Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

بے روزگار شہری نے خواب دیکھ کر گھر میں ہوٹل کھول لیا ۔ بیوی روٹیاں پکا دیتی ۔ کاروبار چل پڑا #FoodBusiness #SmallBusiness #PakistanBusiness #HomeBusiness #HomeRestaurant #Jhelum

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

اگر اپ بیس منٹ میرے پاوں کاانگوٹھا چوسو گی تو میں تمھیں اپنے گھر میں رکھ لونگا۔۔ یہ الفاظ اک مشہور ٹک ٹاکر سمعی حیات کے اپنی بیوی سحر حیات کیلے ہیں ۔۔ اس ٹک ٹاکر کپل کی جب شادی ہوی تھی تو سوشل میڈیا پر جو ہائپ بنی ہر شخص کے منہ سے یہی نکلا کتنا خوش قسمت جوڑاہے ۔۔ ہم لوگ ان سستے سیلبرٹیز کی جہنم زدہ زندگیوں کو دیکھ کر اپنی جنت جیسی زندگی تباہ کر بیٹھتے ہیں ۔۔ ان کے ٹک ٹاک ویڈیوز میں گھومنا پھرنا خوش رہنا اک دوسرے سے محبت کے دعوی کرنے سب صرف ڈرامہ تھا ۔۔ اندر خانے کیا چل رہا تھا وہ اپ اس ویڈیو میں سنیے شوہر اور بیوی کے اک دوسرے پرلگاے گے گھناونے اور شرمناک انزام ۔۔۔ سب سے بڑا سوال ان دونوں کی طلاق تو کی ماہ پہلے ہو چکی ہے پھر اچانک سے شوہر کو خیال ایا اس نے پوری انزام کی پٹاری کھول کر رکھ دی ۔۔ اور پھر بیوی نے اس پر جواب دیا ۔۔۔ ایساکیوں ہوا ؟ کیونکہ جب ان ٹک ٹاکر نے دیکھا رجب بٹ اور ایمان بٹ کی طلاق پر دونوں میاں بیوی کی ویڈیوز پر کی ملین ویوز ا چکے ہیں تو انہیں بھی لگا کہ وہ بھی اپنی طلاق کی اندر کی کہانی عوام کے سامنے رلھیں ۔۔ باقی ویڈیو دیکھیے دنوں قران پاک کی قسمیں کھا کھا کر اک دوسرے کو بے عزت کر رہے ہیں ۔۔۔
15:20

Sensitive content

اگر اپ بیس منٹ میرے پاوں کاانگوٹھا چوسو گی تو میں تمھیں اپنے گھر میں رکھ لونگا۔۔ یہ الفاظ اک مشہور ٹک ٹاکر سمعی حیات کے اپنی بیوی سحر حیات کیلے ہیں ۔۔ اس ٹک ٹاکر کپل کی جب شادی ہوی تھی تو سوشل میڈیا پر جو ہائپ بنی ہر شخص کے منہ سے یہی نکلا کتنا خوش قسمت جوڑاہے ۔۔ ہم لوگ ان سستے سیلبرٹیز کی جہنم زدہ زندگیوں کو دیکھ کر اپنی جنت جیسی زندگی تباہ کر بیٹھتے ہیں ۔۔ ان کے ٹک ٹاک ویڈیوز میں گھومنا پھرنا خوش رہنا اک دوسرے سے محبت کے دعوی کرنے سب صرف ڈرامہ تھا ۔۔ اندر خانے کیا چل رہا تھا وہ اپ اس ویڈیو میں سنیے شوہر اور بیوی کے اک دوسرے پرلگاے گے گھناونے اور شرمناک انزام ۔۔۔ سب سے بڑا سوال ان دونوں کی طلاق تو کی ماہ پہلے ہو چکی ہے پھر اچانک سے شوہر کو خیال ایا اس نے پوری انزام کی پٹاری کھول کر رکھ دی ۔۔ اور پھر بیوی نے اس پر جواب دیا ۔۔۔ ایساکیوں ہوا ؟ کیونکہ جب ان ٹک ٹاکر نے دیکھا رجب بٹ اور ایمان بٹ کی طلاق پر دونوں میاں بیوی کی ویڈیوز پر کی ملین ویوز ا چکے ہیں تو انہیں بھی لگا کہ وہ بھی اپنی طلاق کی اندر کی کہانی عوام کے سامنے رلھیں ۔۔ باقی ویڈیو دیکھیے دنوں قران پاک کی قسمیں کھا کھا کر اک دوسرے کو بے عزت کر رہے ہیں ۔۔۔

Saleem Speaks

30,333 Aufrufe • vor 6 Monaten

خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں شوہر نے فائرنگ کر کے اپنی ناراض بیوی کو بازار میں قتل کر دیا۔ پولیس کے مطابق منگل کو مینگورہ شہر کے قریب بنڑ روڈ پر ایک خاتون پر گولی چلائی گئی جو موقع پر ہی دم توڑ گئی۔ خاتون کے ہمراہ ان کا پانچ سال کا بیٹا بھی ماں کو خون میں لت پت دیکھ کر بچہ روتا رہا۔ عینی شاہدین کے مطابق بیٹا اپنی ماں کو ہسپتال لے جانے کے لیے لوگوں کو چیخ چیخ کر مدد کے لیے بلاتا رہا، قریب کھڑے لوگوں نے زخمی خاتون اور بچے کو ایمبولینس میں ڈال کر ہسپتال بھجوا دیا مگر خاتون زخموں کی تاب نہ لا سکیں اور چل بسیں۔ ایس ایچ او جان عالم نے بتایا کہ ’ملزم خاتون کا شوہر ہے جو گولی چلا کر بھاگ گیا تھا، ملزم گرفتار ہے اور آلہ قتل بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔‘ ’خاتون کی شادی سنہ 2014 میں ہوئی تھی مگر سنہ 2019 کے بعد گھریلو ناچاکی کی وجہ بیوی اپنے والدین کے ساتھ رہنے لگی۔ ملزم کے دو بچے ہیں جو اپنی ماں کے ساتھ رہتے تھے۔‘ انہوں نے مزید بتایا کہ میاں بیوی کے درمیان تنسیخ نکاح کے معاملے پر کیس بھی زِیرسماعت ہے۔ پولیس کے مطابق مقتولہ اپنے بچوں کا خرچہ اٹھانے کے لیے گھروں میں کام کرتی تھی، وقوعہ کے وقت بھی خاتون اپنے بیٹے کے ہمراہ کام پر جارہی تھی کہ شوہر نے راستے میں گولی مار کر اسے ہلاک کر دیا۔ ملزم نے اعتراف جرم کر لیا ہے جبکہ پولیس نے مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔ #sawat #viralpost

Shahid Saqlain Lak

26,844 Aufrufe • vor 3 Jahren

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کا اچانک چلڈرن لائبریری کمپلیکس میں چھاپہ ▪ خالی کمرے،لائبریری اور آڈیٹوریم،لائٹس،پنکھے اور اے سی چل رہے تھے ▪ وزیراعلی مریم نوازشریف سرکاری وسائل کا بے جا ضیاع دیکھ کر برہم ▪ وزیراعلی مریم نوازشریف نے چلڈرن لائبریری کمپلیکس کے بارے میں رپورٹ طلب کرلی ▪ چلڈرن لائبریری کمپلیکس کو باقاعدہ فنکشنل کرنے کے لئے فوری پلان تیار کرنے کا حکم ▪ وزیراعلی مریم نوازشریف نے چلڈرن لائبریری کمپلیکس کی مرکزی عمارت کے مختلف شعبوں کا جائزہ لیا ▪ وزیراعلی مریم نوازشریف نے لائبریری، بصری و سمعی سیکشن، آڈیٹوریم اور دفاتر کا جائزہ لیا ▪ وزیراعلی مریم نوازشریف نے سپیشل بچوں کے لئے مخصوص سیکشن کا بھی دورہ کیا ▪ وزیراعلی مریم نوازشریف نے مختلف سیکشن کے فنکشن اور کارکردگی کے بارے میں معلومات لیں ▪ وزیراعلی مریم نوازشریف نے تقریباً خالی جمنیزیم،سوئمنگ پول کا بھی جائزہ لیا ▪ وزیراعلی مریم نوازشریف نے سینٹر آف جیالوجی، اے آئی، آرٹیفشل سیکشن اور دیگر شعبوں میں موجود سہولتوں کاجائزہ لیا ▪ چلڈرن لائبریری کمپلیکس کاافتتاح 1988میں محمد نوازشریف نے بطورو زیراعلی کیا تھا ▪ چلڈرن لائبریری کمپلیکس کی عمارت سابق دورمیں علم اور کتاب سے بے اعتنائی کا منہ بولتا ثبوت ہے

PMLN

11,331 Aufrufe • vor 2 Jahren

اپنے فارم پہ میں نے یہ ٹوکری پرندوں کے لیے رکھی تھی تاکہ وہ آ کر اس میں دانہ کھا سکیں مگر فطرت نے یہاں ایک اور ہی خوبصورت منظر بنا دیا ہے۔اب اس میں پرندوں کے بجائے گلہریوں نے یہاں اپنا قبضہ بنا لیا ہے۔ 🐿️ 🐿️ وہ سارا دن اسی میں بیٹھ کر سکون سے وقت گزارتے ہیں، جیسے یہ اسی کے لیے بنایا گیا ہو۔😊 ان کی معصوم سی شرارتیں دل کو بہت بھاتی ہیں۔ کبھی وہ دانہ چباتی ہیں اور کبھی ادھر اُدھر دیکھ کرر دنیا کو حیرت سے تکتی ہیں۔ نیچے پرندوں کے لیے پانی کا بھی انتظام کیا گیا ہے تاکہ گرمی میں اپنی پیاس بجھا سکیں، یہ چھوٹی سی نیکی دل میں ایک عجیب سی خوشی بھر دیتی ہے۔ شاید یہی اصل صدقہ جاریہ ہے کہ کسی جان دار کو آسانی دی جائے۔ یہاں اب میں نے چڑیوں کے لیے کچھ لکڑی کے گھر بنا کر لگائے ہیں، جس میں اب وہ رہائش پزیر ہو چکی ہیں میں نے اپنے گھر کے باغیچے میں بھی پرندوں کے لیے دانہ، پانی ، اور ان کے گھر لگائے ہوئے ہیں، ابھی کچھ پرندوں نے بچے نکالے ہوئے ہیں، فاختہ، بلبل اور چھوٹی چڑیوں کے بچے موجود ہیں گھونسلوں میں ، انشاء اللہ کل ایک چھوٹی سی ویڈیو بنا کر لگاؤں گا، فطرت کے یہ مہمان ہمیں محبت اور خدمت کا سبق دیتے ہیں۔ان کی موجودگی سے گھر یہ ماحول اور بھی خوبصورت ہو جاتا ہے، ایسی چھوٹی چھوٹی نیکیاں زندگی کو بامعنی بنا دیتی ہیں۔ اور دل یہی کہتا ہے کہ کاش ہر انسان فطرت سے اتنی ہی محبت کرنا سیکھ لے۔ ایڈمن اردو ورثہ مہر جمشید

اردو ورثہ

14,054 Aufrufe • vor 4 Monaten

اگر اداروں یا حرامخوروں سے تعلق ہو پھر ہر بیغیرت اپنے آپ میں فرعون ہے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ لوگوں نے صرف تماشہ نہیں دیکھا وڈیو کے بعد لڑکوں سے کیا ہوا علم نہیں۔ سوچیئے اسلام میں تلوار مرد کا زیور ہے عام پاکستانی کو لائسنس والا اسلحہ سوچ سمجھ کر بند کردیا گیابلکہ چھین لیا گیا تاکہ اگر ظلم بدماشی برداشت سے بڑھ جائے ادارے، بدماش،خواتین کی بے حرمتی کریں دہلیزیں پھلانگ لیں قتل کریں کسی کے پاس اپنے دفاع کا حق نہ ہو بلکہ کوٹھے جیسی عدالتوں کا رخ کرکے اور ذلیل کیا جائے امریکہ میں تقریباً ہر گھر میں اسلحہ ہے اور وہ اپنی پراپرٹی کے دفاع میں استعمال بھی کرتے۔ پھر سوچئے پاکستان میں اگر عام لوگوں کے پاس لائسنس والا اسلحہ ہو قانون کے مطابق وہ اپنے گھر خاندان پراپرٹی کا دفاع کر سکتاہو کون قبضہ کرے گا کون بدماشی کرے گا؟ کوں دہلیزیں پھلانگنے دیگا ؟ اور کتنی بار؟ حرامخور سے زیادہ ڈرپوک کوئی نہیں ہوتا اس لیے پاکستانیوں سے ہر قسم کا حق دفاع چھین لیا گیا تاکہ اچھے مجبور غلام بن کر رہیں۔

Stranger

43,577 Aufrufe • vor 6 Monaten

پاکستان میں فوج کی مصنوعات کے خلاف جاری مہم سے شدید تکلیف محسوس ہو رہی ہے۔ فوج کا بنیادی فرض ملک کی حفاظت کرنا، دہشت گردی سے بچانا، اور سیاست سے دور رہنا تھا۔ لیکن اب فوج کاروبار میں ملوث ہے اور تقریباً ہر ادارے اور بزنس میں دخل اندازی کر رہی ہے۔ فوج کو عوام کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے تھا، مگر وہ کمپنیاں چلا رہی ہے۔ پاکستانی عوام سے لیا گیا بجٹ حفاظتی مقاصد کی بجائے کاروباری سرگرمیوں میں استعمال ہو رہا ہے۔ مزید برآں، فوج بلوچستان سے لے کر کراچی تک پاکستانیوں کے خلاف تشدد کا استعمال کر رہی ہے، جس سے بے شمار شہری شہید ہو چکے ہیں۔ فوج کی کمپنیاں جیسے نور پور، ملک کے شہید سپاہیوں کے لیے کوئی فائدہ نہیں رکھتیں۔ یہ کاروبار صرف جرنیلوں کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔ پاکستانی عوام کا خون ان مصنوعات میں شامل ہے۔ 26 نومبر کو عوام پر فائرنگ کر کے فوج نے ثابت کر دیا کہ یہ عوام کی نہیں، بلکہ بیگانوں کی فوج ہے۔ لہذا، ہمیں ان مصنوعات کا بائیکاٹ جاری رکھنا چاہیے کیونکہ تکلیف قاتلوں کو پہنچ رہی ہے

Rodium-A

10,794 Aufrufe • vor 1 Jahr

📍سعودی عرب میں مقیم پاکستانی شہری حبیب اللہ (تعلق: منزری تنگی، لوئر دیر) اس وقت شدید بیماری کی حالت میں وہاں بے بسی کے حالات میں پڑے ہیں اور انتہائی مشکل صورتحال سے گزر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق حبیب اللہ سعودی عرب میں ایک مقامی کفیل کے ساتھ بطور لیموزین ڈرائیور کام کر رہے تھے۔ تاہم کچھ عرصہ قبل دو بھائیوں (کفیل) کے درمیان اختلافات پیدا ہونے کے بعد ان کے ساتھ کام کرنے والے تمام افراد کو فارغ کر دیا گیا، جس کے باعث حبیب اللہ بھی روزگار سے محروم ہو گئے۔ روزگار ختم ہونے کے بعد وہ شدید بیمار ہو گئے۔ انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں کچھ دن زیرِ علاج رہنے کے بعد انہیں ڈسچارج کردیا اور انتہائی تشویشناک حالت میں پڑے ہیں ان کا مکمل علاج سعودی عرب میں مالی اخراجات زیادہ ہونے کی وجہ سے بہت مشکل ہیں۔قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے وہ اس وقت نہ تو کوئی نیا کام کر سکتے ہیں اور نہ ہی پاکستان واپس آ سکتے ہیں۔ حبیب اللہ کے گھر والے شدید پریشانی اور کرب میں مبتلا ہیں۔ اہلِ خانہ نے حکومتِ پاکستان، متعلقہ حکام، سعودی عرب میں پاکستانی سفارتخانے اور تمام پاکستانی کمیونٹیز سے دردمندانہ اپیل کی ہے کہ خدارا اس معاملے کا نوٹس لیا جائے اور حبیب اللہ کو بحفاظت پاکستان واپس لانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ ان کا علاج اپنے ملک میں ممکن ہو سکے۔

Makhdoom Shahab-ud-Din

77,890 Aufrufe • vor 6 Monaten

امانت کی ادائیگی خاتون نے اسپتال میں ایک بچی کو جنم دیا، مگر نہ جانے کن مجبوریوں یا حالات کے باعث وہ اسے وہیں چھوڑ کر خاموشی سے نکل گئی۔ معصوم بچی کی صحت بھی خاصی ناگفتہ بہ تھی۔ چند روز تک اسپتال کا عملہ اس کی دیکھ بھال کرتا رہا۔ ڈاکٹر اس کا علاج کرتے اور ہر آنے والے دن یہ امید کی جاتی کہ شاید آج اس کے گھر والے آ جائیں گے۔ مگر دن ہفتوں میں، ہفتے مہینوں میں بدل گئے اور پھر پورے نو ماہ گزر گئے۔ اس ننھی جان کو لینے کوئی نہ آیا۔ یہ واقعہ سن 2001ء میں سعودی عرب کے جنوبی صوبۂ عسیر کے ضلع سراة عبیدہ میں واقع المستشفی العام یعنی جنرل اسپتال کا ہے۔ اس وقت اسپتال کے داخلی شعبے اور نرسنگ کے سربراہ سلطان القحطانی تھے۔ ان کی ذمہ داریوں میں ایسے نومولود بچوں کی دیکھ بھال بھی شامل تھی، جو مختلف وجوہات کی بنا پر اپنے خاندانوں سے محروم رہ جاتے تھے۔ ابتدا میں سلطان القحطانی بھی اسپتال کے دوسرے ملازمین کی طرح اس بچی کی نگہداشت کرتے رہے، لیکن آہستہ آہستہ اس معصوم چہرے نے ان کے دل میں گھر کر لیا۔ وہ روز اپنی ڈیوٹی کے اوقات سے پہلے اسپتال پہنچ جاتے، صرف اس لیے کہ کچھ دیر اس بچی کے ساتھ کھیل سکیں۔ اسے گود میں اٹھاتے، اس کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیرنے کی کوشش کرتے اور کبھی اسپتال کے صحن میں لے جاتے۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ ان کی گود میں آتے ہی بچی کا چہرہ کھل اٹھتا، مگر جیسے ہی اسے دوبارہ نرسری میں چھوڑا جاتا، وہ پھر بے چین اور اداس ہو جاتی۔ نو ماہ گزرنے کے بعد سلطان القحطانی نے محسوس کیا کہ مستقل تنہائی اس ننھی جان کی نفسیاتی کیفیت پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ وہ اسے چند گھنٹوں کے لیے اپنے گھر لے جانے لگے۔ گھر میں پہنچتے ہی بچی کا رویہ یکسر بدل جاتا، وہ پرسکون ہو جاتی، کھیلتی، مسکراتی اور گویا اسے اپنا کھویا ہوا گھر مل گیا ہو۔ لیکن اسپتال واپس آتے ہی وہ پھر خاموش اور مضطرب ہو جاتی۔ یہ دیکھ کر سلطان القحطانی سوچنے پر مجبور ہوئے۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے تمام قانونی مراحل مکمل کیے اور اس بچی کی کفالت اپنے ذمہ لے لی۔ اس کا نام سمیرہ رکھا اور اسے اپنے گھر لے آئے۔ سلطان القحطانی کی اہلیہ اور ان کے بچوں نے بھی اسے اسی محبت سے گلے لگایا، جیسے خاندان کے دوسرے بچوں کو۔ رضاعت کا شرعی پروسیس مکمل کرکے اسے اپنا لیا گیا۔ گھر میں کبھی اس کے ساتھ کوئی امتیاز نہیں برتا گیا، نہ اسے یہ احساس ہونے دیا گیا کہ وہ اس خاندان میں پیدا نہیں ہوئی۔ سلطان القحطانی کے بقول ان کی اہلیہ نے سمیرہ کی پرورش میں وہی محبت، شفقت اور قربانی دی جو ایک حقیقی ماں اپنی اولاد کے لیے دیتی ہے۔ برس گزرتے گئے۔ وہی بے سہارا بچی محبت بھرے ماحول میں پروان چڑھی، اسکول کی تعلیم مکمل کی، پھر اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور کنگ خالد یونیورسٹی سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کی۔ جس بچی کے لیے کبھی اسپتال کی نرسری ہی پوری دنیا تھی، اب وہ ایک دن یونیورسٹی کے اسٹیج پر ڈگری وصول کر رہی تھی۔ تقریب میں جب سمیرہ کا نام پکارا گیا اور وہ اسٹیج پر پہنچی تو سلطان القحطانی اپنی کیفیت پر قابو نہ رکھ سکے۔ انہوں نے بیٹی کو سینے سے لگا لیا اور زار و قطار رونے لگے۔ یہ منظر دیکھ کر تقریب میں موجود بہت سے لوگوں کی آنکھیں بھی نم ہوگئیں، جبکہ اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی اور لاکھوں افراد نے اسے باپ کی محبت کی لازوال مثال قرار دیا۔ بعد میں "صباح العربية" پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سلطان القحطانی نے اپنے آنسوؤں کی وجہ بیان کی۔ انہوں نے کہا: "میری خوشی کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ میں صرف یہ سوچ کر رو پڑا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اسے ہمارے نصیب میں نہ لکھا ہوتا تو آج شاید وہ اپنی گریجویشن کے دن بالکل تنہا کھڑی ہوتی، اس کی خوشی میں شریک ہونے والا کوئی نہ ہوتا۔ الحمدللہ، اللہ نے ہمیں اس کے ساتھ کھڑا ہونے کی سعادت عطا فرمائی۔" انہوں نے مزید کہا: "سمیرہ نے گزشتہ دو دہائیوں سے ہمارے گھر کو خوشیوں، سکون اور اطمینان سے بھر رکھا ہے۔ وہ میرے لیے اپنی دوسری اولاد ہی کی طرح ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ہماری زندگی میں ایک رحمت بنا کر بھیجا۔" سمیرہ بھی اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکی۔ اس نے کہا کہ اسے کبھی یہ احساس نہیں ہونے دیا گیا کہ وہ اس خاندان کا حصہ نہیں ہے۔ سلطان القحطانی اس کے لیے صرف ایک کفیل نہیں بلکہ حقیقی باپ ہیں، جنہوں نے اسے محبت، تعلیم، عزت اور ایک مکمل خاندان عطا کیا۔ یہ واقعہ سعودی عرب میں انسانیت کی ایک روشن مثال بن گیا۔ گریجویشن کی تقریب کے بعد ضلع سراة عبیدہ کے گورنر مسفر بن حامد الوادعی نے سلطان القحطانی، ان کی اہلیہ اور سمیرہ کو اپنے دفتر مدعو کیا اور ان کی سرکاری سطح پر عزت افزائی کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک خاندان کی کہانی نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک مثالی انسانی داستان ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ

Saeed Ullah Khan

44,949 Aufrufe • vor 1 Monat