Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

ایسی ہوتا ہے وکٹری سپیچ کا منظر ۔۔۔ اصلی اور جائز مینڈیٹ کا یقین ہونے کے باوجود نتائج کا انتظار کرنااور پھر تقریر کرنا ۔۔ہمارے یہاں تو ایک بے شرم خاندان 60 سیٹوں (وہ بھی فارم سنتالیس والی )پر وکٹری سپیچ کرنے آ گیا تھا

358,225 Aufrufe • vor 1 Jahr •via X (Twitter)

10 Kommentare

Profilbild von Hamid Ali Abbasi 🇵🇰
Hamid Ali Abbasi 🇵🇰vor 1 Jahr

17 سیٹس اور 60 سیٹس 🤣 180 سیٹوں کی دعوے دار پارٹی کے پی کے تمام ضمنی الیکشن ہار گئی ۔۔ پنجاب کے تمام ضمنی الیکشن ہار گئی ۔۔ سندھ ہار گئی 🤣

Profilbild von Mirza Waqar Baig
Mirza Waqar Baigvor 1 Jahr

نہیں محترمہ 60 نہیں بلکہ 17 سیٹیں

Profilbild von Sehrish Maan
Sehrish Maanvor 1 Jahr

Right

Profilbild von khurram Saeed
khurram Saeedvor 1 Jahr

After heard,that Trump won…

Profilbild von Bint e Yaseen
Bint e Yaseenvor 1 Jahr

اس عقلبند نے ۱۷ نشستوں پر وکٹری اسپیچ دے دی اور ایک ہمارے قائم مقام چئرمین صاحب تھے جو ۱۸۰ نشستیں جیتنے کے باوجود منظر عام سے ہی غائب ہوگئے تھے

Profilbild von Chaudhary Tabraiz Natt 🇵🇰
Chaudhary Tabraiz Natt 🇵🇰vor 1 Jahr

وہاں کوئی سکندر سلطان راجہ نہیں تھا نا جس کو پیغام دینا ہوتا ہے کہ ہمیں دوتہائی دو ہی دو ۔۔ یہاں وکڑی اسپیچ اس لیے نہیں کی جاتی کہ وہ الیکشن جیت چکا ہوتا ہے بلکہ اس لیے کی جاتی ہے کہ مجھے جتواو ۔۔

Profilbild von Why did you fire?
Why did you fire?vor 1 Jahr

کاش گوہر خان اور عمر ایوب غیرت مند باوفا ہوتے تو 9 فروری کی وکٹری سپیچ کر دیتے

Profilbild von The Score Board
The Score Boardvor 1 Jahr

17 seats **

Profilbild von ᏚᎻᎧᎪᏆᏴ
ᏚᎻᎧᎪᏆᏴvor 1 Jahr

انسان کو بے غیرت ہونا چاہیے، شرم تو آنے جانے والی چیز ہے

Profilbild von Asma Khan
Asma Khanvor 1 Jahr

Abb mujhy jealousy feel ho rhi hai we too had the right to celebrate the same way on the night of February 8 Lekin humain Sultan raja ne harwa dia.

Ähnliche Videos

عمران خان سے وفاداریاں تبدیل کروانے اور 8 فروری کے الیکشن پر ڈاکہ ڈالنے کے لیے خواجہ آصف کی ایماء پر میرے بیٹوں عمر ڈار و عثمان ڈار کو جبری گمشدہ کرنے، عامر ڈار کو گرفتار کرنے، جعلی مقدمات بنانے، گھر کاروبار سیل کرنے، میرے خاندان کو تشدد کا نشانہ بنانے اور بالخصوص میرے ورکرز کی گرفتاریوں سمیت انکے گھروں پر چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کرنے کے باوجود سیالکوٹ کے عظیم باشعور اور غیرت مند لوگوں نے اپنا مینڈیٹ عمران خان کے نام کیا۔ پھر 8 فروری کو جس طرح میرے حلقے NA71 سیالکوٹ میں جعلی فارم 47 کے ذریعے نتائج بدلے گئے پوری قوم جانتی ہے آج بھی میں انصاف کے منتظر ہوں۔ منتظر ہیں وہ اصلی فارم 45 جو میرے پاس موجود ہیں، منتظر ہیں وہ اصلی فارم 45 کہ الیکشن کمیشن بلائے تو انکو دکھاؤں، منتظر ہیں وہ اصلی فارم 45 کہ کوئی انصاف کی عدالت بلائے تو انکو دکھاؤں، منتظر ہیں وہ اصلی فارم 45 کہ سیالکوٹ کے لاکھوں بیٹے، بیٹیوں، ماؤں، بہنوں کے حقوق پر ڈالے گئے ڈاکہ پر انصاف کب ہوگا۔۔ آخر کب ہوگا؟؟؟ ایک سال ہونے کو ہے آج بھی سیالکوٹ کے لوگ اور اصلی فارم 45 اس لیے انصاف کے منتظر ہیں کہ وہ بھی ووٹ چور، ڈاکوؤں اور اردلی حکومت کے پرچم تلے دبے بے بس، لاچار اور ناکارہ نظام کی عکاسی بخوبی دیکھ رہے ہیں۔ #آٹھ_فروری_یوم_وفا #مینڈیٹ_چور_اردلی_حکومت

Rehana Dar

91,970 Aufrufe • vor 1 Jahr

افغان مہاجرین کے حوالہ سے نگراں حکومت اپیکس کمیٹی میں کس طرح فیصلے کرتی ہے؟ ان کا کام فوری طور پر صرف اور صرف شفاف انتخابات کرانا ہے۔ آپ کو اگر مہاجر سے تکلیف ہے تو پھر پالیسی سب کیلئے ایک بنائے۔ چلیں مانتے ہیں کہ افغان مہاجرین کو واپس بھیج دیں لیکن مہاجرین صرف افغانستان کے نہیں ہیں۔ اگر افغان مہاجرین کو یہاں رہنے کا حق نہیں تو پھر کشمیر اور ہندوستان کے مہاجرین کو بھی یہاں رہنے کا حق نہیں۔ پھر اسامہ بن لادن اور اسکے اولاد کو بھی یہاں رہنے کا حق نہیں۔ افغان مہاجرین کو مجبور کرکے یہاں لایا گیا۔ وہاں جو آگ لگی ہے اس کا آغاز جنرل ضیاء الحق نے کیا تھا۔ جب افغان مہاجرین یہاں آرہے تھے تو ریاست پھولوں کے ساتھ استقبال کررہی تھی کیونکہ اس وقت انکے نام پر پیسہ کمانا تھا۔ افغان قوم کو یہاں آئین اور قانون کے تحت زندگی بسر کرنے کا موقع دیا جائے۔ اگر نہیں دیں گے تو افغان قوم کیلئے ہر پلیٹ فارم پر آواز اٹھانے والے ابھی زندہ ہیں۔ Aimal Wali Khan #Vote4Laltain

Awami National Party

314,507 Aufrufe • vor 3 Jahren

والد کے پاس موبائل فون نہ ہونے پر ڈکیتوں کا گالی دینا اور ایک ننھی جان کو گولی مار دینا اس بات کی علامت ہے کہ یہاں انسان نہیں، صرف درندے آزاد گھوم رہے ہیں۔ کراچی ایف سی ایریا شہید چوک کے قریب رونما ہونے والا یہ واقعہ صرف ایک تین سال کی بچی کا قتل نہیں بلکہ اس بے حس اور تباہ شدہ قانون کا ثبوت ہے جو اس شہر پر مسلط ہے۔ یہ المیہ صرف گلی کے ایک مجرم کا نہیں، بلکہ اس بوسیدہ اور مفلوج نظام کا ہے جو شہریوں کی سیکیورٹی میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ پیپلزپارٹی حکومت اور وزارتِ داخلہ سندھ کی بے حسی اب ناقابلِ برداشت حد تک پہنچ چکی ہے۔ کہاں ہیں وہ ادارے جن کی ذمہ داری شہریوں کا تحفظ ہے؟ رینجرز اور پولیس کی اتنی بھاری نفری، اربوں روپے کے بجٹ اور گلی گلی ناکوں کے باوجود اس شہر کی گلیوں پر نفاذِ قانون کے بجائے اسٹریٹ کرمنلز کا راج کیوں ہے؟ جب ایک باپ اپنی تین سالہ بچی کے ساتھ بھی محفوظ نہیں، تو پھر ان اداروں کے قائم رہنے اور ان کے شاہانہ اخراجات کا کیا جواز رہ جاتا ہے؟

Sყҽԃ Mσɳιʂ Jαʋҽԃ

19,185 Aufrufe • vor 1 Monat