Sensitive content

This media may contain sensitive content.

Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

#بریکنگ #نیوز سرگودھا کے غیرت مند و غیور نوجوانوں نے حواء کی بیٹی کی عزت درندے کے ہاتھوں تار تار ہونے سے بچا لی سکول کالج پک اینڈ ڈراپ وین میں سیاہ شیشے چڑھائے ڈرائیور ایک نوجوان طالبہ کو کالج اتارنے بجائے اس کی عزت لوٹنے کے چکروں میں...

141,430 görüntüleme • 6 gün önce •via X (Twitter)

5 Yorum

Israr Ahmed Rajpoot profil fotoğrafı
Israr Ahmed Rajpoot6 gün önce

سکول کالج وین پک اینڈ ڈراپ سروس کے نام پر حواء کی معصوم بچیوں ساتھ شیطانی کھیل کھیلنے والا شکیل گجر آف چک 91 سرگودھا

Hoorain profil fotoğrafı
Hoorain6 gün önce

حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ لڑکی بلکل سکون اور طمانیت کیساتھ بیٹھی ہوئی ہے نہ اس نے کوئی بات کی نہ شکایت کی عجیب ہے

U Ąloŋə Iıŋ Mılıoŋ profil fotoğrafı
U Ąloŋə Iıŋ Mılıoŋ6 gün önce

یہ کوئی زبردستی تو لگ نہی رہا ۔ جیسے مطمئن بیٹھی وہ کرایہ بچانے کا چکر لگتا۔ ہر معاملے میں نا کودا کرو پاکستان میں زنا زیادہ تر زنا بالرضا ہی ہوتے ہیں۔ لڑکا لڑکی اپنا اپنا مفاد دیکھتے۔ ۔

M Shahzad profil fotoğrafı
M Shahzad6 gün önce

larki Balig hai koi bachi ni hai jo is tara khule aam Katcheri laga li aur video bana ker yeh is tara ki harkat kis kanon ne ijazat di hai tum logo ko... intehai gatya kaam hai

Global Helping Hands profil fotoğrafı
Global Helping Hands6 gün önce

Should be arrested @OfficialDPRPP

Benzer Videolar

🚨🚨 مریم نواز صاحبہ، یہ ایک عورت پر تشدد کا واقعہ ہے۔ اس کی انکوائری کروائیں۔ شفقت عباسی پی ٹی آئی کا ایم این اے ہے اور ایک بدمعاش کی مدد کے لیے آگیا ہے۔ میں نے میانوالی سے پتا کیا ہے کہ مرسلین خان ایک بدمعاش غنڈا ہے۔ وہ اور اس کا بیٹا اپنی بہو کو مار رہے تھے اسے گھر میں بند کر رکھا تھا ۔ اس نے 15 پر کال کی تو پولیس فوری آئی اور انہیں نے مزاحمت کی پولیس پر حملہ کیا جس پر اسے تھانے لے گے تھانے میں اس نے اپنے کپڑے اتار کر شرمگاہ پکڑی اور پولیس سے کہا: میرا یہ دیکھو، تم نے ہمارے گھر کے معاملے میں مداخلت کیوں کی؟ پھر گالی گلوچ شروع کر دی۔ جھگڑا ہوا تو تھانیدار نے پکڑ کر اس کی مونچھیں مونڈ دیں۔ یہ تھانے کی ویڈیو ہے، اس کی گالی گلوچ سنیں۔ مرسلین کا قبیلہ اور برادری میانوالی میں طاقتور ہے، اس لیے سب اس کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ ڈی ایس پی نے ایس ایچ او کو معطل کر دیا اور وہ مظلوم عورت جس پر تشدد ہوا، اس کی جان خطرے میں ہے۔ یہ ہے پنجاب میں عورت کی اوقات۔

RAShahzaddk

14,220 görüntüleme • 4 ay önce

اسرائیل نے کچھ عرصہ قبل مغربی کنارے کی ایک ویڈیو شیئر کی جس میں ایک نوجوان اسرائیلی فوج پر حملے کی تیاری کررہا ہوتا ہے۔ ڈرون اس پر حملہ کرتا ہے تو وہ ایک علاقے میں ڈرون کا نشانہ بنتا ہے جس میں اس کی کمر شدید زخمی ہوجاتی ہے۔ ڈرون ان آخری لمحات کی مک۔ل ریکارڈنگ کرتا ہے۔ وہ نوجوان شہادت کی انگلی بلند کرکے زور زور سے ہلا کر کلمہ شہادت پڑھتا ہے۔ پھر آخری سانسوں پر دیوار کا سہارا لے کر اپنے اوپری دھڑ کو آگے دھکیلتا ہے اور سجدہ کی حالت میں آجاتا ہے اور پھر اسی حالت میں جان اپنے پروردگار کے حوالے کردیتا ہے۔ اسرائیل نے یہ ویڈیو مزاحمت کاروں میں مایوسی پھیلانے کے لیے شیئر کی مگر اسرائیلی چال کے آگے میرے رب کی چال تھی۔ وہ ویڈیو دنیا میں اس قدر وائرل ہوئی کہ خود اسرائیلی انتظامیہ کو اسے ڈیلیٹ کرنے کی کوشش کرنے پڑی۔ مسلمان نوجوانوں نے اس نوجوان کی موت کے مناظر کو قابل تقلید جانا اور اس لہو گرم رکھنے کے مناظر بنا دیا۔ اس پروپیگنڈہ مہم میں اسرائیل کو منہ کی کھانی پڑی۔ اسی طرح اب یحیٰ سنوار کے آخری لمحات کے دعوے سے جو ویڈیو اسرائیل نے شیئر کی اس کا مقصد بھی یہ تھا کہ سربراہ کی شہادت کو دیکھ کر خدانخواستہ مایوسی پھیلے گی۔ مگر ہوا اس کے برعکس۔ شہادت کے مناظر نے ایک نیا سبق دیا۔ شیر اگلے محازوں پر لڑرہا تھا، فریکچرڈ ٹانگ اور شدید زخمی بازو کے ساتھ، دشمن اس قدر خوفزدہ تھا کہ زخمی شیر کی کچھار میں گھسنے کی ہمت نہ کرسکا۔ اا لیے تصدیق کے لیے ڈرون بھیجا۔جب چند سانسیں باقی تھیں تو بھی اس زخمی شیر نے ان مناظر کی ریکارڈنگ کرنے والے ڈرون پر آخری وار کیا۔ اس وار سے خوفزدہ دشمن کو اندازہ ہوا کہ یہ اس حالت میں بھی وار کررہا ہے تو مارٹر شیلوں اور راکٹوں کی برسات کردی اور شیر شہید ہوگیا۔ تب دشمن کو اس کے قریب جانے کی ہمت ہوئی۔ اس وقت بھی یہ ویڈیو مایوسی پھیلانے کی چال تھی مگر رب نے اسے ناکام بناکر اسے یہود کے خلاف استعمال کرا دیا۔ اب یہ ویڈیو مسلسل وائرل ہورہی ہے۔ اب ہر کمانڈر کو یحیٰ سنوار کی تقلید میں اگلے محازوں پر لڑنا پڑے گا تاکہ جنت کے ساتھ اپنے۔لوگوں کو دل بھی جیت سکے۔

Tariq Habib

138,427 görüntüleme • 1 yıl önce

رات ایک پروگرام میں موصوف شیر افضل مروت صاحب بھی کسی کی چابی بن کر مجھ پر تنقید کر رہے تھے۔ میں نے ہمیشہ کوشش کی کہ پارٹی میں اندرونی معاملات پر بطور عہدیدار نہ بات کروں۔ لیکن اس شخص کا ہمیشہ سے مخصوص ایجنڈا رہا ہے اور اندرونی طور پر میں نے ہمیشہ اس کو رانگ نمبر کہا کہ یہ نوسر باز ہے اور مخصوص ایجنڈا کے تحت مخصوص لوگوں کو ٹارگٹ کرتا ہے۔ میں تو حقیر سا ورکر ہوں اس شخص کو سب سے پہلے Azhar Mashwani سے مسئلہ تھا جس کی قربانیاں کسی سے ڈھکی چھُپی نہیں جو شادی کے دوسرے ہفتے اٹھایا گیا جس کے خاندان پر زمین تنگ کر دی گئی، پھر اس نے عمران خان صاحب کے خاندان خاص کر Aleema Khanum آپا پر مسلسل الزامات کی بوچھاڑ کر رہا ہے ان پر بھی اس کو اعتراض ہے لیکن سوال یہ ہے کہ جب بھی کوئی تحریک چلنے لگتی ہے یا کوئی ہلچل ہونے لگتی ہے تو چابی والا بندر میدان میں آ جاتا ہے پھر Intazar Hussain Panjutha پر بھی اعتراض ہے اس کو۔ جو ظلم انتظار پنجوتہ صاحب کے ساتھ ہوا ہے کیا وہ سارے پاکستان نے نہیں دیکھا اس لیے یہ پاگل ہو چکا ہے ہے اور جو پیچھے سے پرچی پر لکھ کر دیا جاتا ہے یہ اردلی کا کردار ادا کرتا ہے۔ میری پارٹی کے لیڈران سے گزارش ہے کہ جس پروگرام میں یہ شخص بھیجا جاتا ہے اس کا بائیکاٹ کریں کیوں کہ ان کی اہمیت صرف اس پٹاخے کی ہے جو چل چکا ہے اور اب صرف اس کی واحد جگہ کوڑے دان کا ہے

Ehsan Toor

11,345 görüntüleme • 1 yıl önce

جس ملک کے تعلیمی اداروں میں ایسے تعلیم یافتہ بے غیرت کرپٹ لوگ ہونگے تو پھر اس ملک کی نئی نسل کی ڈگریوں کا حال کیا ہوگا وہ بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے الحاق شدہ #Lahore کے ایک مشہور نرسنگ سکول کی پرنسپل ڈاکٹر ثانیہ سادات کھیرا اپنے کالج کی طالبات سے فیس میں اضافے کے نام پر 25 ہزار فی کس لینے کے فراڈ میں ملوث ہیں اور والدین سے کہا ہے کہ وہ اسکے اپنے کسی ذاتی اکاؤنٹ میں فیس جمع کرائیں جب ایک طالبہ کے والد اور اہل خانہ کالج گئے اور ان سے مناسب فیس واؤچر دینے کو کہا یا کم از کم کالج کی انتظامیہ کی طرف سے کوئی اطلاع دکھانے کا بولا تو وہ چیخنے لگی اور طالبہ کے بھائی اور بہن کو مارا پیٹا… والد نے کالج کے پرنسپل اور انتظامیہ کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی لیکن جواب میں کالج انتظامیہ نے والد اور بھائی کے خلاف ایک اور ایف آئی آر درج کرا دی پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے والد کو گرفتار کر لیا۔ اس رات والد اور بھائی (یہاں تک کہ ان کی ضمانت بھی ہوچکی ہے) صرف اس وجہ سے کہ پرنسپل کے بڑے رابطے ہیں اور بااثر شخصیات اور افسران سے تعلقات ہیں ان کی محفلوں کا انتظام اور اہتمام کرنا اس بہترین کارکردگی ہے اور اس کے یہ تعلقات سارے معاملے کو متاثر کررہی ہے

Sadia Khalid

480,149 görüntüleme • 2 yıl önce

حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے اس نوٹ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کو ایک ایسے احاطے میں رکھا گیا ہے جس میں سات کمرے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ سات کمرے کس مقصد کے لیے ہیں؟ یہ سات کمرے انہیں جیل کے دیگر قیدیوں سے الگ تھلگ رکھنے کے لیے ہیں۔ یعنی بنیادی طور پر ان کے اردگرد خالی کمروں کا ایک حصار بنا دیا گیا ہے تاکہ وہ جیل کے اندر کسی دوسرے شخص سے رابطہ نہ کر سکیں۔ وہ خود صرف ایک کمرے میں رہ رہے ہیں، جس کا سائز آٹھ فٹ ضرب دس فٹ ہے، اور ان کے پاس بس یہی جگہ ہے۔ اب انہوں نے سلمان صفدر اور ان لوگوں کو، جنہوں نے حال ہی میں ان سے ملاقات کی ہے، بتایا ہے کہ ان کی قید کے حالات مزید خراب کر دیے گئے ہیں۔ 18 اگست 2026 کے بعد بہنوں کے ساتھ ہونے والی تین ملاقاتوں کے دوران بھی یہی بات سامنے آئی۔ جیل میں ایک قیدی کو عام طور پر طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک اپنی کوٹھڑی سے باہر رہنے کی اجازت ہوتی ہے،عمران خان کو یہ اجازت نہیں دی جاتی۔ انہیں جیل کے احاطے میں چلنے پھرنے کا وہ معمول کا حق بھی نہیں دیا جاتا جو ایک قیدی کو حاصل ہوتا ہے۔ لہٰذا انہیں ان سات کمروں تک محدود کر دیا گیا ہے، اور یہ سات کمرے درحقیقت ان کے لیے ایک بڑی کوٹھڑی کا کام کر رہے ہیں، جس کا مقصد انہیں اڈیالہ جیل کے دیگر قیدیوں سے الگ تھلگ رکھنا ہے۔ اس سے ان کی تنہائی مزید گہری ہو جاتی ہے۔یہ انہیں دی جانے والی کوئی سہولت نہیں ہے۔حقیقت میں یہ ان پر عائد کی جانے والی ایک مزید غیر قانونی سزا ہے۔ سلمان اکرم راجہ

PTI

138,311 görüntüleme • 29 gün önce

گوادر میں فوج کے ہاتھوں اپنے ہی اہلکار قتل | ✅ گوادر میں ہلاک ہونے والے دو مسلح افراد کے معاملے میں ڈرامائی موڑ ، پاکستانی ملٹری انیلیجنس (MI) نے اپنے ہی ایجنٹوں کو گرفتار کرنے کے بعد تعش میں آکر قتل کردیا اصل واقعہ: گزشتہ روز گوادر پولیس نے دو زیرِ حراست افراد، عدنان اور عبداللہ، کو ہلاک کر دیا۔ پولیس کے مطابق دونوں ملزمان کی نشاندہی پر ایک روز قبل پولیس سے چھینا گیا سرکاری اسلحہ برآمد کرنے کے لیے کارروائی کی گئی، جہاں مبینہ طور پر مسلح افراد نے پولیس پر فائرنگ کی، جس کے جواب میں پولیس نے فائرنگ کی۔ تاہم، دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ حقائق اس سرکاری مؤقف سے مختلف ہیں۔ ذرائع کے مطابق، عدنان اور عبداللہ دونوں مبینہ طور پر پاکستانی فوج کے ملٹری انٹیلیجنس (MI) سے وابستہ ایجنٹ تھے۔ ہلاک ہونے والے عبداللہ کا بھائی، فاروق، گوادر میں ایک مسلح گروہ کی سربراہی کرتا ہے، جسے مقامی سطح پر "ڈیتھ اسکواڈ" کہا جاتا ہے۔ فاروق اور اس کا گروہ پاکستانی فوج کی معاونت کرتے ہوئے گھروں پر چھاپوں، جبری گمشدگیوں اور دیگر کارروائیوں میں کردار ادا کرتا رہا ہے، جبکہ عدنان اور عبداللہ بھی ان سرگرمیوں میں شامل رہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق، دونوں افراد نے اپنی موٹر سائیکل ضبط کیے جانے کے ردعمل میں پولیس کا سرکاری اسلحہ چھین کر اپنے ٹھکانے پر منتقل کر دیا تھا۔ بعد ازاں، مبینہ طور پر اسلحے میں موجود ٹریکنگ چپ کی مدد سے اسی رات ان کے ٹھکانے پر چھاپہ مارا گیا، دونوں افراد کو گرفتار کر لیا گیا، جبکہ اسلحہ ٹھکانے کی چھت سے برآمد کیا گیا۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ جیونی میں ہونے والے حملے کے بعد پاکستانی خفیہ اداروں نے غصے میں آ کر اپنے ہی دونوں مبینہ ایجنٹوں کو پولیس کے ذریعے ایک ڈرامائی مقابلے کی صورت میں فائرنگ کروا کر ہلاک کر دیا #Balochistan #BalochistanFacts

Balochistan Facts

42,834 görüntüleme • 2 ay önce

یہ بلوچ عورت، جس کے ہاتھوں پر نیل اور زخم اب بھی موجود ہیں، اس وقت ریاستی تشدد کا نشانہ بنی جب سی ٹی ڈی (کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ) کے اہلکاروں نے اس کے بھائی صادق بلوچ کو زبردستی کراچی کی ایک گلی سے اٹھا کر طور پر جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ بہن نے اپنے بھائی کو بچانے کے لیے اہلکاروں کے سامنے کھڑے ہو کر مزاحمت کی، چیخ و پکار کی اور انہیں روکا کہ وہ اس کے بھائی کو غیرقانونی طور پر نہ لے جائیں۔ لیکن اس کے جواب میں ان اہلکاروں نے، لاٹھیاں اور ڈنڈے برسائے اور ایک نہتی عورت کو زخمی کر دیا۔ یہ منظر بلوچستان کے ان سینکڑوں گھروں کی ہے جہاں مائیں، بہنیں اور بیٹیاں اپنے پیاروں کو بچانے کے لیے ریاستی طاقت کے سامنے ڈٹ جاتی ہیں، مگر بدلے میں صرف تشدد اور زخم پاتی ہیں۔ صادق بلوچ کی بہن پر کیا جانے والا یہ تشدد اس وسیع تر ریاستی جبر کی نمائندگی کرتا ہے جو بلوچوں پر روزانہ ڈھایا جا رہا ہے۔ ہزاروں نوجوانوں کو بغیر کسی مقدمے کے اغوا کر کے غائب کر دیا جاتا ہے۔ اکثر تو ان کی واپسی کی کوئی خبر بھی نہیں آتی، اور اگر آتی ہے تو وہ مسخ شدہ لاشوں کی صورت میں۔ اس واقعے کی ایک اور سنگین پہلو یہ ہے کہ کیمروں کے سامنے ہونے والی یہ بربریت ریکارڈ بھی ہو گئی ورنہ بلوچستان کی پہاڑیوں اور دور دراز دیہاتوں میں ہونے والا تشدد تو دنیا کی آنکھ سے بالکل اوجھل رہتا ہے۔ انہی چند ریکارڈ ہونے والے واقعات کی بنیاد پر ہم یہ سوال اٹھاتے ہیں: جب ریاست خود اپنے شہریوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کرے، ان کے خاندانوں کو یرغمال بنائے اور ان کی عورتوں کو سڑکوں پر پیٹے، تو آخر بلوچ اپنے زخم کہاں لے کر جائیں؟ ریاست الزام لگاتی ہے کہ بلوچ ریاست مخالف ہیں، لیکن یہ سوال کوئی اٹھائے کہ ایک قوم جو نسلوں سے لاشیں دفناتی آئی ہو، جس کے نوجوان مسلسل اٹھائے جا رہے ہوں، جس کی عورتیں لاٹھیوں سے پیٹی جا رہی ہوں، وہ آخر کیسے خاموش رہ سکتی ہے؟

Sammi Deen Baloch

28,896 görüntüleme • 1 yıl önce

آج سے ٹھیک 44 سال پہلے، فروری 1982 میں، اسرائیل کے ایک عبرانی جریدے "کیوونیم" میں ایک مقالہ شائع ہوا تھا۔ لکھنے والا کوئی عام آدمی نہیں تھا، بلکہ اسرائیل کی وزارتِ خارجہ کا ایک سابق سینیئر اہلکار اور سٹریٹجک تجزیہ کار تھا۔ اس کا نام تھا اووڈ نیون (Oded Yinon)۔ اس مقالے کا عنوان تھا: "1980 کی دہائی میں اسرائیل کے لیے ایک حکمتِ عملی"۔ دنیا آج اسے "ینون پلان" کے نام سے جانتی ہے۔ اس منصوبے کا لبِ لباب صرف ایک تھا: "اگر اسرائیل کو مشرقِ وسطیٰ پر ہمیشہ کے لیے حکمرانی کرنی ہے، تو اسے اپنے اردگرد موجود تمام عرب ممالک کو نسلی، لسانی اور مسلکی بنیادوں پر ٹکڑے ٹکڑے کرنا ہو گا تاکہ 'گریٹر اسرائیل' کا خواب پورا ہو سکے" ۔اووڈ نیون کا استدلال بڑا سادہ لیکن ہولناک تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ پہلی جنگِ عظیم کے بعد برطانیہ اور فرانس نے "سائکس-پیکو معاہدے" کے تحت جو عرب دنیا بنائی، وہ ریت کی دیوار ہے۔ یہ ممالک اندر سے کھوکھلے ہیں کیونکہ ان میں مختلف مسالک، نسلیں اور قومیتیں زبردستی ایک سرحد کے اندر بند کر دی گئی ہیں۔ نیون نے لکھا کہ اسرائیل کا اصل ہدف یہ ہونا چاہیے کہ وہ ان اندرونی دراڑوں کو اتنی ہوا دے کہ یہ ممالک خود اپنے ہی اندرونی خلفشار سے تباہ ہو جائیں۔اس نے باقاعدہ ایک ایک ملک کا نام لے کر خاکہ پیش کیا۔ اس نے لکھا کہ عراق اسرائیل کے لیے سب سے بڑا فوجی خطرہ ہے، لہٰذا اس کے تین ٹکڑے کر دیے جائیں: شمال میں کُردوں کی الگ ریاست، وسط میں سنیوں کا علاقہ، اور جنوب میں شیعہ ریاست۔ اس نے لکھا کہ شام کو اس کی علوی، دروز اور سنی آبادی کی بنیاد پر چھوٹی چھوٹی کمزور ریاستوں میں بانٹ دیا جائے۔ اس نے لبنان کے بکھراؤ کی بات کی اور مصر کی معیشت کو اس حد تک توڑنے کی تجویز دی کہ وہ کبھی جزیرہ نما سینا پر اپنا حق نہ جتا سکے۔ آج 2026 میں، اگر ہم مشرقِ وسطیٰ کے نقشے پر نظر ڈالیں، تو کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ اووڈ نیون نے 1982 میں جو کچھ کاغذ پر لکھا تھا، وہ آج ہمارے سامنے حقیقت بن کر ناچ رہا ہے۔ صدام حسین کا وہ طاقتور عراق کہاں گیا؟ آج وہ عملی طور پر تین حصوں میں بٹ چکا ہے۔ شام کا کیا حشر ہوا؟ پچھلے پندرہ سالوں سے جاری خانہ جنگی نے شام کو کھنڈر بنا دیا اور وہاں مختلف نسلی گروہ اپنی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ لیبیا، یمن اور لبنان کی صورتحال دیکھ لیں۔ کیا یہ سب کچھ اتفاقیہ ہے؟ جی نہیں! یہ اسی ینون پلان کی حرف بہ حرف تعمیل ہے جس پر مغربی طاقتوں اور اسرائیل نے مل کر کام کیا۔ عرب دنیا کا سب سے بڑا المیہ یہ رہا کہ انہوں نے کبھی اپنے دشمن کی سوچ کو پڑھنے کی زحمت ہی نہیں کی ۔ جب اسرائیل کے معروف دانشور اسرائیل شاہاک نے اس منصوبے کا انگریزی ترجمہ کر کے دنیا کے سامنے رکھا، تو عرب حکمرانوں نے اسے محض ایک "خیالی پلاؤ" کہہ کر مسترد کر دیا آج عرب دنیا کی آپسی نااتفاقی اس بات کا ثبوت ہے کہ دشمن اپنی سٹریٹجی میں کامیاب ہو چکا ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو مسلمانوں سے لڑا کر، شیعہ سنی کی خلیج کو وسیع کر کے، اور نسلی تعصبات کو ابھار کر پورا خطہ بارود کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر اسرائیل کی سٹریٹجی کو ناکام کرنے اور عرب دنیا کو متحد کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا یہی وجہ ہے کہ یہودیوں کے لیے کانٹا ہے

حِجاب رندھاوا H.R

36,140 görüntüleme • 10 gün önce