Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

ایرانی میزائلوں نے امریکہ کی weather modification technology تباہ کر دی ہے۔ اس لئے اب تہران نکھر چکا ہے۔ ہوا صاف ستھری ہے۔ پہاڑوں پر برف اور شہر میں بارشیں واپس آ گئی ہیں۔ آسمان نیلا ہوچکا ہے۔ بادل روئی کی طرح سفید ہوچکے ہیں۔ اگر جنگ نہ ہوتی...

928,141 Aufrufe • vor 4 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

ہمارے معاشرے میں جوائنٹ فیملی سسٹم کئی دفعہ خواتین کے لئے بہت بڑا عذاب بن جاتا ہے خاص طور پر جو دوسرے خاندان سے بیاہ کر جوائنٹ فیملی والے خاندان میں آتی ہیں انکو اپنے سسر ،ساس، جیٹھانی اور دیور کی وہ کڑوی کسیلی باتیں برداشت کرنی پڑتی ہیں شوہر خود مجبور ہوتا ہے کہ وہ اپنے ماں باپ بہن بھائیوں کو منع کرے گا تو اسکو کہا جاتا ہے کہ رن مرید ہو گیا اور والدین تو خاص طور پر جذباتی بلیک میلنگ بھی کر جاتے ہیں کہ کیسے تم کو پالا پوسا جوان کیا پڑھایا اور اب تم اپنی بیوی کو ہم پر ترجیح دے رہے ہو آج صبح سے ایک سسر کی ویڈیو وائرل ہے جس میں وہ اپنی بہو کو تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے گو پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے مگر اب بہو خود یہ ویڈیو بیان دے رہی ہے کہ میں بد تمیزی کی تھی اس لئے سسر نے مارا ہے اور کوئی کاروائی بھی نہیں کروانا چاہتی اسکی وجہ یہ ہے کہ اس نے اس گھر میں رہنا ہے اگر سسر کو اندر کرواے گی تو سسر سب سے پہلے باہر آ کر اس کو گھر سے نکالے گا اور بچے بھی چھین لے گا بس ایسا خاندانی نظام ہے ہمارا

KHURRAM

279,836 Aufrufe • vor 2 Jahren

آپ واپڈا آفس جاتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ میرا میٹر خراب ہے آپ کی مہربانی اسے ٹھیک کردو ۔ آگے سے واپڈا والے اٹھ کر آپ کی دھلائی شروع کردے اور کہے کہ ہر سال ہمارے درجنوں اہلکار کھمبے پہ چڑھ کر کرنٹ لگنے سے شہید ہوجاتے ہیں اور تمہیں میٹر کی پڑی ہوئی ہے غدار ۔ یا آپ بس کی ٹکٹ کرانے جاتے ہیں اور آپ دیکھتے ہیں کہ بس کے ایک ٹائر سے ٹیوب نکلا ہوا ہے آپ کمپنی سے کہتے یار اس ٹائر کو ٹھیک کردو ورنہ یہ پھٹ جائے گا اور ہم سب مر جائینگے آگے سے بس والا تمہیں اٹھا کر پٹخ دے کہ اکیلے تم نہیں مروگے ہمارے ڈرائیور بھی شہید ہورہے ہیں۔ تو آپ یہ نہیں کہو گے کہ حضور لائن مین اور ڈرائیور حضرات نے جانتے ہوئے بھی کہ اس پروفیشن میں جان کو خطرات ہوتے جوائن کیا ہوا ہے اور اپنی مرضی سے کیا ہے اور اسی کی انھیں تنخواہ ملتی تو کیا اب وہ ہمارا میٹر بنانے سے انکار کرسکتے ؟ یا ہمیں پھٹے ہوئے ٹائر کے ساتھ کوئٹہ سے کراچی لے جانا شروع کردینگے ؟ پاکستان کے سابق آرمی چیف مشرف کی ویڈیو ہے جس میں وہ فوجی جوانوں کی جان ضائع ہونے پہ کہتے کہ کیا ہوگیا ہے وردی پہنی ہے تو اس میں مر مرانا ہوجاتا اس میں احسان کی کیا بات ہے نہیں پسند تو گھر جاو فوج میں کیوں ہو ۔ سو بات مختصر یہ نہ ہی واپڈا اہلکار پیسوں کے لئے خود کو کرنٹ لگوانے جاتا نہ ہی ڈرائیور خود کو کھائی میں گرانے کے لئے ڈرائیونگ کرتا نہ ہی فوجی یا پولیس مرنے کے لئے فوج میں جاتے یہ سب انکا پروفیشن ہے ذرائع آمدنی ہے انکی ڈیوٹی ہے اور اس میں جان بھی جا سکتی اگر نہیں پسند تو گھر جائے احسان نہ کرے ۔ فوج سے زیادہ سویلین شہید ہورہے ہیں جنہیں مرنے کی نہ تنخواہ ملتی نہ وہ ہتھیار ہاتھ میں لئے تیار بیٹھے ہوتے ہیں بلکہ وہ اپنی سوچوں میں مگن ہوتا کہ کئی سے آکر راکٹ لگ جاتا ہے نہ مرنے پہ انھیں پنشن ملتی نہ کوئی اسکی تعریف کرتا ۔ البتہ کل سے ایک بات کی سمجھ آگئی اسٹیبلشمنٹ اور مسلم لیگ ن ابھی تک 90 کی دہائی میں پھنسی ہوئی ہے اچانک انکو مولانا صاحب کی کرپشن بھی یاد آگئی ہے اور تو اور ایک پٹوارن نے احسان جتلانے کے لئے ایک چارٹ بنایا ہوا کہ مولانا صاحب تین بار ایم این اے بنے ہیں یعنی اب عوام کے منتخب کرنے کا احسان بھی یہ ڈفر ہم پہ ڈالیں گے ؟ پارلیمنٹ نہ ہوا انکا فارم ہاوس ہوگیا ۔ فضل خان بڑیچ Fazal Barech #مولانا_کی_للکار #پروپیگنڈہ_چھوڑو_امن_دو

Saeed Ullah Khan

67,924 Aufrufe • vor 1 Monat

🆘 خان کی زندگی شدید خطرے میں ، پنڈی پر نظر رکھیں 🆘 پنڈی کو 26 اپریل تک مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے اور فوج نے سڑکوں پر گشت شروع کر دیا ہے ۔ چھتوں پر فوجی سنائپر بیٹھا دیئے گئے ہیں یاد رہے آج سے تقریبا ایک ہفتہ پہلے فوج کی TEAM A (Asim) اور TEAM B (Malik) کی میٹنگ میں خان کو پھر سے ختم کرنے کا پلان ڈسکس ہوا ہے یاد رہے دونوں ٹیمیں ایک ہی ہیں دونوں خان کو ختم کرنا چاہتی ہیں Team A میں آسم منیر ، زرداری، نواز ، پی ڈی ایم وغیرہ شامل ہیں Team B میں آسم ملک، پاکستان تحریک انصاف عسکری قیادت اور آصف غفور کے ففتھیے شامل ہیں 🆘۔ Team A کا پیش کردہ پلان آسم نے کہا امریکہ نے کہا ہے کہ اگر ایران سے مزاکرات ناکام ہوئے تو ہم کو امریکہ کے ساتھ ایران کے ساتھ جنگ لڑنی پڑے گی ۔ اس جنگ کے لئے عمران خان کو ختم کرنا بہت ضروری ہے، کیونکہ اگر جنگ لگی تو عوام اور شیعہ کمیونٹی کی وجہ سے سول وار لگ سکتی ہے اور اگر عمران خان زندہ ہوا تو وہ عوام کی امید ہوگا کہ اس جنگ کو خان ہی روک سکتا ہے اس لئے اس کو سول وار کر کے باہر نکالتے ہیں ۔ اس لئے جنگ میں جانے سے پہلے عمران خان کو طبعی طور پر ختم کر دیا جائے 🆘۔ Team B کا پیش کردہ پلان نہیں ہم خان کو امریکہ کی اجازت کے بغیر ختم نہیں کر سکتے اس کے لئے ہمیں امریکہ کی مکمل حمائیت اور گارنٹی چاہئے اور اس میں ہمیں دس سال تک IMF سے ڈالر چاہیں ہونگے اور سعودیہ, مڈل ایسٹ سے loan ریلیف چاہئے ہوگا ۔ اس کے لئے خان کو ختم کرنے کے لئے امریکہ سے اجازت لیں پھر ہم خان کو ختم کر دیں گے اور پھر ہم سکون سے ایران کے ساتھ جنگ میں جا سکتے ہیں ℹ️ اس بات پر دونوں ٹیموں نے اکتفا کیا اور فیصلہ ہوا آسم منیر امریکہ جاکر اجازت لے گا اور عوام کو چورن دینے اور engage کرنے کے لئے 19 تاریخ کا جلسہ بھی رکھ دیا گیاہے ۱: ایران سے مزاکرات ناکام ہو چکے ۲: سعودیہ اور مڈل ایسٹ loan کو reschedule کر چُکا ۳: IMF سے بھی بات شروع ہو چُکی ۴: پنڈی کو لاک ڈاؤن کر دیا گیا ۵: عوام کو پنڈی کی بجائے مردان جلسے کی طرف لے جایا جا چُکا ۶: سب سے خطرناک ڈیلیپلمنٹ یہ ہی کہ اسم منیر اس وقت امریکہ روانہ ہوچکا ہے اس پوسٹ کا مقصد ان حرامخور غداروں کے گندے پلان کو ایکسپوز کرنا لازم ہے ۔ تاکہ عوام کو آگاہی رہے ان کے sinister plan کی 🙏✊ Imran Khan #خان_کی_زندگی_خطرے_میں
0:10

Sensitive content

🆘 خان کی زندگی شدید خطرے میں ، پنڈی پر نظر رکھیں 🆘 پنڈی کو 26 اپریل تک مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے اور فوج نے سڑکوں پر گشت شروع کر دیا ہے ۔ چھتوں پر فوجی سنائپر بیٹھا دیئے گئے ہیں یاد رہے آج سے تقریبا ایک ہفتہ پہلے فوج کی TEAM A (Asim) اور TEAM B (Malik) کی میٹنگ میں خان کو پھر سے ختم کرنے کا پلان ڈسکس ہوا ہے یاد رہے دونوں ٹیمیں ایک ہی ہیں دونوں خان کو ختم کرنا چاہتی ہیں Team A میں آسم منیر ، زرداری، نواز ، پی ڈی ایم وغیرہ شامل ہیں Team B میں آسم ملک، پاکستان تحریک انصاف عسکری قیادت اور آصف غفور کے ففتھیے شامل ہیں 🆘۔ Team A کا پیش کردہ پلان آسم نے کہا امریکہ نے کہا ہے کہ اگر ایران سے مزاکرات ناکام ہوئے تو ہم کو امریکہ کے ساتھ ایران کے ساتھ جنگ لڑنی پڑے گی ۔ اس جنگ کے لئے عمران خان کو ختم کرنا بہت ضروری ہے، کیونکہ اگر جنگ لگی تو عوام اور شیعہ کمیونٹی کی وجہ سے سول وار لگ سکتی ہے اور اگر عمران خان زندہ ہوا تو وہ عوام کی امید ہوگا کہ اس جنگ کو خان ہی روک سکتا ہے اس لئے اس کو سول وار کر کے باہر نکالتے ہیں ۔ اس لئے جنگ میں جانے سے پہلے عمران خان کو طبعی طور پر ختم کر دیا جائے 🆘۔ Team B کا پیش کردہ پلان نہیں ہم خان کو امریکہ کی اجازت کے بغیر ختم نہیں کر سکتے اس کے لئے ہمیں امریکہ کی مکمل حمائیت اور گارنٹی چاہئے اور اس میں ہمیں دس سال تک IMF سے ڈالر چاہیں ہونگے اور سعودیہ, مڈل ایسٹ سے loan ریلیف چاہئے ہوگا ۔ اس کے لئے خان کو ختم کرنے کے لئے امریکہ سے اجازت لیں پھر ہم خان کو ختم کر دیں گے اور پھر ہم سکون سے ایران کے ساتھ جنگ میں جا سکتے ہیں ℹ️ اس بات پر دونوں ٹیموں نے اکتفا کیا اور فیصلہ ہوا آسم منیر امریکہ جاکر اجازت لے گا اور عوام کو چورن دینے اور engage کرنے کے لئے 19 تاریخ کا جلسہ بھی رکھ دیا گیاہے ۱: ایران سے مزاکرات ناکام ہو چکے ۲: سعودیہ اور مڈل ایسٹ loan کو reschedule کر چُکا ۳: IMF سے بھی بات شروع ہو چُکی ۴: پنڈی کو لاک ڈاؤن کر دیا گیا ۵: عوام کو پنڈی کی بجائے مردان جلسے کی طرف لے جایا جا چُکا ۶: سب سے خطرناک ڈیلیپلمنٹ یہ ہی کہ اسم منیر اس وقت امریکہ روانہ ہوچکا ہے اس پوسٹ کا مقصد ان حرامخور غداروں کے گندے پلان کو ایکسپوز کرنا لازم ہے ۔ تاکہ عوام کو آگاہی رہے ان کے sinister plan کی 🙏✊ Imran Khan #خان_کی_زندگی_خطرے_میں

Mr Rumi (✊ #KRBT انقلاب)

19,700 Aufrufe • vor 4 Monaten

جو میں ایک مہینے سے لکھ رہا تھا۔۔ وہ اب سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی کہہ رہا ہے۔ اور بلوچستان چیمبر آف کامرس والے بھی۔ میں نے عوام کے لیے تیل کی قیمتیں کم کرنے کے طریقے پر سب سے زیادہ ٹویٹس کیں۔ (چند ٹویٹس کو کمنٹس میں دوبارہ شئیر کرنے لگا ہوں) میں لکھ رہا تھا کہ پاکستان میں "پرائیویٹ سیکٹر"کو تیل کی سپلائی پورا کرنے کا موقعہ دیں۔ جو تیل پہلے ہی بلوچستان میں بک رہا ہے۔وہ ہی تیل 200 روپے میں پورے پاکستان میں ہر جگہ میسر وہ خود کر دیں گے۔ شاہد خاقان عباسی نے بھی کہا کہ آئل سیکٹر کو"ڈی ریگولیٹ"کر کے پرائیویٹ شعبے کے حوالے کر دیں وہ خود ہی مقابلے بازی میں سستا تیل لائیں گے جہاں بھی لائیں۔ میں اس پر بار بار لکھ رہا تھا کہ تیل کی قیمتیں چاہے پوری دنیا میں بڑھیں لیکن پاکستان کو ایڈوانٹیج یہ ہے کہ پاکستان۔۔اس ایران کا ہمسایہ ہے جس ایران میں پاکستانی 10 روپے لٹر تیل بک رہا ہے اور وہاں سے پہلے بلوچستان اور کراچی تک تیل آ ہی رہا ہے۔ بلوچستان چیمبر آف کامرس والوں کی پریس کانفرنس سن لیں جو کہہ رہے ہیں کہ ہم پورے پاکستان میں 200 روپے فی لٹر تیل ہر پٹرول پمپ پر مہیا کر سکتے ہیں۔ Shah e Rawan نے بھی کل کی یہ ویڈیو ریکارڈ کی جس میں 220 روپے لٹر پٹرول پورے بلوچستان میں بک رہا ہے۔ ایران کا تیل اگر بلوچستان اور کراچی سمیت سندھ تک آ رہا ہے اور عالمی پابندیاں نہیں لگیں تو مزید پنجاب تک آ جائے گا تو کیا قیامت آ جانی ہے۔ اس کو کوئی"ثابت"ہی نہیں کر سکتا۔ پاکستان IMF کو مطمئن اس طرح کر سکتا ہے کہ اپنی آفیشل تیل کی امپورٹ بہت کم کر کے جاری رکھے۔ اور کہے کہ ملک میں ڈیمانڈ کم ہو گئی ہے۔ اور جو مہنگا تیل آئے اس کو بھی پٹرول پمپس پر مہیا کروا Mixing کر کے ایرانی تیل کی کوالٹی بھی بہتر کر لی جائے اور تھوڑی بہت آفیشل تیل کی سیل بھی دکھا دی جائے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ حکومت ہر مہینے تیل پر 100 ارب روپے لیوی کماتی ہے۔ صرف وہ لیوی کمانے کے چکر میں عوام کی جیب سے مزید 100 ارب نکلوا کر آئل کمپنیز اور خلیجی ملکوں کی جیب میں مہنگا تیل خرید کر دے رہے ہیں۔ اپنےفارن ریزرو کے تقریبا 1 ارب ڈالرز ماہانہ آگ میں جھونک کر مفت میں ضائع کر رہے ہیں۔ ایرانی تیل تو صرف"مال کے بدلے مال"کی صورت میں آ جانا ہے۔ شاہد خاقان کی پریس کانفرنس کا 3 منٹ کا کلپ سن لیں کہ دنیا میں کوئی حکومت ایسے نہیں کر رہی جس طرح یہ حکومت کر رہی ہے۔۔مہینے میں 5 مرتبہ پالیسی چینج کی۔ اگر سستا ترین تیل معیشت میں آئے گا تو معیشت بند نہیں کرنی پڑے گی۔لاک ڈاون نہیں کرنے پڑیں گے۔ تو دوسری مد میں ملک بند کرنے سے جو ٹیکسسز کی کمی میں نقصان ہونا ہے وہ بھی حکومت کو نہیں ہو گا۔ حکومت کو دوسری مد میں ٹیکسسز آ جائیں گے جو ایرانی تیل کی پرائیویٹ سیکٹر کے زریعے آمد پر کم لیوی اکٹھی ہو گی مگر سستے تیل سے جتنی معیشت تیز چلے گی اس سے دوسری جگہوں سے ٹیکسسز زیادہ اکٹھے ہو جائیں گے۔ خدا کی قسم۔۔۔یہ حکومت اپنے ایک پاو گوشت کے لیے عوام کی گائے حلال کر رہی ہے۔ یہ صرف IMF اور امریکہ کا ڈراوا دے دے کر کمزور فیصلے کر رہی ہے۔ حالانکہ امریکہ تو ان کا یار ہے اور یہ ایران/امریکہ کے مزاکرات کروانے کا دعوی بھی کر رہے ہیں۔ ان کے یار نے تو دنیا کو ایرانی تیل خریدنے کی اجازت دی ہوئی ہے۔ ویسے۔۔ان کا یار امریکہ اور IMF اس پرائیویٹ سیکٹر کی رسد(سپلائی) کو پکڑ ہی نہیں سکتا ہے۔ کیونکہ وہ تو ٹینکروں میں پمپمس پر آتا ہے اور استعمال ہوتا جاتا ہے۔ پہلے کونسا بلوچستان اور کراچی سمیت سندھ میں وہ پکڑ پا رہے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ چند درجن دہہاڑی دار درباری انہوں نے"حجتیں"کرنے کے لیے رکھے ہوئے ہیں جو ان کی اور عوام دونوں کی تباہی کا باعث بن رہے ہیں۔ آخر میں اتنا لکھوں گا۔۔۔ کہ غیر معمولی حالات غیر معمولی فیصلوں کے متقاضی ہوتے ہیں۔ حکومت اگر اسی طرح کے فیصلے کر کے عوام کو نچوڑتی رہی تو حکومت خود بھی مزید غیر مقبول ہو گی اور اسٹیبلشمنٹ کو بے پناہ نقصان پہنچوائے گی۔ (اسد آر چوہدری) Nawaz Sharif Shehbaz Sharif DG ISPR Maryam Nawaz Sharif Shahid Khaqan Abbasi

Asad R Chaudhry

42,131 Aufrufe • vor 4 Monaten

شبر زیدی صاحب! اگر آپ کے منطقی پیمانے کو ہی ترازو مانا جائے، تو پھر میرا اور آپ کا بھی نہ کھانا ملتا ہے، نہ گانا ملتا ہے اور نہ ہی زبان ملتی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہم دونوں کے درمیان 'آئین' کے ایک قانونی رشتے کے علاوہ کوئی چیز سانجھی نہیں ہے۔ آپ کو احمد آباد کی زبان اور کھانا مبارک ہو، لیکن اس حقیقت سے نظریں نہ چرائیں کہ اس سرزمین کا ایک بڑا حصہ یعنی خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی بیلٹ، تاریخی، جغرافیائی، لسانی اور خون کے رشتے سے افغانستان کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ ڈیورنڈ لائن ایک سیاسی لکیر ہو سکتی ہے، لیکن وہ ہزاروں سال کی تاریخ، ثقافت اور اس 'پشتون ولی' کو ختم نہیں کر سکتی جو ہمیں ایک دوسرے سے جوڑتی ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ آپ کی زبان اور کپڑا نہیں ملتا؟ تو صاحب، ہماری زبان بھی ایک ہے، ہمارا لباس (پشتون لباس) بھی ایک ہے اور ہماری غیرت کے کوڈز بھی ایک ہیں۔ اگر آپ کو اپنی جڑیں گجرات میں نظر آتی ہیں، تو ہمیں اپنی جڑیں قندھار، جلال آباد اور کابل میں نظر آتی ہیں۔ آپ اپنے احمد آباد کے قصے سنائیں، لیکن ہمیں ہمارے بھائیوں سے دور کرنے کی کوشش نہ کریں۔ SyedShabbarZaidi

Hashim Khan

16,858 Aufrufe • vor 4 Monaten

سانحہ ڈی چوک 26 نومبر سے لاپتہ ہونے والے ،محمد راشد ولد شبیر، جو صادقہ آباد کی ایک کالونی کے رہائشی تھے، 26 نومبر کے بعد سے لاپتہ تھے ۔ ان کے گھر والوں کو ایک نا معلوم نمبر سے کال موصول ہوتی ہے، اور پولیس کی طرف سے بتایا جاتا ہے کہ ان کے لخت جگر کی موت ایک کار حادثے میں ہو گئی ہے۔ جب وُرثاء ہسپتال پوہنچتے ہیں، تو میت سَرد خانے سے نکال کے دیکھائی جاتی ہے۔ میت پر گولی کے واضح نشان تھے، جیسے کے وڈیو میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس قدر ظلم و جبر، زیادتی، لاشیں تک چُھپا دی گئی؟ حق کے لیے نکلنے والوں کو سِر عام مار کر ان کی لاشوں سے بھی ان کے اہل خانہ کو محروم کر دینا، یہ نا کبھی سُنا تھا نا ہوا ہے ہماری معاشرہ اس قدر تنزلی اور degradation کا شکار ہو چکا ہے۔ 26 نومبر کے بعد سے، ہمارے بہت سے کارکن مسنگ ہیں ہمیں اور ان کے بارے میں بہت سیریس خدشات ہیں۔ سَرد خانے میں اور لاشیں ہونے کی بھی خبریں ہیں۔ حکومت کو اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہوش کے ناخن لینے چاہیے ملک کو کس نہج پہ پوہنچا دیا گیا ہے؟ یاد رکھیے وقت سدا ایک سا نہیں رہتا اج اگر یہ ہمارے ورکرز ہیں تو کل اپ کے بھی ہو سکتے ہیں۔

Sher Afzal Khan Marwat

31,934 Aufrufe • vor 1 Jahr

پراپوگنڈہ اور جھوٹ مت پھیلائیں، بہت ہی تکلیف دہ چیز کوئی بھی تھوڑا سا بھی دل رکھنے والا تکلیف محسوس کئے بنا نہیں رہ سکتا اللہ پاک اس بچے کے لواحقین کو صبر وجمیل عطا فرمائیں، آمین۔۔ بچے کے باپ کے پاس فتنہ خان نیازی کو ٹکٹ کی رشوت دینے کے لئے ایک کروڑ روپیہ تھا۔ لیکن شوکت خانم ہسپتال میں بچے کی پیدائشی بیماری کے علاج کے لیے ٹکا نہیں تھا؟ اب آتے ہیں آگے جو پروپوگنڈہ کیا جا رہا ہے عباد فارقق کو 9 مئی کے واقعات کا سہارا لے کر پولیس یا اداروں نے جان بوجھ کے اٹھایا ہوا ہے تو ایسا کہنا بلکل غط ہے میں 9 مئی کی 2 ویڈیو اسی پوسٹ پر اپلوڈ کی ہیں جس میں عباد فاروق تور پھوڑ جلاو گھراو کرتا صاف نظر ا رہا ہے اپ سب بھی دیکھ سکتے ہیں، مطلب کے اسے اداروں نے یا پولیس نے جرم کرنے کے تناظر میں اریسٹ کر رکھا کے نا کے پریس کانفرنس کے لئے اس کی پریس کانفرنس کی کیا اہمیت یہ صرف ٹکٹ ہولڈر ہے نا کے کوئی ایم پی اے یا ایم این اے۔۔ اب آگے آتے ہیں کے بچہ اتنا بیمار تھا والد کو یاد کرتا تھا تو ملنے نہیں دیا گیا پہلے نمبر پر تو یہ بات سرا سر جھوٹ ہے، عباد فاروق کی 2 بار اس کے بیٹے سے ہاسپٹل میں ملاقات کروائی گئی اس کا ثبوت ساتھ اٹیچ کر رہا ہوں پوسٹ پر تو بات کا مقصد یہ ہے کے خدارا لاشوں پر سیاست نہیں کریں گندے مقصد کے لئے مت استعمال کریں، پہلے ارشد شریف پر سیاست کی پھر ظلے شاہ کی لاش پر اور اب عباد فاروق کے بیٹے پر خدارا گریز کریں ان حرکتوں سے کیا ملے گا پراپوگنڈہ کرنے سے کچھ نہیں حاصل ہونا ہاں لیکن مرنے والوں کے گھر والوں کو ضرور تکلیف ہوتی کیوں ان کی تکلیف کی وجہ بنتے ہو جھوٹ بول کر ؟

چوہدری شاہد محمود

115,403 Aufrufe • vor 2 Jahren

میں لاہور آیا تو پہلا تاثر ہی چونکا دینے والا تھا۔صاف ستھرا شہر، کشادہ اور ہموار سڑکیں، دونوں اطراف سجی ہوئی پھولوں کی کیاریاں، دل موہ لینے والی لائٹنگ اور جگہ جگہ خوبصورت مناظر۔ سڑکوں پر خاموشی سے دوڑتی الیکٹرک بسیں، اور جب ٹھوکر نیاز بیگ سے گزرا تو اوپر سے اورنج ٹرین گزرتی دکھائی دی راستے میں سرخ رنگ کی میٹرو بس نظر ائی ، نہر کے ساتھ ساتھ الیکٹرک بسیں چل رہی تھی،لاہور کا نہر جو اب سگنل فری ہو چکی ہے۔ موٹر سائیکل سوار ہیلمٹ پہنے ترتیب سے چل رہے تھے۔ حیران کن طور پر اس بار رکشے کم نظر آئے، چنگ چی تو کہیں ایک آدھ ہی دکھائی دی۔ ہر شخص قوانین کا احترام کرتا محسوس ہوا۔تب معلوم ہوا کہ یہ لڑکی کی حکومت ہے اور وہ ایک سخت ایڈمنسٹریٹر ہے۔لوگوں سے سنا کہ اس نے پورے پنجاب کو امن کا گہوارہ بنا دیا ہے۔ اٹک سے رحیم یار خان تک اب کوئی مائی کا لال یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ وہ غنڈہ یا بدمعاش ہے۔دوستوں نے بتایا کہ یہ پہلی مرتبہ ہے جب انہیں حقیقی تحفظ اور سیکیورٹی کا احساس ہوا ہے۔مائیں، بہنیں اور بیٹیاں محفوظ ہیں، کسی میں جرأت نہیں کہ کسی خاتون کو ہاتھ تک لگا سکے۔پورے پنجاب مذہبی رواداری بحال ہو چکی ہے۔ہر مذہب کے لوگ اپنی عبادت گاہوں میں مکمل امن اور سکون کے ساتھ عبادت کر رہے ہیں۔ تبلیغی اجتماع ہو تو تبلیغی حضرات کے لیے بہترین انتظامات ہوتے ہیں، محرم میں شیعہ بھائیوں کے لیے شاندار سہولیات فراہم کی جاتی ہیں، سکھوں ہندوں کے مذہبی دنوں میں مثالی انتظامات ہوتے ہیں، اور اس بار کرسمس پر تو مریم نواز نے پورے پنجاب کو سجا دیا تھا عیدالاضحیٰ پر ایسے انتظامات تھے کہ سب حیران رہ گئے، اس دفعہ لاہور دلہن کی طرح سجا ہوا تھا۔امن کا یہ عالم ہے کہ اب گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں چوری نہیں ہوتیں، ڈکیتیاں ختم ہو چکی ہیں، چوری نہ ہونے کے برابر ہے۔ پولیس کا نظام بہتر ہو چکا ہے، ہسپتال ٹھیک ہو گئے ہیں، اور ہر طرف ترقی کے آثار نظر آتے ہیں۔بچیوں کی شادیاں وزیرِاعلیٰ خود کروا رہی ہیں، ہمت کارڈ، کسان کارڈ اقلیت کارڈ جاری ہو چکے ہیں۔ 68 سروسز گھر بیٹھ کر حاصل ہوجاتی ہیں ، دیہاتوں میں موبائل ہسپتال اور کلینک آن ویلز نظر آتے ہیں۔ بچوں کے ہاتھوں میں لیپ ٹاپ ہیں، اور لاہور کی سڑکوں پر سکوٹی چلاتی بچیاں ایک نئی خوداعتمادی کی علامت بن چکی ہیں۔ لوگ کہتے ہیں:لاہور ہی نہیں بدلا، پورا پنجاب بدل گیا ہے۔دور دراز علاقوں میں جائیںہر جگہ ترقی، ہر جگہ صفائی، اور ہر جگہ تجاوزات کا خاتمہ نظر آتا ہے۔ واقعی،لاہور کو اس لڑکی نے بدل دیا ہے۔ ویلڈن Maryam Nawaz Sharif

Khadim Ali khan Yousaf zai

16,301 Aufrufe • vor 8 Monaten

وقت گزر جاتا ہے، مگر بچوں کی ہنسی، ان کی معصوم باتیں اور ان کے ننھے قدم دل کے کسی گوشے میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ آج ایک پرانی ویڈیو دیکھتے ہوئے احساس ہوا کہ زندگی کی سب سے بڑی نعمتیں وہی ہیں جنہیں ہم اکثر معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ میرے نزدیک اللہ تعالیٰ کا انسان پر سب سے بڑا انعام اولاد، صحت اور محبت ہیں۔ میں خود کو بے حد خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ میرے رب نے مجھے یہ تینوں نعمتیں فراوانی سے عطا کیں۔ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر اپنی رحمتوں اور نعمتوں کی بارش ہمیشہ بے حساب کی ہے۔ اس نے مجھے زندگی میں توقعات سے کہیں بڑھ کر عزت، محبت، مواقع اور آسائشیں عطا کیں۔ لیکن ان تمام نعمتوں میں جو نعمت میرے دل کے سب سے قریب ہے، وہ میری اولاد ہے۔ ریان، بہرام اور میری پیاری بیٹی میری زندگی کا حاصل ہیں۔ یہ میری محبت، میری امید، میری خوشی اور میرے آنے والے کل کا سرمایہ ہیں۔ اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ میری سب سے قیمتی متاع کیا ہے، تو میرا جواب ہمیشہ یہی ہوگا کہ میری اصل دولت میرے بچے ہیں۔ میں ان کا قیدی ہوں، اور یہ وہ قید ہے جس پر مجھے فخر ہے۔ زندگی کے اس مرحلے پر میری سب سے بڑی خواہش نہ شہرت ہے، نہ دولت اور نہ کوئی منصب۔ میری دعا صرف یہ ہے کہ میں اپنے بچوں کی ایسی تربیت کر سکوں کہ وہ اچھے انسان، باکردار شہری اور معاشرے کے لیے باعثِ خیر بنیں۔ کیونکہ آخرکار انسان کی کامیابی کا پیمانہ اس کی اولاد کے کردار سے ہی ناپا جاتا ہے۔ گزشتہ ڈیڑھ سال حالات نے ہمیں مختلف ملکوں میں رکھا۔ میرے بچے دبئی اور برطانیہ میں رہے اور میں پاکستان میں۔ ان کی جدائی نے مجھے ہر روز یہ احساس دلایا کہ گھر دیواروں سے نہیں، بچوں کی موجودگی سے بنتا ہے۔ میں نے انہیں بے حد یاد کیا، شاید اتنا جتنا الفاظ بیان نہیں کر سکتے۔ اور آج، جب میرے بیٹے دبئی سے واپس آرہے ہیں اور میں انہیں لینے ایئرپورٹ جا رہا ہوں، تو دل کی کیفیت بیان سے باہر ہے۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے میری دنیا کا ایک گمشدہ حصہ دوبارہ اپنی جگہ لوٹ رہا ہو۔ اولاد دراصل اللہ تعالیٰ کی وہ زندہ دعا ہے جو ہماری آنکھوں کے سامنے پروان چڑھتی ہے۔ جتنا انہیں دیکھتا ہوں، اتنا ہی اپنے رب کا شکر ادا کرتا ہوں۔ ریان، بہرام اور میری بیٹی — تم میری کامیابی نہیں، میری دنیا ہو۔ ❤️ الحمدللہ، ہر نعمت پر، ہر آزمائش پر، ہر وصال اور ہر جدائی پر؛ اور سب سے بڑھ کر، تم پر۔ ✨

Sher Afzal Khan Marwat

91,594 Aufrufe • vor 1 Monat