Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

انڈیا میں اسرائیل کے سفیر کا کہنا ہے کہ اس نے دنیا میں بہت ممالک میں کام کیا مگر جس قدر انڈین نے ایران اور غزہ کے معاملے پر اسرائیل کا ساتھ دیا اس کی مثال نہی ملتی انڈین روز ہمیں کہتے ہم اسرائیل کے ساتھ مل کر لڑنا...

50,087 görüntüleme • 1 yıl önce •via X (Twitter)

6 Yorum

malik irfan profil fotoğrafı
malik irfan1 yıl önce

ہمیں ہندوستانیوں کا اسرائیل کیلئے یہ پیار زیادہ سے زیادہ شئیر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان کمینوں کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے لایا جائے جب یہ ہو جائے گا تو یوتھیے اپنی موت آپ مر جائیں گے

Ayan profil fotoğrafı
Ayan1 yıl önce

اب بھی کتوں کی کونسی لڑائی ہو رہی ہے سب ڈرامے بازی چل رہی ہے نہ ملبے تلے دبے لوگوں کی ویڈیو نہ کوئی لاشوں کی ویڈیو خالی بلڈنگ پر بم مار ڈرامے بازی امریکا اطلاع کرتا ہے سامان نکال لو میں نے حملہ کرنا ہے انڈیا کی ذلالت کے بعد ایران کو چوہدری بنانے کا ڈرامہ ہے صرف

malik tahir profil fotoğrafı
malik tahir1 yıl önce

Link it to Iran accounts, who are the strategic partner with India

azharkhan profil fotoğrafı
azharkhan1 yıl önce

انڈیا کھول کر بات تو کر رہا ہے۔۔ہمارے والے تو ایران کی کھول کر ہمایت بھی نہی کر رہے۔۔۔منہ پر رام رام اور بغل میں چھری

Ilyas Memon profil fotoğrafı
Ilyas Memon1 yıl önce

یوتھیا کیسے کر سکتے ھیں 1 سسرال 2 بھارت ناراض ھوگا 3 آمدن بندھ ھو جائیگی 4 یوکے اور یو ایس مے رھنا مشکل

Asmat Saddique profil fotoğrafı
Asmat Saddique1 yıl önce

کیا نواز شریف یامریم نواز نے انڈیا کے اس رول کی مذمت کی۔بجلی کے بل پر شور مچایا سب نے ساتھ دیا ۔کیا اب پنجاب حکومت میں دس کھرب کی کرپشن پر بھی ٹوئیٹ اور ٹرینڈ چلے گا۔جلدی سے اس کرپشن پر آتے ہیں یہ ہمارے ٹیکس کے پیسے ہیں۔

Benzer Videolar

اقوام متحدہ میں اسرائیل کے مندوب نے پی ٹی آئی کی زبان بولی ہے ، آپ کو ماننا پڑے گا کہ ہم نے جو نشاندہی کی تھی وہ اب درست ثابت ہورہی ہے، اسرائیل امریکہ اور مغرب کے ہاتھوں کا ایک خنجر ہے جس نے فلسطین کی پیٹھ پر گھونپ کر مقدس سر زمین پر قبضہ کیا،بیت المقدس پہ قبضہ کیا اور عالمی قوتیں ایک ناجائز ملک کا تحفظ کر رہی ہیں، اسرائیل وہ ملک ہے جو قیام پاکستان کے ایک سال بعد 1948 میں وجود میں آیا،جس کے پہلے وزیراعظم نے خارجہ پالیسی پر پہلا پالیسی بیان دیا کہ اسرائیل کی خارجہ پالیسی کا اساس اور اس کا بنیادی ہدف دنیا میں ایک نو زائدہ مسلم ریاست (پاکستان) کا خاتمہ ہوگا،اسرائیل اپنے قیام کے بعد اپنی زندگی کا آغاز پاکستان کے خاتمے کے اہداف سے کرتا ہے اور پاکستان میں لوگ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی مہم جوئی کر رہے ہیں،یہ وہ غلامانہ ذہنیت ہے جس کے خلاف ہم میدان عمل میں ہیں، یہ وہ جنگ ہے جو ہم لڑ رہے ہیں،یہ تہذیب کی جنگ ہے اور اس کے پیچھے سیاسی جنگ ہے، پھر اس کے پیچھے اقتصادی جنگ ہے۔اور ہم انشاءاللہ اسرائیل اور اس کے ایجنٹوں کا ہر محاذ پر راستہ روکیں گے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

202,641 görüntüleme • 3 yıl önce

خیبرپختونخوا کی عوام کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث توانائی کے بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے جبکہ مہنگائی میں مسلسل اضافہ عوام کے لئے مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔ خیبرپختونخوا کے عوام نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ اور ایران کی جانب سے مسلم ممالک پر مبینہ حملوں کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ عوام کا کہنا ہے کہ ایران کو مسلم ممالک کے خلاف کارروائیوں سے گریز کرنا چاہیے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کو فوری طور پر ختم ہونا چاہئے۔ مزید کہا گیا کہ پاکستان کو اس تنازع سے کوئی فائدہ نہیں ہو رہا بلکہ نقصان کا سامنا ہے، جبکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عوام کی زندگیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ عوام نے اپیل کی کہ تمام اسلامی ممالک اس جنگ بندی کے لئے کردار ادا کریں۔ ان کے مطابق اسرائیل کی کوشش ہے کہ مسلم ممالک کو آپس میں تقسیم کیا جائے، اور باہمی اختلافات یا جنگ کی صورت میں صرف نقصان ہی ہوگا۔

Shazia

10,610 görüntüleme • 6 ay önce

بریکنگ نیوز 🚨: نجم سیٹھی کے بڑے خوفناک انکشافات۔ امریکہ، اسرائیل اور بھارت کی خطرناک گیم ایکسپوز کر دی۔ افغانستان میں پاکستان کے حملوں کے پیچھے چھپی اصل حقیقت قوم تک پہنچا دی 🔥👇 اسرائیل اور انڈیا کا افغانستان کے ساتھ ٹرائی اینگل بن گیا ہے اور وہ اپنے ساتھ یو اے ای، گریس اور سائپرس کو بھی لا رہے ہیں۔ امریکی سفیر ٹو انڈیا کا اہم کردار ہے یہ امریکین کیمپ اسٹرکچر ہے۔ افغانستان پر دوبارہ اڈے قائم کر کے امریکہ اسرائیلی فورسز اور اسکے فضائیہ کو تعینات کرنا چاہتا ہے۔ اس پورے خطے پر اسرائیل کا کنٹرول مظبوط کرنے جا رہا ہے۔ یہاں سے ایران، چائنہ اور اس خطے میں موجود دیگر ممالک کے امن کو امریکہ اسرائیل کے ذریعے تباہ کرنا چاہتا ہے۔ یہ سب گریٹر اسرائیل بنانے کے پلان کا حصہ ہے، اگر ہم نے انکی گیم نہ سمجھی تو ہم اپنی بربادی خود اپنے ہاتھوں سے کر بیٹھیں گے۔ اسرائیل ہمارے ایٹمی ہتھیاروں تک رسائی چاہتا ہے اور امریکہ اس معاملے میں بھارت کے مل اُس کا ساتھ دے رہا ہے 🔥

‏زہـــرہ لیــاقت

161,100 görüntüleme • 7 ay önce

آج سے ٹھیک 44 سال پہلے، فروری 1982 میں، اسرائیل کے ایک عبرانی جریدے "کیوونیم" میں ایک مقالہ شائع ہوا تھا۔ لکھنے والا کوئی عام آدمی نہیں تھا، بلکہ اسرائیل کی وزارتِ خارجہ کا ایک سابق سینیئر اہلکار اور سٹریٹجک تجزیہ کار تھا۔ اس کا نام تھا اووڈ نیون (Oded Yinon)۔ اس مقالے کا عنوان تھا: "1980 کی دہائی میں اسرائیل کے لیے ایک حکمتِ عملی"۔ دنیا آج اسے "ینون پلان" کے نام سے جانتی ہے۔ اس منصوبے کا لبِ لباب صرف ایک تھا: "اگر اسرائیل کو مشرقِ وسطیٰ پر ہمیشہ کے لیے حکمرانی کرنی ہے، تو اسے اپنے اردگرد موجود تمام عرب ممالک کو نسلی، لسانی اور مسلکی بنیادوں پر ٹکڑے ٹکڑے کرنا ہو گا تاکہ 'گریٹر اسرائیل' کا خواب پورا ہو سکے" ۔اووڈ نیون کا استدلال بڑا سادہ لیکن ہولناک تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ پہلی جنگِ عظیم کے بعد برطانیہ اور فرانس نے "سائکس-پیکو معاہدے" کے تحت جو عرب دنیا بنائی، وہ ریت کی دیوار ہے۔ یہ ممالک اندر سے کھوکھلے ہیں کیونکہ ان میں مختلف مسالک، نسلیں اور قومیتیں زبردستی ایک سرحد کے اندر بند کر دی گئی ہیں۔ نیون نے لکھا کہ اسرائیل کا اصل ہدف یہ ہونا چاہیے کہ وہ ان اندرونی دراڑوں کو اتنی ہوا دے کہ یہ ممالک خود اپنے ہی اندرونی خلفشار سے تباہ ہو جائیں۔اس نے باقاعدہ ایک ایک ملک کا نام لے کر خاکہ پیش کیا۔ اس نے لکھا کہ عراق اسرائیل کے لیے سب سے بڑا فوجی خطرہ ہے، لہٰذا اس کے تین ٹکڑے کر دیے جائیں: شمال میں کُردوں کی الگ ریاست، وسط میں سنیوں کا علاقہ، اور جنوب میں شیعہ ریاست۔ اس نے لکھا کہ شام کو اس کی علوی، دروز اور سنی آبادی کی بنیاد پر چھوٹی چھوٹی کمزور ریاستوں میں بانٹ دیا جائے۔ اس نے لبنان کے بکھراؤ کی بات کی اور مصر کی معیشت کو اس حد تک توڑنے کی تجویز دی کہ وہ کبھی جزیرہ نما سینا پر اپنا حق نہ جتا سکے۔ آج 2026 میں، اگر ہم مشرقِ وسطیٰ کے نقشے پر نظر ڈالیں، تو کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ اووڈ نیون نے 1982 میں جو کچھ کاغذ پر لکھا تھا، وہ آج ہمارے سامنے حقیقت بن کر ناچ رہا ہے۔ صدام حسین کا وہ طاقتور عراق کہاں گیا؟ آج وہ عملی طور پر تین حصوں میں بٹ چکا ہے۔ شام کا کیا حشر ہوا؟ پچھلے پندرہ سالوں سے جاری خانہ جنگی نے شام کو کھنڈر بنا دیا اور وہاں مختلف نسلی گروہ اپنی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ لیبیا، یمن اور لبنان کی صورتحال دیکھ لیں۔ کیا یہ سب کچھ اتفاقیہ ہے؟ جی نہیں! یہ اسی ینون پلان کی حرف بہ حرف تعمیل ہے جس پر مغربی طاقتوں اور اسرائیل نے مل کر کام کیا۔ عرب دنیا کا سب سے بڑا المیہ یہ رہا کہ انہوں نے کبھی اپنے دشمن کی سوچ کو پڑھنے کی زحمت ہی نہیں کی ۔ جب اسرائیل کے معروف دانشور اسرائیل شاہاک نے اس منصوبے کا انگریزی ترجمہ کر کے دنیا کے سامنے رکھا، تو عرب حکمرانوں نے اسے محض ایک "خیالی پلاؤ" کہہ کر مسترد کر دیا آج عرب دنیا کی آپسی نااتفاقی اس بات کا ثبوت ہے کہ دشمن اپنی سٹریٹجی میں کامیاب ہو چکا ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو مسلمانوں سے لڑا کر، شیعہ سنی کی خلیج کو وسیع کر کے، اور نسلی تعصبات کو ابھار کر پورا خطہ بارود کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر اسرائیل کی سٹریٹجی کو ناکام کرنے اور عرب دنیا کو متحد کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا یہی وجہ ہے کہ یہودیوں کے لیے کانٹا ہے

حِجاب رندھاوا H.R

36,024 görüntüleme • 8 gün önce