Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

ایڈوکیٹ احسن بھون کی قانون کی ڈگری متعلق ریکارڈ اور مدعی سامنے آ گیا- بی کا امتحان کس سال میں دیا؟ قانون کی ڈگری میں داخلہ کس سال میں ہوا؟ اسلامیہ یونیورسٹی میں داخلہ کونسی ڈگری کےُلئیے ہوا؟ اسلامیہ یونیورسٹی سے پنجاب یونیورسٹی میں منتقلی کیسے ہوئی؟ پاکستان بار...

35,303 görüntüleme • 1 gün önce •via X (Twitter)

2 Yorum

ali Muhammad profil fotoğrafı
ali Muhammad1 gün önce

پاکستان کو بس یہی جعلی ڈگریوں والے کھارہے ہیں

Sajjad Ellahi profil fotoğrafı
Sajjad Ellahi1 gün önce

The way to go !!!

Benzer Videolar

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت دانش یونیورسٹی کے حوالے سے جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا. اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان کے ہونہار اور مستحق طلبہ کو میرٹ پر معیاری اور جدید تعلیم کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے. دانش یونیورسٹی پاکستان کے باصلاحیت اور مستحق نوجوانوں کو عالمی معیار کی تعلیم کے مواقع فراہم کرے گی. دانش یونیورسٹی بہترین تعلیمی، تحقیقی اور جدید تکنیکی سہولیات کی بدولت ملک بھر اور پورے خطے میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایک مرکزِ امتیاز کے طور پر ابھرے گی. دانش یونیورسٹی میں داخلوں کے لیے پورے پاکستان سے باصلاحیت طلبہ کا انتخاب میرٹ پر کیا جائے گا. اجلاس کو دانش یونیورسٹی کے قیام سے متعلق وزیراعظم کی مختلف ہدایات پر پیشرفت سے آگاہ کیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ دانش یونیورسٹی میں مختلف فیکلٹی آسامیوں کے لیے اب تک 185 درخواستیں موصول ہو چکی ہیں. دانش یونیورسٹی کے لیے بہترین اور باصلاحیت فیکلٹی کے انتخاب کا عمل جاری ہے. ایف ایس سی اور اے لیول کے دوسرے سال میں زیر تعلیم طلبہ کو دانش یونیورسٹی کے ورچوئل اسکول کے لیے ٹیلنٹ ہنٹ کا عمل شروع کر دیا گیا ہے. ورچوئل اسکول میں کامیاب طلباء کو پانچ ماہ کے دورانیے کے سو فیصد مفت کلاسز کا انعقاد کیا جائے گا. دانش یونیورسٹی ورچوئل کلاسز کے لیے ٹیسٹ 40 سے زیادہ شہروں میں 24 اکتوبر 2026 کو منعقد کیا جائے گا. مزید بتایا گیا کہ دانش یونیورسٹی کی عمارت آئندہ سال تک مکمل ہو جائے گی. دانش یونیورسٹی میں باقاعدہ تدریسی سرگرمیوں کا آغاز 20 ستمبر 2027 کو ہوگا. دانش یونیورسٹی میں ابتدائی مرحلے میں بائیو انجینئرنگ؛ الیکٹریکل انجینئرنگ، مصنوعی ذہانت، کمپیوٹر سائنس؛ اور ٹیکنالوجی و سماجیات پر مبنی جدید تعلیمی پروگرام شروع کئے جائیں گے. طلبہ کو یونیورسٹی میں باقاعدہ تعلیم شروع کرنے کی ضروری تیاری و معاونت کے لئے برج پروگرام بھی شروع کیا جائے گا. دانش یونیورسٹی کا برج پروگرام 10 اگست سے 14 ستمبر 2027 تک جاری رہے گا. اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، خالد مقبول صدیقی، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، ممبر قومی اسمبلی اسامہ سرور، چئیرمن بورڈ آف ٹرسٹیز دانش یونیورسٹی عارف سعید اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی ۔

Prime Minister's Office

26,133 görüntüleme • 14 gün önce

اسلام آباد: 1 جولائی 2026. وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں دانش سکولوں اور دانش یونیورسٹی کے قیام پر جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا. اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ دانش سکول اور دانش یونیورسٹی انتہائی اہم قومی اثاثہ ہیں. ملک بھر میں دانش سکولوں اور اسلام آباد میں دانش یونیورسٹی کی تعمیر قوم کے تابناک مستقبل کے لیے بہترین سرمایہ کاری ہے. وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ مظفر آباد میں دانش یونیورسٹی کا Tech کیمپس بنایا جائے اور چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں دانش سکولوں کی تعمیر جلد از جلد مکمل کی جائے. وزیرِ اعظم نے دانش سکولوں کا ڈیزائن علاقائی ثقافت سے ہم آہنگ کرنے کی بھی ہدایت کی. وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ دانش سکولوں اور یونیورسٹی میں تدریسی اور دیگر عملے کی بھرتی خالصتاً میرٹ پر کی جائے. وزیراعظم نے دانش سکولوں کی تعمیر کے حوالے سے تیز پیشرفت پر وفاقی وزارت تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی ٹیم کی پزیرائی کی. اجلاس میں وزیراعظم کو خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان، گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور اسلام آباد میں 27 دانش سکولوں اور اسلام آباد میں دانش یونیورسٹی کی تعمیر کی پیشرفت کے حوالے سے آگاہ کیا گیا. بریفنگ میں بتایا گیا کہ دانش سکول کری اسلام آباد کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے اور سکول میں تدریس کا آغاز ہو چکا ہے. باغ، بھمبر، سلطان آباد، گانشے اور استور میں دانش سکولوں کی تعمیر مکمل ہونے کو ہے اور اپریل 2027 سے کلاسز شروع ہو جائینگی. اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ دانش یونیورسٹی میں تدریسی عملے کی بھرتی کے عمل کا آغاز کیا گیا ہے. دانش یونیورسٹی میں2027 سے کلاسز کا آغاز ہو گا اور ملک بھر بالخصوص پسماندہ علاقوں سے میرٹ کی بنیاد پر طلباء کو داخلہ دیا جائے گا. اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احسن اقبال، عطاء اللہ تارڑ، خالد مقبول صدیقی اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔

Prime Minister's Office

14,355 görüntüleme • 3 ay önce