Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

وزیراعلی پنجاب نے ایک بچی کا حجاب ٹھیک کیا تو اُس پر بڑا شور مچ گیا تھا اب ایک بچے کو گود میں بٹھا کر فخر کیا جا رہا ہے بچہ کہہ رہا ہے میں محنت مزدوری کرنے یہاں آیا تھا آپ کےلئے شرم سے ڈوب مرنے کا مقام...

15,778 просмотров • 7 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

آپ نے ہمارے نصاب کو بھی جائز تسلیم کیا، آپ نے ہمارے مدارس کے نظم و نسق کو بھی جائز تسلیم کیا، آپ نے ہمارے مالیاتی نظام کو بھی جائز تسلیم کیا، پھر اس وقت سے لے کر آج تک مدارس کی رجسٹریشن کیوں نہیں ہو رہی؟ مدارس کے اکاؤنٹس کیوں بند ہیں؟اس کا معنیٰ یہ ہے کہ آپ مسئلے کا حل نہیں چاہتے۔ آپ کسی طرح چاہتے ہیں کہ مدارس اشتعال میں آئیں، سڑکوں پر آئیں، نوجوان کو اشتعال ملے، وہ بندوق کی طرف جائے، اور پھر ریاست بندوق کی طاقت کو طاقت کے ساتھ مارنے کے لیے اپنے لیے ایک جواز مہیا کر سکے۔ سو، ہم نے آپ کو یہ جواز مہیا نہیں کیا۔ ہم نے اس ملک کو پُرامن ملک بنانے کی کوشش کی۔ تاہم ایک گروہ ضرور ہے جو پہاڑوں میں چلا گیا، جو بندوق لے کر کھڑا ہو گیا، لیکن وہ بندوق اٹھا کر جب افغان_ستان جا رہا تھا تو آپ نے افغانس_تان جانے کے لیے اس کا راستہ روکا؟ آپ امریکہ کے اتحادی بھی بنے، آپ نے ہوائی اڈے بھی دیے، فضائیں بھی ان کو دیں، یہاں سے جہاز بھی اڑتے تھے، ان فضاؤں سے گزر کر وہاں پر بمباری بھی کرتے تھے، اور دوسری طرف اس جنگ میں شریک ہونے کے لیے پاکستانی مجاہد بھی جا رہا تھا، اور تم بھی اس کو تھپکی دے رہے تھے کہ آپ مجاہد ہیں۔ پھر انہی حالات میں ان کے ساتھ مصالحت کرنے کے لیے میں نہیں گیا ہوں، ان کے ساتھ مفاہمت کرنے کے لیے میں نے افغانستان کا سفر نہیں کیا۔ میں نے دو ملکوں کے درمیان معاملات ٹھیک کرنے کے لیے سفر کیا، لیکن طال_بان کے ساتھ بات کرنے کے لیے میرے ملک کے آئی ایس آئی کے چیف گئے ہیں، اور اس نے وہاں پر ان سے کیا باتیں کی ہیں، کچھ مجھے معلوم بھی ہے۔ سو اگر ان دہشت گردوں کو کوئی حوصلہ دلانے کا عمل ہے، وہ بھی آپ کے صفوں میں مل رہا ہے، ہمارے صفوں میں تو وہ ہم سے ناراض ہیں۔ آپ اپنے شہداء کی بات کرتے ہیں، مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کس کو کہتے ہیں؟ مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کا مقام کیا ہے؟ میں قرآن و سنت کا ایک طالب علم ہوں، میں شہید کے مقام کو جانتا ہوں، شہید کیا ہوتا ہے؟ جو شہید اپنے وطن کے لیے قربانی دیتا ہے، اس کی قدر و منزلت کو میں جانتا ہوں۔ آپ مجھے اس کی قدر و منزلت نہ سمجھائیں۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب #قائدانقلاب_مولانا #سیاسی_چوکیدار #مولانا_سے_معافی_مانگ #شہداء_صرف_بہانہ #لشکر_نہیں_امن

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

14,886 просмотров • 1 месяц назад

میں اپنے ملک کے اندر بات کر رہا ہوتا ہوں۔ اگر میرے بیانیے پر غلط الزام لگایا جاتا ہے، مجھے ایک ابتلا میں مبتلا کرنے کے بعد جب میں نے اس کا دفاع کیا، تو اب میرے دفاع کو کاؤنٹر کیا جا رہا ہے کہ ہندوستان میں یہ چل رہا ہے، ہندوستان میں یہ ہو رہا ہے۔ جب بنگال میں آپ سرنڈر کر رہے تھے، اُس وقت انڈیا پر کیا اثر تھا؟ اُس وقت ہندوستان کیا پیغام دے رہا تھا؟ ان کو ایسی باتوں پر شرم نہیں آتی؟ خود کو ٹھیک کرو، اور جب آپ ٹھیک ہوں گے تو قوم آپ کو مبارک باد دے گی۔ انڈیا نے ہم پر حملہ کیا، اور سب سے پہلے فضل الرحمٰن کھڑا ہو گیا اپنی فوج کو سپورٹ کرنے میں۔ اور جب آپ نے بہادری دکھائی، تو میں آپ کے شانہ بشانہ کھڑا تھا۔ میں نے آپ کو تنہا تو نہیں چھوڑا۔ ہم ملک میں آئین کی بھی جنگ لڑ رہے ہیں، ہم ملک کے اندر انصاف کی بھی جنگ لڑ رہے ہیں، اور اُس میں ملک کے رکھوالے اپنے ہی قوم اور اپنے ہی شہریوں کی نیتوں پر شبہ کرتے ہیں، اور ہمارے ملک کے رکھوالے اپنے ہی شہریوں کی کردار کشی کرتے ہیں۔ ملک کے ساتھ ہمدردی رکھنے والے، اخلاص رکھنے والے، اُس کے لیے قربانیاں دینے والوں پر جب ہمارے ملک کے رکھوالے شک کی نگاہ سے دیکھیں گے، تو پھر بحث چھڑے گی۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کی صحافی آصف نثار سے گفتگو #فخر_ملت_مولانا #سرکاری_چمچے_فلاپ #بارڈر_یا_بیرکس #معدنیات_فروش_ٹولہ #مہنگائی_کا_جواب_دو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

12,065 просмотров • 25 дней назад

ملک میں جو خود کو ووٹ کو عزت دو کا سب سے بڑا چیمپئن سمجھتا ہے، اس کی حکومت ہے۔ پنجاب میں ان کی بیٹی کی حکومت ہے۔ آج صبح پنجاب میں ہمارا اپوزیشن لیڈر بات کر رہا تھا کہ اس وقت بھی میرے گھر کے سامنے پولیس کھڑی ہے۔ پنجاب میں اگر آپ کا تعلق اپوزیشن سے ہے تو آپ اپنے گھر میں بھی رہائش نہیں رکھ سکتے۔اس وقت نہ کوئی قانون ہے اور نہ ہی آئین، صرف ظلم اور جبر ہے۔ اور جب ظلم حد سے بڑھ جائے تو جہاد لازم ہو جاتا ہے۔ جہاد صرف تلوار اٹھانے کا نام نہیں، جدوجہد سے بھی کیا جاتا ہے، اور یہی جدوجہد ہم پر اس وقت لازم ہے۔عمران خان اس وقت جرأت اور ہمت کے ساتھ اپنا مقدمہ لڑ رہا ہے۔ جب 1992 کا ورلڈ کپ ہو رہا تھا تو وہ ایک کمزور ٹیم تھی، لیکن اللہ نے عمران خان کو عزت دینی تھی۔ پھر جب شوکت خانم ہسپتال بن رہا تھا تو میں خود اس مہم کا حصہ تھا۔ ہم نے پوسٹر لگائے، چندہ اکٹھا کیا۔ ہمیں بھی یہ ناممکن نظر آتا تھا، لیکن اللہ نے عمران خان کے خواب کو پورا کیا۔

Asad Qaiser

15,982 просмотров • 8 месяцев назад

میں اپنی ورچوئل کلاس روم میں تھی اپنے ورچوئل طلبہ کے ساتھ۔ وہ لنچ کے لیے لاگ آؤٹ کر رہے تھےاور میں یہیں بیٹھی تھی کہ اچانک راہداری میں کچھ شور سنائی دیا۔ میں باہر نکلی تو دیکھا کہ چند پانچویں جماعت کے بچے کھڑے ہیں، وہ نماز پڑھنے کے لیے جگہ تلاش کر رہے تھے، رمضان کا مہینہ ہے،وہ مسلمان ہیں، اپنے دین پر عمل کرتے ہیں اور انہیں نماز ادا کرنے کے لیے ایک جگہ درکار تھی۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا وہ میرے کمرے میں آکر نماز پڑھ سکتے ہیں؟ میں نے اس سے پہلے کبھی ان بچوں کو نماز پڑھتے نہیں دیکھا تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ وہ پڑھتے ہیں، عموماً اسکول میں کسی اور جگہ پر، لیکن آج وہ ٹیچر موجود نہیں تھے، کونسلر۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا وہ یہاں آ سکتے ہیں؟ انہیں معلوم تھا کہ میرے پاس اس وقت کوئی طالب علم نہیں ہے۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ آپ چاہیں تو یہیں رہ سکتی ہیں۔ میں اپنی میز پر بیٹھی رہی اور میں نے ان چار معصوم بچوں کو دیکھا۔ وہاں کوئی بڑا موجود نہیں تھا جو انہیں مجبور کر رہا ہو، جیسا کہ اکثر مذہب کے بارے میں سمجھا جاتا ہے۔ کوئی انہیں ہدایات نہیں دے رہا تھا، نہ کوئی رہنمائی کر رہا تھا، نہ بتا رہا تھا کہ کیا کرنا ہے۔ لیکن منظر بے حد خوبصورت تھا۔ ان چاروں کی ایک ہم آہنگی تھی۔ انہیں بخوبی معلوم تھا کہ کیا کرنا ہے، ہاتھوں کی حرکات، جسم کی ادائیں، کھڑے ہونا، بیٹھنا، رکوع کرنا، سجدہ کرنا۔ سب کچھ مکمل سنجیدگی اور ترتیب کے ساتھ۔ یہ منظر دیکھنا ناقابل بیان تھا۔ میں اپنی ڈیسک پر بیٹھی رہی اور میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو میں اپنے آنسو پونچھ رہی تھی۔ انہوں نے مجھے دیکھا اور پوچھا، "کیا ہوا؟" میں نے کہا، "مجھے تم پر فخر ہے، مجھے تم سب پر بہت فخر ہے۔" وہ میرے پاس آئے۔ ہم نے ایک دوسرے کو گلے لگایا اور وہ لمحہ بہت خاص تھا۔ واقعی، پانچویں جماعت کے بچے کا یہ ایمان کہ وہ خود ذمہ داری لے کر وقت پر نماز ادا کرے، جو اس پر فرض ہے، یہ دیکھنا بہت خوبصورت تھا اور مجھے اپنے بچوں پر بہت فخر ہے ایک غیر مسلم ٹیچر کا بیان

شبانہ شوکت

49,583 просмотров • 5 месяцев назад

آج اس تاریخی اور فقید المثال اجتماع کا انعقاد کر کے پوری دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ سرزمین فلسطین فلسطینیوں کا ہے اور اس سرزمین پر صہیونیت کا کوئی حق نہیں ہے، چند مہینے قبل یہاں اسی اجتماع میں جس اجتماع کو ہم نے طوفان اقصیٰ کا نام دیا تھا اور ہم نے اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا تھا ہم آج بھی ان کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہم آپ کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، ہم ایک مضبوط موقف پہ قائم ہیں اور جس طرح آپ میدان جنگ میں ہیں ہم بھی پاکستان کی سرزمین پر آپ کے شانہ بشانہ اور قدم بقدم آپ کے جہاد میں شریک ہیں۔ امریکہ ہو یا مغربی دنیا انسانی حقوق کے علمبردار بنتے ہیں مجھے ان کی تاریخ بھی معلوم ہے مجھے ان کا کل بھی معلوم ہے اور آج بھی معلوم ہے۔ جنگ عظیم اول میں اسی مغربی دنیا نے کروڑوں انسانوں کا قتل عام کیا تھا، جنگ عظیم دوم میں اسی مغربی دنیا میں کروڑوں انسانوں کا قتل عام کیا تھا اور آج 20 سال تک افغانستان میں افغانوں کا قتل عام ہوتا رہا، عرب دنیا میں عرب مسلمانوں کا قتل عام ہوتا رہا، آج غزہ کے مسلمانوں پر بمباریاں ہو رہی ہیں، 50 ہزار کے قریب وہ اپنے شہداء دے چکے ہیں، اسرائیل مجاہدین کی مقابلے میں میدان میں نہیں ٹھہر پا رہا وہ معصوموں اور بے بس مسلمانوں پر بمباری کر رہے ہیں، اس وقت بھی اگر 50 ہزار شہدا ہیں جو 15 مہینوں میں دے چکے ہیں 75 فیصد اس میں چھوٹے بچے اور خواتین ہیں، آپ بتائیں کہ اس ظلم اور فلسطینیوں کی اس نسل کشی پر اگر امریکہ انہیں سپورٹ کر رہا ہے، اگر برطانیہ ان کو سپورٹ کر رہا ہے، اگر نیٹو ممالک ان کو سپورٹ کر رہے ہیں تو کیا ان کو آج کے بعد انسانی حقوق کی بات کرنے کا حق حاصل ہے؟ جن کے ہاتھوں انسانی حقوق کا قتل عام ہو رہا ہے، جن کے ہاتھوں انسان کی جان محفوظ نہیں، جن کے ہاتھوں انسان کا مال محفوظ نہیں، جن کے ہاتھوں انسانوں کی عزت و آبرو محفوظ نہیں اور چھوٹے چھوٹے شیر خوار بچے آج وہاں پر یہ نہیں سمجھ پائیں گے کل کہ ہم کس کی اولاد ہیں میرے باپ کا نام کیا تھا اور میری ماں کا نام کیا تھا۔ کیا ان کو بھی انسانی حقوق کی بات کرنے کا حق حاصل ہے؟ تمہارے ہاتھوں سے انسانوں کا خون ٹپک رہا ہے، انسانیت کا خون ٹپک رہا ہے، انسانی حقوق کا قتل عام ہو رہا ہے، تم انسانیت کے قاتل ہو۔ اگر صدام حسین کو اس بنیاد پر پھانسی دی جاتی ہے کہ آپ نے ایک شہر میں آپریشن کیا اور اتنے لوگ آپ نے قتل کیے تھے تو اتنی انسانیت کے قتل عام پر کیا نیتن یاہو کو پھانسی پہ چڑھانا ان کا حق نہیں بنتا؟ یہ انسانیت کا دشمن ہے۔ امریکہ اور مغربی دنیا انسانیت کے قاتل ہیں اور ان شاءاللہ ہم نے یہاں پر حق و انصاف کی آواز بلند کی ہے، ہم نے اس خطے میں انسانیت کو شعور عطا کیا ہے پتہ چل جائے کہ دنیا میں مظلوم کون ہے اور ظالم کون ہے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

30,555 просмотров • 1 год назад