Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

اگر آپ کو بچشم خود ایک عالمی قوت کا غرور خاک میں ملتے دیکھنا ہے تو آج کا امریکہ دیکھ لیں ایران جنگ کے تیجے میں صرف چھ مہینوں میں ایران جنگ امریکہ کے لئیے ایک فوجی معاشی ڈراؤنا خواب بن گیا سیکڑوں ارب ڈالر عالمی بھرم سب ڈوب...

43,483 views • 9 days ago •via X (Twitter)

4 Comments

S D's profile picture
S D9 days ago

Chutya foujioon ka tatta

Sajid's profile picture
Sajid8 days ago

ریپبلکن پارٹی بنیادی طور پر اسلحہ ساز کمپنیوں کی پارٹی ہے یہ جب بھی حکومت میں آتے ہیں تو انھیں کی فنڈنگ سے آتے ہیں اور پھر جنگ کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔

Quresh's profile picture
Quresh9 days ago

The strange is American public senators congress members who are silent and helpless against one person who is destroying whole country and fighting Israel war against Iran

Younas Khan's profile picture
Younas Khan8 days ago

It's true but Pakistani rulers are buying Drone from U.S it's not a joke with Pak and it's nation

Related Videos

صدر ٹرمپ تھکے ہوں یا نہیں امریکی عوام ایران جنگ سے تنگ آرہے ہیں اور اس جنگ کو مسترد کررہے ہیں تازہ سرویز بتاتے ہیں کہ زیادہ تر امریکی ایران کے خلاف جنگ کی حمایت نہیں کرتے۔ ادھر میدانِ جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کی شدید فضائی کارروائیوں سے ایران کی فوجی صلاحیت اور معیشت کو بڑا نقصان پہنچا ہے، لیکن اس کے باوجود ایران کی ریاستی ساخت اور قیادت بدستور قائم ہے۔اسی دوران جنگ کی شدت میں بھی کچھ کمی کے آثار نظر آ رہے ہیں اور سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا یہ جنگ اب اپنے زور سے محروم ہو رہی ہے؟آج کے On My Radar میں اہم موضوع پر گفتگو کریں گے پاکستان کے تجربہ کار سفارتکار اور امریکہ و چین میں سابق سفیر مسعود خان اور عالمی مالیات کے ماہر اور سابق انویسٹمنٹ بینکر یوسف نذر۔دونوں مہمان اس بات کا جائزہ لیں گے کہ امریکی عوام کی رائے کیوں بدل رہی ہے، جنگ کے معاشی اثرات کیا ہوں گے اور کیا آخرکار واشنگٹن اور تہران کو سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنا پڑے گا؟مکمل گفتگو دیکھنے کے لیے On My Radar کا یوٹیوب لنک ضرور کلک کریں

Kamran Khan

33,612 views • 6 months ago

جنگ اب صرف ایران، امریکہ اور اسرائیل تک محدود نہیں ہے ایک خطرناک نیا محاذ کھل چکا ہے۔ ایران کی جانب سے سینکڑوں ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں نے خلیج کی ریاستوں یو اے ای، سعودی عرب، قطر، کویت اور بحرین کو براہِ راست جنگ میں دھکیل دیا ہے۔ متحدہ عرب امارات قطر کے حساس علاقوں، بندرگاہوں، ایئرپورٹس اور سعودی عرب کی اہم آئل تنصیبات بحرین کی رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنانے سے نہ صرف خطے کی سلامتی بلکہ عالمی معیشت بھی شدید دباؤ میں آ گئی ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا ایران اس محاذ کو کھول کر خود کو عرب دنیا سے مستقل دوری کی طرف لے جا رہا ہے؟ اور کیا اس کے نتیجے میں ایران کی عالمی معیشت میں واپسی اور اقتصادی بحالی کا راستہ مزید مشکل ہو جائے گا؟آج کے On My Radar میں ان اہم سوالات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ اس گفتگو میں میرے ساتھ شریک ہیں پاکستان کے سابق سفیر اور سینئر سفارتکار عبدالباسط اور AGP لمیٹڈ کے سی ای او کامران ناصر جو امریکہ ایران جنگ کے سفارتی اور معاشی اثرات کا گہرا تجزیہ پیش کر رہے ہیں۔مکمل تجزیہ دیکھنے کے لیے On My Radar کا پورا وی لاگ دیکھیں اور نیچے دیے گئے YouTube لنک پر کلک کریں.

Kamran Khan

39,201 views • 6 months ago

ایران جھکنے کے لئے تیار نہیں امریکہ اور اسرائیل کا فوجی غرور آسمان چھو رہا ہے اسی لئے دنیا اگلے 10 دنوں میں ایک بہت بڑی جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے؟امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی انتہائی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ صدر Donald Trump نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے مزید 10 دن کی مہلت دی ہے، مگر ساتھ ہی واضح کر دیا ہے کہ ناکامی کی صورت میں ایران کے توانائی اور بجلی کے نظام کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔امریکہ کا 15 نکاتی پلان اور ایران کی جوابی تجاویز دونوں مسترد ہو چکی ہیں، جس کے بعد ان ڈائریکٹ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔ اسی دوران خطے میں امریکی فوجی تیاری تیز ہو رہی ہے، جس سے خدشہ بڑھ رہا ہے کہ اگر بات چیت ناکام ہوئی تو بڑی جنگ چھڑ سکتی ہے۔آج On My Radar میں میرے ساتھ ہیں:اعجاز حیدر—جیو اسٹریٹیجک اور دفاعی امور کے ماہرعارفہ نور—سینئر ایڈیٹر اور معروف ٹی وی پریزینٹر آئیے دیکھتے ہیں اگلے 10 دن کیا فیصلہ کریں گے—اور ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد کیا ہوگا۔مکمل پروگرام دیکھنے کے لیے یوٹیوب لنک پر کلک کریں

Kamran Khan

44,633 views • 6 months ago

مغربی فوجی ماہرین کو یقین تھا ایران کی فوجی اور عوامی مزاحمت چند دنوں میں ٹوٹ جانے کا یقین تھا۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ ایران نہ صرف ڈٹا ہوا ہے بلکہ بھرپور جواب دے رہا ہے، ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ تیسرے دن میں داخل ہو چکی ہے، مگر وہ تمام اندازے غلط ثابت ہو رہے ہیں ایران کا امریکہ اسرائیل کو بھر پور جواب دینے کے اثرات اب عالمی معیشت، تیل کی منڈیوں اور اسٹاک مارکیٹس تک پہنچ چکے ہیں۔آج کے On My Radar میں اس نازک صورتحال پر گہری اور بصیرت افروز گفتگو کی گئی۔ پروگرام میں سابق دفاعی سیکریٹری لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعیم خالد لو دھی نے جنگی اور اسٹریٹیجک پہلوؤں کا تجزیہ پیش کیا، جبکہ سابق سیکریٹری خارجہ شمشاد احمد خان نے سفارتی محاذ، عالمی ردِعمل اور ممکنہ سیاسی نتائج پر روشنی ڈالی۔اس گفتگو کا ایک اہم پہلو ایران میں سپریم لیڈر کے جانشین کا سوال بھی تھا۔ زیرِ بحث آیا کہ کیا قومی سلامتی کے مشیر علی لاریجانی ایک نسبتاً معتدل راستہ اختیار کرتے ہوئے ایران کو معاشی بحالی اور عالمی برادری سے دوبارہ جڑنے کی طرف لے جا سکتے ہیں؟ مکمل اور تفصیلی تجزیے کے لیے On My Radar کی مکمل ویڈیو دیکھنے کے لیے یوٹیوب لنک پر کلک کریں

Kamran Khan

94,993 views • 6 months ago

مذاکرات کی باتیں بہت مگر باقاعدہ مذاکرات ابھی کہیں دور ہیں اس کے برعکس امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ شدت اختیار کر رہی ہے، مگر پھر بھی پس پردہ سفارتی رابطے بھی جاری ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ان indirect negotiations میں پاکستان ایک کلیدی کردار ادا کر رہا ہے اور امریکہ اور ایران کے درمیان رابطے کا ذریعہ بنا ہوا ہے۔اس کے باوجود زمینی صورتحال مزید پیچیدہ ہو رہی ہے۔ تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر جا چکی ہیں، جس نے عالمی معیشت کے ساتھ ساتھ پاکستان کی معیشت پر بھی شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔ پاکستان کو اپنی توانائی کی ضروریات اور درآمدی بل کے حوالے سے ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔آج کے On My Radar میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے واضح انداز میں کہا کہ یہ جنگ زیادہ دیر تک جاری نہیں رہ سکتی اور اس کا واحد حل مذاکرات ہیں۔انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران عالمی سمندری قوانین کے تحت آبنائے ہرمز میں جہازوں پر کوئی پابندی یا ٹیکس عائد نہیں کر سکتا، اور پاکستان کو فوری طور پر پیٹرولیم قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کرنا ہوگا تاکہ عالمی جھٹکے کا مقابلہ کیا جا سکے۔ OMR مکمل شو دیکھنے کے لیے یوٹیوب لنک پر کلک کریں

Kamran Khan

14,804 views • 6 months ago

امریکہ کے لئے ایک مسئلہ کھڑا ہو گیا ہے۔ امریکہ بشمول طیارہ بردار ابراہم لنکن کے دس جنگی جہاز ایران پر حملے کے لئے مڈل ایسٹ میں لایا ہے جن پر سینکڑوں جنگی جہاز اور میزائل پیوست ہیں۔ امریکی فوج کو پتہ چلا ہے کہ جنگ کی صورت میں ایرانیوں نے ان میں سے کم از کم ایک جہاز کو ڈوبونے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکی نیوی آفیسرز کے خیال میں ایسا ممکن ہے اگر ایران نے کسی ایک جہاز پر ہزار مسلح ڈرونز اور پانچ سو بیلسٹک میزائلوں کے ساتھ swarm attack کر دیا تو۔ اتنے بڑے حملے سے جہاز کا ائر ڈیفینس سسٹم overwhem ہوجائے گا اور آدھے یا ایک تہائی میزائل اور ڈرونز جہاز سے ٹکرا کر بےپناہ نقصان کر سکتے ہیں جس سے اربوں ڈالرز کا جہاز ڈوب سکتا ہے۔ اس سے امریکی فوج کا وقار رعب اور دبدبہ خاک میں مل جائے گا۔ اور ایرانیوں کا جشن فتح قابل دید ہوگا۔ یہ ہے وہ خطرہ جس کی وجہ سے امریکی فوج ہچکچاہٹ شکار ہو چکی ہے۔ جب تک وہ اس مسئلے کا حل نہيں ڈھونڈنے ایران پر حملہ نہیں کرسکتے۔ لیکن اس مسئلے کا بظاہر کوئی حل موجود دکھائی نہيں دیتا چہ جائیکہ امریکہ ایران کو دوبارہ مذاکرات میں الجھا کر دھوکے سے بہت بڑا حملہ کرے اور میزائل لانچرز تباہ کردے۔ ایران کے پاس اس وقت تقریبا تیس ہزار میزائلوں اور 80 ہزاروں ڈرونز کا وسیع ذخیرہ موجود ہے۔ اس طرح کا arsenal مڈل ایسٹ میں کسی دوسرے ملک کے پاس نہیں ہے۔

Jimmy Virk - Imranian 🇵🇰

113,992 views • 7 months ago

اب یہ امکان حقیقت سے بہت زیادہ دور نہیں کہ آئندہ چند سالوں کے دوران سیکڑوں ارب ڈالر کی لاگت سے برادر ملک ایران کی تاریخی تعمیر نو دیکھیں اس خوشگوار امید کی بنیاد یہ ہے کے ایران اور امریکہ 47 سال کی بدترین دشمنی کے بعد ایک نسبتاً بہتر دور میں داخل ہورہے ہیں اسی لئے ایران اپنی تاریخ کے سب سے بڑے معاشی ری سیٹ کے دہانے پر کھڑا نظر آرہا ہے ۰ اب امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ امن معاہدہ اب صرف جنگ بندی یا سفارتکاری کا معاملہ نہیں رہا بلکہ اس کے ساتھ ایران کی معاشی بحالی کا ایک بڑا منصوبہ بھی سامنے آرہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق معاہدے کے بعد ایران کیلئے سیکڑوں ارب ڈالر کی سرمایہ کاری، تعمیر نو کے منصوبے اور منجمد اثاثوں کی جزوی واپسی کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے مطابق خلیجی ممالک کے تعاون سے 300 ارب ڈالر تک کا تعمیر نو فنڈ قائم کیا جا سکتا ہے، جبکہ 100 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں تک رسائی کی بھی اطلاعات ہیں۔ اسی تناظر میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی تاریخی تقریب میں شرکت کے لئے کل جینیوا روانہ ہوں گے ۔ اس غیرمعمولی تاریخی پیش رفت کی مکمل تفصیلات جاننے کیلئے OMR کا مکمل پروگرام دیکھنے کے لیے یوٹیوب لنک پر کلک کریں

Kamran Khan

16,632 views • 3 months ago

مغربی مبصرین کی اکثریت کے تجزیات کہہ رہے ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کی فوجی اور قومی قوت کو غلط پڑھ لیا؟ اور چار دن کی جنگ نے وہ مفروضہ توڑ دیا ہے کہ ایران دباؤ میں ٹوٹ جائے گا۔ 9 کروڑ ایرانی عوام پہلے سے زیادہ متحد نظر آ رہے ہیں۔ امریکی اور اسرائیلی منصوبہ بندی جسے “تیز اور فیصلہ کن کارروائی” سمجھا جا رہا تھا، اب طویل اور غیر یقینی جنگ میں بدلتی دکھائی دے رہی ہے۔ایران نے نہ صرف خطے میں امریکی مفادات اور اڈوں کو نشانہ بنایا بلکہ توانائی کے محاذ پر بھی عالمی معیشت کی شہ رگ کو دبا دیا ہے۔ آبنائے ہرمز کی صورتحال، تیل اور ایل این جی کی قیمتوں میں اضافہ، اور گلف ریاستوں پر بڑھتا دباؤ اس جنگ کو عالمی معاشی بحران کی طرف دھکیل رہا ہے۔آج کے on my radar میں ہمارے ساتھ ہیں سابق قومی سلامتی مشیر اور سابق کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر خان جنجوعہ اور IQI سنگاپور کے چیف اکانومسٹ شان سعید، جو اس جنگ کے فوجی، اسٹریٹجک اور معاشی پہلوؤں کا گہرائی سے تجزیہ کریں گے۔مکمل تجزیہ دیکھنے کے لیے آج کا On My Radar ضرور دیکھیں اور یوٹیوب لنک پر کلک کریں

Kamran Khan

160,028 views • 6 months ago

پاکستان میں دہشت گردی کی موجودہ بدترین لہر اب صرف جانوں کا مسئلہ نہیں رہی، یہ ملک کے معاشی مستقبل کو بھی نگل رہی ہے۔ صرف 2026 کے پہلے آٹھ ماہ میں دہشت گردی اور انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں سے منسلک ہلاکتیں تقریباً 3,150 تک پہنچ چکی ہیں، جبکہ فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ ایک سال میں تقریباً 34 فیصد کم ہوکر صرف 1.64 ارب ڈالر رہ گئی۔سب سے سنگین صورتحال خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہے، جہاں سکیورٹی بحران نے پاکستان کے بڑے معاشی منصوبوں کو بھی متاثر کرنا شروع کردیا ہے۔ تقریباً 9 ارب ڈالر کا ریکوڈک منصوبہ سکیورٹی خدشات کے باعث دباؤ میں ہے، جبکہ سیندک اور دیگر مائننگ سرگرمیوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔زمین کے نیچے اربوں ڈالر کی دولت موجود ہے، مگر زمین کے اوپر امن نہ ہو تو سرمایہ کاری نہیں آتی۔ آج آن مائی ریڈار میں دیکھیں کہ دہشت گردی کیسے پاکستان کے لیے ایک نیا معاشی بحران بن چکی ہے۔ مکمل شو دیکھنے کے لیے OMR یوٹیوب لنک پر کلک کریں۔

Kamran Khan

32,192 views • 4 days ago

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں! امریکا ایران جنگ میں تیزی سے تنہا ہوتا جا رہا ہے نا صرف یورپ میں، نیٹو میں، بلکہ خود امریکہ کے اندر بھی جہاں یہ جنگ ہر گزرتے دن کے ساتھ غیرمقبول ہوتی جا رہی ہے آج امریکی عوام کی اکثریت جنگ مخالف ہوچکی ہے، امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ تیسرے ہفتے میں داخل ہوچکی ہے، مگر نہ ایران فوری شکست کے قریب ہے اور نہ امریکا کامیابی حاصل کر پایا ہے اس کے برعکس، مغربی اتحاد میں دراڑیں نمایاں ہو رہی ہیں۔ یورپی ممالک اور نیٹو اس جنگ سے دور ہو رہے ہیں، جبکہ امریکا کے اندر عوامی حمایت تیزی سے کم ہو رہی ہے اور زمینی فوج بھیجنے کی شدید مخالفت سامنے آچکی ہے۔آج کے On My Radar میں ہمارے ساتھ ہیں یورپی یونین اور چین مین پاکستان کی سابق سفیر نغمانہ ہاشمی اور نامور صحافی اور کئی کتابوں کے مصنف زاہد حسین، جو اس بدلتی صورتحال، امریکا کی بڑھتی تنہائی اور عالمی طاقت کے توازن پر اس کے اثرات کا گہرا اور بصیرت افروز تجزیہ پیش کر رہے ہیں۔مکمل پروگرام دیکھنے کے لیے آج کے On My Radar کے یوٹیوب لنک پر ضرور کلک کریں

Kamran Khan

29,993 views • 6 months ago

دنیا آج ایک تاریخی تیل گیس بحران کے دہانے پر کھڑی ہے؟ پاکستان میں پیٹرول 500 رپے فی لیٹر تک پہنچ سکتی ہے امریکہ، اسرائیل اور ایران کی جنگ نے صرف مشرقِ وسطیٰ کو نہیں بلکہ پوری عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ تیل کی قیمتیں بار بار 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر جا رہی ہیں، اسٹریٹ آف ہرمز میں جہاز رانی خطرے میں ہے اور عالمی انرجی سپلائی چین شدید دباؤ کا شکار ہے۔ کئی بین الاقوامی ماہرین اس صورتحال کو “انرجی ڈومز ڈے سیناریو” قرار دے رہے ہیں کیونکہ اگر یہ بحران لمبا چلا تو دنیا کو ایک بڑے معاشی جھٹکے کا سامنا ہو سکتا ہے۔آج کے On My Radar میں ہم اسی تاریخی توانائی بحران کا جائزہ لے رہے ہیں۔ میرے ساتھ ہیں محمد عاصم چیف انویسٹمنٹ آفیسر MCB فنڈز، جنہوں نے تفصیل سے بتایا کہ یہ انرجی بحران کیوں غیر معمولی ہے، اس کے عالمی معیشت پر کیا اثرات پڑ سکتے ہیں اور پاکستان کی معیشت اس جھٹکے کو کس طرح محسوس کرے گی۔مکمل اور تفصیلی تجزیہ سننے کے لیے آج کے On My Radar کا یوٹیوب لنک ضرور کلک کریں

Kamran Khan

24,916 views • 6 months ago