Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

بن گیا ایں غدار جرنیلا دہشت تیرا ہتھیار جرنیلا لٹی جا تے کھائی جا پر اپنے بچے تے نہ مار جرنیلا ساڈا ٹائم اے آون والا توں ایہہ کج دن بس گزار جرنیلا

109,401 просмотров • 2 лет назад •via X (Twitter)

Комментарии: 10

Фото профиля Mariam Warraich 💝✌🏻
Mariam Warraich 💝✌🏻2 лет назад

اللہ پاک نے آپ کو ایک سنہری موقع دینا ہے الیکشن میں ووٹ ڈالنے کا ۔۔۔۔۔۔۔ یہ جو پاکستان میں قبضہ گروپ 75 سالوں سے پاکستان کو لوٹا رہا ہے ان سے اپنے ملک کو چھڑوانے کا ۔۔۔۔۔۔ خان صاحب کی الیکشن کے حوالے سے زبردست بات

Фото профиля ماہی✨
ماہی✨2 лет назад

عمران خان تو آئے گے ۔۔ان شاء اللہ

Фото профиля MaSoom KaShiF
MaSoom KaShiF2 лет назад

چپ کر کے اسکو ریپوسٹ کرتے جاؤ بس ✊ پھیلاؤ ہر طرف

Фото профиля ماہی✨
ماہی✨2 лет назад

اللہ آپ کی اس مسکراہٹ کو سلامت رکھے آمین ❤♥️

Фото профиля ماہی✨
ماہی✨2 лет назад

زندگی موت اللہ کے ہاتھ میں ہے عزت اور ذلت اللہ کے ہاتھ میں ہے عمران خان 🔥

Фото профиля Mariam Warraich 💝✌🏻
Mariam Warraich 💝✌🏻2 лет назад

زبردست عادل سر لٹی جا تے کھائی جا پر اپنے بچے تے نا مار جرنیلا بہت زبردست بات کی ہے آپ نے سر 🫡🫡🫡

Фото профиля Jalil Afridi
Jalil Afridi2 лет назад

Raja ji, apna mulk hai, apnai gernail hain, q apnai app to roz galian detai hain?? Koi or gham ya khushi nahe dunya mai? Kindly share some other things as well please, which has some positive energy or good things to learn. 🙏

Фото профиля Adil Raja
Adil Raja2 лет назад

جلیل لالہ میٹھی گولیاں کھانے اور کھلانے کا وقت گزر گیا ہے۔ اب کڑوا کریلا بنے بغیر گزارا نہیں۔ سب اچھا نہیں ہے سر۔ اور جو ملک میں ہورہا ہے، اس کی ذمہ داری اگر جرنیلوں کی نہیں تو اور کس کی ہے۔ اور اگر نہیں ہے تو انہیں سب کا ماما بننے کا اتنا شوق کیوں ہے، کیوں نہیں بند کرتے بنڈ پنگے لینے؟ ان حالات میں بندہ گالی نا نکالے تو کیا پپیاں دے انکو۔ عجیب بات کرتے ہو لالہ!!

Фото профиля خوشی
خوشی2 лет назад

ن لیگ سے لاکھ اختلاف سہی لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اگر انہوں نے عوام کو تعلیم سے دور رکھا تو نزدیک خود بھی نہیں گئے 😜 عمران خان صاحب نے صحیح کہا تھا. ایک تو یہ لوگ پڑھے لکھے نہیں ۔۔۔۔ دوسرا یہ لوگ کوشش بھی نہیں کرتے 😎

Фото профиля MaSoom KaShiF
MaSoom KaShiF2 лет назад

چپ کر کے اسکو ریپوسٹ کرتے جاؤ بس ✊ پھیلاؤ ہر طرف

Похожие видео

مرزا غالب کی فارسی کی وہ غزل جس کا صوفی تبسم نے منظوم پنجابی ترجمہ کیا اور ایسا شاہکار ترجمہ کیا کہ وہ غزل لوگوں کو ازبر ہو گئی، اور استاد غلام علی کی کی گائگی نے اسے امر کر دیا ♥️ اردو ترجمہ حمید یزدانی نے کیا ہے اس غزل کا پروفیسر رالف رسل نے انگلش میں بھی ترجمہ کیا۔ فارسی غزل کا منظوم پنجابی ترجمہ اور حمید یزدانی کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے فارسی : زمن گَرَت نہ بُوَد باور انتظار بیا بہانہ جوئے مباش و ستیزہ کار بیا پنجابی ترجمہ : میرے شوق دا نہیں اعتبار تینوں، آ جا ویکھ میرا انتظار آ جا اینوں لڑن بہانڑے لبھنا ایں، کیہ توں سوچنا ایں سِتمگار آ جا اردو ترجمہ : میں تیرے انتظار میں ہوں، اگر تجھے اس کا یقین نہیں ہے تو آ اور دیکھ لے۔ اس ضمن میں بہانے مت تلاش کر، بے شک لڑنے جھگڑنے کا طور اپنا کر آ۔ فارسی : وداع و وصل جداگانہ لذّتے دارَد ہزار بار بَرَو، صد ہزار بار بیا پنجابی : بھانویں ہجر تے بھانویں وصال ہووے ،وکھو وکھ دوہاں دیاں لذتاں نیں میرے سوہنیا جا ہزار واری ،آ جا پیاریا تے لکھ وار آجا اردو : فراق اور وصل دونوں میں اپنی اپنی ایک لذت ہے، تو ہزار بار جا اور لاکھ بار آ۔ فارسی : رواجِ صومعہ ہستیست، زینہار مَرَو متاعِ میکدہ مستیست، ہوشیار بیا پنجابی : ایہہ رواج اے مسجداں مندراں دا ،اوتھے ہستیاں تے خود پرستیاں نیں میخانے وِچ مستیاں ای مستیاں نیں، ہوش کر، بن کے ہُشیار آ جا اردو : خانقاہوں میں غرور و تکبر کا رواج ہے، دیکھیو ادھر مت جائیو، جبکہ میکدہ کی دولت و سرمایہ مستی ہے، وہاں ذرا چوکنا ہو کر آجا۔ فارسی : تو طفل سادہ دل و ہمنشیں بد آموزست جنازہ گر نہ تواں دید بر مزار بیا پنجابی : تُوں سادہ تے تیرا دل سادہ، تینوں اینویں رقیب کُراہ پایا جے تُوں میرے جنازے تے نہیں آیا، راہ تکدا تری مزار، آ جا اردو : تو ایک بھولے بھالے بچے کی طرح ہے اور رقیب تجھے الٹی سیدھی پٹیاں پڑھا رہا ہے، سو اگر تو ہمارا جنازہ نہیں دیکھ سکا تو کم از کم ہمارے مزار پر ہی آ جا۔ فارسی : حصار عافیَتے گر ہوس کُنی غالب چو ما بہ حلقۂ رندانِ خاکسار بیا پنجابی: سُکھیں وسنا جے تُوں چاہو نا ایں میرے غالبا ایس جہان اندر آجا رنداں دی بزم وِچ آ بہہ جا، ایتھے بیٹھ دے نیں خاکسار آ جا اردو : اے غالب اگر تجھے کسی عافیت کے قلعے کی خواہش ہے تو ہماری طرح رندانِ خاکسار کے حلقہ میں آ جا۔ منقول

اردو ورثہ

28,045 просмотров • 8 месяцев назад

مان نے واجد کے گھر جا کر بس اتنا بولا میری بیٹی کی کل شادی ہے۔ اور ہمارے گھر آٹا بھئ نہین ہے ۔ بیٹی کی رخصتی پر دینے کو کھانا یا جلیبی تو بس ایک خواہش ہی رہ جائے گی ۔ واجد کا فون ایا کل رات 10 بجے کے بعد مہر جی عورت دروازے پر کھڑی ہے ۔ مین نے بولا حقدار ہیں ۔ بولا ہان یہ کنفرم ہے 30 سال سے جانتا ہون اس خاندان کو۔ ساتھ والے گاون کے ہین رات کی تاریکی مین آئے ہین تاکہ کسی کو خبر نہ ہو۔ تو اس گھر رات کو ہی واجد کی طرف ہر وقت رکھے ہوئے دو ایکسٹرا خریدے ہوئے جہیزون مین سے ایک واجد جا کر ان کے گھر چھوڑ آیا۔ ماں باپ نے جیسی دعائین دین بس عرش والا قبول فرمائے ۔ ۔۔۔۔۔۔ کھانا چیک کیا خود بہت مزے کا تھا ۔ دوپہر کے چند پل جتنے سکون سے گزرے ۔ شام کو وڈیوز پہنچنے پر کہاں کہاں چرکے لگے سینے مین یہ رب ہی جانتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔ کھانا دن کو ان تک پہنچا دیا ٹینٹ لگوا دئیے تھے صبح واجد نے ۔ جا کر ان کے گھر ۔ کسی گھر کے فرد کی تصویر مردوں مین سے بھی بنانا ممکن نہین تھی ۔ ۔۔۔۔۔۔ عزت بچا کر بیٹی کو رخصت کرنا کتنا مشکل ہو چکا ہے ۔ جس نے دروازے پر ا کر صدا لگا دی اس کو خالی لوٹانا ظلم ہوتا ہے ۔ تمام کام احسن طریقہ سے طے پا گئے ۔ ۔ رب کعبہ ہم سب کو ہمت اور عزت عطا فرمائے احسن عمل کی ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔ میرا دل بیٹھ گیا اس وڈیو کو دیکھنے کے بعد جب دلہن کے کپڑے مجھے نظر آئے ۔ بچی نے دلہن بن کر بھی دلہن والا کچھ نہین پہن رکھا تھا۔ میرا دم گھٹ گیا۔ سانس رک گی۔ واجد کو کال کی پوچھا تو پتا چلا باپ نے منع کیا تھا کے کپڑے نہ بنا سکا ہون نہ مانگ کر پہناون گا۔ ۔ ۔ کبھی کبھی چیخیں مار کر رونے کو دل کرتا ہے ۔ ایسے معاشرے مین ایسے فرشتے سفید پوش افراد بھی موجود ہین ۔ ۔ ۔ جن کی ایسے حالات مین بھی بس نہین ہوتی ۔ #SaqibAllyana

Saqib Allyana

61,294 просмотров • 26 дней назад

تکبر کی بلند چوٹی پر بیٹھ کر اس شخص نے نہ صرف اپنے مخالفین کی پگڑیاں اچھالیں بلکہ ان کی کردار کشی کو سیاست کا ہتھیار بنایا۔ اُس تقریر کے بعد میں نے ایک دعا کے طور پر یہ الفاظ لکھے تھے کہ: “اے باری تعالیٰ! اگر میں نے اس ملک کے ساتھ خیانت کی ہے تو مجھے نیست و نابود کر دے، لیکن اگر مجھ پر بہتان باندھا گیا ہے تو بہتان تراش کو نشانِ عبرت بنا دے۔” میرا ایمان ہے کہ انصاف میں تاخیر ہو سکتی ہے، اندھیر نہیں۔ اللہ کی گرفت خاموش ضرور ہوتی ہے مگر بے آواز نہیں۔ مجھے جس کہنی پر پی ٹی آئی کے مذہب کارڈ کھیلنے کی بدولت گولی لگی، اُس کی دوسری سرجری کے صرف تین دن بعد ایک جھوٹے مقدمے میں گرفتار کیا گیا۔ ڈاکٹروں اور عدالت کے واضح احکامات کے باوجود مجھے فزیوتھراپی کی سہولت نہیں دی گئی۔ نتیجتاً میرا دایاں بازو مستقل طور پر متاثر ہو گیا۔ یہ محض جسمانی تکلیف نہیں تھی، یہ سیاسی انتقام کی ایک مثال تھی۔ آج وہ شخص جیل میں ہے مگر تمام سہولتوں کے ساتھ۔ میں اس پر خوشی نہیں مناتا، کیونکہ میرا مقدمہ کسی فرد سے نہیں، ایک سوچ سے ہے — تکبر، بہتان اور انتقام کی سیاست سے۔ وقت گواہ ہے کہ سچ کو دبایا جا سکتا ہے، مٹایا نہیں جا سکتا۔ اور جو لوگ کردار کشی کو سیاست سمجھتے ہیں، تاریخ انہیں عزت نہیں دیتی — عبرت دیتی ہے

Ahsan Iqbal

87,868 просмотров • 6 месяцев назад

اس بھائی کے کل رات 10/11 بجے تک ورثاء نہیں مل رہے تھے۔ وہ کہیں اور سے آیا تھا۔ مکان نہ ملا تو خاندان کو ایک دکان میں ٹھہرا دیا، کبل میں حجام کی ایک چھوٹی سی دکان۔ بچے رات کے کھانے پر منتظر تھے، لیکن ان کے بابا کا کچھ اتا پتا نہ تھا۔ رات دس بجے دو چھوٹے بچے والد کی تلاش میں کبل چوک نکلے۔ ہمارے ذمہ دار ساتھی ریاض خان سے ملاقات ہوئی تو انہیں نمبر دیا کہ ہمارے بابا کو فون ملا کر تلاش کرنے میں مدد کریں۔ ریاض خان نے نمبر ملایا، گھنٹی جا رہی تھی مگر کال نہ ملی۔ ریاض خان نے تسلی دلاسہ دیا۔ اسی اثنا میں اے سی کبل عائشہ ناصر صاحبہ نے تجویز دی کہ بچوں کو لے کر سیدو شریف ہسپتال چلتے ہیں، ممکن ہے وہاں ملاقات ہو جائے۔ وہاں پہنچے تو بچوں کی ملاقات مردہ خانے میں اپنے شہید باپ سے ہوئی۔ موقع پر کوئی دوسرا وارث موجود نہ تھا، یہ صدمہ دس سالہ بیٹے اور سات سالہ بیٹی کو خود ہی برداشت کرنا تھا ۔گھر میں بے بس والدہ اور یہ معصوم بچے۔۔۔ یہ صدمہ بہت ہی الگ نوعیت کا تھا۔ لاش کو آبائی گاؤں پہنچانے کا بندوبست کر دیا گیا، لیکن بچی کی وہ پکار کہ “میرے بابا کی دکان تو دور تھی، یہ کیسے ہوا؟” 😭🥲 کچھ سانحات پتھر کو موم بنا دے لیکن ظالم ظلم سے باز نہیں آتے

𝐌𝐨𝐡𝐬𝐢𝐧 𝐊𝐚𝐦𝐚𝐥

310,095 просмотров • 25 дней назад

یہ سین ہے کراچی کی یونیورسٹی روڈ کا جہاں گرین لائن بس کا منصوبہ گزشتہ چار سال سے انتہائی سست روی کیساتھ جاری ہے- چھ ماہ پہلے شرجیل میمن نے کہا تھا کہ اس منصوبے کی خاطر لوگوں کو دو سے ڈھائی سال مزید تکلیف برداشت کرنی پڑے گی- یہ تو اس نے اپنے منہ سے کہا لیکن حقیقتاً چار سے پانچ سال سے پہلے یہ منصوبہ مکمّل ہونے کے کوئی آثار نہیں- منصوبہ سندھ حکومت کی فنڈنگ کے علاوہ ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے لون اور گرین کلائمیٹ فنڈ کے تعاون سے بنایا جا رہا ہے- ہر منصوبے کی طرح یہاں بھی سندھ حکومت نہ صرف سست روی کا شکار ہے بلکہ Escalation clause کی آڑ لیکر ملائی چاٹنے میں بھی مصروف ہے- ہم تو تصور بھی نہیں کر سکتے کہ ایسا کوئی منصوبہ مکمّل ہونے میں سات سے آٹھ سال لگیں- لیکن کراچی والوں کی بدقسمتی کہ صوبائی حکومت کی نالائقی, نااہلی اور ہوشربا کرپشن پر انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں- الله تعالیٰ اہل کراچی پر اپنا خصوصی کرم فرمائیں (آمین) جیئے بھٹّو - لٹّو تے پھٹّو #موئن_جو_کراچی

Amir H. Qureshi

30,560 просмотров • 10 месяцев назад

“دہشت گردی پر خاموشی، ریاستی کارروائی پر سیاست” #دہشتگردی_پر_خاموشی #دہشتگردوں_کے_سیاسی_وکیل 📍دہشت گردی پر خاموشی اور آپریشن پر شور؛ یہی دوہرا معیار ہے۔ جب کوئٹہ میں ٹرین کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا، درجنوں معصوم جانیں گئیں، تو BNP قیادت کی فوری پریس کانفرنس، سخت مذمت اور عوامی احتجاج کہاں تھا؟ 24 مئی 2026 کو کوئٹہ کے قریب ٹرین پر خودکش حملے میں کم از کم 23 معصوم افراد شھید اور 70 سے زائد زخمی ہوئے، اور BLA نے ذمہ داری قبول کی۔ آپ کی زبان اُس وقت خاموش رہی۔ 📍جب ریاست دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے تو اسے “جبر” کہنا دراصل دہشت گردی کے بیانیے کو سیاسی کور دینا ہے۔ کوئی بھی سیاسی جماعت قانون سے بالاتر نہیں، اور کوئی بھی علاقہ دہشت گردوں کی پناہ گاہ نہیں بننے دیا جا سکتا۔ 📍سوال سیدھا ہے: BNP قیادت نے BLA کی دہشت گردی، ٹرین حملے، معصوم شہریوں کے قتل اور بلوچ خواتین و گھروں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی کھلی مذمت کیوں نہیں کی؟ خاموشی بھی ایک سیاسی مؤقف ہوتی ہے۔اور اس معاملے میں تو دھشت گردوں کی بھر پور حمایتی۔ 📍یہ بیانیہ کہ فورسز دہشت پھیلا رہی ہیں، اصل حقیقت کو چھپانے کی کوشش ہے۔ دہشت گرد جب گھروں، آبادیوں اور خواتین کو ڈھال بنا کر کارروائیاں کریں تو ریاست خاموش تماشائی نہیں رہ سکتی۔کینسر کا علاج گہرائی میں جائے بغیر نہیں ہو سکتا۔ اور دھشت گردی کے اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑنا نہایت ضروری۔ 📍کسی بھی شخص کے قانونی حقوق محفوظ ہیں، مگر قانون کے نام پر دہشت گردوں کو سہولت، پناہ یا سیاسی تحفظ نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت کا راستہ سب کے لیے موجود ہے، مگر آپریشن میں رکاوٹ ڈالنا ریاستی عمل میں مداخلت ہے۔ 📍بی این پی کو فیصلہ کرنا ہوگا: وہ دہشت گردی کے خلاف کھڑی ہے یا دہشت گردی کے خلاف ریاستی کارروائی کے خلاف؟ دونوں کشتیوں میں سفر اب نہیں چلے گا۔ 📍بی ایل اے ایک دہشت گرد تنظیم ہے جس نے ماضی میں بھی مسافروں، شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔ 2025 کے جعفر ایکسپریس حملے اور حال ہی میں کئے گئے ٹرین حملے میں مسافروں کو یرغمال بنایا گیا، اور حملہ آوروں نے خواتین اور بچوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا۔ اور آپ کی زبان اس پر خاموش ہے۔ 📍جو لوگ ہر آپریشن کو “چادر و چار دیواری” کا مسئلہ بنا دیتے ہیں، وہ پہلے یہ بتائیں کہ دہشت گردوں کو گھروں اور آبادیوں میں پناہ دینے کا حق کس آئین نے دیا ہے؟ چادر و چار دیواری کا احترام اپنی جگہ، مگر دہشت گردی کے لیے اس تقدس کو ڈھال بنانا ناقابل قبول ہے۔ 📍یہ پروپیگنڈا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف آپریشنز میں کسی قسم کی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ سیاسی قیادت، میڈیا اور شہریوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے، نہ کہ دہشت گردوں کے لیے ہمدردی کا ماحول بنایا جائے۔ 📍ریاست کا پیغام واضح ہے: بے گناہ شہریوں کا تحفظ، دہشت گردوں کا خاتمہ، اور قانون کی بالادستی۔ جو بھی شخص یا جماعت دہشت گردی کو سیاسی رنگ دے گی، اسے عوام کے سامنے جواب دینا ہوگا۔ 📍دہشت گردی پر خاموشی اور آپریشن پر چیخ و پکار؛ BNP کا یہ دوہرا معیار اب بے نقاب ہو چکا ہے۔ ریاستی رٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ 📌بلوچستان نیشنل پارٹی نے ایک بار پھر اپنا اصلی چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔ فورسز کے دہشت گردی مخالف آپریشن کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے ایک طویل بیان جاری کر کے ریاستی اداروں پر جھوٹے الزامات کی بوچھاڑ کر دی ہے۔ یہ بیان نہ صرف حقائق کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ ریاست، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہید جوانوں کے خون پر مبنی گھناؤنا پروپیگنڈا ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو علاقے کو دہشت گردوں کی پناہ گاہ بنائے ہوئے تھے۔ 📌 جب مشتبہ دہشت گرد گھروں کو ہتھیاروں کا ڈپو بنا لیتے ہیں اور فورسز پر حملہ کرتے ہیں تو فورسز ا کارروائی کرتی ہیں۔ لیکن بی این پی والوں کو یہ بات ہضم نہیں ہو رہی۔ ان کے نزدیک فورسز کا کام صرف خاموش بیٹھنا اور دہشت گردوں کو آزاد گھومنے دینا ہے۔ 📌احتجاج کے نام پر خواتین کو آگے کر کے مردوں کو پیچھے چھپانا ان کا پرانا طریقہ ہے۔ یہ لوگ امن کے نام پر دہشت گردی کی حمایت کر رہے ہیں۔ ایک طرف نوجوانوں کو گمراہ کر کے ہتھیار اٹھانے پر مجبور کرتے ہیں دوسری طرف جب فورسز انہیں ختم کرنے نکلتی ہے تو انسانی حقوق اور چادر و چار دیواری کا رونا روتے ہیں۔ 📌یہ ڈرامہ اب بہت ہو چکا۔بلوچستان کے غریب عوام ایک سال سے زیادہ عرصے سے انہی عناصر کی وجہ سے کرب میں ہیں۔ سڑکیں اڑ رہی ہیں، جوان شہید ہو رہے ہیں، ترقی رک گئی ہے۔ لیکن بی این پی والوں کو اس کی کوئی فکر نہیں۔ انہیں صرف اپنے سیاسی مفادات اور ریاست مخالف عناصر کی حفاظت کی فکر ہے۔ 📌بلوچستان نیشنل پارٹی اپنے قائد سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں ریاست کے خلاف زہر گھول رہی ہے۔

Dr. Saniya Salaar

10,464 просмотров • 2 месяцев назад

"گاڑی روک دی گئی۔ ہمارے ہی روڈ پر ہمارے غریب پشتون بھائیوں کو گاڑیوں سے اتار کر راستے میں قتل کر دیا جاتا ہے، لیکن کوئی اس پر سوال نہیں اٹھاتا۔ کوئی اور آواز اٹھائے نہ اٹھائے، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اپنے کارکنوں اور عوام کے تحفظ کے لیے کھڑی ہوگی اور اس ظلم پر سوال کرے گی۔ کیا ہم پشتون نہیں ہیں؟ کیا ہمارے بچوں کی کوئی قیمت نہیں کہ انہیں اس طرح گاڑیوں سے اتار کر مار دیا جائے؟ ​اس دن کچا گاؤں سے ایک خاندان روانہ ہوا، جس میں بچے، ماں اور دیگر خواتین شامل تھیں۔ بلوچستان کے علاقے 'چھاپ' میں سڑک پر پانچ چھ گاڑیاں کھڑی تھیں۔ یہ خاندان وہاں سے تیز رفتاری کے باعث بغیر رکے گزر رہا تھا کہ راستے میں ایک اور گاڑی نے ان کا راستہ روک کر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں 6 پشتون مارے گئے۔ انہوں نے خواتین سمیت سب کو گاڑی سے اتارا، ان کا سامان اور پیسے چھین لیے اور ہمارے کچھ لوگوں کی گاڑیاں بھی لے گئے۔ ​ہم بلوچ بھائیوں سے کہتے ہیں کہ 'بلوچ ماما!' آپ کے نام پر لوگ ہماری خواتین کو لوٹ رہے ہیں اور آپ کے علاقوں کے پاس ہماری گاڑیوں سے لوگوں کو اتارا جا رہا ہے۔ اس صورتحال پر غور کریں۔ اگر یہ کارروائیاں آپ کی طرف سے ہیں تو ہمیں بتا دیں، اور اگر آپ اس میں شامل نہیں ہیں تو معلوم کریں کہ آپ کے نام پر کون ہمارے بچوں کو مار رہا ہے اور تاوان کے لیے اغوا کر رہا ہے۔ ​بلوچ ماما! آپ اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں، شوق سے لڑیں، لیکن ہمارے گھروں کے سامنے ہمارے عزیزوں کو اس طرح نشانہ نہ بنائیں۔ جنگ کے وقت صرف باتیں نہیں چلتیں، بلکہ حوصلہ رکھنا پڑتا ہے۔ اگر میدانِ جنگ میں صفیں درست نہ ہوں اور دفاع کے لیے ہتھیار نہ ہوں، تو دشمن آپ کی جان لینے میں دیر نہیں کرے گا۔ ​اس لیے میرے ساتھ وعدہ کریں۔ میں قرآن کا بھاری واسطہ نہیں دوں گا، بس ایک عام وعدہ کریں کہ ہر گھر سے ایک مرد دیں تاکہ ہم اپنی حفاظت کے لیے ایک لشکر تیار کر سکیں۔ یہ لشکر کسی کو گالی دے گا نہ کسی پر ظلم کرے گا، ہم پاکستان کے قانون کے دائرے میں رہ کر اپنا دفاع کریں گے..." قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

51,044 просмотров • 3 месяцев назад

ترکی اور سعودی عرب کے ساتھ کیے گئے دفاعی معاہدے پر ڈیمانڈ کی جا رہی ہے کہ جھوم جاؤ ناچ جاؤ ورنہ آپ غدار ہو، یہ کس حد تک جائز ہے؟ آپ لوگوں کو گولیاں ماریں آپ لوگوں کو جبری طور پر لاپتہ کریں آپ پورا الیکشن چھین لیں آپ اپنا حلف توڑ دیں آپ آئین کی خلاف ورزی کریں اداروں کو یرغمال بنا لیں انسانی حقوق کی دھجیاں اڑا دیں دھشتگردی کو پاکستان میں سپانسر کر کے لائیں اور پھر بعد میں کہیں کہ ہمیں ایک کامیابی ملی ہے آپ سب مل کے ناچو اور جو نہیں ناچے گا وہ غدار ہے۔ ملک کے اپنے حالات یہ ہیں کہ بلوچستان جل رہا ہے حکومتی رٹ ختم ہے شاہراؤں پر دن دھاڑے قتل و غارتگری اور اغواء ہو رہے ہیں لوگوں کی جان و مال محفوظ نہیں ہے، خیبر پختونخواہ میں ڈرون حملوں سے معصوم بچے شہید ہو رہے ہیں مائیں، بہنیں شہید ہو رہی ہیں، آزاد کشمیر میں کشمیری کیا خوشی منائیں؟ 100 سے زائد نہتے اور معصوم کشمیریوں کے سینوں پر گولیاں مار کر شہید کر دیا گیا، یہاں سول سوسائٹی آواز اٹھاتی ہے اس کو اٹھا لیا جاتا ہے عدلیہ کو باندی بنا دیا گیا حق کی آواز اٹھانے والے صحافیوں کو اٹھا لیا جاتا ہے انٹرنیشنل میڈیا کی کوریج پر پابندی لگا دی گئی، پاکستانیوں کو ایک طرف دھشتگرد اور دوسری طرف اپنی ہی سیکیورٹی فورسز مار رہی ہیں پاکستانی قوم تو ایک چکی میں پسی ہوئی ہے مہنگائی، بیروزگاری اور معیشت تباہ ہے، پاکستانی کیا خوشی منائیں؟ عاصم منیر اور فوج کی سب سے اہم زمہ داری ہے کہ وہ پاکستانیوں کی حفاظت کریں پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت کریں پاکستان کا پانی انڈیا سے چھڑوائیں اور مقبوضہ کشمیر کو آزاد کشمیر بنائیں، یہ فوج کی سب سے اہم زمہ داری ہے جس کے وعدے 70 سالوں سے قوم سے کیئے ہوئے ہیں، ایک ایسا معاہدہ جس کے بارے میں ہم بلکل نہیں جانتے کہ اس کے اندر کیا لکھا ہوا ہے اس پر ہم کیا خوشی منائیں؟ ہم سے کیے ہوئے وعدے تو آج تک پورے نہیں ہوئے تو باقیوں کے ساتھ کیا ہوں گے۔ #KhanIllegallyJailed3Years #FascismUnderAsimLaw #PakistanUnderMartialLaw

Qasim Khan Suri

11,028 просмотров • 19 дней назад

بہت افسوس کی بات ہے کہ تین دن گزر گئے، مگر ہمارے علماء کرام شہید ہو رہے ہیں، ہمارے پولیس اہلکار شہید ہو رہے ہیں، ہمارے عام لوگ شہید ہو رہے ہیں، ہمارے سیاسی کارکن اور رہنما ٹارگٹ بن رہے ہیں۔ کسی بھی جماعت کا ایم این اے یا ایم پی اے اپنے حلقے میں آزادی سے نہیں گھوم سکتا۔ خیبر پختونخوا میں علماء کرام کو، جو مساجد میں یا مدارس میں تدریس کرتے ہیں، براہِ راست نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مجھے میڈیا کے بھائیوں اور ان کے مالکان سے بھی گلہ ہے۔ آپ کوکین بیچنے والی عورتوں کو تو ٹی وی پر بار بار دکھاتے ہیں، لیکن خیبر پختونخوا میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں اور علماء کرام کے لیے آپ نے کبھی پانچ منٹ بھی نہیں نکالے۔ بنوں میں آج بھی سیکیورٹی وین سے نو کروڑ روپے لوٹ لیے گئے۔ کل بازار میں پل اڑا دیا گیا۔ اس سے پہلے پورا پولیس اسٹیشن دھماکے سے اڑا دیا گیا، آرمرڈ گاڑی بھی تباہ ہوگئی، مگر کسی کو کوئی پرواہ نہیں۔ مجھے یہاں کوئی وفاقی وزیرِ داخلہ نظر نہیں آتا کہ میں اس سے سوال کروں۔ خواجہ صاحب ہمیں افغانستان کے قصے سناتے ہیں۔ میں کہتا ہوں، بسم اللہ، کارروائی کریں، آپ کو کس نے روکا ہے؟ جناب! ہمارے صوبے میں معدنیات ہیں، بجلی ہے، گیس ہے، تیل ہے، زمرد ہے، ریئر ارتھ منرلز ہیں، جن کے پیچھے امریکہ اور چین دونوں لگے ہوئے ہیں۔ سونا بھی ہمارے صوبے میں ہے۔ لیکن ہمیں جینے کا حق نہیں دیا جا رہا۔ ہمارے پولیس اہلکار شہادتیں دے رہے ہیں، مگر ان کی کوئی پرواہ نہیں کی جا رہی۔ ہم سب کو دھمکیاں مل رہی ہیں۔ علماء کرام محفوظ نہیں، اساتذہ محفوظ نہیں، کالج اور اسکول محفوظ نہیں، ڈاکٹر محفوظ نہیں۔ آخر ہم جائیں تو کہاں جائیں؟ خدارا! ہم پاکستانی ہیں، کسی دوسرے ملک کے نہیں۔ صرف اس لیے کہ ہمارا ڈومیسائل پنجاب کا نہیں، ہمیں تیسرے درجے کا شہری سمجھا جا رہا ہے۔ ہمارے صوبے میں سب کچھ ہے، مگر پھر بھی ہم ہر مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ اگر بھارت حملہ کرے تو سب سے پہلے پختون کھڑا ہوتا ہے۔ ہم اپنی افواج کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ آپ کا رویہ خیبر پختونخوا اور پختونوں کے ساتھ انتہائی غیر سنجیدہ ہے۔ یہ ملک کے خلاف سازش ہے۔ آئی ایم ایف، ورلڈ بینک یا بیرونی امداد کے نام پر جو پیسہ آیا، ہمیں بتایا جائے کہ وہ کہاں خرچ ہوا؟ ہمارے صوبے کو کیا ملا؟ نہ بجلی ملتی ہے، نہ گیس۔ جب ہم اٹک کراس کرتے ہیں تو ہماری تذلیل کی جاتی ہے۔ ایم این اے اور ان کی فیملیوں کو بھی روکا جاتا ہے۔ ہمیں تیسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے، جو بہت غلط ہے۔ خیبر پختونخوا کو کیوں تباہ کیا جا رہا ہے؟ ہمارے وسائل تو استعمال کیے جاتے ہیں، لیکن ہمیں امن نہیں دیا جاتا۔ اگر یہی صورتحال رہی تو کل پولیس بھی آپ سے دور ہو جائے گی۔ آپ کی سیاسی لڑائیوں کی سزا خیبر پختونخوا کے عوام اور پختونوں کو کیوں دی جا رہی ہے؟ خدارا! ہم پختونوں کا کوئی قصور نہیں۔ ہمیں جینے دو، ہمارے بچوں کو پڑھنے دو، ہمیں روزگار اور امن دو۔ ایم این اے نور عالم خان کا قومی اسمبلی میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

26,211 просмотров • 3 месяцев назад

امانت کی ادائیگی خاتون نے اسپتال میں ایک بچی کو جنم دیا، مگر نہ جانے کن مجبوریوں یا حالات کے باعث وہ اسے وہیں چھوڑ کر خاموشی سے نکل گئی۔ معصوم بچی کی صحت بھی خاصی ناگفتہ بہ تھی۔ چند روز تک اسپتال کا عملہ اس کی دیکھ بھال کرتا رہا۔ ڈاکٹر اس کا علاج کرتے اور ہر آنے والے دن یہ امید کی جاتی کہ شاید آج اس کے گھر والے آ جائیں گے۔ مگر دن ہفتوں میں، ہفتے مہینوں میں بدل گئے اور پھر پورے نو ماہ گزر گئے۔ اس ننھی جان کو لینے کوئی نہ آیا۔ یہ واقعہ سن 2001ء میں سعودی عرب کے جنوبی صوبۂ عسیر کے ضلع سراة عبیدہ میں واقع المستشفی العام یعنی جنرل اسپتال کا ہے۔ اس وقت اسپتال کے داخلی شعبے اور نرسنگ کے سربراہ سلطان القحطانی تھے۔ ان کی ذمہ داریوں میں ایسے نومولود بچوں کی دیکھ بھال بھی شامل تھی، جو مختلف وجوہات کی بنا پر اپنے خاندانوں سے محروم رہ جاتے تھے۔ ابتدا میں سلطان القحطانی بھی اسپتال کے دوسرے ملازمین کی طرح اس بچی کی نگہداشت کرتے رہے، لیکن آہستہ آہستہ اس معصوم چہرے نے ان کے دل میں گھر کر لیا۔ وہ روز اپنی ڈیوٹی کے اوقات سے پہلے اسپتال پہنچ جاتے، صرف اس لیے کہ کچھ دیر اس بچی کے ساتھ کھیل سکیں۔ اسے گود میں اٹھاتے، اس کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیرنے کی کوشش کرتے اور کبھی اسپتال کے صحن میں لے جاتے۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ ان کی گود میں آتے ہی بچی کا چہرہ کھل اٹھتا، مگر جیسے ہی اسے دوبارہ نرسری میں چھوڑا جاتا، وہ پھر بے چین اور اداس ہو جاتی۔ نو ماہ گزرنے کے بعد سلطان القحطانی نے محسوس کیا کہ مستقل تنہائی اس ننھی جان کی نفسیاتی کیفیت پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ وہ اسے چند گھنٹوں کے لیے اپنے گھر لے جانے لگے۔ گھر میں پہنچتے ہی بچی کا رویہ یکسر بدل جاتا، وہ پرسکون ہو جاتی، کھیلتی، مسکراتی اور گویا اسے اپنا کھویا ہوا گھر مل گیا ہو۔ لیکن اسپتال واپس آتے ہی وہ پھر خاموش اور مضطرب ہو جاتی۔ یہ دیکھ کر سلطان القحطانی سوچنے پر مجبور ہوئے۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے تمام قانونی مراحل مکمل کیے اور اس بچی کی کفالت اپنے ذمہ لے لی۔ اس کا نام سمیرہ رکھا اور اسے اپنے گھر لے آئے۔ سلطان القحطانی کی اہلیہ اور ان کے بچوں نے بھی اسے اسی محبت سے گلے لگایا، جیسے خاندان کے دوسرے بچوں کو۔ رضاعت کا شرعی پروسیس مکمل کرکے اسے اپنا لیا گیا۔ گھر میں کبھی اس کے ساتھ کوئی امتیاز نہیں برتا گیا، نہ اسے یہ احساس ہونے دیا گیا کہ وہ اس خاندان میں پیدا نہیں ہوئی۔ سلطان القحطانی کے بقول ان کی اہلیہ نے سمیرہ کی پرورش میں وہی محبت، شفقت اور قربانی دی جو ایک حقیقی ماں اپنی اولاد کے لیے دیتی ہے۔ برس گزرتے گئے۔ وہی بے سہارا بچی محبت بھرے ماحول میں پروان چڑھی، اسکول کی تعلیم مکمل کی، پھر اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور کنگ خالد یونیورسٹی سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کی۔ جس بچی کے لیے کبھی اسپتال کی نرسری ہی پوری دنیا تھی، اب وہ ایک دن یونیورسٹی کے اسٹیج پر ڈگری وصول کر رہی تھی۔ تقریب میں جب سمیرہ کا نام پکارا گیا اور وہ اسٹیج پر پہنچی تو سلطان القحطانی اپنی کیفیت پر قابو نہ رکھ سکے۔ انہوں نے بیٹی کو سینے سے لگا لیا اور زار و قطار رونے لگے۔ یہ منظر دیکھ کر تقریب میں موجود بہت سے لوگوں کی آنکھیں بھی نم ہوگئیں، جبکہ اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی اور لاکھوں افراد نے اسے باپ کی محبت کی لازوال مثال قرار دیا۔ بعد میں "صباح العربية" پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سلطان القحطانی نے اپنے آنسوؤں کی وجہ بیان کی۔ انہوں نے کہا: "میری خوشی کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ میں صرف یہ سوچ کر رو پڑا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اسے ہمارے نصیب میں نہ لکھا ہوتا تو آج شاید وہ اپنی گریجویشن کے دن بالکل تنہا کھڑی ہوتی، اس کی خوشی میں شریک ہونے والا کوئی نہ ہوتا۔ الحمدللہ، اللہ نے ہمیں اس کے ساتھ کھڑا ہونے کی سعادت عطا فرمائی۔" انہوں نے مزید کہا: "سمیرہ نے گزشتہ دو دہائیوں سے ہمارے گھر کو خوشیوں، سکون اور اطمینان سے بھر رکھا ہے۔ وہ میرے لیے اپنی دوسری اولاد ہی کی طرح ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ہماری زندگی میں ایک رحمت بنا کر بھیجا۔" سمیرہ بھی اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکی۔ اس نے کہا کہ اسے کبھی یہ احساس نہیں ہونے دیا گیا کہ وہ اس خاندان کا حصہ نہیں ہے۔ سلطان القحطانی اس کے لیے صرف ایک کفیل نہیں بلکہ حقیقی باپ ہیں، جنہوں نے اسے محبت، تعلیم، عزت اور ایک مکمل خاندان عطا کیا۔ یہ واقعہ سعودی عرب میں انسانیت کی ایک روشن مثال بن گیا۔ گریجویشن کی تقریب کے بعد ضلع سراة عبیدہ کے گورنر مسفر بن حامد الوادعی نے سلطان القحطانی، ان کی اہلیہ اور سمیرہ کو اپنے دفتر مدعو کیا اور ان کی سرکاری سطح پر عزت افزائی کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک خاندان کی کہانی نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک مثالی انسانی داستان ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ

Saeed Ullah Khan

44,758 просмотров • 24 дней назад

بلوچستان اور خیبر میں ہم کو بہت بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے ۔۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ریاست اور حکومت ایک پالیسی کے تحت ایک دفاعی جنگ اپنی سرحدوں کے اندر لڑنے کی کوشش کر رہے ہیں ‌۔۔۔ جبکہ پوری دنیا سے دہشت گردوں کی قیادت اور سپلائی لائن محفوظ ہے ‌۔‌ ہم زمین پر ان کے چند کتے مار بھی دیتے ہیں تو اس تحریک کو کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ اس کے پاس مزید ہزاروں کی تعداد میں دہشت گرد موجود ہیں اور ان کی سپلائی لائن افغانستان بھارت متحدہ عرب امارات، ایران اور اسرائیل کے ذریعے کھلی ہوئی ہے۔۔۔ ان کی قیادت یورپ میں محفوظ ہے۔ ہم کو اپنی سرحدوں سے باہر نکل کر دشمن پر ضرب لگانی ہوگی۔۔ ہم افغانستان میں جا کر چھوٹی موٹی بمباری کر دیتے ہیں مگر کام مکمل نہیں کرتے۔ لندن میں اور یورپ میں ان دہشت گردوں کی پوری قیادت کھل کر اس جنگ کی قیادت کر رہی ہے۔۔۔ ہم ان کو واپس کیوں نہیں لا سکے؟ کوئی سرکاری طور پر مطالبہ بھی نہیں کیا گیا برطانیہ سے اور سوٹزرلینڈ سے کہ اس قیادت کو ہمارے حوالے کیا جائے ‌۔۔ ہم نے بھارت کے اندر ابھی تک کیوں نہیں جواب دیا؟ خالصتان کی تحریک اور کشمیر کی تحریک ازادی کو کیوں نہیں بھڑکایا؟ افغان طالبان کی قیادت کو ابھی تک قتل کیوں نہیں کیا؟ افغان طالبان کے مخالف دھڑوں کی کھل کر حمایت کیوں نہیں کی؟ ان کو بلائیں اسلام اباد میں ان سے کہیں اپنا دفتر کھولو ہم کھل کر تمہاری مدد کریں گے۔۔ طالبان کو تو ویسے بھی دنیا میں کوئی پسند نہیں کرتا۔۔‌ ہم کلبوشن یادیو کو ابھی تک پنجرے میں بند کر کر چھپا کر کیوں رکھے ہوئے ہیں؟ دشمن کا اتنا بڑا مہرہ ہماری قید میں ہے اس کو ہم پوری دنیا کے سامنے تماشہ کیوں نہیں بناتے کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کروا رہا ہے؟ نہ ہم ابلاغی جنگ ٹھیک سے لڑ رہے ہیں۔۔ نہ ہم عسکری جنگ ٹھیک سے لڑ رہے ہیں۔۔ نہ ہم سیاسی جنگ ٹھیک سے لڑ رہے ہیں ‌۔۔ نہ کوئی ہمارا مرکزی لیڈر ہے جو سامنے ا کر ان دہشت گردوں کو جواب دے اور قومی بیانیہ بنائے۔۔۔ جبکہ فضلو جیسے حرام خور مسلسل ریاست اور فوج پر حملے کر رہے ہیں۔۔۔ اس جنگ میں اگر ہمارا نقصان ہو رہا ہے تو اپنی نااہلی کوتاہی غفلت اور خیانت کی وجہ سے۔۔۔ اس لیے نہیں کہ دشمن بہت ہوشیار ہے۔۔ اس لیے کہ اپنی صفوں میں غداری اور خیانت ہے۔ کوئی سیاستدان ذمہ داری لینا نہیں چاہتا مگر ملک پر حکمرانی کرنا چاہتا ہے۔۔ کیا زرداری نواز شریف یا کسی اور بڑے سیاستدان نے بی ایل اے اور جہنم کے کتوں کے خلاف سٹینڈ لیا؟ صرف ریاست اور فوج کو گالی دیں گے کہ پالیسی ٹھیک نہیں ہے۔۔ اس سے ان کا مطلب ہوتا ہے کہ ان جہنم کے کتوں اور دہشت گردوں کو معاف کر دیں اور ان کے خلاف اپریشن بن کر دیں۔ موجودہ پالیسی مکمل طور پر ناکام ہے۔ ہمیں جارحانہ انداز میں اگے بڑھ کر ہما جہتی پالسی بنانی ہوگی جیسا ہم بتا رہے ہیں ‌۔ بہت زیادہ عرصہ ہو گیا ہم کو ایک ہی غلطی دہراتے ہوئے اور یہ توقع کرتے ہوئے کہ نتیجہ اپ کی دفعہ مختلف نکلے گا۔۔۔ اسی کو پاگل پن کہتے ہیں۔ صرف اس سال کے چھ مہینوں میں سینکڑوں کی تعداد میں ہمارے افسر اور جوان شہید ہو چکے ہیں۔۔ اب چپ رہنے کا وقت نہیں ہے۔۔ مصلحت کا وقت نہیں ہے۔۔ زمین پر کتوں کے خلاف فوجی اپریشن کرنے سے یہ دہشت گردی ختم نہیں ہوگی۔۔۔ اپ کو بہت اوپر سے شروع کرنا پڑے گا۔۔۔ ان کے سیاسی سہولت کار ان کے میڈیا میں سہولت کار ان کے مولویوں میں سہولت کار ان کے عالمی دہشت گرد ریاستوں میں سہولت کار۔۔۔ ان سب کو تو ہم نے ہاتھ ہی نہیں ڈالا اب تک۔۔۔ صرف روز اپنے بیٹوں کی لاشیں اٹھاتے ہیں۔۔۔ اور لگتا ہے جیسے سب اس پر راضی ہیں۔۔ کیا فرق پڑتا ہے کہ ہزاروں شہید ہو گئے ہزاروں بچے یتیم ہو گئے ہزاروں عورتیں بیوہ ہو گئیں۔۔۔ جمہوریت تو چل رہی ہے۔ سیاست دانوں کے پیٹ تو بھر رہے ہیں۔۔۔ فضلو کو بھونکنے کی اجازت ہے۔۔اس کا مطلب ہے سب اچھا ہے۔ ☹️

اللہ کے بندے۔۔۔

15,381 просмотров • 1 месяц назад