Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

🔴 ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف: ہم ایرانی پارلیمنٹ میں ایک بل منظور کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس کے تحت (IAEA) کے ساتھ تعاون کو اس وقت تک معطل کیا جائیگا جب تک ہمیں اس کی پیشہ ورانہ طرزِ عمل کی واضح ضمانتیں نہ مل جائیں۔

160,780 Aufrufe • vor 1 Jahr •via X (Twitter)

5 Kommentare

Profilbild von Ilyas Raza
Ilyas Razavor 1 Jahr

@grok what is IAEA

Profilbild von Free Gaza Palestine
Free Gaza Palestinevor 1 Jahr

Right 👍

Profilbild von Umar Sahil Wazir
Umar Sahil Wazirvor 1 Jahr

@grok What is IAEA?

Profilbild von Saqib Abbas
Saqib Abbasvor 1 Jahr

Zamanat 🤩😂lolls lolls

Profilbild von Saqib Abbas
Saqib Abbasvor 1 Jahr

ضمانتیں ساری منسوق ہو چکی ہیں اب تو😂

Ähnliche Videos

کہا جاتا ہے کہ ہم سیاست نہیں کرنا چاہتے، اور ہم سیاست میں نہیں ہیں۔ لیکن یہاں روزانہ جو فیصلے ہوتے ہیں، وہ جب تک جی ایچ کیو سے منظور نہیں ہوتے، جب تک جرنیل اُس کے لیے “ہاں” نہیں کرتے، ہم پارلیمنٹ میں بھی اُن فیصلوں پر عمل نہیں کر پاتے۔ یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ اصل بااختیار ادارہ کون ہے — پارلیمنٹ یا ہماری ملٹری اسٹیبلشمنٹ؟ اگر واقعی پارلیمنٹ بااختیار ہے، تو پھر میں حیران ہوں کہ آنے والی ستائیسویں آئینی ترمیم کا مسودہ نہ پارلیمنٹ کے سامنے لایا گیا، نہ ہمیں بتایا گیا، اور نہ ہی کسی دوسری سیاسی قیادت کو اعتماد میں لیا گیا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ اس مسودے پر عام بحث ہوتی، سیاسی قائدین کو بٹھایا جاتا، ان سے مشورہ کیا جاتا، اور پھر پارلیمنٹ میں اس پر کھلی بحث کے بعد فیصلہ کیا جاتا۔ تب ہم سمجھتے کہ واقعی پارلیمنٹ بااختیار ہے — چاہے وہ اپنی رائے سے اس میں ترامیم کرتی، یا اس مسودے کو منظور یا نامنظور کرتی۔ لیکن بدقسمتی سے آج ہم جس پارلیمنٹ میں بیٹھے ہیں، وہ خود بااختیار نہیں۔ ہمارے فیصلے پہلے کہیں اور ہوتے ہیں، اور بعد میں پارلیمنٹ میں لائے جاتے ہیں۔ لہٰذا آج کے اس موجودہ اجلاس میں، جمعیت علمائے اسلام کی جانب سے میں یہ بات واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ ہم ستائیسویں آئینی ترمیم کے معاملے میں اپنا مؤقف صاف رکھتے ہیں۔ ہم اس آئینی ترمیم کے مسودے کو مستر کرتے ہیں جے یو آئی کسی ترمیم کا حصہ نہیں بنے گی۔ سنیٹر مولانا عطاء الرحمان

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

18,207 Aufrufe • vor 8 Monaten

08 فروری 2024 کے عام انتخابات کے اسٹیبلشمنٹ نے کرپشن کے ستر سالہ ریکارڈ توڑ دئے ہیں، براہ راست مداخلت کر کے ایک ایک حلقے سے اپنی مرضی کے نمائندوں کو سلیکٹ کیا، اس طرح کے انتخابات سے آنے والے اراکین کو عوام کا نمائندہ نہیں کہا جاسکتا، ایسی صورت میں پھر پارلیمنٹ کے اہمیت ختم ہوجاتی ہے،وہاں بیٹھے ہوئے اراکین پر انگلیاں اٹھتی رہیں گی، دفاعی قوت جب سیاسی قوت بن جائے تو پھر ہم بھی میدان میں آئیں گے۔ ہم نے آئین اور جمہوریت کے لئے قربانیاں دی ہیں، آئین پر ہمارے اکابرین کے دستخط ہیں، اس لئے آئین کا تحفظ اپنی ذمہ داری تصور کرتے ہیں، لیکن آئین صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے، اس کی کوئی حیثیت نہیں رہی، جمہوریت اپنا مقدمہ ہار رہی ہے، وہ جمہوریت جو آئین کے ماتحت قرآن و سنت کے تابع ہے، اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ ہوگی،پارلیمنٹ کی اکثریت بھی قرآن و سنت کے خلاف فیصلہ نہیں کر سکے گی، لیکن یہاں تو پارلیمنٹ کی بھی حاکمیت نہیں ہے، یہاں تو ملازمین کا تسلط قائم ہے، ہم ایسے نظام کے ساتھ کس طرح چلیں گے؟ ہمیں آگے چلنا ہے،یہ ملک کسی کی جاگیر نہیں ہے،وردی میں عزت نہیں ہے بلکہ عزت اس کردار میں ہے جو ملک کے آئین اور عوام کی فلاح ہو بھبود کے لئے ہو، جب عوام کی بھلائی کے بارے تشکیل کردہ پارلیمان میں عوام کی نمائندگی نہ ہو، جب عوام کی نمائندگی ملازمین کی رحم و کرم پر ہو تو پھر ہمیں بھی فیصلہ کرنا ہوگا، اس لئے ہم غیر پارلیمانی سیاست کرنے پر سوچ رہے ہیں، مرکزی جنرل کونسل اس کا فیصلہ کرے گی،ہم عوام میں جائیں گے،اور پھر فیصلے ایوان میں نہیں میدان میں ہوں گے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

95,880 Aufrufe • vor 2 Jahren