Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

ایتھے رکھ ، جیڑا سمجھے اودا وی بھلا تے جیڑا نا سمجھے اودا وی بھلا 😂 نواز شریف نے اپنی زندگی دی سب توں قیمتی چیز فیلڈ مارشل دے قدماں تے تلی تے رکھ کے عمران خان کولوں بدلہ لیا اے۔ ڈاکٹر شہباز گل

59,947 Aufrufe • vor 4 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

مقدمہ پنجاب دا ۔۔۔ کہندے ن پنجاب کھا گیا اے پنجاب کھا گیا اے ، کی کھا گیا ؟ پنجاب تے آپ کھادا گیا اے ۔۔ پنجاب دیاں حکومتاں کم کر دیان ، باقی صوبیاں وچ ونڈیاں پیندیان ، پنجاب نے نئی کھادا ، تُسی کھا گئے او ھاں پاکستان خراب کرن وچ پنجاب دا حکمران طبقہ شامل اے پَر کلا اے نئیں ، سندھ ، بلوچستان تے خیبر پختونخواہ دا حکمران طبقہ وی اس خرابی وچ شامل اے ساڈے تین دریا سن ، ایوب خان انڈیا نوں دے گیا تے پنجاب دیاں زرخیز زمیناں ریگستان بن گئیاں پاکستان بنیا ،تقسیم صرف بنگال تے پنجاب ھوۓ ، خون صرف پنجاب دا وغیا ، او کِسے نوں یاد نئیں ۔۔ 65 دی جنگ وچ خون پنجابی دے وغیا، پَر کِسے نوں یاد نئیں گوادر وزیر اعظم ملک فیروز خان نون نے خرید کے پاکستان چ شامل کیتا ،بلوچستان دا حصہ بنایا ، ادے وچ بلوچستان دا کوئ پیسہ نئیں لگا ، صلہ اے ملیا کہ پنجاب دے وزیر اعظم نوں بے عزت کر کے کڈ دِتا پنجاب وچ کوئ ونڈ نئیں ، ایتھے پنجابی پٹھان بلوچ سندھی لوکل مہاجر دا کوئ چکر نئیں ، سب رل کے رھنے ایں ، تے ھسدے وسدے جیوندےرھن او چاندے ن کہ پنجاب دے جوان وی بُھوتر جان ، تے رد ِ عمل وچ ایتھے وی ساڈے پراواں دا خُون وغے ، اسی ایس جال وچ نئیں پھنسنا ، اسی لڑنا نئیں ، پَر پنجاب دا دفاع ضرور کرنا اے ، سچی دلیل دے نال ، پنجابیاں نے اپنے آ پ نوں پاکستان وچ ضم کر لِیتا سی ، چنگی گَل اے ، پَر اسی ھُن گونگے نہیں رھنا ۔۔

Khawaja Saad Rafique

145,108 Aufrufe • vor 1 Jahr

جمائمہ کی دوسری شادی اور شریف خاندان کی رنگ رلیاں۔۔۔! جمائمہ کی دوسری شادی کی افواہی خبر ڈیلی میل پر چھپنے کے بعد، ن لیگ اور جرنیلی ٹاوٹس نے جمائمہ کو، عمران خان کے دونوں صاحبزادوں کو، عمران خان کو اور تحریک انصاف کے ورکرز کو ٹیگ کر کے سوشل میڈیا پر طوفان بدتمیزی کھڑا کر دیا، جمائمہ نے اپنے دونوں صاحبزادوں کو یونیورسٹیز تک پڑھایا اب برطانوی قانون کے مطابق قاسم اور سلیمان آزاد ہیں اور اپنے اپنے کاروبار میں بزی ہیں، دوسری شادی کرنا سب کا حق ہوتا ہے، نواز شریف کی صاحبزادی عاصمہ نواز کو سعودی شہزادے نے طلاق دی ہوئی ہے، انہوں نے بھی اسحاق ڈار کے بیٹے کے ساتھ دوسری شادی کی ہوئی ہے، شہباز شریف نے ایک پولیس اہلکار کی بیوی جو بہت خوبصورت تھی اسے طلاق دلوا کر خود اس سے شادی کی تھی اور بعد میں اسے طلاق دے دی، حمزہ شہباز نے عائشہ احد کے ساتھ شادی کر رکھی ہے جسے یہ عدالت میں مان بھی گیا تھا، مریم نواز نے کیپٹن صفدر کے ساتھ کیسے پسند کی شادی کی ہوئی ہے وہ سب کو پتہ ہے، حسین نواز نے اپنے بیٹے کی ٹیچر سے پسند کی شادی کی تھی جس کی وجہ سے شریف خاندان میں تنازع کھڑا ہو گیا تھا، خواجہ آصف نے کشمالہ طارق کے ساتھ دوسری شادی کی ہوئی ہے یہ بھی خبر چلتی رہی، اسحاق ڈار نے ماروی میمن کے ساتھ شادی کی ہوئی ہے یہ بھی خبریں چلتی رہی ہیں، ڈاکٹر شہباز گل

Wahab Khan

10,585 Aufrufe • vor 3 Monaten

مرزا غالب کی فارسی کی وہ غزل جس کا صوفی تبسم نے منظوم پنجابی ترجمہ کیا اور ایسا شاہکار ترجمہ کیا کہ وہ غزل لوگوں کو ازبر ہو گئی، اور استاد غلام علی کی کی گائگی نے اسے امر کر دیا ♥️ اردو ترجمہ حمید یزدانی نے کیا ہے اس غزل کا پروفیسر رالف رسل نے انگلش میں بھی ترجمہ کیا۔ فارسی غزل کا منظوم پنجابی ترجمہ اور حمید یزدانی کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے فارسی : زمن گَرَت نہ بُوَد باور انتظار بیا بہانہ جوئے مباش و ستیزہ کار بیا پنجابی ترجمہ : میرے شوق دا نہیں اعتبار تینوں، آ جا ویکھ میرا انتظار آ جا اینوں لڑن بہانڑے لبھنا ایں، کیہ توں سوچنا ایں سِتمگار آ جا اردو ترجمہ : میں تیرے انتظار میں ہوں، اگر تجھے اس کا یقین نہیں ہے تو آ اور دیکھ لے۔ اس ضمن میں بہانے مت تلاش کر، بے شک لڑنے جھگڑنے کا طور اپنا کر آ۔ فارسی : وداع و وصل جداگانہ لذّتے دارَد ہزار بار بَرَو، صد ہزار بار بیا پنجابی : بھانویں ہجر تے بھانویں وصال ہووے ،وکھو وکھ دوہاں دیاں لذتاں نیں میرے سوہنیا جا ہزار واری ،آ جا پیاریا تے لکھ وار آجا اردو : فراق اور وصل دونوں میں اپنی اپنی ایک لذت ہے، تو ہزار بار جا اور لاکھ بار آ۔ فارسی : رواجِ صومعہ ہستیست، زینہار مَرَو متاعِ میکدہ مستیست، ہوشیار بیا پنجابی : ایہہ رواج اے مسجداں مندراں دا ،اوتھے ہستیاں تے خود پرستیاں نیں میخانے وِچ مستیاں ای مستیاں نیں، ہوش کر، بن کے ہُشیار آ جا اردو : خانقاہوں میں غرور و تکبر کا رواج ہے، دیکھیو ادھر مت جائیو، جبکہ میکدہ کی دولت و سرمایہ مستی ہے، وہاں ذرا چوکنا ہو کر آجا۔ فارسی : تو طفل سادہ دل و ہمنشیں بد آموزست جنازہ گر نہ تواں دید بر مزار بیا پنجابی : تُوں سادہ تے تیرا دل سادہ، تینوں اینویں رقیب کُراہ پایا جے تُوں میرے جنازے تے نہیں آیا، راہ تکدا تری مزار، آ جا اردو : تو ایک بھولے بھالے بچے کی طرح ہے اور رقیب تجھے الٹی سیدھی پٹیاں پڑھا رہا ہے، سو اگر تو ہمارا جنازہ نہیں دیکھ سکا تو کم از کم ہمارے مزار پر ہی آ جا۔ فارسی : حصار عافیَتے گر ہوس کُنی غالب چو ما بہ حلقۂ رندانِ خاکسار بیا پنجابی: سُکھیں وسنا جے تُوں چاہو نا ایں میرے غالبا ایس جہان اندر آجا رنداں دی بزم وِچ آ بہہ جا، ایتھے بیٹھ دے نیں خاکسار آ جا اردو : اے غالب اگر تجھے کسی عافیت کے قلعے کی خواہش ہے تو ہماری طرح رندانِ خاکسار کے حلقہ میں آ جا۔ منقول

اردو ورثہ

28,045 Aufrufe • vor 8 Monaten

🚨🚨 بریکینگ نیوز : شہباز گل نے Exclusive خبر بریک کردی.!!!!🔥🔥🛑🛑 مجھے دو سینئر جرنلسٹ نے یہ بتایا کہ, یہ جو بات چیت چل رہی تھی, اس میں محسن نقوی آگے آئے ۔ محسن نقوی بہت ہی میٹھی زبان میں بات کرتے ہیں, وہ بھلے آپکو زہر کا ٹیکا لگائیں, لیکن انکی زبان اور الفاظ بہت میٹھے ہیں ۔ اس لئے جو بھی انکے ساتھ ڈیل کرتا ہے, وہ انکا دیوانہ ہوجاتا ہے, اور وہ سمجھتا ہے کہ یہ انہی کے سگے ہیں ۔ مثلاً : گنڈاپور ہر جگہ محسن نقوی کی تعریفیں کرتے تھے, اور کہتے تھے کہ ان سے اچھا کوئی ہے ہی نہیں, اب ذرائع یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ویسا ہی relationship اپنا سہیل آفریدی اور بیرسٹر گوہر کیساتھ ہے۔ تو زرائع یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ محسن نقوی کو لگتا ہے, کہ اُنہوں نے عمران خان اور پی ٹی آئی کیساتھ اب بہت زیادہ زیادتی کرلی ہے, انکو لگتا ہے کہ کبھی عمران خان آگئے, تو ان کیلئے معمالات مشکل ہو جائینگے ۔ اس لئے اب جو زخم انکو لگائیں ہیں, محسن نقوی ان زخموں پر اب تھوڑی مرہم رکھنا چاہتے ہیں ۔ اور وہ چاہتے ہیں کہ اس کی اینڈنگ اچھی کرے, پی ٹی آئی، عمران خان کو تھوڑا ریلیف دے دیں ۔ تاکہ تھوڑا غصّہ کم ہو جائے ۔ اس لئے اُنہوں نے فیلڈ مارشل سے بات کی کہ ہم نے اب کافی کچھ کرلیا ہے ۔ صدر زرداری تو صوبے بنانے کیلئے بالکل راضی نہیں ہے, پیپلز پارٹی کسی صورت سندھ میں نئے صوبوں کے حق میں نہیں ہے ۔ تو محسن نقوی نے ضرور کہا ہوگا فیلڈ مارشل کو کہ آپ مجھے اب پی ٹی آئی کے زخموں پر مرہم رکھنے دے, ان سے تھوڑا معمالات ٹھیک کرنے دیں ۔ اور چونکہ زرداری تو انٹرسٹڈ نہیں ہے ۔ نئے صوبے بنانے میں تو میں پی ٹی آئی کو ساتھ لیتا ہوں, جب پی ٹی آئی اس میں ووٹ دے دے گی تو آپ کی Endorsement بھی ہوگی ۔ اور جو سارا آپ کیخلاف محاذ تھا ۔ اور جو عوام کے اندر آپ کیلئے غم و غصّہ، نفرت ہے, وہ بھی کم ہو جائیگی ۔ اور آپ صدر بھی بن جائیں گے, 28 ویں ترامیم بھی پاس ہو جائیگی ۔اور پی ٹی آئی کے زخموں پر مرہم بھی رکھ دی جائیگی ۔ اور۔ ان دو جرنلسٹ کیمطابق فیلڈ مارشل نے اس پر محسن نقوی کو گو آہیڈ دے دیا ۔ جس پر پھر محسن نقوی نے پلاننگ کی اور عمران خان کو شفاء ہسپتال منتقلی میں ایک پوزیٹو کردار ادا کیا ۔ 🔥🔥🚨🚨

Anisha KHAN

82,261 Aufrufe • vor 4 Tagen

فیض حمید زندگی کا سب سے بڑا جوا بھی ہار گئے۔ علی وارثی، نیا دور ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کو یقین نہیں آ رہا تھا۔ یہ دو لوگ؟ ان دونوں کو تو وہ کبھوں کا شکست دے چکا تھا۔ نواز شریف؟ اسے تو 2017 میں 'کھڈے لائن' لگا دیا تھا۔ 10 سال کے لئے نااہل، لندن میں جلا وطنی کاٹتا نواز شریف اس کے خیال میں اب کبھی 'طاقت' کے ایوانوں کے قریب نہیں پھٹک سکتا تھا۔ نواز شریف ہی کیا، سب سے بڑے صوبے میں بیٹھا اس کے ادارے کا سب سے بڑا افسر لوگوں کو بلا بلا کر کہتا تھا، اب ان لوگوں کو بھول جائیں۔ یہ سب ماضی کے قصے ہیں۔ شہباز شریف صاحب اچھے آدمی ہیں لیکن اب سسٹم میں ان کی جگہ نہیں۔ “Sharifs are out for good”۔ اور عاصم منیر؟ وہ تو لائن میں ہی نہیں تھا۔ اس کا تو نام ہی ان جرنیلوں کی فہرست سے خارج ہو چکا تھا۔ یہ کیسے واپس اس لسٹ پر آ گیا؟ اس کو تو کور کمانڈر ہی ایسے موقع پر لگایا گیا تھا کہ یہ کمانڈ میں تبدیلی کا موقع آنے تک ریٹائر ہو چکا ہو۔ یعنی وہ دو لوگ جن کے لئے پوری گھات لگائی تھی، وہ اس کام کو خراب کر رہے تھے جس کام کے لئے عمران کو لایا گیا تھا اور پھر سب جماعتوں کے ترلے منتیں کر کے باجوہ کو پہلی توسیع بھی دلوائی تھی۔ سب کیے کرائے پر پانی پھر چکا تھا۔ دس سالہ منصوبہ ہوا میں تحلیل ہو چکا تھا۔ باجوہ کے 3 سال، پھر توسیع۔ پھر میرے 3 سال، پھر توسیع۔ سب اچھا کی رپورٹ۔ سپریم کورٹ میں بھی گیم سیٹ تھی۔ ثاقب نثار، پھر کھوسہ، پھر گلزار، پھر بندیال، پھر۔۔۔۔ پھر قاضی فائز عیسیٰ ہے لیکن اس کو نکلوا دیں گے۔ ریفرنس بن جائے گا، اس کی چھٹی ہو جائے گی۔ ہمیں کون روک سکتا ہے؟ اعجاز الاحسن کو دو سال مل جائیں گے۔ آگے منصور کے دو سال ہیں، وہ بھی کیا ہی کر لے گا؟ زیادہ چوں چوں کی تو ریفرنس تو اس کے خلاف بھی آ سکتا ہے۔ سب اچھا کی رپورٹ۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیف جسٹس 'manage' تھا۔ مستقبل کا چیف جسٹس 'دو سال کی محنت' کو ضائع کر سکتا تھا سو رستے سے ہٹایا جا چکا تھا۔ نئے چیف جسٹس کی وہ لطیفے والے سردار جی کے بقول 'شو شا تے بڑی سی' لیکن۔۔۔ ادھر بھی 'سب اچھا' کی ہی رپورٹ تھی۔ تو اب یہ کیا ہو رہا تھا؟ سب تبدیل کیسے ہوا؟ شہباز شریف اقتدار میں آ گیا، قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس پٹ گیا اور اب اس کو چیف جسٹس بننے سے روکنا ناممکن؟ عمران خان پر کی گئی ساری سرمایہ کاری ناکام، اقتدار سے باہر؟ نواز شریف لندن بیٹھ کر قسمتوں کے فیصلے لکھ رہا ہے؟ اس نے ٹل کا زور لگا لیا لیکن نواز شریف نے اس کی ایک نہ سنی۔ باجوہ نے کہا فیض کو نہیں لگانا تو ان دونوں میں سے کسی کو لگا دو لیکن عاصم منیر کو لگایا تو مارشل لاء لگا دوں گا۔ لیکن یہ حربہ بھی ناکام ہو چکا تھا۔ عمران خان کا دھرنا ناکام ہو چکا تھا، ہمیشہ کی طرح۔ باجوہ کا مہرہ فیض پٹ چکا تھا۔ عاصم منیر آرمی چیف بن چکا تھا۔ اور اس کو بنانے والا نواز شریف تھا۔ Sharifs afterall were ‘not out for good’۔ فیض حمید سے شاید یہ سب برداشت نہیں ہوا۔ اسے فوجی دوست پیار سے The Cunning Fox کہا کرتے تھے۔ نجی محافل میں اس کے بارے میں بات کرتے ہوئے رشک سے Evil Genius کہا کرتے تھے۔ اور اب یہ outfox ہو چکا تھا۔ یہ جونیئر تھا لیکن مدت ملازمت ختم ہونے سے 6 ماہ پہلے ہی اس سے، بقول ایک سینیئر رپورٹر کے استعفا بھی لیا جا چکا تھا۔ اس کی انا کو شدید ٹھیس لگی تھی۔ خود آرمی چیف نہ بننے کا دکھ اپنی جگہ، اصل تکلیف تو رقیب کے جیت جانے کی تھی۔ یہ ناقابلِ قبول تھا۔ یہی موقع تھا جب اس نے اپنی زندگی کا سب سے بڑا جوا کھیلنے کا فیصلہ کیا۔ 'دو سال کی محنت' تو ضائع ہو چکی تھی۔ لیکن جو ایک دہائی سے زیادہ سیاسی جماعتوں، بیوروکریسی اور اوپر سے لے کر نیچے تک نظامِ عدل میں جگہ جگہ 'محنت' کر رکھی تھی، اسے تو بروئے کار لایا جا سکتا تھا۔ اور سب سے بڑھ کر ادارے کے اندر والی محنت کو اگر اب رنگ نہیں لانا تھا تو کب لانا تھا؟ اس نے 6 ماہ میں جی توڑ کوشش کر ڈالی۔ اسے بھی علم تھا اور پورے ملک کو بھی کہ کسی نہ کسی موقع پر عمران خان کو گرفتار کیا جانا تھا۔ اس نے اسی موقع کے لئے فیلڈنگ لگا رکھی تھی۔ جنرل باجوہ اپنی مرضی کے کور کمانڈر لگا کر عاصم منیر کے لئے پہلے ہی کانٹوں کا جال بچھا کر گئے تھے۔ نظامِ عدل میں اوپر سے نیچے تک جگہ جگہ ہوئی محنت بھی "Good to see you" کہنے کو بے قرار بیٹھی تھی۔ 9 مئی کو گرفتاری ہوتے ہی پورا سسٹم حرکت میں آ گیا۔ منصوبہ یہ تھا کہ عمران خان کے گرفتار ہوتے ہی ایک عوامی ردِعمل آئے گا۔ ادارے کے اندر ہوئی محنت رنگ لائے گی۔ کچھ لوگ آرمی چیف کو بتائیں گے کہ سر Dhaka has fallen۔ اب آپ بھی یحییٰ خان بن چکے ہیں۔ مہربانی فرما کر استعفا دیں اور گھر جائیں۔ مگر تمام سازشیں ناکام تمام منصوبے ناکام

𝐈𝐦𝐫𝐚𝐧 𝐇𝐚𝐛𝐢𝐛

77,725 Aufrufe • vor 2 Jahren

میرے دوست کاشف عباسی نے اچھی باتیں کی ہیں خصوصا یہ کہا کہ اب ٹی ای اینکرز کو پتہ نہیں کیا کہنا ہے کیونکہ اوپر سے بتایا جاتا ہے فلاں بات کہنی ہے اور فلاں نہیں کہہ سکتے۔ بہت جبر ہے۔ میرے خیال میں ایجسنیوں کو اس کام پر عمران خان نے پہلے سے زیادہ لگایا جب وہ وزیراعظم بنے۔ پہلے بھی ہوتا تھا لیکن خان کے دور میں عروج پر پہنچا۔ ان کے دور میں ہی ایک کرنل پوری پارلیمنٹ چلانے لگا تو ائی ایس پی آر کا ایک کرنل صاحب پورا ٹی وی میڈیا چلانے لگا۔ وہ کرنل صاحب اینکرز /صحافیوں کو پہلے خود فون کرتے جو خان حکومت کی گڈ بکس میں نہ تھے کہ فلاں ٹوئٹ ڈیلیٹ کریں۔ اگر کوئی اکڑ جاتا تو اس کے مالک کو فون جاتا کہ وزیراعظم افس سے فلاں ٹوئٹ کا سکرین شاٹ ہے اسے ڈیلیٹ کرائیں۔ ٹی وی شوز تو بہت بڑی بات ہے وزیراعظم ہاوس تو ٹوئٹ تک کی رعایت نہیں دیتا تھا۔ خود میں ٹی وی چینل میں تھا تو مجھے چینل انتظامیہ نے کہا ایجنسی کا فون ہے آپ فلاں ٹوئٹ ڈیلیٹ کر دیں۔ میں نے کہا ٹوئٹ ایجنسی بارے تو نہیں ہے بولے ان کی وزیراعظم آفس کی ڈیوٹی ہے۔ مجھے کہا گیا عمران خان، ائی ایس پی اور ایجنسی سے معاملات ٹھیک کرو ورنہ گھر جائو۔ میں نے مٹی تے سوا معاملات ٹھیک کرنے تھے۔ میں گھر چلا گیا اور کئی ماہ بیروزگار رہا۔ جنرل فیض کا ایک بندہ مجھے خصوصی طور پر ایف سکس میں کافی بینز پر ملا کہ ان کا کہنا ہے ہمارا شو بند کرانے میں ان کا ہاتھ نہیں۔ عمران خان کا حکم تھا۔ ہم نے تو انہیں کہا یہ ہمارا کام نہیں وہ نہیں مانے اور کہا انہیں فکس کرو۔ شکر ہے ایجنسی نے فکس کرنے کا مطلب وہ نہیں سمجھا جو بھٹو صاحب بارے روایت ہے انہوں نے اپنے ایم این اے قصوری کے بارے اپنی ایجنسی کوکہا تھا ۔ اب کی دفعہ چینل سے نکلوا دیا گولی نہیں مار دی۔ یہ سب حکمران اپوزیشن میں شودے، معصوم، میڈیا فرینڈلی لگتے ہیں۔ پاور ملتے ہی فرعون کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ جس جبر کی بات کاشف کر رہا ہے یہ ہر دور میں رہا ہے بس محسوس اس وقت ہوتا ہے جب ہم اس کا خود شکار ہوتے ہیں جیسے اس وقت میرے دوست کاشف عباسی کو ہورہا ہے۔ میری ساری ہمدردی اور سپورٹ کاشف عباسی کے ساتھ ہے۔ Kashif Abbasi

Rauf Klasra

320,167 Aufrufe • vor 8 Monaten

عمران خان نے جو سوچ کر محمود خان اچکزائی کو اپوزیشن لیڈر بنوایا تھا کہ وہ پاکستانی فوج کو اپنی دھواں دھار تقریروں سے شدید ہرٹ کریں گے اور انہیں تکلیف ہوگی، وہ کام انہوں نے خان کی توقعات کے مطابق بڑی خوبصورتی سے ادا کرنا شروع کر دیا ہے۔ فوجی قیادت یقینی طور پر اچکزائی کے حملوں سے اپ سیٹ ہوگی جس کا اندازہ خواجہ آصف کی دفاعی انداز میں کی گئی تقریر سے لگایا جاسکتا ہے۔ اچکزائی اپوزیشن لیڈر ہو کر پارلیمنٹ میں پاکستان سے زیادہ افغانستان کی وکالت کرتے ہیں۔ وہ افغانوں /طالبان کے موقف کو زیادہ مضبوط سمجھتے ہیں۔ وہ اپنی تقریروں میں سابقہ یا موجودہ آرمی قیادت اور پاکستانیوں کو زیادہ قصور وار اور افغانوں کو مکمل طور پر معصوم سمجھتے ہیں۔ پی پی پی اور نواز لیگ بھی فوج کا دفاع اس سطح پر جا کر کرنے کو تیار نہیں جس کی ان حالات میں فوج توقع رکھتی ہے۔ دونوں پارٹیاں سمجھتی ہیں کہ فوج نے سسٹم کو کنٹرول کر رکھا ہے تو جواب بھی وہی دے یا ان کا پاور فل وزیرداخلہ محسن نقوی ایوان میں آ کر دے۔ جبکہ محسن نقوی ایوان کا رخ ہی نہیں کرتا۔ وزیراعظم شہباز شریف شاید اس لیے اسمبلی یا سینٹ نہیں جاتے کہ اچکزائی کی تقریروں کا جواب دینا پڑے گا۔ وہ چاہتے ہیں یہ بھاری پتھر خواجہ آصف اٹھائیں تاکہ ان کے اپنے تعلقات اچکزائی سے بھی ٹھیک رہیں۔ اچکزائی بھی ہر تقریر میں “شہباز بھائی” کہنا نہیں بھولتا۔ پھر ایک اور مشکل ہے کہ جب وزیر دفاع خواجہ آصف فوج کا دفاع کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو پی ٹی آئی ایم این ایز انہیں ان کی فوج کے خلاف ماضی میں کی گئی تقریریں یاد دلاتے ہیں اور یوں ان کا دفاع کمزور پڑ جاتا ہے۔ باقی کوئی حکمران جماعت کا ممبر فوج کے حق میں تقریر نہیں کرتا اور اوپر سے خواجہ آصف محمود خان اچکزائی سے اپنے تعلق کو زیادہ اہم سمجھتے ہیں لہذا وہ اچکزائی سے اس لیول پر انگیج نہیں ہوتے جس لیول کے اٹیک اچکزائی کرتا ہے۔ دونوں اپنی تقریروں میں بار بار اپنے بزرگوں ( صمد خان اچکزائی/خواجہ صفدر) کے پرانے تعلقات اور اپنی پرانی دوستی کے حوالے دیتے رہتے ہیں۔ ہر سخت حملہ کرنے کے فورا بعد اچکزائی بڑی سمجھداری سے “خواجہ بھائی” یا “شہباز بھائی” کا تڑکہ بھی لگا دے گا تاکہ وزیراعظم اور وزیردفاع ان تعلقات کو اہمیت دیں نہ کہ ان کے سخت حملوں کا جواب دینے کا سوچیں۔ یوں اچکزائی دراصل عمران خان کے چوائس کو درست ثابت کررہا ہے کہ وہ اکیلا فوج کو پارلیمنٹ میں ٹف ٹائم دے سکتا ہے اور وہ دھیرے دھیرے ان سب کو خوب سنا رہا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ پارلیمنٹ بھی ایک مذاق ہی بن کر رہ گئی ہے۔ نہ وہاں وزیراعظم آتا ہے نہ وزیرداخلہ نہ ہی ساٹھ رکنی کابینہ ماسوائے دو تین وزیروں کے۔ جب یہ سب نہیں آتے تو بھلا باقی ایم این ایز کیوں آئیں لیکن تنخواہ/الاونسنز سب پورے لیتے ہیں۔ شہباز شریف دور میں پارلیمنٹ اتنی کیوں فارغ ہوچکی ہے۔۔ کسی کو ٹکے کی دلچسپی نہیں رہی؟ مکمل پروگرام لنک 👇 via YouTube Neo News Fawad Ahmed Nasrullah Malik Khawaja M. Asif Shehbaz Sharif Mohsin Naqvi Sardar Ayaz Sadiq Dr. Tariq Fazal Ch. Barrister Gohar Khan Junaid Akbar Ishaq Dar Sher Afzal Khan Marwat

Rauf Klasra

18,538 Aufrufe • vor 6 Monaten

آپ نے خود تسلیم کر لیا کہ پاکستان کے تمام صحافی کسی نہ کسی پارٹی کے ماؤتھ پیس ہیں۔ آپ نے یہ بھی اقرار کر لیا کہ یہ صحافی مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف تینوں سے وابستہ ہیں مگر آپ نے اس سوال کا ابھی تک جواب نہیں دیا کہ وہ پارٹی سے فی سبیل اللہ وابستہ ہیں یا معاوضہ لیتے ہیں؟؟؟ اب آپ کی اگلی بات کی طرف آتے ہیں، فیلڈ مارشل تو درکنار، یہاں نواز شریف، شہباز شریف، آصف زرداری، شاہد خاقان عباسی، عمران خان، جسٹس مولوی مشتاق اور سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو بھی ذہنی مریض کہا گیا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ سول ملٹری قیادت، ججز، بیوروکریٹس کو متحمل مزاج اور غیرمنتقم مزاج ہونا چاہیے۔ یہ ان کے بلند منصب کا پہلا تقاضا ہے۔ یہ بات ان کے حلف کا بھی تقاضا ہے اور قیادت کے بنیادی اوصاف میں شامل ہے۔ جب بھی کوئی برسراقتدار شخصیت یا ہمارے اردگرد موجود کوئی بندہ غصے، طیش اور انتقام سے مغلوب ہو کر غیرمتوازن ذہنی رویے کا مظاہرہ کرتا ہے تو یہ ایک عام پریکٹس ہے کہ لوگ اسے پاگل اور ذہنی مریض کہہ دیتے ہیں۔ مجھے بھی کئی بار اس ٹائٹل سے نوازا گیا، شاید آپ کو بھی کبھی نوازا گیا ہو۔ کہانی گھر گھر کی، یہ ایک مقبول بھارتی ڈرامے کا نام ہے۔ جو بات میں کرنے لگا ہوں، وہ بھی گھر گھر کی کہانی ہے۔ اگر کسی کی بیوی بدتہذیبی بدتمیزی بدکلامی پر اتر آئے تو شوہر اسے ذہنی مریض کا ٹائٹل دے دیتے ہیں اور اگر کوئی شوہر بدتہذیبی بدتمیزی بدکلامی پر اتر آئے تو بیوی اسے ذہنی مریض کا ٹائٹل دے دیتی ہے۔ ایک بار میں نے اپنے گنہگار کانوں سے سنا کہ ایک جج صاحب قاضی فائز عیسی کو پاگل کہہ رہے تھے جبکہ وہ ابھی ریٹائر بھی نہیں ہوئے تھے۔ کیوں؟ کیونکہ قاضی کو اپنے غصے پر کنٹرول نہیں تھا یہاں تک وہ کورٹ روم نمبر1 کی عدالتی کاروائی کی لائیو سٹریمنگ کے دوران برادر سسٹر ججز اور سینیئر وکلاء سے بھی بدتمیزی پر اتر آتے تھے۔ شارٹ ٹیمپر آدمی کو کبھی بھی بڑا منصب نہیں دینا چاہیے۔ پیریڈ۔ کئی بڑے افسروں کو ان کی بدمزاجی کی وجہ سے ان کے ماتحت پاگل کہہ کر پکارتے ہیں۔ اگر میں ان سب بڑے افسروں کے نام لکھ دوں تو میرے خلاف ہتک عزت کے سینکڑوں مقدمات دائر کر دیے جائیں گے۔ صدر ٹرمپ کو ایک صحافی نے ان کے منہ پر ذہنی مریض کہہ دیا، مگر امریکہ میں کوئی قیامت بپا نہیں ہوئی مگر پاکستان میں فیلڈ مارشل والی بات پر انتقام کی آگ کا ایک الاؤ دھکا دیا گیا جو بجھ نہیں رہا کیونکہ مسلم لگ ن، ان کے حامی صحافی اور ن لیگی سوشل میڈیا کے لوگ اس الاؤ پر پٹرول چھڑکتے رہتے ہیں تاکہ انتقام کی آگ کا یہ الاؤ بھڑکتا رہے، اسٹبلشمنٹ کو مسلسل طیش، غصے اور انتقام کی کیفیت سے مغلوب رکھا جائے تاکہ وہ عمران خان اور پی ٹی آئی پر سختیوں کو جاری رکھیں۔ 💢 میں دوٹوک الفاظ میں کہتا ہوں کہ فیلڈ مارشل والی بات کو حُبِؔ علیؓ میں نہیں، بغضِ معاویہ میں اچھالا جاتا ہے تاکہ اسٹیبلشمنٹ عمران خان اور پی ٹی آئی پر مظالم میں مزید اضافہ کر دے۔ آپ بھی اس سوال کو اسی مقصد کی خاطر بار بار اٹھا رہے ہیں۔ 💢 فیلڈ مارشل تو ایک ادنیٰ سے اُمتی ہیں، قرآن گواہ ہے کہ نبئ کریم ﷺ کو بھی معاذاللہ ثم معاذاللہ ایسے ہی لقب سے پکارا گیا مگر اللہ اور اس کے رسولﷺ نے اس کی پاداش میں اس لقب سے پکارنے والوں پر کوئی مظالم نہیں ڈھائے، ان کو واجب القتل قرار نہیں دیا، ان کو قید نہیں کیا، ان کو کوڑے نہیں لگائے، ان پر اور ان کے خاندانوں پر زندگی تنگ نہیں کی۔ 💢 کیا ہم امتی فیلڈ مارشل معاذاللہ ثم معاذاللہ نبی کریمﷺ سے بھی بلند رتبہ رکھتے ہیں؟ ہر گز نہیں، ہم گنہگار امتی تو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی گلیوں میں گھومنے والے کتوں کے پاؤں کی خاک کے برابر بھی نہیں ہیں۔ 💢اللہ کریم نے فیلڈ مارشل کو بلند رتبہ سے نوازا ہے مگر مسلم لیگ ن اور ان کے حامی اپنے پست سیاسی مفادات کی خاطر فیلڈ مارشل کو خدائی اور نبوت سے بھی بڑے رتبہ پر فائز کر رہے ہیں۔ ایسا کر کے وہ فیلڈ مارشل کا بھلا نہیں کر رہے، ان کو تباہی گڑھے میں گرانے کی سازش کر رہے ہیں، یہ دوستی کے روپ میں بدترین دشمنی کا مظاہرہ ہے۔ پس چہ باید کرد، انصار عباسی کی برداری کے محسن عباسی صاحب اب آپ محترم رؤف کلاسرا، محترم عامر متین اور ثروت ولیم کی گفتگو سنیے، سننے کے بعد سوچ سمجھ کر فیصلہ کیجیے کہ اس گفتگو پر آپ نے سر دُھننا ہے یا بھنگڑہ ڈالنا ہے۔ DG ISPR DGPR (AIR FORCE) DGPR (Navy) Shehbaz Sharif Nawaz Sharif Maryam Nawaz Sharif Mohsin Naqvi Attaullah Tarar Khawaja Saad Rafique Ministry of Interior GoP Ministry of Information & Broadcasting Prime Minister's Office The President of Pakistan Ch Fawad Hussain Government of Pakistan Raja Kabeer ™ Ahsan Chatha Ansar Abbasi Syed Talat Hussain Syed Imran Shafqat Amir Mateen Rauf Klasra Sarwat valim Fakhar Durrani Waseem Abbasi Abdul Qayyum Siddiqui Waqar Satti 🎖️🇵🇰 Raja Kabeer ™ Ahsan Chatha

اکرم راعی Akram Raee

10,501 Aufrufe • vor 3 Monaten

آخری بادشاہ ہم ہیں 👇 اس ملک/قوم کی قسمت اس ایک کلپ میں دیکھیں۔ سب سمجھ آ جائے گا کہ انسانی تاریخ میں اقتدار کے لیے ترک اور مغل حکمران اپنے سگے بھائیوں تک کے گلے کیوں کاٹ دیتے تھے۔ شاہد خاقان عباسی اس ملک کا وزیراعظم تھا۔ شہباز شریف وزیراعظم بن بیٹھے اور انہیں دوبارہ وزیراعظم نہیں بنایا گیا تو وہ پی آئی اے کی یورپ پرواز شروع ہونے پر افسردہ اور غم زدہ ہے۔ سابق وزیراعظم شریفوں سے ناراضی کابدلہ ملک اور قوم سے لے رہا ہے۔ دوسرا سابق وزیراعظم عمران خان جیل میں ہے۔ ان سے مجھے پوری ہمدردی ہے لیکن وہ بھی اپنے اوورسیز حامیوں کو کہہ رہا ہے اس ملک میں ڈالر نہ بھیجیں تاکہ پورا ملک تباہ ہو۔ڈیفالٹ کرے۔ اس ملک میں خانہ جنگی ہو کیونکہ وہ جیل میں ہے۔ وہ بھی جنرل عاصم منیر سے پرانی لڑائی کا بدلہ اس ملک اور قوم کو تباہ کر کے لینا چاہتا ہے۔ یہ ہے اس ملک اور قوم اس کے سابق سیاستدان جو دوسری دفعہ وزیراعظم نہیں بنے تو ان کی بلا سے ریاست ملک عوام بچے یا تباہ ہو۔ ان کی جوتی کو بھی پرواہ نہیں۔ یہ ہوتی ہے نرگیست، اپنی ذات سے اندھا رومانس، محبت اور خود سے عاشقی۔ ان نرگیست کے مارے لوگوں کے لیے اپنی ذات اور اس سے جڑے ذاتی مفادات اہم ہیں، ان کے لیے وزیراعظم بننا اہم ہے ملک اور عوام نہیں۔ ان سے زیادہ داد اس عوام کو دیں یا ان فوجی جرنیلوں کو جنہوں نے ان لوگوں کو پاکستان کا بادشاہ بنایا۔ یہ سب تا عمر وزیراعظم بننے آئے تھے، نہیں بنے تو اب سب کچھ تباہ ہو جائے انہیں پرواہ نہیں۔ یہ وزیراعظم بننے کے لیے ہی پیدا ہوئے تھے۔ اس سے کم عہدے پر یہ راضی نہیں ہوں گے۔ انہوں نے عوام پر حکمران لگ کر زندہ رہنا ہے اس سے کم پر راضی نہیں ہوں گے۔ ان کی سوچ ہے اگر میں بادشاہ ہوں تو ملک اور ریاست بھی ہے، پھر سب ٹھیک ہے، سب اچھا ہے۔ اگر میں وزیراعظم نہیں رہا تو بھلا میری بلا سب کچھ ڈوب جائے۔ تباہ ہو جائے۔ آخری بادشاہ ہم ہیں۔ #RaufKlasra

Rauf Klasra

78,515 Aufrufe • vor 1 Jahr