正在加载视频...

视频加载失败

آئی سی سی پی او ڈاکٹر اکبر ناصر خاں کی اسلام آباد چیمبر آف کامرس میں میڈیا سے گفتگو۔ اسلام آباد دارلخلافہ ہے یہاں ابھی بھی بہت سے اعلیٰ سطحی غیر ملکی وفود آئے ہوئے ہیں۔کوئی بھی نہیں چاہے گا کہ آپکی اور ہماری جانیں خطرے میں ہوں۔ پانی...

171,851 次观看 • 2 年前 •via X (Twitter)

10 条评论

𝐏𝐓𝐈_𝐋𝐨𝐯𝐞𝐫 的头像
𝐏𝐓𝐈_𝐋𝐨𝐯𝐞𝐫2 年前

شرم سے ڈوب مرو بےغیرتو غیر ملک سوغاتیں ضروری ہیں یا ہمارے اپنے شہری محافظ ہو تم لوگ جلادو اس ٹنڈ میں تمھیں سڑک پے کھڑا کر کے جب تمھارے پے پانی پھنکا جائے گا تب تمھیں احساس ہو گا لعنتی لوگوں 😡😡

Irfan 的头像
Irfan2 年前

ابے کتے کے بچو، حرام خورو تمہیں غیر ملکی وفود کی فکر کھائے جا رہی ہے اور جن کا یہ ملک ہے اُن کو تم زبردستی بسوں میں گُھسا کر واپس بلوچستان بجھوا رہے ہو۔

Ahmad Waqass Goraya 🇵🇸 的头像
Ahmad Waqass Goraya 🇵🇸2 年前

تم لوگ قابض فوج کے کتے اور اس عوام کے غدار ہو۔ تنخواہ عوام کے ٹیکس سے وفاداری دہشتگرد فوج سے۔ شیم آن یو

Abdul Sami 的头像
Abdul Sami2 年前

خواتین کو تو سب نے دیکھا یہ بچے بھی دیکھ لیں۔

Qamar Baloch 的头像
Qamar Baloch2 年前

Where is Dr. Zaheer Baloch ??? #ReleaseChairmanZaheerBaloch #StopHarassingBalochMarchers #MarchAgainstBalochGenocide

🦅Niazi🇵🇰 的头像
🦅Niazi🇵🇰2 年前

تیرے پر بھی لعنت اور تیرے آئی جی پر بھی لعنت اور تیرے آئی جی کو لانے والے پر بھی لعنت بھیجتا ہوں میں

Yasir Khan 的头像
Yasir Khan2 年前

جھوٹا ہے پرامن مظاہرین کے خلاف تشدد کا استعمال کرنے کے بعد اب چیزیں بنا رہے ہیں اور پولیس کے مظالم کو جائز قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں پولیس اہلکاروں نے ان خواتین مظاہرین کے لیے جو زبان استعمال کی وہ شرمناک ہے

Faiz 的头像
Faiz2 年前

لعنت ہو اس جھوٹے خبیث انسان پر ایسا درندہ بچوں اور عورتوں پر ظلم کے بعد بھی جھوٹ بول رہا ہے لعنتی انسان اللہ تجھے غارت کرے

Mushtaque Mengal 的头像
Mushtaque Mengal2 年前

اللہ اک دن تمہیں نشان عبرت ضرور بنائے گا

Farah Gondal 的头像
Farah Gondal2 年前

شرم شرم شرم شرم شرم

相关视频

آپ نے ہمارے نصاب کو بھی جائز تسلیم کیا، آپ نے ہمارے مدارس کے نظم و نسق کو بھی جائز تسلیم کیا، آپ نے ہمارے مالیاتی نظام کو بھی جائز تسلیم کیا، پھر اس وقت سے لے کر آج تک مدارس کی رجسٹریشن کیوں نہیں ہو رہی؟ مدارس کے اکاؤنٹس کیوں بند ہیں؟اس کا معنیٰ یہ ہے کہ آپ مسئلے کا حل نہیں چاہتے۔ آپ کسی طرح چاہتے ہیں کہ مدارس اشتعال میں آئیں، سڑکوں پر آئیں، نوجوان کو اشتعال ملے، وہ بندوق کی طرف جائے، اور پھر ریاست بندوق کی طاقت کو طاقت کے ساتھ مارنے کے لیے اپنے لیے ایک جواز مہیا کر سکے۔ سو، ہم نے آپ کو یہ جواز مہیا نہیں کیا۔ ہم نے اس ملک کو پُرامن ملک بنانے کی کوشش کی۔ تاہم ایک گروہ ضرور ہے جو پہاڑوں میں چلا گیا، جو بندوق لے کر کھڑا ہو گیا، لیکن وہ بندوق اٹھا کر جب افغان_ستان جا رہا تھا تو آپ نے افغانس_تان جانے کے لیے اس کا راستہ روکا؟ آپ امریکہ کے اتحادی بھی بنے، آپ نے ہوائی اڈے بھی دیے، فضائیں بھی ان کو دیں، یہاں سے جہاز بھی اڑتے تھے، ان فضاؤں سے گزر کر وہاں پر بمباری بھی کرتے تھے، اور دوسری طرف اس جنگ میں شریک ہونے کے لیے پاکستانی مجاہد بھی جا رہا تھا، اور تم بھی اس کو تھپکی دے رہے تھے کہ آپ مجاہد ہیں۔ پھر انہی حالات میں ان کے ساتھ مصالحت کرنے کے لیے میں نہیں گیا ہوں، ان کے ساتھ مفاہمت کرنے کے لیے میں نے افغانستان کا سفر نہیں کیا۔ میں نے دو ملکوں کے درمیان معاملات ٹھیک کرنے کے لیے سفر کیا، لیکن طال_بان کے ساتھ بات کرنے کے لیے میرے ملک کے آئی ایس آئی کے چیف گئے ہیں، اور اس نے وہاں پر ان سے کیا باتیں کی ہیں، کچھ مجھے معلوم بھی ہے۔ سو اگر ان دہشت گردوں کو کوئی حوصلہ دلانے کا عمل ہے، وہ بھی آپ کے صفوں میں مل رہا ہے، ہمارے صفوں میں تو وہ ہم سے ناراض ہیں۔ آپ اپنے شہداء کی بات کرتے ہیں، مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کس کو کہتے ہیں؟ مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کا مقام کیا ہے؟ میں قرآن و سنت کا ایک طالب علم ہوں، میں شہید کے مقام کو جانتا ہوں، شہید کیا ہوتا ہے؟ جو شہید اپنے وطن کے لیے قربانی دیتا ہے، اس کی قدر و منزلت کو میں جانتا ہوں۔ آپ مجھے اس کی قدر و منزلت نہ سمجھائیں۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب #قائدانقلاب_مولانا #سیاسی_چوکیدار #مولانا_سے_معافی_مانگ #شہداء_صرف_بہانہ #لشکر_نہیں_امن

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

15,079 次观看 • 2 个月前

عمران خان سیکٹر E-7 اسلام آباد میں میرے پڑوسی تھے جب میں 2008 میں پی ٹی آئی کا کارکن بنا۔ میری عمر پندرہ سال تھی۔ میں وہاں پر اپنی گھر کے قریب کالج کے بعد کرکٹ کھیلتا تھا جب عمران خان نے ہمیں بُلا کر بتایا کہ مجھے آپ جیسے نوجوان لوگوں کی ضرورت ہے کیونکہ یہ سارا نظام کرپٹ ہے اور ہمارے حکمران امریکہ سے پیسے لے کر غلامی کرتے ہیں جس کے بعد مجھے انہی کے وارڈ کا جنرل سکریٹری اور پھر صدر منتخب کیا گیا۔ ہم لوگ تقریباً ہر جمعہ کو عدلیہ کی آزادی (چیف جسٹس افتخار چوھدری بحالی تحریک)، ڈرون حملوں اور مہنگائی کے خلاف پریس کلب اور آبپارہ چوک میں احتجاج کیا کرتے تھے۔ رشتہ دار، دوست یہاں تک کہ سکول کے ٹیچر بھی مزاک بناتے تھے کہ عمران خان کبھی بھی وزیراعظم نہیں بن سکتا لیکن عمران خان کے حکم پر اپنی محنت اور کوشش جاری رکھی۔ اس وقت جب پولیس پکڑتی تھی تو تھانے لے جا کر دو تین چھِتر مار کر چھوڑ دیتی تھی۔ پارٹی میں کبھی بھی عہدہ یا ذاتی مفاد لینے کی سیاست نہیں کی بلکہ ہمیشہ ایک ورکر ہونے کی حیثیت سے گراؤنڈ پر کام کیا۔ کبھی بھی میڈیا پراجیکشن نہیں کی اور نا ہی تصاویر اور وڈیوز کا شوق رکھا۔ میں اپنی حکومت میں بھی ہمیشہ فوج کے سیاسی مداخلت پر تنقید کرتا تھا اور آج بھی کرتا ہوں اور آیئندہ آنے والے وقت میں بھی کرتا رہوں گا کیونکہ میں یہ یقین رکھتا ہوں کہ جب تک خفیہ اداروں کی سیاسی مداخلت اور انجنیئرنگ ختم نہیں ہوگی پاکستان ترقی نہیں کر سکتا۔ میں نے اپنی زندگی میں قسم کھائی ہے کہ اگر نظریہ عمران خان کے لئے مجھے اپنے خون کا آخری قطرہ بھی بہانہ پڑے گا تو میں ایک بار بھی نہیں سوچوں گا۔ میں اپنی یہ تصویر شیئر نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن وقت نے مجبور کیا کہ بتایا جائے کہ ٹوئٹر پر بیٹھ کر تنقید کرنا تو بہت آسان ہوتا ہے لیکن اپنے لیڈر کے نظرئے کو تشدد کے بعد بھی قائم و دائم رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا ہمیشہ سے پی ٹی آئی کا اثاثہ رہا ہے لیکن ہم بات یہ کر رہے ہیں کہ جب تک سینئر قیادت عوام کو احتجاج اور جلسے جلوسوں کے لیے باہر نہیں نکالی گی یہ لوگ عمران خان کو رہا نہیں کریں گے۔ کیا کوئی سینئر لیڈر بتا سکتا ہے کہ آٹھ ماہ بعد بھی آج عمران خان کی رہائی کے لئے تحریک کا آغاز کیوں نا کیا جاسکا ؟ ایسی کیا رکاوٹ ہے آج بھی سینئر قیادت احتجاج اور جلسے کرنے سے خوف زدہ ہے جبکہ عمران خان ہر میٹنگ میں سینئر قیادت کو کہہ چکے ہیں کہ پورے پاکستان میں احتجاج کئے جایئں۔ سوشل میڈیا کو چاہئے کہ اپنی سینئر قیادت سے سب سوال پوچھے اور ان پر دباؤ ڈالیں کہ عمران خان کی رہائی کے لئے تحریک چلایئں۔ میری کسی بھی ٹویٹ یا لفظ سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو میں اس کے لئے معزرت خواہ ہوں۔

Wajahat Sami

145,379 次观看 • 2 年前

9 مئی کا واقعہ مجھے لگتا ہے کہ مکمل طور پر پری پلان تھا۔ وہاں کچھ لوگ اکسا رہے تھے کہ ہمیں کور کمانڈر ہاؤس کی طرف جانا چاہیے۔ میں نے وہاں جو سب سے اہم چیز نوٹ کی، وہ یہ تھی کہ جو ورکرز تھے، ان کو کسی چیز کا علم نہیں تھا۔ وہ صرف روڈ بلاک کرنے اور نعرے بازی کرنے کے لیے موجود تھے۔ جو لوگ کور کمانڈر ہاؤس کی طرف اکسا رہے تھے، وہ ورکرز سے بالکل ہٹ کر تھے۔ ان کی باڈی لینگویج اور ان کا فزیکل اپیئرنس بالکل مختلف تھا۔ تو مجھے تھوڑی سی تشویش ہوئی کہ کیا کرنا چاہیے، پھر میں فوراً کور کمانڈر ہاؤس پہنچا۔ انہوں نے جو ڈنڈے پکڑے ہوئے تھے، وہ وہی تھے جو پولیس کے پاس ہوتے ہیں، لیکن وہ سول وردی میں تھے۔ اس کے علاوہ، میں اس سلیکشن سینٹر میں موجود تھا جب وہ جل رہا تھا۔ وہاں میں نے ریکارڈنگ کی، کیونکہ میڈیا کو بین کیا گیا تھا اور انہوں نے کوریج نہیں کرنی تھی۔ تو میں وہاں اُس وقت پہنچا جب وہ آگ لگا رہے تھے، اس کو جلا رہے تھے یا لوگوں کو اکسا رہے تھے۔ میں نے ان کی کوریج کی، جو توڑ پھوڑ کر رہے تھے، ان کی بھی کوریج کی، کیونکہ وہاں میڈیا موجود نہیں تھا۔ جب میں وہاں سے ویڈیو بنا کر باہر نکلا تو مجھے تین، چار بندوں نے گھیر لیا۔ وہ بالکل مختلف تھے۔ ان کی باڈی لینگویج، ان کے بولنے کا انداز اور ان کی مینٹیلٹی مختلف تھی۔ ان میں سے ایک بندے نے مجھے کہا کہ آپ ہماری ویڈیو ڈیلیٹ کریں۔ میں نے کہا کہ میں کیوں ڈیلیٹ کروں؟ اور میں سمجھتا ہوں کہ جو ورکر ہوتا ہے، وہ خود ویڈیو میں آنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنی پارٹیسپیشن دکھاتا ہے۔ انہوں نے میرا کیمرہ مجھ سے چھین لیا اور اسے پھینکنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد میں نے بہت اصرار کیا کہ بھائی، آپ کیوں توڑ رہے ہیں؟ آپ ایسا کریں کہ میرا کیمرہ نہ توڑیں، صرف ویڈیو ڈیلیٹ کر لیں۔ تو ان میں سے ایک اور آدمی نے کہا کہ میں آئی ٹی کا بندہ ہوں اور مجھے پتا ہے کہ یہ دوبارہ ریکور ہو جائے گی۔ آپ ایسا کریں، یا تو اپنا کیمرہ مجھے دے دیں، یا پھر کیمرے میں سے جو کارڈ ہے وہ نکال کر دے دیں۔ میں نے بڑی کوشش کی کہ میں انہیں نہ دوں، لیکن وہ چار، پانچ بندے تھے اور کوئی ورکر نہیں تھے، کوئی اور لوگ تھے۔ اس کے بعد انہوں نے کارڈ لیا اور جلا دیا۔ اس صحافی کی ویڈیو سب کچھ واضح کر دیتی ہے۔ اس ویڈیو کو عمران خان نے بھی شیئر کیا تھا۔ 9 مئی کے فالس فلیگ آپریشن کی حقیقت، عینی شاہد صحافی انس نواز کی زبانی۔ Anas Nawaz انس نواز #May9th_FalseFlag

PTI North Punjab

28,063 次观看 • 4 个月前

"میں سب سے پہلے اپنے وزیراعلی سے ایک شکوہ ضرور کروں گا کہ وہ کل میرے علاقے دیر تشریف لائے حالانکہ سوات میں ان کا کوئی معمولی سا دورہ تھا جس کے لیے وہ گئے تھے لیکن پھر شاید کوئی یہ بات ان کے علم میں لایا ہو گا کہ دیر میں اس طرح کا واقعہ ہوا ہے۔ ہم مہمان نواز لوگ ہیں، ہماری دہلیز پر اگر کوئی دشمن بھی چل کر آئے تو ہم اسے خوش آمدید کہتے ہیں، یہ تو ہمارے اپنے وزیراعلیٰ ہیں۔ لیکن جس طریقے سے وہ آئے اور جس طریقے سے وہ گئے، میرے خیال میں یہ دیر کے ان غیرت مند لوگوں کی ایک قسم کی توہین ہے۔ اور توہین اس بنیاد پر ہے کہ اس وقت ہسپتالوں میں تین شہداء اور دیگر لوگ پڑے تھے۔ میڈیا نے بھی دیکھا، کچھ لوگوں اور ان پولیس والوں نے جو وزیراعلیٰ سے فریاد اور شکایتیں کر رہے تھے، آپ نے بھی سنا ہو گا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ چونکہ وہ صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔ آپ دیر آ رہے ہیں، سیکیورٹی کی اتنی بڑی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ آپ کور کمانڈر کو، آئی جی خیبر پختونخوا کو، یہاں کے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور تمام متعلقہ انتظامیہ کو بلاتے اور میٹنگ کرتے۔ میٹنگ میں دیر کے عمائدین کو بلاتے، سیاسی پارٹیوں کو بلاتے، اور سوال کرتے، کسی کو جوابدہ بناتے۔ یہ کس طرح کا دورہ تھا کہ آپ آئے اور واپس چلے گئے اور نہ کسی سے سوال ہوا نہ کسی سے جواب طلب کیا گیا؟ کیا دیر کی ماؤں نے بیٹے اس لیے جنم دیئے ہیں کہ وہ اس طرح کی ایک سنسان جنگ میں مارے جائیں گے اور کوئی اس پر سوال بھی نہیں اٹھائے گا، کوئی اعتراض بھی نہیں کرے گا؟ اور مجھے تحریک انصاف کے اپنے کارکنوں سے بھی گلہ ہے کہ وزیراعلیٰ کا جس طرح انہوں نے استقبال کیا اور ہسپتال کے اندر نعرے بازی کر رہے تھے، کیا وہ ادھر کوئی فتح کا جشن منانے آئے تھے؟ ہمیں ان رویوں کو تبدیل کرنا ہو گا۔ دیر ہمارا وطن ہے، یہ سیاست پیچھے ہے، دیر کی غیرت اور ناموس آگے ہے۔ ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

12,370 次观看 • 2 个月前

ذرا سوچیے! تعلقات کی جو نوعیت اور تعلقات میں کشیدگی کی جو نوعیت آج حکومتی پارٹیوں اور پی ٹی آئی کے درمیان نظر آ رہی ہے یہ کوئی میرے لیے آج پہلا منظر نہیں ہے، خواجہ آصف صاحب میرے محترم ہیں، میرے بڑے ہیں، مجھ سے عمر میں بھی بڑے ہیں، میں احترام کرتا ہوں یہ سب کچھ خوب جانتے ہیں، پرویز اشرف صاحب بیٹھے ہوئے ہیں، میرے لیے قابل احترام ہیں یہ سارے مناظر انہوں نے دیکھے ہیں، جو کشیدگی کی نوعیت اور ایک دوسرے کے خلاف روئیوں کی جو انتہا پسندی ہے یہ مناظر ہم نے مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی بیچ میں نہیں دیکھے تھے، میاں نواز شریف اور بینظیر بھٹو کے درمیان ہم نے نہیں دیکھے تھے، آج ہم انہی مناظر کو دوبارہ دوسرے شکل میں دہرا رہے ہیں، میں ان روئیوں کے حق میں نہیں ہوں، میں حجم کے مطابق رد عمل دینے کے حق ہوں، اگر عمل چیونٹی کے برابر ہے تو رد عمل چیونٹی کے برابر ہونا چاہیے، لیکن ہم ہیں کہ عمل چیونٹی کے برابر اور رد عمل ہاتھی کے برابر ہوتا ہے۔ مسائل کو اس کے اپنے خاص حدود کے اندر ہمیں سوچنا چاہیے، اپوزیشن کی جماعتیں بیٹھی ہیں، محمود خان اچکزئی ہمارے لیڈر آف دی اپوزیشن ہے، مجھ سے انہیں ووٹ نہیں مانگا لیکن میں نے ان کو سپورٹ کیا ہے اور میں آج بھی یہ سوچتا ہوں کہ جس طرح پرائم منسٹر صاحب نے خطاب کیا اور اس میں انہوں نے میثاق جمہوریت کی بات کی، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے درمیان دوریاں اور تلخ رویوں کی ایک تاریخ وہ میثاق جمہوریت پر جا کر ختم ہوئی، میں اس کا سگنیچری نہیں ہوں، غالباً عمران خان بھی اس کے سگنیچری نہیں ہیں، لیکن بعد کے جو سیمینارز ہوئے، آل پارٹیز ہوئے، ان کے جو اعلامیے سامنے آئے اس پہ ہم سب کی تائید اس کو حاصل ہوئی اور آج ایک متفقہ دستاویز ہے، ہم نے جو عہد کیا تھا، ہم نے جو میثاق کیا تھا کہ ہم اختلاف رائے کریں گے، جو حکومت کر رہی ہے اُس کو حکومت کرنے دیجیے، ملکی معاملات میں ہم تعاون کی ضرورت ہوگی تو وہ بھی کریں گے، ایک دوسرے کے حکومتوں کو گرائیں گے نہیں، اور اگر میں بڑی وضاحت کے ساتھ اس سے بھی اچھے واضح الفاظ کے ساتھ عرض کروں کہ اپوزیشن اپوزیشن کرے گی لیکن وہ اسٹیبلشمنٹ کے لئے سہولت کار نہیں بنے گی، وہ اسٹیبلشمنٹ کے لئے حکومت پر پریشر نہیں ڈالے گی، وہ اس کے لئے ہنگامے نہیں کھڑا کرے گی تاکہ وہ پھر حکومت کو منیج کر سکے، آج وہ ساری چیزیں بگڑ گئی، دوبارہ معاملات خراب کر دئیے گئے۔ میں تو آج بھی کہتا ہوں کہ عمران خان کو باہر آنے دیں، سیاست میں اگر ان کی گرفتاری کی وجہ سے تلخی ہے ہمیں ملک کی بہتری کے لئے اور ملک کے اندر مجموعی طور پر ایک برادرانہ اور ہم آہنگی کی فضاء پیدا کرنے کے لئے ایک شخص کی قربانی کوئی مسئلہ نہیں ہے، آجائیں باہر میدان میں سیاست کرتے ہیں، مجھے لوگ پوچھتے ہیں آپ عمران خان پر بہت تنقید کرتے تھے آج کل کیوں نہیں کر رہے؟ میں نے کہا یہ میرا مزاج نہیں مانتا کہ میرا مخالف جیل میں ہو اس کے ہاتھ پاؤں بندھے ہو اور میں کھل کر ان پر تنقید کرتا رہوں، او وہ بھی باہر آئیں گے، وہ بھی بات کریں گے، ہم بھی بات کریں گے۔ کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے۔ آداب کے اندر کریں گے، یہی تعلقات میں حزب اختلاف اور حکومت کے بھی چاہتا ہوں، میثاق جمہوریت کی طرف آئیں ہم دوبارہ چلیں، اور اس کے لیے یقیناً اپوزیشن کو بھی مشورہ کرنا ہوگا وزیراعظم نے اگر کوئی بات کی ہے لیکن کچھ تو معاملات کے حل کے لیے ہمیں بتایا جائے کہ پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ اور آپ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ اگر آپ کو یہ خطرہ ہے کہ ان کیمرہ میٹنگ ہوگی اور پی ٹی آئی والے کوئی ہنگامہ کریں گے میں اس فلور پر پی ٹی آئی والوں کی زمہ داری خود لیتا ہوں وہ کوئی ہنگامہ نہیں کریں گے۔ اسپیکر کے سوال پر کہ مولانا صاحب آپ کتنے بولیں گے؟ مولانا صاحب کا جواب: بولنے پر تو حضرت اتنے درد ہیں کہ ہر درد کے لیے گھنٹہ چاہیے۔ اور اب جب آپ کے اوپر ایک بوجھ آگیا ہے، ایک دباؤ آگیا تو مجھے آپ کے درد کا بھی احساس ہے، مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ یہ درد آپ کا اکیلا نہیں ہے، یہ درد کہیں سے آ جاتا ہے۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا پارلیمنٹ میں خطاب #MaulanaInParliament

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,699 次观看 • 3 个月前

‼️فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات میں چیئرمین وحدت علماء پاکستان علامہ الحاج السید زاہد عباس کاظمی نے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل نے اپنے خطاب میں ملکی اور غیر ملکی حالات کے تناظر میں کھل کر بات کی،انہوں نے آیت اللہ خامنائی کی شہادت پر ایرانی بھائیوں سے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ انہیں بڑے بھائی کی طرح سمجھتے تھے،وہ کہتے تھے کہ آپ بھی اولا د رسول ہیں اور ہم بھی اولاد رسول ہیں،فیلڈ مارشل نے امریکی واسرائیلی جارحیت کی پرزور مذمت بھی کی ‼️،فیلڈ مارشل نے کہا کہ آپ احتجاج ضرور کریں لیکن ایسے احتجاج سے اجتناب کریں جس سے پاکستان کا نقصان ہو اور شرارتی لوگ اس وطن سے باہر چلے جائیں،انہوں نے ہمارے ساتھ نماز بھی پڑھی اور کھانا بھی کھایا۔ ‼️پروگرام کے خاتمہ کے بعد علما نے اپنے اپنے بیانات دیئے،میں نے بھی اپنی رائے دی اور میں آج بھی اس پر قائم ہوں اور وہ یہی تھی کہ پاکستان کو کسی جانب سے بھی خطرہ درپیش ہوا تو ہم وطن عزیز کا دفاع کریں گے،ہم اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے،ہم اپنی فوج کے ساتھ شانہ بشانہ لڑیں گے ،یہ ایک امت ہے ،پاکستان شیعہ سنی نے مل کر بنایا تھا اور ہم مل کر ہی اس کا دفاع کریں گے۔

سید عدنان بادشاہ 🇵🇰

34,047 次观看 • 6 个月前

عمران خان کے ساتھ جو ہو رہا ہے، اس کے قانونی حقوق سے انکار کیا جا رہا ہے۔ جب میاں نواز شریف صاحب جیل میں تھے اور پلیٹلیٹس کے حوالے سے ان کو مسئلہ ہوا، تو عمران خان نے ہمیں بلایا۔ میں وہاں موجود تھا، شاہ محمود قریشی، پرویز خٹک، پرویز الہی اور کچھ اور لوگ بھی موجود تھے۔ عمران خان نے ہم سب سے مشاورت کی اور ہم سب نے فیصلہ کیا کہ میاں صاحب کے جو کیسز ہیں، عدالتیں انہیں دیکھ رہی ہیں اور جو فیصلہ کرنا ہے، وہ عدالت کرے گی، لیکن ہم کسی کے ساتھ ذاتیات پر نہیں جائیں گے۔پھر ڈاکٹر یاسمین راشد صاحبہ نے بھی کہا کہ پلیٹلیٹس جتنے گر گئے ہیں، اس سے مسئلہ ہو سکتا ہے۔ عمران خان نے بہت بڑا پن دکھایا کہ میاں صاحب کو علاج کی سہولت دی جائے، چاہے وہ پاکستان میں علاج کروائیں یا ملک سے باہر۔ اور آج کی صورت حال یہ ہے کہ پہلے عمران خان کی رپورٹس کو چھپایا گیا، اور جب رپورٹس سامنے آئیں تو یہ جتنے بھی وزرا ہیں، عوام کے نمائندے، وہ اس طرح نہیں ہیں جس طرح کمشنر راولپنڈی نے انکشاف کیا تھا کہ جی ٹی روڈ کے اراکین کے حوالے سے یہ ناجائز تنخواہیں اور مراعات لے رہے ہیں۔میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے ہم کسی قسم کا کمپرومائز نہیں کریں گے۔ جیسا کہ ان کی فیملی کہتی ہے، ان کے علاج کی سہولیات آئندہ 24 گھنٹوں کے اندر بحال کی جائیں.

Asad Qaiser

15,139 次观看 • 7 个月前

امیر جے یو آئی مولانا فضل الرحمن کی کنونشن سنٹر اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو ماضی میں بھی پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کیا تھا اب بھی کرسکتا ہوں افغان قیادت سے رابطے ہوئے ہیں وہ معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کرنا چاہتی ہے پاک افغان جنگ بندی تو ہوگئی اب زبان بندی بھی ہونی چاہئے سوشل میڈیا سمیت ہر جگہ دونوں ممالک کو اشتعال کی بجائے معاملات کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کے کشمیر پر بیان پر واویلا کرنے کی بجائے کشمیر پر اپنے کردار کو بھی دیکھنا چاہئے کشمیر پر پاکستان نے کتنی پالیسیاں بدلی ہیں وہ بھی سب کے سامنے ہے کیا پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روح کے مطابق کشمیر کا حل چاہتا ہے اور اس کے لئے کیا پیشرفت کی ہے افغانستان کی انٹیلی جنس اور دیگر عسکری صلاحتیں ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں افغانستان سے جو تقاضا کیا جاتا ہے دیکھا جائے وہ اس قابل بھی ہے پاکستان ایک عالمی معیار کی فوج اور صلاحیت رکھتا ہے ہماری ریاست کو سوچنا چاہئے کہ کیا مغربی محاذ کھولنا اس وقت کسی طرح درست جنگی حکمت عملی ہے ؟ تحریک لبیک کے ساتھ جو کچھ سلوک کیا گیا ہے میں نے پہلے بھی مذمت کی اور اب بھی کرتا ہوں حکومت کو کسی بھی صورت تحریک لبیک کے ساتھ تشدد کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہئے تھا احتجاج کرنا سب کا حق ہے میں تحریک لبیک کے قائدین سے رابطے میں رہا ہوں کے پی کے میں وزیر اعلی کے انتخاب کا معاملہ عدالت میں ہے عدالت کو آئین و قانون کے مطابق معاملے کو دیکھنا چاہئے عدالت انتظامی حکم کی بجائے آئینی تقاضے کے مطابق دیکھے اور سماعت کرے

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

49,752 次观看 • 11 个月前