی مرضی کا لیٹرا لانے کی ہے اور ہر ایک کے پاس اپنا اپنا بادشاہ اور اپنا جھتہ ہے۔

Rauf Klasra

202,542 görüntüleme • 1 yıl önce

بریکنگ🚨🚨 🚨علی امین خان گنڈا پور نے وہ کر دکھایا جو اس فستایت کے دور میں شاید کوئی بھی نہ کر پاتا۔ 🚨اس وقت لاکھوں کی تعداد میں وہ عوام کو لے کر اسلام اباد داخل ہو چکے ہیں اور اس وقت جی نائن کراس کر رہے ہیں۔ 🚨پارٹی کا مشترکہ فیصلہ تھا کہ جب قافلے اسلام اباد پہنچیں گے، تو ہم نے ان کو جوائن کرنا ہے لہذا اس فیصلے کے تحت، میں پہلی دفعہ اس جلوس میں شامل ہو رہا ہوں۔ 🚨میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارا جلوس احتجاج ہر حالت میں پرامن ہے، اسلام اباد اور پنڈی کے لوگ اب ہمیں جوائن کریں۔ 🚨رینجرز اور پولیس کے جوانوں کو کہنا چاہتا ہوں کہ اپ اپنی پشت کا خیال رکھیے۔ یہ جو رینجرز کے جوانوں پر گاڑی چڑھائی گئی ہے عین شاہدین، نے ویڈیو بنائی ہے کہ یہ ان کی اپنی کارستانی ہے، اور جن کو گولیاں لگ رہی ہیں وہ اپنی پیٹ کا خیال رکھیں۔۔۔۔🚨ہم لاچار اور مجبور پولیس اور رینجر پر گولیاں چلانے والے نہیں ہیں اور نہ ہی ان کی پشت پناہی کرنے والے ہیں۔ شکریہ

Sher Afzal Khan Marwat

695,970 görüntüleme • 1 yıl önce