Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

بچوں کا غصہ 🧨 یا ذہنی بیماری؟ سچ سامنے! بچوں میں بڑھتا ہوا غصہ، عدم برداشت، بدتمیزی، توڑ پھوڑ، اور نفسیاتی دورے… یہ سب صرف خراب رویے نہیں ہوتے—یہ چیخیں ہیں جو بچے لفظوں میں نہیں نکال پاتے۔ ان کا دل الجھا ہوا ہوتا ہے، سوچ بکھری ہوتی ہے،...

135,677 Aufrufe • vor 10 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

کون سا مذہبی یا سیاسی یا فوجی رہنما یہ حق رکھتا ہے کہ وہ غریب بچوں کو اُس جنگ میں دھکیل دے جس میں وہ خود جانے کی ہمت نہیں رکھتا؟ میں آپ سے سیدھی بات کروں گا: 1) مدرسے کے بچوں کو “وارث” بنانا دھوکا ہے، قیادت نہیں مدرسے کے بچے ریاستی سیکیورٹی فورسز نہیں ہوتے۔ وہ غریب گھرانوں کے وہ بچے ہیں جن کے پاس ⛔️تعلیم کا کوئی اور راستہ نہیں، ⛔️معاش کا کوئی ذریعہ نہیں، اور فیصلے کا اختیار بھی اکثر گھر والوں یا اساتذہ کے پاس ہوتا ہے۔ انہیں جنگ میں دھکیلنا استحصال ہے، جہاد نہیں۔ 2) اگر لڑائی واقعی “فرضِ عین” ہوتی تو… …پہلی صف طاہر اشرفی جیسے سرکاری مولویوں جیسے لوگوں کی بنتیں جو منبر پر کھڑے ہو کر جنگ کی بات کرتے ہیں۔ “مولانا صاحب، اپنی جان پیش کریں ➖️ غریبوں کے بچوں کی نہیں۔” ایک اصول دنیا بھر میں مانا جاتا ہے: جو شخص جنگ کا اعلان کرتا ہے، اسے خطرہ بھی خود اٹھانا چاہیے اور فرنٹ سے لیڈ کرنا چاہیے، ناکہ سرکاری مولوی ساتھ بٹھاکر بھاشن دینا چاہیے۔ 3) ریاست کے پاس پہلے سے تربیت یافتہ فوج موجود ہے پاکستان کی فوج، رینجرز، پولیس، اسپیشل فورسز ➖️ یہ وہ ادارے ہیں جنہیں جنگ، سیکیورٹی اور تشدد سے نمٹنے کی پروفیشنل تربیت ہوتی ہے اور تنخواہ و مراعات دی جاتی ہیں۔ مدرسے کے بچے سویلین ہیں، سپاہی نہیں۔ انہیں لڑائی میں استعمال کرنا نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ جرم سمجھا جاتا ہے ➖️ دنیا کے کسی مہذب ملک میں مذہبی طلبہ کو جنگ کے لیے نہیں بھیجا جاتا۔ 4) اصل مسئلہ غریبی ہے ➖️ اور یہی چیز مدارس کے بچوں اور عوام کے استحصال کو آسان بناتی ہے غریب والدین کے پاس طاقت نہیں کہ وہ اپنے بچے کو “نہ” کہہ سکیں۔ جو لوگ ان بچوں کو استعمال کرتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ •امیر خاندان کا بچہ کبھی بھی عاصم منیر کی جنگ میں نہیں بھیجا جائے گا۔ •مدرسے کا طالب علم ہی آسان ہدف ہے۔

Adil Raja

68,223 Aufrufe • vor 10 Monaten

کچھ لوگ کبھی یہ سوچتے ہوں گے کہ کافی عرصہ ہوگیا حقیقی آزادی کی جدوجہد کو مگر ابھی تک ملی نہیں۔ اگر آپ کبھی یہ سوچتے ہیں تو یہ وڈیو کلپ ضرور دیکھیں۔ جتنا بڑا خواب، اتنی زیادہ محنت درکار ہوتی ہے اور کامیاب وہ ہوتے ہیں جو ہار نہیں مانتے۔ یقین کریں کہ جتنی محنت آپ سب کر رہے ہیں، ہماری جیت کے بعد آپ کو شاید پھر بھی یہ ملال ہوگا کہ تھوڑا سا اور حصہ ڈالنا چاہیے تھا۔ ابھی جو زون میں ہیں ہم، وہ جیت کے بہت قریب ہے، یہ realize کرنا آسان نہیں کیونکہ ٹائم فریم کلئیر نہیں ہے لیکن جو فرسٹریشن آپ عسکری ٹاؤٹس کی دیکھ رہے ہیں (منیب فاروق کا”ایسی کی تیسی“ ریمارک، ڈی جی صاحب کا ”قبول نہیں“ ریمارک، اور اس کے بعد سوہیل آفریدی کا CM بننا،اور ڈی جی صاحب کا نوجوانوں کے ساتھ سمارٹ فون پر قبضہ کر کے خفیہ سیمینارز کرنا، اور پھر کچھ بہروپیوں کو نئی پاڑٹی بنانے کے لیے کام پر لگانا۔ یہ سب ان کی فرسٹریشن دکھاتا ہے۔ وہ کامیاب ہو نہیں سکتے کیونکہ عوام میں شعور بہت ہے، عمران خان بڑی لیڈ سے نوجوانوں کے دل جیت چکا ہے! یہ یقین رکھیں کہ جیت ہمارا مقدر ہے کیونکہ عمران خان نے کبھی ہار ماننی نہیں اور ہم نے اپنے کپتان کو کبھی اکیلا چھوڑنا نہیں۔ تب تک #ChallengeAccepted ہے انشاءاللہ!

Jibran Ilyas

43,291 Aufrufe • vor 11 Monaten

ایک ماہرنگ کو قید کیا ہے آج بلوچستان کا ہر فرد ہر عورت وہی بات کر رہی یے جو ماہرنگ کیا کرتی تھی ۔ آپ کیوں اتنے نااہل اور کمزور اور بذدل ریاست ہیں کہ ہر دوسرے دن آپکی عوام روڈوں پہ رل رہی ہوتی ہے لاشیں پڑی ہوئی ہوتی ہیں وہ رو رہے ہوتے ہیں،انصاف کی بھیک مانگ رہے ہوتے ہیں ۔ ان بچوں کو بچانا ریاست اور فوج کی ذمہ داری ہے ۔ اگر آپ ہمارے بچوں،ہمارے گھروں کو تحفظ نہیں دے سکتے تو پھر آپ یہ وردی پہننے کے حقدار بھی نہیں ہیں۔ جب تک آپ عوام کو تحفظ نہیں دے سکتے آپ کسی ٹائٹل حقدار نہیں ہیں یہ وردی اس بات کی گارنٹی ہے کہ آپکی عوام محفوظ ہے کیونکہ انکے پاس فوج ہے۔ اگر اس فوج اور ایف سی کے باوجود میرے جوان بچوں کے جنازے پڑے ہوئے ہیں تو یہ فوج یہ ایف سی کسی کام کے نہیں ۔ جب وہ چار تھے آپ نے انکو کیوں نہیں مارا؟ جب وہ چار سے بارہ ہوئی آپ نے انکو کیوں نہیں پکڑا؟ اب وہ بار سے چار سو ہو گئے ہیں ابھی بھی وہ بھاگ گئے ہیں۔ یہ آپشن کسی صورت میں قابل قبول نہیں ہے کہ آپ زمین چھوڑ کر چلے جاؤ۔اتنی ساری فوج ایف سی کس لیے ہے اگر وہ اس زمین کو محفوظ نہیں بنا سکتے۔ ہمارااپنی زمین پہ جینا حرام ہے۔ یہ ہجرت اور آپریشن والا آپشن ہی کیوں ہے ؟ آپکے پاس اس بات کی گارنٹی ہے کہ وہ دوبارہ نہیں آئیں گے ؟ اور وہ بول کے گئے ہیں کہ ہم دوبارہ آئیں گے انکی یہ اسٹمنٹ آپکی نااہلی ، نالائقی کے منہ پہ طمانچہ ہے ۔ اگر یہ آرمی جو ہمیں بلوچستان میں تحفظ نہیں دے سکتی وہ اس ملک میں کہیں بھی تحفظ نہیں دے سکتی ہم صرف آپ سے زندہ رہنے کا حق مانگ رہے ہیں ۔

Rodium-A

27,638 Aufrufe • vor 2 Monaten

پاکستان آرمی کا ایک افسر اپنے زخمی سپاہی کو کندھے پر اٹھا کر پہاڑوں سے نیچے لا رہا ہے۔ یہ صرف ایک ویڈیو نہیں، بلکہ اس رشتے کی عکاسی ہے جو پاکستانی فوج کے افسروں اور جوانوں کے درمیان قائم ہے۔ یہاں کوئی پنجابی، بلوچ، سندھی، کشمیری، پشتون یا گلگتی نہیں ہوتا، سب سے پہلے اور سب سے بڑھ کر سب پاکستانی ہوتے ہیں۔ ایک ہی وردی، ایک ہی پرچم اور ایک ہی مقصد انہیں ایک خاندان میں جوڑ دیتا ہے۔ پاکستان آرمی میں افسر صرف حکم دینے والا کمانڈر نہیں ہوتا، بلکہ اپنے جوانوں کا محافظ، رہنما اور مشکل وقت میں ان کا سب سے مضبوط سہارا بھی ہوتا ہے۔ یہاں ہر سپاہی کی جان قیمتی ہے، اور ہر افسر اپنے جوانوں کو اپنی ذمہ داری ہی نہیں بلکہ اپنے خاندان کا حصہ سمجھتا ہے۔ پاکستان آرمی میں افسر اپنے جوانوں کو ماتحت نہیں بلکہ اپنے بھائی سمجھتے ہیں۔ اسی لیے میدانِ جنگ ہو یا برف پوش پہاڑ، وہ اپنے سپاہیوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتے۔ یہ اعتماد، محبت اور قربانی کا وہ رشتہ ہے جو پاکستان آرمی کی اصل طاقت ہے۔ یہی جذبہ ہے جو ثابت کرتا ہے کہ پاکستان آرمی صرف ایک فوج نہیں، بلکہ پاکستان کے ہر رنگ، ہر زبان اور ہر قومیت کو جوڑنے والا ایک مضبوط خاندان ہے۔ 🇵🇰❤️

Pakistan Defence🇵🇰

14,923 Aufrufe • vor 3 Monaten

یہ لاہورئیے تو آزادی کے نام پر پاگل ہی ہو گئے ہیں اور گھر میں قید ہونے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ گلی محلے تو ایک طرف رہے پچھلے ڈیڑھ گھنٹے سے ڈیفنس سے گلبرگ مین بلیوارڈ پہنچنے کی کوشش کر رہا ہوں اور صرف لونڈے لپاڈے نہیں ہیں بلکہ فیملیز ہیں۔ خواتین اور بچوں کی سبز اور سفید کمبی نیشن میں ڈریسنگ دیکھنے والی ہے۔ اس بار آزادی کے جشن کا جوش زیادہ لگتا ہے۔ باقاعدہ میلے کا سماں ہے اور اس کی وجہ معرکہ حق کے میں بھارت کی شکست کے بعد مشترکہ دفاعی معاہدہ بھی ہو سکتا ہے کہ پاکستان پر مان بڑھا ہے، پاکستانیوں کی امید بڑھی ہے۔ بے شک یہ جشن اور یہ وارفتگی سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہے مگر ان کی موت ضرور ہے جو مایوسی، ناکامی، نفرت اور فساد کے بیوپاری ہیں۔ میں جن لوگوں کو دیکھ رہا ہوں وہ مایوس اور نامراد نہیں ہیں۔ جوش اور امنگ سے بھرے ہوئے ہیں۔ ان کے انداز میں کوئی معذرت خواہی نہیں ہے۔ آپ اسے ہلڑ بازی بھی کہہ سکتے ہیں اور جوش و خروش بھی۔ میرے ارد گرد گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کا سیلاب ہے۔ خصوصی ملبوسات ہیں، بڑے بڑے پرچم ہیں اور باجے بھی ہیں۔ یہ ایک زندہ قوم ہے۔

Najam Wali Khan

12,410 Aufrufe • vor 1 Monat

آج جو شریکِ جرم ہیں، کل کو وہی فریادی ہوئے تو ؟ ایک صوبے کا منتخب وزیراعلیٰ، اپنی پوری کابینہ اور ارکانِ پارلیمنٹ کے ساتھ، گزشتہ رات اڈیالہ جیل کے باہر سڑک پر کھڑا رہا، اور آج صبح سویرے سے سپریم کورٹ کے دروازے پر دھرنا دے کر بیٹھ گیا ہے، نہ اقتدار کی شان، نہ پروٹوکول کا غرور۔ اور اس لیے نہیں کہ اسے اقتدار چاہیے، اس لیے بھی نہیں کہ کوئی این آر او مانگ رہا ہے، بلکہ صرف ایک مطالبہ کہ جس شخص کے نام پر عوام نے ووٹ دیا، وہ اڈیالہ جیل میں قید ہے، 2 دسمبر کے بعد نہ اس سے ملاقات کرائی گئی، نہ اس کی خیریت کی خبر دی گئی۔ وہ ملاقات، جس کی اجازت آئین دیتا ہے، قانون دیتا ہے، جیل مینوئل دیتا ہے اور عدالتی فیصلے دیتے ہیں، وہ ملاقات چھین لی گئی، اور پھر ایک رات، خاموشی سے، اندھیرے میں، اسی قیدی کو پمز اسپتال منتقل کیا جاتا ہے، جزوی اینستھیزیا دیا جاتا ہے، سرجری ہوتی ہے اور پھر اسی خاموشی سے واپس جیل پہنچا دیا جاتا ہے، نہ خاندان کو بتایا جاتا ہے، نہ پارٹی کو، نہ قوم کو۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ غیر آئینی ہے کہ ایک منتخب وزیراعلیٰ اپنے لیڈر کی صحت پر سوال اٹھائے؟ کیا یہ غیر قانونی ہے کہ اس کے ذاتی معالجین کو مریض سے ملنے دیا جائے؟ کیا یہ جرم ہے کہ قوم کو بتایا جائے کہ جسے انہوں نے مینڈیٹ دیا، اس کی صحت کس حال میں ہے؟ جمہوریت، نیم جمہوریت یا ہائبرڈ نظام، دنیا کے کسی نظام میں ایسا نہیں ہوتا، ہاں بندوبستی نظام میں ایسا ضرور ہوتا ہے، جہاں آمریت نافذ ہوتی ہے، جہاں فیصلے آئین سے نہیں، طاقت سے ہوتے ہیں، جہاں عدالتیں، حکومتیں اور ادارے سب ایک ہی جگہ سجدہ ریز ہوتے ہیں، لہٰذا ایسے بندوبستی نظام سے کیا شکوہ، وہ قائم ہی اسی مقصد کے لیے کیا گیا ہے۔ لیکن سوال ان سیاسی جماعتوں، ان کے رہنماؤں اور کارکنوں سے ہے جن کی شراکت داری سے یہ بندوبستی نظام قائم ہے، انہیں سوچنا چاہیے کہ وقت کا پہیہ رکنے کا نام نہیں لیتا، آج آپ شریکِ جرم ہیں، کل اس کا شکار بھی ہو سکتے ہیں، پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان مار کھا کر بھی کھڑے ہیں، کیونکہ ان کے ساتھ عوام ہے، جو ٹوٹے نہیں، بکھرے نہیں۔ اگر خدا نہ کرے کہ کل یہی ظلم کسی اور جماعت، کسی اور لیڈر کے حصے میں آئے، تب نہ کندھا ملے گا، نہ ہمدردی، نہ آواز، کسی بھی معاشرے کے لیے اس سے زیادہ شرمناک لمحہ اور کوئی نہیں ہوتا کہ وہ ظلم کو دیکھے، سمجھے اور پھر بھی خاموش رہے۔

Waseem Malik

38,228 Aufrufe • vor 8 Monaten