Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

کون سا مذہبی یا سیاسی یا فوجی رہنما یہ حق رکھتا ہے کہ وہ غریب بچوں کو اُس جنگ میں دھکیل دے جس میں وہ خود جانے کی ہمت نہیں رکھتا؟ میں آپ سے سیدھی بات کروں گا: 1) مدرسے کے بچوں کو “وارث” بنانا دھوکا ہے، قیادت نہیں...

68,223 просмотров • 10 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 29

Фото профиля JustmeDa123£
JustmeDa123£10 месяцев назад

پاکستانی علماء سب سے بڑے منافق ثابت ہوں گے روز قیامت جو نقصان انہوں نے ذاتی مفادات میں اس دین کو پہنچایا وہ کافر بھی نہیں پہنچا سکے

Фото профиля Saboot
Saboot10 месяцев назад

🫵👨🏻‍🎨کیا یہ سچ نہیں کہ ڈیسیور عاصم منیر اپنی کُرسی اور ناجائز ایکسٹینشن کیلئے پاک فوجیوں کو مغربی سرحدوں، بلوچستان، اور بیرون ملک حرام موت مروا رہا ہے اور اندرون ملک اپنا عہدوفا اور حلف توڑ کر سیاسی جوڑ توڑ کرتا ہے، پاکستانیوں پر ظلم و ستم اور انکا قتل عام کرواتا ہے؟ 🫵👨🏻‍🎨 وردی والو #وردیاں_اُتارو_استعفے_دو_اور_دین_ایمان_بچاؤ ‼️ #27ویں_غیرآئینی_ترمیم_نامنظور @OfficialDGISPR @DG1SPR @IntelPk_ @DGISIofPakistan @DGPR_PAF @dgprPaknavy @PESS_Official @defence_pk @PakArmyDept @ISI_Agency_Pak @ForumStrategic @PakistanFauj @zarrar_11PK

Фото профиля Zia - 🇵🇸
Zia - 🇵🇸10 месяцев назад

اس دفعہ جب جنگ ہو گی تو اشرفی اور اس کے ساتھ والے تمام مولوی حضرات کو اگلی صفوں میں لانے کی زمہ داری انہی مدارس کے بچوں کی ہے اور انشاء اللہ وہ بچے اپنی یہ زمہ داری خوب نبھائیں گے......

Фото профиля kafkaesque
kafkaesque10 месяцев назад

پہلے بنڈیں مارنا بند کرو بچوں کی مادرچود مولوی پھر انکو محاز پر بھیجنا ۔۔ بھوسڑی کے منافق مولوی

Фото профиля @dr che
@dr che10 месяцев назад

سب سے بڑا رانگ نمبر یہ ملاں ہے UN میں اسرائیل کے حق میں ووٹ دیا اس پر کوئی بات نہیں کرے گا یہ معلون

Фото профиля EnslavedPakistan
EnslavedPakistan10 месяцев назад

آج تو آپ نے اس شرابی مولوی مذہبی درندے کے پہاڑوں کو درمیان سے رکھ کر چیر دیا۔ کوئی مہا جاہل ہی آپ سے اختلاف کرسکتا ہے۔

Фото профиля Atif Ashiq Djh
Atif Ashiq Djh10 месяцев назад

ملا گردی

Фото профиля ZA Sheikh 🇵🇸🤲
ZA Sheikh 🇵🇸🤲10 месяцев назад

یوسف علیہ سلام کے بھائیوں نے یعقوب علیہ سلام سے کہا تھا کے یوسف ع س کو بگیاڑ کھا کے خون ولا کرتا بھی دکھا دیا تھا پر جب بگھیاڑوں سے یعقوب ع س نے پوچھا تو انھوں نے 14صدی کے ملاؤں کی قسم کھائی تھی اگر ہم نےیوسف ع س کو کھایا ھو تو ان میں سے ھوں تو سمجھ لیں یہ کتنے گرے ھوۓ ملا ہیں

Фото профиля Moonlit night wolf
Moonlit night wolf10 месяцев назад

حب الوطنی کا مطلب پاکستان اور پاکستانیت سے محبت ہے۔ اسکا فوج سے یا فوجی جرنیلوں سے کوئی تعلق نہیں۔

Фото профиля Invincible
Invincible10 месяцев назад

بگھوڑے راجے کون سا ایسا چور ہے جس کے اپنے بچے باہر ملک حرام زدگی اور عیا شیوں میں مصروف اس کے سارے پالتو ۔۔۔۔اپنے بچوں سميت باہر بیٹھ کر بھونکتے ہوں اور غریب کے بچوں کو کہے سڑکوں پر نکلو میری رہائی کے لیے بیشک مرتے ہو تو مرو 🖐️🖐🖐️🖐️🖐️🖐️

Фото профиля benzene
benzene10 месяцев назад

@Taimur_Laal sir...

Фото профиля Intzar Butt
Intzar Butt10 месяцев назад

اسکو سب سے آگے کریں، کافی گولیاں غائر ہونگی دشمن کی

Фото профиля younes baloch
younes baloch10 месяцев назад

اس بیشرم سے کوئی کہہ دے پہلے اپنے گھر سے جہاد کرنا چاہئے۔ لہذا پہلے یہ اپنے بچوں کے ساتھ نکلے

Фото профиля Pakistan zindabad
Pakistan zindabad10 месяцев назад

ایسا سپہ سالار جو عورتیں کی عزتوں کا دشمن ہو۔۔عوام کا دشمن ہو۔۔ظالم ہو اس کے لیے بابے دا ٹھلو 🚀 جاتا ہے بارڈروں پر

Фото профиля Fara
Fara10 месяцев назад

جہالت اور منافقت کا قطب مینار 🤡

Фото профиля Nadir Khan
Nadir Khan10 месяцев назад

یہ بے غیرت وقت کا فرعون ہے جو لڑکوں کو ذبح کر دیتا ہے اور لڑکیوں کو زندہ رکھتا ہے یہ وہی کانسپٹ ہے بہت بڑا شیطان ہے یہ موٹے پیٹ والا

Фото профиля HJ Nasri
HJ Nasri10 месяцев назад

ye admi gand ka andha hai...

Фото профиля Bismil Afghan
Bismil Afghan10 месяцев назад

Double

Фото профиля Asad Malik
Asad Malik10 месяцев назад

#ذہنی_مریض_نامنظور

Фото профиля Khan jee
Khan jee10 месяцев назад

3 barway

Фото профиля Laiba Khan
Laiba Khan10 месяцев назад

Sab say phly khud jao .phr gharib k bachy ki brain washing krna

Фото профиля Adil Khan
Adil Khan10 месяцев назад

They need to facilitate those childrens with skillful education.

Фото профиля abdul mustaan qazi
abdul mustaan qazi10 месяцев назад

اس مولوی کا مثال اس کتے کی ہے جو ہر جگہ منہ مارتا ہے اس بے غیرت کی حیثیت کیا ہے

Фото профиля Raj Baloch
Raj Baloch10 месяцев назад

عادل بھائی پیٹ حرام سے بھرا پڑا ہیں ان منافقین کا

Фото профиля Laila Laila
Laila Laila10 месяцев назад

موٹے مولوی تیرے پیٹ کا ایندھن کب بھرے گا۔ مدرسے کے معصوم بچوں کا استحصال یہ موٹی توند والے ملا ہی کرتے ہیں ۔

Фото профиля atif sharief
atif sharief10 месяцев назад

دین کو دھندہ بنانے والے

Фото профиля Muhammad Zulfiqar
Muhammad Zulfiqar10 месяцев назад

ان تیس لاکھ میں کیا اشرفی صاحب کا بیٹا بھی شامل ھو گا آ پ لوگ صرف سیھڑی پر چڑھاتے اور سیھڑی کھنچ لیتے ھو

Фото профиля ꧁ ֆɨʀǟʝ ռǟɖɨʀ Ꮶɦǟռ ꧂
꧁ ֆɨʀǟʝ ռǟɖɨʀ Ꮶɦǟռ ꧂10 месяцев назад

Ku bahi tum jao border par haram hor

Фото профиля Muhammad
Muhammad10 месяцев назад

Haramzadaaaa Tahir Ashrafi Kanzeeer is a Munafaaaq Kutaaaaa even not seen by Allah .

Похожие видео

میرے خیال میں اب صورت حال وہ نہیں ہے اب امریکہ سپر طاقت نہیں رہا ہے، وہ اپنا ایک بھرم رکھنے کے لئے یہ سارا کچھ کر رہا ہے، بلکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شاید ٹرمپ اپنے ذاتی دفاع کیلئے یہ سب کچھ کر رہا ہے، امریکہ کی دفاع کیلئے بھی نہیں کر رہا اور وہاں پر اس وقت امریکہ کی عوامی تائید بھی اس وقت حاصل نہیں ہے، بڑا سوال یہ ہے کہ جس شخص نے الیکشن لڑا کہ دنیا سے جنگ ختم کروں گا اس نے اقتدار میں آ کر دنیا پر جنگ مسلط کر دی ہے یہ خود امریکیوں کے اور امریکی عوام کے نظر میں بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ سو اس وقت پوری دنیا ازسر نو سوچ رہی ہے اور ظاہر ہے سوویت یونین کی ٹوٹنے کے بعد ہم پہلے سے کہہ رہے ہیں کہ عالمی تبدیلی اور تغیرات آئیں گی سو اس وقت پوری دنیا امریکہ سے لے کر روس تک اور چین تک یہ عالمی تغیرات کی زد میں ہیں اور ہمیں خود بیٹھ کر خود اعتمادی کے ساتھ اپنے مستقبل کو خود تراشنا ہوگا۔ ہمیں یہی سوال ہے کہ اس وقت ثالثی کی باتیں بھی ہو رہی ہیں کیا پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ وہ ثالثی کر سکے اور شہباز شریف جیسے حکمران کے ٹویٹ پر ٹرمپ کا ٹویٹ آنا خود ٹرمپ کی کمزوری اور امریکی پالیسی کی کمزوری کی عکاس ہے۔ سو اس حوالے سے ہمیں سوچنا چاہیے۔ صحافی: کیا ہماری طاقت عکاس نہیں ہے؟ نہیں پاکستان بہرحال محاصرے میں ہے اور سوائے ثالثی کے کردار کے ہمارے پاس اور کون سا راستہ ہے؟ جب تک ہمارے دماغ سے یہ کیڑا نہیں نکلے گا کہ ہم نے افغانستان کو زیر نگیں رکھنا ہے اور افغانستان میں کوئی حکومت وہ ہماری مرضی کے بغیر نہیں چلے گی اس وقت تک معاملات ٹھیک نہیں ہو سکتے، ہمیں ایک آزاد افغانستان ایک صاحب استقلال افغانستان ایک خودمختار افغانستان اس پر توجہ رکھنی چاہیے اور ماضی کے جو ہمارے اس حوالے سے قربانیاں ہیں ان کو کسی ایک کامیاب نتائج تک ہمیں پہنچانا چاہیے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں سفارتی جو ہماری ستتر یا اٹھتر سالہ کوششیں ہیں وہ اب تک کیوں ناکام ہیں یہ مستقل ایک سوال ہے، یہ کافی نہیں ہے ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے اور ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے، مسئلہ یہ نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ کیوں نہیں مانتے، کیا ساری غلطیاں ستتر سال سے انہی کی طرف ہیں اور کیا ہمارے طرف بلکل کوئی غلطی نہیں ہے، یہ بھی ہمیں قومی سطح پر سوچنا چاہیے، افغانستان صرف حکومت کا نام نہیں ہے، افغانستان صرف وہاں امارت اسلامیہ کا نام نہیں ہے، افغانستان وہاں کے عوام کا بھی نام ہے، افغان قوم کا نام ہے، افغان قوم کے ہمارے ساتھ رشتے ہیں، ہمارے ساتھ ان کے تعلقات ہیں، ہمارے ساتھ ان کی برادریاں شریک ہیں اور ہمارے ساتھ ان کی معاشرت شریک ہے، ان تمام رشتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں افغانستان کے حوالے سے سوچنا چاہیے، یہ ہر وقت رجیم چینج اور رجیم چینج کے باتیں یہ شاید نہ ختم ہونے والا سلسلہ بنے، ہم نے ظاہر شاہ کے خلاف انقلاب کی حمایت کی، پھر اس کے بعد کمیونسٹ انقلاب آیا پھر ہم نے ان کے خلاف جہاد اس وقت ہم امریکہ جب آیا تو ہم بھی شامل ہو گئے، پھر وہی امریکہ تھا اس نے طرف تبدیل کر دیا تو مشرف کے زمانے میں ہم پھر امریکہ کی جنگ لڑ رہے تھے، آج ہم پھر ایک دفعہ امریکہ کی خواہشات کی مطابق، یہ کیسا امریکہ ہے کہ پاکستان کی اگر انڈیا سے لڑائی ہو تو کریڈٹ لیتا ہے کہ میں نے جنگ بند کرا دی اور اگر افغانستان کے ساتھ لڑائی ہو جائے تو کہتے ہیں پاکستان ٹھیک جا رہا ہے اس کو اور کرنا چاہیے۔ تو یہ چیزیں ان کی بدنیتی پر دلالت کرتی ہے اور ہمیں کسی کے ٹریپ میں نہیں آنا چاہیے وہ اب خود ٹریپ میں آ چکے ہیں، پھنسے ہوئے ہیں، مشکلات کے شکار ہیں اور وہ کامیابیاں حاصل نہیں کر پا رہے ہیں، پاکستان کو ہر قدم احتیاط سے اٹھانا چاہیے اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ دیکھیے سفارت کاریاں حکومتوں کا کام ہے، ریاستوں کا کام ہے، پارٹیوں کا کام نہیں ہوتا ہے، ہم پبلک ٹو پبلک ریلیشنز جو ہیں اس میں مدد دے سکتے ہیں، ہم سب مسلمان ہیں ہم سب بھائی بھائی ہیں ہم ایک دوسرے پر ڈیپنڈ کر رہے ہیں، لیکن عوام کی ضرورتوں اور خواہشات کو مد نظر رکھتے ہوئے ریاستیں فیصلہ کریں، بین الاقوامی قوتوں کے تابع فیصلہ نہ کریں، اپنے ملک کے عوام کے خواہشات اور ان کی ضرورتوں کے تابع فیصلے کریں۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی ڈیرہ اسماعیل خان میں گفتگو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,445 просмотров • 6 месяцев назад

اللہ کی فوج کے ساتھ لاکھ سپاہیوں سے دوسرا سوال: آپ کے ادارے کے سربراہ اس سدیوں میں پیدا ہونے والے لیڈر کو torture کر رہے ہیں۔ یہ وہ بندہ ہے جس سے آپ کے ملک کی پہچان ہے اور جب آپ یہ وڈیو دیکھیں گے تو مانیں گے کہ یہ سچ میں ہماری قوم کے غریبوں کے لیے درد رکھتا ہے! آپ سب فوج میں آکر شاید اپنے آپ کو عام پاکستانیوں سے الگ سمجھنے لگے ہیں، اس لیے شاید درد نہیں ہوتا آپ کے دل میں جب قوم کے لیڈر کو اس طرح ٹارچر کیا جارہا ہو ؛ آج آپ شاید محفوظ ہوں مگر یہ جو نانصافی اور ظلم ہے ، یہ آپ کے گھر تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ بس پوچھنا یہ تھا کہ ادارے کے بڑوں کو خط یا WhatsApp بھیجنے کی اجازت ہے؟ اور اگر ہے تو کچھ گلہ کیا یا پھر یہ سمجھانے کی کوشش کی اتنا ظلم بےگناہوں پر نہیں کرنا چاہیے؟ اور اگر نہیں ہمت ہوئی یہ سب کہنے کی تو کس منہ سے اپنے بچوں کو بہادری اور حق بات کرنا سکھائیں گے؟ بندوق استعمال کرلینا بہادری نہیں ہوتی، وہ تو جنگ کے کچھ دنوں میں چلتی ہے، مگر روز مرہ زندگی میں تو اصولوں کی جنگ ہوتی ہے، کس منہ سے اصول سکھائیں گے؟ جب وہ بڑے ہو کر پچھلے تین سال کے واقعات پڑھ کر آپ سے پوچھیں گے کہ آپ کی ظالموں تک رسائی تھی مگر پھر بھی کچھ نہیں بولے ان کو! لوگوں کو بہت مان تھا آپ سب پر۔ ایک ظلم کو جھیلنے کا دکھ تو ہے ہی سب کو مگراس سے بڑا دکھ شاید مان ٹوٹنے کا ہے۔ کچھ کریں ناُ کریں، موقعہ ملے تو یہ ضرور پوچھیے گا اپنے بڑوں سے اور کچھ ساتھیوں سے کہ گولی کیوں چلائی اللہ کی فوج نے اللہ کے پر امن اور نہتے بندوں پر !

Jibran Ilyas

45,535 просмотров • 10 месяцев назад

اکثر دہشت گردوں کے ہمدرد یہ واویلا کرتے نظر آتے ہیں کہ سیکورٹی فورسز کے آپریشنز میں معصوم جانوں کا ضیاع ہوا لیکن وہ اس حقیقت کو چھپاتے ہیں کہ ان بچوں کو وہاں ڈھال کے طور پر رکھا کس نے تھا ؟؟ خوارجی دہشتگرد اپنے ٹھکانوں میں بچوں کو ایک سوچھی سمجھی گھناؤنی حکمتِ عملی کے تحت رکھتے ہیں جس کے مقاصد درج ذیل ہیں👇 ​دہشتگردی کے مراکز میں معصوم بچوں کو رکھ کر نہ صرف ان کا اخلاقی اور جنسی استحصال کیا جاتا ہے بلکہ ان سے وہ وہ کام لیے جاتے ہیں جسے سن کر انسانیت شرما جائیں، ان بچوں کا بچپن چھین کر انہیں انتہا پسندی کی تعلیم دی جاتی ہے اور انہیں مستقبل کے خودکش حملہ آوروں اور دہشتگردوں کے طور پر تیار کیا جاتا ہے، خوارجی دہشتگرد جانتے ہیں کہ جب پاک فوج ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنائے گی تو وہاں موجود بچوں کی ہلاکت لازم ہے اس لیئے جان بوجھ کر بچوں کو اپنے پاس رکھتے ہیں تاکہ ان کی ہلاکت کو ریاست اور فوج کے خلاف پروپیگنڈا کے طور پر استعمال کیا جا سکے، بچوں کی ہلاکت کی تصاویر اور ویڈیوز پھیلا کر یہ عناصر مقامی سطح پر فوج کے خلاف نفرت پیدا کرتے ہیں اور عالمی سطح پر پاکستان کے دفاعی اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ​خوارجی دہشتگرد نہ صرف ملک کے دشمن ہیں بلکہ ان معصوم بچوں کے بھی قاتل ہیں جنہیں یہ اپنی بقا کے لیے بطور ایندھن استعمال کرتے ہیں یہ حقیقت جان لینی چاہیے کہ اصل مجرم وہ ہے جو بچوں کو بارود کے ڈھیر پر بٹھاتا ہے وہ نہیں جو اس ڈھیر کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے ،، پاکستان ہمیشہ زندہ باد 🇵🇰✊ پاک فوج پائندہ باد 🪖✊

Zarrar Marwat 🇵🇰

10,364 просмотров • 7 месяцев назад

پاکستان نے اس وقت جو ایران امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا ہے اور اس کے جو دنیا میں مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں، پاکستان کے اندر ان کو ہمیں سمیٹنا چاہیے، حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ اس طرز عمل کو اس کے مفادات کو سمیٹے، لیکن جہاں وہ باہر سے کما رہے ہیں پاکستان کے اندر اس کو گنوا رہے ہیں، یہاں حکومت کی ان کامیابیوں کے عوام پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہو رہے ہیں۔ یہاں امن و امان نہیں ہے اور خیبر پختونخوا، بلوچستان میں تو پہلے ہی امن و امان نہیں تھا، سندھ کے لوگ ڈاکوں کے ہاتھوں محکوم نظر آ رہے ہیں، لیکن اگر کشمیر کی بھی ایسی صورت حال بنتی ہے تو جہاں فوج کو یا بارڈرز پہ ہونا چاہیے یا بیرکوں پہ ہونا چاہیے آج وہ پاکستان کے صحراؤں میں پھیلے ہوئے ہیں، پاکستان کے پہاڑوں میں پھیلے ہوئے ہیں، ان کے فوجی شہید ہو رہے ہیں، اور اس مشکل میں ریاست پھنسی ہوئی ہے کہ اس مشکل وقت میں انہیں قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔ اگر ان حالات میں بھی حکومت کی طرف سے ایسے بیانات آئے کہ جس سے قوم تقسیم ہو، جس سے اپوزیشن کو سخت سے ردعمل دینا پڑے تو پھر میں نہیں سمجھتا کہ یہ ملک کی یکجہتی کے لیے کوئی کردار ہوگا، بلکہ ملک کو تقسیم کرنے کا سبب بنے گا۔ بہت زیادہ اشتعال ہے ملک کے اندر، ہم نے پرسوں چارسدہ میں جلسہ کیا، ہم نے اس سے پہلے پشین میں جلسہ کیا، لاکھوں لوگ وہاں اکٹھے ہوئے، بہت ہی کامیاب اجتماعات، پبلک نے اتفاق کیا اور یہ وہ میدان ہے کہ اگر ایک سیاسی جماعت پبلک میں اترتی ہے اور تاحد نظر انسانوں کا سمندر اکٹھا کرتی ہے یہ ایک وہ سیاسی جنگ ہے کہ جہاں قوم کا مورال بلند ہوتا ہے اور آپ کے کارکنوں کا مورال بلند ہوتا ہے، امن پسندوں کا مورال بلند ہوتا ہے، اور مسلح قوتوں کا مورال گر جاتا ہے، تو میرے خیال میں ہم جس محاذ پر کام کر رہے ہیں، میں تو سمجھتا ہوں کہ ہمیں پبلک کی طرف سے زبردست قسم کا ایک مثبت ردعمل ملا ہے، کیا وہ ردعمل حکومتی پارٹی کو بھی مل سکتا ہے؟ میرے خیال میں اس وقت ان کے لئے وہ حالات نہیں ہیں۔ آپ کو وہ حالات بنانے ہوں گے، کہ ہم یکجہتی کا اظہار کریں۔ قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن کا پارلیمنٹ ہاوس میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,165 просмотров • 3 месяцев назад

آج ایک بار پھر سرزمین فلسطین پر صہیونی قوتوں نے ظلم کے پہاڑ توڑے ہیں، پانچ ہزار کے قریب چھوٹے بچے، ہماری مائیں اور بہنیں شہید ہوئی ہیں، ملبوں کے نیچے اب بھی دبی ہوئی ہیں، وہی ملبے ہی ان کی قبرستان بنے ہوئے ہیں، یہ بزدل کا کام ہوا کرتا ہے جو چھوٹے بچوں ،عورتوں، پرامن شہریوں پر بمباری کرتا ہے۔ جرات ہے تو پھر میدان میں کیوں نہیں آتے،لوگ بڑے بڑے فلسفوں میں جاڑ رہے ہیں، بحث کر رہے ہیں، جدلیات لڑا رہے ہیں، ہم تو صاف بات کرتے ہیں، المُسْلِمُ أَخُو المُسْلِمِ لاَ يَظْلِمُهُ وَلاَ يُسْلِمُهُ، مسلمان مسلمان کا بھائی ہے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے نہ خود اس کے اوپر ظلم کرتا ہے اور نہ کسی کے ظلم کے لیے اس کو سپرد کرتا ہے۔ اہل فلسطین ہمارے بھائی ہیں اور آج پوری امت مسلمہ پر فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہو جائیں، جانی مالی قربانی ہو ،اخلاقی ،سیاسی حمایت ہو اور آج خدا خدا کر کے اسلامی تنظیم کانفرنس کا سربراہی اجلاس بھی ہو رہا ہے، میں آپ کی اجازت سے انہیں یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ آج امت مسلمہ اکٹھی ہے خیال رکھو کمزور موقف مت دکھانا! اگر امریکہ اور مغربی دنیا اپنے بحری بیڑے لا کر صہیونی قوتوں کی حمایت کر سکتا ہے، ان کے ساتھ شانہ بشانہ لڑنے کے لیے آسکتا ہے تو پھر مسلمان برادری کو کیا سانپ سونگھ گیا ہے کہ وہ اپنے گھروں میں صرف رونے کے لیے ہے اور میدان میں نکلنے کے لیے نہیں ہیں۔ اگر افغانستان کے محاذ پر ہمارے بھائیوں پر تکلیف آئی ہم شانہ بشانہ کھڑے رہے، آج اگر فلسطین کے مسلمانوں پر ایک مشکل گھڑی آئی ہے، پوری دنیا کے مسلمانوں کا فرض ہے کہ ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہو جائیں ۔ جمعیت علماء اسلام نے پشاور ، کوئٹہ ،کراچی میں جلسہ کیا۔آج آپ کے اس اجتماع سے بھی جو تائید مل رہی ہے، میں اسے معمولی تائید نہیں سمجھتا۔ مسلمان امت کیا چاہتی ہے؟ اسلامی قیادت نے مسلمانوں کے جذبات کو دیکھنا ہے۔ خود امریکہ میں وہاں کے عوام نے اس ظلم کے خلاف مظاہرے کئے ہیں، برطانیہ،فرانس میں مظاہرے ہوئے ہیں اور اپنی حکومتوں پہ تنقید کی ہے جو کچھ آج ہو رہا ہے وہ دنیا کے عوام کی رائے کے مطابق نہیں ہو رہا۔ ہم اسلامی تنظیم کانفرنس سے امید رکھتے ہیں کہ وہ جرات مندانہ موقف لے اور براہ راست اپنے بھائیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا اعلان کریں۔ میں نے کبھی کسی کی پرواہ نہیں کی۔ وطن عزیز اور اس پر بسنے والے پاکستانیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے میں فلسطین کے حماس قیادت کو ملنے ے گیا اور میں نے ان کی قیادت کو واضح طور پر کہا کہ پاکستان کا بچہ بچہ آپ کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ انہوں نے بھی بڑے وضاحت کے ساتھ کہا کہ پوری دنیا میں ہماری سب سے بڑی امید پاکستان ہے، کہ پاکستان اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی قوت ہے، اور پاکستان نے اقوام متحدہ میں جو جرات مندانہ موقف دیا ہے ہم دل و جان سے اس کی قدر کرتے ہیں، لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے بچوں کے اوپر بمباری کا سلسلہ بند کر دیا جائے، یہ جنگ کا حصہ نہیں ہوا کرتے، یہ اسلام ، شریعت اسلامیہ کا اخلاق ہے کہ جنگ میں بچوں کا قتل ،عورتوں ،بوڑھوں پہ ہاتھ اٹھانا جرم ہے، یہاں تک کہ ان کی کلیساؤں میں اور عبادت خانوں میں بیٹھے ہوئے عبادت میں مصروف راہبوں کو بھی مت چھیڑنا، ان کے مال مویشی کو بھی نہیں چھیڑنا، ان کے باغات کو تباہ نہیں کرنا، ان کے فصلوں کو تباہ نہیں کرنا، یہ جنگ کے وہ عظیم الشان اصول ہیں جو دین اسلام نے دئے ہیں۔ جس طرح صہیونی قوم کہتی ہے کہ ہمارے لیے بچوں کو بھی قتل کرنا جائز ہے، عورتوں کو بھی قتل کرنا جائز ہے، انسانیت کا قتل، میں سوچتا ہوں کہاں ہے وہ انسانی حقوق کی تنظیمیں، آج اگر ہم یہاں پر جلسے میں ایک سخت لفظ کہہ دے پوری دنیا کی مغربی دنیا ان کے این جی اوز ان کے انسانی حقوق کی تنظیمیں وہ ہمارے پیچھے پڑ جاتی ہے یہ بڑے شدت پسند ہیں۔آتنگ واد ہیں۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

78,024 просмотров • 2 лет назад

بلوچستان میں فیکٹریاں نہیں ہیں صرف حب کے اندر کچھ فیکٹریز ہیں وہاں بھی کراچی کے لوگ آکے کام کرتے ہیں، بلوچستان میں پانی کی شدید قلت ہے زیر زمین پانی تیزی سے نیچے جا رہا ہے ریسورسز نہیں ہیں وہاں پر زراعت کوئی نہیں ہے صرف جعفر آباد نصیر آباد بیلٹ میں گندم ہوتی ہے باقی پورے بلوچستان میں خشک سالی ہے، بلوچستان میں یا تو سرکاری ملازمتیں ہیں یا پھر افغان بارڈر سے جو کاروبار ہوتا ہے، عاصم منیر رجیم نے جنگی حالات کر دیئے ہیں افغانستان کے ساتھ انہوں نے بگاڑ پیدا کیا ہوا ہے اس بارڈر سے بھی چیزیں نہیں آ رہی ہیں، چیزیں آتی ہیں تو چیک پوسٹوں پر بیٹھے ہوئے فوجیوں کی رضا مندی سے، وہ پیسے کھاتے ہیں اور جو بھی چیزیں آتی ہیں وہ ان کے ذریعے پاکستان میں آتی ہیں، اسی طرح جو ڈیزل آ رہا تھا وہ روزگار کا کچھ ذریعہ تھا بلوچ بیلٹ کے اندر اور وہ ڈیزل بھی فوج کے مدد ہی سے وہاں آتا ہے، بلوچستان میں جن سے بات ہوتی ہے کاروبار بلکل تباہ ہو گیا ہے وہاں پہ لوگوں کے پاس کھانے کے پیسے نہیں ہیں بجلی کے بل نہیں دے سکتے ہیں ایک عام آدمی بھی اب غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہو گیا ہے، بلوچستان میں بہت زیادہ لوٹ مار شروع ہو چکی ہے روڈوں پر مال سے بھرے ہوئے ٹرک لوٹ لیے جاتے ہیں، کوئٹہ شہر سے باہر اگر نکل جائیں تو آپ کی جان اور مال کا کوئی ذمہ دار نہیں ہے اور خوف کا ایک عالم ہے، مسافر سفر نہیں کر سکتے ہیں، روزانہ کی بنیاد پر خبریں آتی ہیں کہ مسافروں کو لوٹ لیا گیا ٹرک ڈرائیورز اور ان کے جو سامان سے لدے ٹرک لوٹ لیے جاتے ہیں، گاڑیوں کو لوٹ لیا جاتا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، اے سی، ڈی سی تک کو اغوا کر لیا جاتا ہے یونیورسٹیز کے چانسلرز، پرو چانسلرز اغوا کر لیے جاتے ہیں، 15،16 ڈسٹرکٹ میں حکومتی رٹ ہی نہیں ہے۔ #PakistanUnderMartialLaw

Qasim Khan Suri

36,278 просмотров • 4 месяцев назад

آئیں کچھ اس ببلو کے بارے میں جانتے ہیں۔۔۔۔!!!! شمالی کوریا دنیــا کے نقشے پر ایک بہت ہی چھوٹا ملک ہے۔ شمالی کوریا اور جنوبی کوریا دو الگ ملک ہیں۔ کوریا دو حصـــــــوں میں تقسیم ہے۔۔۔ یعنی جنوبی کوریا اور شمالی کوریا۔ پہلے یہ ایک ملک تھا۔۔ پھر گھر کا معاملہ گلی محلے تک پہنچ گیا۔ دونوں لڑ پڑے اور الگ ہو گئے۔ سال 1950 میں انہوں نے اتنی سخت لڑائی لڑی تاریخ لکھتی کہ جنوبی کوریا کے ایک لاکھ ستر ہزار "فوجی" مـارے گئے اور لاکھوں زخمی ہوئے۔ آج شمالی کوریا کا صدر کم جونگ ان ہے،،، انتہائی بدمعاش شخص ہے وہ جو نظر آتا ہے ویسا ہے نہیں۔ اپنے ملک کی انتظامی مشینری پر اس کی گرفت بہت مضبوط ہے، جب باقی ممالک ان کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے،، تو کم جونگ ان کو کہتے ہیں کہ میں کسی اور کی شرکت کے بغیر اپنے خاندان کے معاملات کی ذمہ دار ہوں۔۔۔ اگر میں اپنے خاندان کی عورتوں کو برقع پہن کر رکھوں اور بچوں کو گلی کے لڑکوں کی صحبت میں جانے سے روکوں، تو تم انکے بھائی اور ماموں کیوں بننا چاہتے ہو؟ شمالی کوریا کو روس اور چین کی حمایت حاصل ہے اس وجہ سے کسی سے نہیں ڈرتا۔ یہ ایک کمیونسٹ نظریہ کے حامل ملک ہے۔۔۔ اس کے پاس نہ صرف ایٹم بــم ہے بلکہ اس کے پاس ایسے میـــــــزائل بھی موجود ہے جو شمالی کـــوریا سے واشنگٹن ڈی سی امریکہ ہیٹ کرسکتے ہیں جی ہاں آپ نے بالکل ٹھیک سنا اور پڑھا،،،، اس وجہ سے امریکہ بھی ان سے نہیں جھگڑتے اور نہ ہی دھمکی وغیرہ دیتے ہیں ہر ماہ میزائل کے تجربات کرتے ہیں ان کے میزائلوں کے رینچ 25 ہزار کلومیٹر تک ہے،، اور ایسے میزائل پاکستان اور اسسرائیل کے پاس بھی نہیں ہے، دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر میـــزائل کے ساتھ ہر وقت جوہری وار ہیڈ منسلک ہوتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک اس کے پاکستان کے ساتھ بہت اچھے تعلقات تھے۔۔۔ پھر امریکہ نے پاکستان کو اپنے پاس بٹھایا اور سمجھایا کہ اچھے بچے برے بچوں سے نہیں کھیلتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس وجہ سے ہمارے درمیان وہ تعلقات ختم ہوگئے۔۔۔۔سمالی کوریا انتہائی مضبوط ملک ہے اور اسکی بنیادی وجہ ڈر ہے، عوام شمالی کوریا صدر کم جونگ ان سے بہت زیادہ ڈرتے ہیں کیونکہ ہمارے طرف صرف سافٹ ویئر ابڈیٹ کرتے ہیں،، جب کہ کم جونگ ان سیدھا گولی مارتا ہے ان کے قانون میں معافی نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے شمالی کورین اپنی مرضی سے بال نہیں کٹوا سکتے انہیں حکومت کی منظور شدہ ہئیر سٹائل ہی رکھنے کی اجازت ہے۔ شمالی کوریا میں نیلی جینز پہننا غیر قانونی ہے شمالی کوریا میں اگر کوئی بیرون ملک جانا چاہتا ہے،، تو اس کو حکومت سے اجازت لینا ضروری ہے،، شمالی کوریا میں صرف دو تین چینلز ہی دیکھائے جاتے ہیں جو کہ سرکار کی نگرانی میں ہوتے ہیں۔شمالی کوریا میں کسی بھی دین کی پیروی کرنا جرم ہے وہاں مسجد، چرچ اور مندر وغیرہ نہیں ہے،، شمالی کوریا میں کسی بھی بندے کا ملک سے باہر کسی بھی قسم کا کوئی رابطہ رکھنا "غیر قانونی" ہے اور جو پکڑا گیا اس کی سزا صرف موت ہے اس کے علاؤہ شمالی کوریا میں عام لوگ "انٹر نیٹ" استعمال نہیں کر سکتے اسکی اجازت صرف فوج میں کرنل اور جرنل کو حاصل ہیں اور وہ بھی رینڈم استعمال نہیں کرسکتے شمالی کوریا میں ہر گھر میں صدر کم جونگ ان کے باپ دادا کی "تصویر" لگانا اور اس کی حفاظت کرنا بہت ضروری ہے،،، دوسرے لوگوں کی تصویر لگانا جرم ہے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ شـــمالی کوریا میں ہر پانچ سال بعد الیکش ہوتے ہیں مگر امیــــدوار صرف ایک ہی کھڑا ہوتا ہے اور وہ کوئی اور نہیں ہوتا، بلکہ اس "وڈیو" میں نظر آنے والا شخص کم جونگ ہی ہوتا ہے ان کے مقابلے کے لیے "ایکشن" میں کوئی کھڑا نہیں ہوتا سب ان سے ڈرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!

چوہدری شاہد محمود

49,252 просмотров • 7 месяцев назад

پاکستانی اشرافیہ کے بچوں کا پروٹوکول اور ڈالہ کلچر ایک ایسی حقیقت ہے جو ہمارے معاشرے میں عام لوگوں کو احساس کمتری میں مبتلا کر رہی ھے اور معاشرے میں تقسیم پیدا کر رہی ھے۔ ایسے شاہانہ پروٹوکول طبقاتی تقسیم کو ننگا کرتے ہیں۔ جب عام آدمی کا بچہ سکول جاتے ہوئے ٹریفک میں پھنس جاتا ہے، یا بیمار ہو کر سرکاری ہسپتال کے باہر گھنٹوں انتظار کرتا ہے، تو اسی وقت اشرافیہ کے بچے سرکاری گاڑیوں کے جھنڈوں، مسلح محافظوں اور پولیس کی سرخیاں بچھا کر سڑکوں پر بادشاہوں کی طرح گھوم رھے ہوتے ہی۔ یہ پروٹوکول صرف حفاظت کا نام نہیں، بلکہ ایک نمائشی طاقت اور مراعات کا کھیل ہے۔ بچوں کی تعلیم اور علاج کے لیے ٹیکس چھوٹ اور مفت سہولیات، سرکاری وسائل پر بیرون ملک دورے اور شاپنگ، ٹریفک روک کر راستہ صاف کرانا، جبکہ عام شہری کی ایمبولینس کو بھی راستے میں کھڑا کر دیا جاتا ھے، یہ سب کس کے پیسوں سے؟؟ اسی غریب، مزدور اور متوسط طبقے کے ٹیکس سے، جس کے بچوں کو ایسا پروٹوکول تو دور کوئی بنیادی سہولیات بھی نہیں ملتی، اشرافیہ کے بچوں کو یہ حق دے دیا گیا ھے کہ پورا نظام ان کی سہولت کے لیے رک جائے۔۔ یہ مراعات نہیں، ظلم ہے۔ یہ طبقاتی تفریق ہے جو معاشرے کو کھوکھلا کر رہی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سوال کریں۔ کیا ایک بچے کی جان دوسرے بچے سے زیادہ قیمتی ہے صرف اس لیے کہ اس کے والد کی کرسی اونچی ہے؟ یا وہ بہت پیسے والا ھے؟ یا پھر اسکے والد کے بہت تعلقات ہیں؟ آئین پاکستان کے مطابق امیر غریب سب برابر ہیں۔ تو پھر یہ سب کیوں؟ خدارا یہ پروٹوکول ختم کریں، مراعات ختم کریں اور وسائل کو عام عوام تک پہنچائیں جہاں سے یہ آئے ہیں۔ #طبقاتی_انصاف #پروٹوکول_ختم_کرو

چوہدری شاہد محمود

17,651 просмотров • 8 месяцев назад

ایک ماہرنگ کو قید کیا ہے آج بلوچستان کا ہر فرد ہر عورت وہی بات کر رہی یے جو ماہرنگ کیا کرتی تھی ۔ آپ کیوں اتنے نااہل اور کمزور اور بذدل ریاست ہیں کہ ہر دوسرے دن آپکی عوام روڈوں پہ رل رہی ہوتی ہے لاشیں پڑی ہوئی ہوتی ہیں وہ رو رہے ہوتے ہیں،انصاف کی بھیک مانگ رہے ہوتے ہیں ۔ ان بچوں کو بچانا ریاست اور فوج کی ذمہ داری ہے ۔ اگر آپ ہمارے بچوں،ہمارے گھروں کو تحفظ نہیں دے سکتے تو پھر آپ یہ وردی پہننے کے حقدار بھی نہیں ہیں۔ جب تک آپ عوام کو تحفظ نہیں دے سکتے آپ کسی ٹائٹل حقدار نہیں ہیں یہ وردی اس بات کی گارنٹی ہے کہ آپکی عوام محفوظ ہے کیونکہ انکے پاس فوج ہے۔ اگر اس فوج اور ایف سی کے باوجود میرے جوان بچوں کے جنازے پڑے ہوئے ہیں تو یہ فوج یہ ایف سی کسی کام کے نہیں ۔ جب وہ چار تھے آپ نے انکو کیوں نہیں مارا؟ جب وہ چار سے بارہ ہوئی آپ نے انکو کیوں نہیں پکڑا؟ اب وہ بار سے چار سو ہو گئے ہیں ابھی بھی وہ بھاگ گئے ہیں۔ یہ آپشن کسی صورت میں قابل قبول نہیں ہے کہ آپ زمین چھوڑ کر چلے جاؤ۔اتنی ساری فوج ایف سی کس لیے ہے اگر وہ اس زمین کو محفوظ نہیں بنا سکتے۔ ہمارااپنی زمین پہ جینا حرام ہے۔ یہ ہجرت اور آپریشن والا آپشن ہی کیوں ہے ؟ آپکے پاس اس بات کی گارنٹی ہے کہ وہ دوبارہ نہیں آئیں گے ؟ اور وہ بول کے گئے ہیں کہ ہم دوبارہ آئیں گے انکی یہ اسٹمنٹ آپکی نااہلی ، نالائقی کے منہ پہ طمانچہ ہے ۔ اگر یہ آرمی جو ہمیں بلوچستان میں تحفظ نہیں دے سکتی وہ اس ملک میں کہیں بھی تحفظ نہیں دے سکتی ہم صرف آپ سے زندہ رہنے کا حق مانگ رہے ہیں ۔

Rodium-A

27,638 просмотров • 2 месяцев назад

آج دنیا میں جو معرکہ برپا ہے، وہ صرف زمینوں کا، وسائل کا یا سیاست کا معرکہ نہیں، بلکہ یہ حق و باطل کے دو نظاموں کا ٹکراؤ ہے۔ مغرب اور استعماری طاقتیں اُس نظام سے خوفزدہ ہیں جو ظلم کے سامنے سر نہ جھکائے، جو مظلوم کی حمایت کرے، اور جو سامراجی بالادستی کو چیلنج کرے۔ درحقیقت مغرب کو مسئلہ ایران کے جوہری پروگرام سے نہیں، بلکہ اس نظامِ ولایت فقیہ سے ہے، جو پوری امتِ مسلمہ کو ایک محور پر جوڑنے اور ظلم کے خلاف قیادت فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایران نے آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ میں جو صبر، استقلال اور شہادت کا کلچر پیش کیا، وہ تاریخ میں ایک بے مثال باب ہے۔ وہ عظیم جنرلز، جو عام گھروں میں رہتے تھے، عام سواریوں پر سفر کرتے تھے، اور شہادت کو اپنی معراج سمجھتے تھے، وہ صرف ایران کے نہیں، امتِ مسلمہ کے فخر تھے۔ آج بھی یہ جنگ ایک عظیم رہبر، مردِ مجاہد اور فقیہِ زمان کی قیادت میں لڑی جا رہی ہے۔ یہ محض سیاسی کشمکش نہیں بلکہ ایک فکری اور نظریاتی معرکہ ہے۔ پاور پالیٹکس ہمیشہ طبقاتی نظام اور استحصالی ڈھانچے کو جنم دیتی ہے، مگر وہ نظام جو مساوات، عدل اور مظلوم کی حمایت کا علَم بلند کرے، وہ ہمیشہ طاغوت کی آنکھ میں کانٹا بنتا ہے۔ ہمیں آج فیصلہ کرنا ہے کہ ہم کس کیمپ میں ہیں؟ کیا ہم ظلم اور باطل کی صف میں کھڑے ہیں یا حق، مظلوم اور مزاحمت کے ساتھ؟ شہادت ہمارے لیے شکست نہیں، بلکہ عزت اور بقا کی علامت ہے۔ مایوسی ہمارے لغت میں نہیں۔ ہم اپنے مظلوم فلسطینی، لبنانی، یمنی اور کشمیری بھائیوں کے ساتھ اور اس الٰہی نظام کے دفاع میں سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے رہیں گے۔ (اسلام آباد جامع امام صادق میں ولایت کانفرنس سے خطاب)

Senator Allama Raja Nasir

41,517 просмотров • 1 год назад