正在加载视频...

视频加载失败

تازہ ترین بزدل بھارت کا بھولاری ائیر بیس نزد حیدر آباد پھر سے حملہ سکوارڈن لیڈر عثمان جام شہادت نوش کر گئے۔۔

119,680 次观看 • 1 年前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

سائیکل ایمبولینس کوئی نیا یا انوکھا تصور نہیں بلکہ دنیا کے کئی ممالک جیسے برطانیہ بھارت کینیا بنگلہ دیش اور نیدرلینڈز میں یہ برسوں سے ہنگامی طبی امداد کا حصہ ہے۔ تنگ گلیوں شدید ٹریفک اور دور دراز علاقوں میں کم لاگت کے ساتھ مریض تک فوری رسائی اس کا سب سے بڑا فائدہ ہے۔ سائیکل ایمبولینس ریسکیو ایمبولینسز کا ایک سپلیمنٹری حصہ ہے کراچی جیسے میٹرو پولیٹن شہر کو عرصہ دراز سے سائیکل ایمبولینس کی کی ضرورت تھی اور جو جاہل لوگ اس سلسلے میں مئیر کراچی کا مذاق اڑانے میں مصروف ہیں وہ پلیز اپنی جہالت کا علاج کروائیں اور تھوڑا ریسرچ کر لیا کریں پھر بات کیا کریں بغض پیپلزپارٹی سے نکلیں بہت سی چیزیں واضح دکھائی دیں گی پنجاب میں بھی اسکی بہت ضرورت ہے پیپلزپارٹی فیصل آباد کی خواتین ونگ کی صدر رخسانہ قمر صاحبہ کا جواں سال بیٹا 1122 ایمبولینس کے نا آنے کی وجہ سے ایکسیڈنٹ کے آدھے گھنٹے بعد سڑک پر ہی لقمہ اجل کا شکار ہو گیا تھا MQM

Shaista Aslam( PPP)🇱🇾

21,076 次观看 • 1 个月前

#JusticeForIqra سرگودھا کی معصوم گھریلو ملازمہ اقراء پر بد ترین تشدد، 43جنوبی میں کہرام مچ گیا والدہ پر غشی کے دورے ۔ نواحی علاقہ 43جنوبی کی اقرا کے والد نے بتایا کہ بچی راولپنڈی اسلام آباد کے ایک تاجر عبد الرشید کے گھر ملازمہ تھی دو سال پہلے سے وہاں کام کرنے والی 15سالہ بچی کو محض چاکلیٹ گم ہونے کا الزام لگا کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا اس کے سر ، بازوں ، ٹانگوں اور چہرے کو تیز دھار آلہ سے کاٹا گیا بازو ٹانگیں توڑی گئیں۔ باپ ثناء اللہ خود دو بچوں کے ساتھ منڈی بہت دن کے گاؤں میں ایک زمیندار کے گھر پر کام کرتا ہے غربت کے باعث اس نے اپنی بیٹی اقرا کو اسلام اباد میں ایک تاجر کے گھر پر چھوڑا لیکن ان ظالموں کی طرف سے اسے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کی وجہ سے بچی جان کی بازی ہار گئی ثنا اللہ کا مطالبہ ہے کہ وزیراعظم پاکستان اور وزیراعلی پنجاب محترمہ مریم نواز معاملہ کا نوٹس لیتے ہوئے ان ظالموں کے خلاف سخت سے سخت قانونی کاروائی عمل میں لائیں اور ان کی فوری گرفتاری بھی کی جائے غریب ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ اسے معلوم نہیں تھا کہ اس طرح کا بہمانہ تشدد بھی کوئی انسان کر سکتا ہے اس کو بتانا تھا کہ بچی کو شدید اذیت دیتے ہوئے اس کے جسم پہ کٹ لگائے گئے جسے دیکھنا بھی اس کے لیے مشکل ہو رہا ہے اس کا بتانا تھا کہ پولیس کی طرف سے اسے راولپنڈی بلایا گیا جہاں پر ہسپتال میں اسی انکھوں کے سامنے اس کی لختہ جگر نے دم توڑ دیا لیکن یہ بے بس اور بیچارگی کے عالم میں اپنی بیٹی کی ڈیڈباڈی اٹھا کر سرگودھا اگیا ہے اس کا مطالبہ ہے کہ ملزمان کو گرفتار کیا جائے سرگودہ کے نواحی علاقہ 43 جنوبی میں بچی کی تدفین کا عمل جاری ہے

Shehr Bano Official

39,229 次观看 • 1 年前

شکریہ کرک۔ میرے پاکستانیو! کرک کی عوام اپنے امن کے لئے نکل آئے ہیں اب آپکا کام ہے ان کی آواز ہر جگہ پہنچانا۔جب سیکورٹی کے ذمہ داران پارلیمان ،عدلیہ ،میڈیا، الیکشن کمیشن اور دیگر ادارے فتح کرنے کے بعد چلغوزے کی کاشت اور کھیتی باڑی میں مصروف ہوں۔جب ان کی تمام توانائیاں ملک کے مقبول ترین لیڈر اور ان کی پارٹی کو کچلنے اور ان کے خلاف بیانیہ بنانے میں صرف ہورہی ہوں۔ جب حفاظت کرنے والو سے ہی آپ کو خطرہ ہو تب آپ کو اپنا امن خود بحال کرنا پڑتا ہے۔جب آگ گھر کی دہلیز پر ہو اور آگ بجھانے والے آگ بھڑکا رہے ہوں تو اپنے گھر اور اپنے پیاروں کو خود بچانا پڑتا ہے۔ میرے پاکستانیو! یہ ملک ہمارا ہے، یہ گھر ہمارا ہے اور ہم نے مل کر تمام سیاسی وابستگیوں ذات پات قومیت سے بالاتر ہوکر اس کو بچانا ہے۔ ۲۰۲۲ میں جب مالاکنڈ سوات دیر بونیر میں یہ جنگ لائی گئی تو دو مرتبہ ہم نے اپنے زور بازو سے ان کو نکالا تھا، اب سابقہ فاٹا اور جنوبی اضلاع سے انکو نکالنے کا عزم کرنا ہے۔کرک آغاز ہے میرے مہمند، باجوڑ،لکی مروت، وزیرستان، ٹانک، ڈی آئی خان اور خیبر کے غیرت مندوں تیار رہو انشاءاللہ جلد مل کر وہاں بھی امن کے پرچم کے سائے تلے نکلیں گے۔اور پھر دیر باجوڑ سے لیکر بلوچستان تک سب کو متحد کرکے پنڈی اسلام آباد کا رخ کرینگے۔آپ نے چوکیداری چھوڑ کر سیاست شروع کر دی ہے ہم نے فی الحال امن کا پرچم تھاما ہے اس سے قبل کے آپ کا کام قوم سنبھال لے اپنے مورچوں پر واپس جاؤ۔ اپنے ڈالروں کے لیے ہمیں آگ میں مت دھکیلو۔ ہمارے گھر، ہماری جانیں، ہمارے بچے، ہمارا مستقبل برائے فروخت نہیں ہے!

Murad Saeed

153,637 次观看 • 1 年前

پاکستان کو پہلے بھارت کے ذریعے سبق سکھانے کی کوشش کی گئی، مگر وہاں کھیل الٹا پڑ گیا۔ مودی جی مار کھانے کے بعد تلملا اٹھے اور شور مچا دیا کہ پاکستان نے تو ہم پر ہی حملہ کر دیا۔ حالانکہ انہیں یہی یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ حملہ صرف آپ کریں گے اور پاکستان خاموشی سے مار کھاتا رہے گا۔ پاکستان نے اللہ کی مدد سے وہ کر دکھایا جو عالمی صہیونی طاقتوں کے طے شدہ اسکرپٹ میں شامل ہی نہیں تھا۔ پاکستان کو مغربی سرحد پر افغانستان کے ذریعے کمزور کرنا انہی طاقتوں کا پرانا منصوبہ ہے، جس پر اب تک مسلسل محنت جاری ہے۔ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کی فنڈنگ اور محفوظ پناہ گاہیں افغانستان میں موجود ہیں۔ کام جاری رکھنے کے لئے بھول کر یا “غلطی سے” چھوڑا جانے والا اربوں ڈالر مالیت کا جدید اسلحہ، اور ملینز آف ڈالرز کی فنڈنگ، اسی پلاننگ کا حصہ ہے۔ اپنے بندوں کے ذریعے ہزاروں مسلح اور تربیت یافتہ دہشت گردوں کو افغانستان سے پاکستان میں لا کر دوبارہ بسایا گیا۔ لیکن اس سب کے باوجود اس محاذ پر بھی انہیں کوئی خاطر خواہ کامیابی نہ مل سکی۔ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور بارڈر کو ہر قسم کی آمدورفت کے لئے مکمل طور پر سیل کرنا پاکستان کی جانب سے ایک بہترین چال تھی، جو کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ افغانستان میں خوارج پر براہِ راست حملوں کے ذریعے بھی واضح اور مضبوط پیغام دے دیا گیا کہ یہاں بھی آپ کی دال نہیں گلنے والی۔ ایران بھی سمجھ چکا ہے کہ پاکستان سے دوستانہ تعلقات زیادہ بہتر ہیں۔ اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ ایران نے اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے سے گریز کرنے کا فیصلہ کیا ہے (بدقسمتی سے پہلے ایسا نہیں تھا)۔ اب یہ بات ظاہر ہے کہ ایران میں ہونے والے تازہ فسادات دراصل رجیم چینج کی سازش ہے اور یہ بھی انہی مہربانوں کی مہربانی ہے جو موجودہ ایرانی قیادت کی جگہ رضا شاہ پہلوی جیسے اسرائیل کے کسی وفادار کو آگے لانا چاہتے ہیں. اسرائیل اس مقصد کے لیے آخری حد تک جانے کو تیار ہے۔ پاکستان سنجیدگی سے یہ سمجھتا ہے کہ بھارت اور افغانستان کے ذریعے پاکستان کو قابو کرنے میں ناکامی کے بعد اب پاکستان کو ایران کے راستے کنٹرول کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ یاد رہے کہ اس پورے خطے میں اسرائیل کے کھل کر آگے بڑھنے میں واحد بڑی رکاوٹ ایٹمی پاکستان ہے اور یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے۔ سارا کھیل پاکستان کو ایٹمی طاقت سے محروم کرنے کا ہے۔ کبھی اسے اندرونی فتنہ و فساد میں الجھایا جاتا ہے اور کبھی بیرونی دباؤ اور سازشوں کے ذریعے قابو میں لانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مگر اللہ کے کرم سے اب تک کسی محاذ پر انہیں کامیابی نہیں مل سکی۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ عالمی سازشوں کے خلاف کامیابی سے دفاع کر رہی ہے۔ اب حالات اس طرف بڑھ رہے ہیں کہ پاکستان کھل کر کھیلنے کی پوزیشن میں آ رہا ہے۔ اپنے خطے میں نئی صف بندیاں کر رہا ہے، اپنے مفادات کے خلاف جانے والے طاقتور اسلامی ممالک کو واضح اشارے دے رہا ہے، اور مضبوط دفاعی معاہدے کر رہا ہے۔ پہلے سعودی عرب اور پاکستان کا دفاعی تعاون کم نہیں تھا کہ اب ترکی کے ساتھ دونوں ممالک کی دفاعی ڈیل مخالفین کے لئے ایک پریشان کن خبر بن چکی ہے۔ عمران تو باقاعدہ یہ بیان دے چکا تھا کہ اگر پاکستان کے مسائل بھارت کے ساتھ حل ہو جائیں تو پھر پاکستان کو ایٹمی صلاحیت رکھنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔ عمران اتنا سادہ یا ناسمجھ نہیں کہ اتنی بڑی اور حساس بات یوں ہی زبان سے نکال دیں۔ عمران نے پورے ہوش و حواس میں، اچھی طرح سمجھ کر یہ الفاظ ادا کئے تھے، ایسے الفاظ جو اسے سوچ سمجھ کر فیڈ کئے گئے تھے۔ اور پھر اس کے بعد سب نے دیکھا کہ عمران نے مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر عملاً سودے بازی کرتے ہوئے بھارت کے ساتھ حالات درست کرنے کی کوشش بھی کی۔ پلان بھی یہی تھا کہ بھارت سے حالات بہتر کرنے کا تاثر بنایا جائے تاکہ ایٹمی طاقت رکھنے کا جواز بنایا جائے۔ بظاہر ہر چیز ایک طے شدہ منصوبے کے مطابق آگے بڑھ رہی تھی، ہر کردار اپنی لکیر کے مطابق چل رہا تھا۔ لیکن اللہ رب العزت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اس نے نہ صرف پاکستان کے دشمن کرداروں کو بے نقاب کیا بلکہ انہیں ذلیل و رسوا بھی کیا، اور یہ ثابت کر دیا کہ سازشیں چاہے کتنی ہی گہری کیوں نہ ہوں، جب اللہ کی مدد شامل حال ہو تو بڑے سے بڑا منصوبہ بھی زمین بوس ہو جاتا ہے۔ یاد رہے کہ نقب ہمیشہ اسی گھر میں لگائی جاتی ہے جہاں قیمتی مال ہو۔ اور اس دور میں ایٹمی طاقت سے زیادہ قیمتی کوئی شے نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سازشوں، دباؤ اور حملوں کا رخ ہمیشہ اسی طرف ہوتا ہے جہاں اصل طاقت موجود ہو، کمزور گھروں پر کوئی محنت نہیں کرتا۔ اللہ کرے ہمارے قریبی ہمسایہ مسلمان ممالک کو بھی یہ بات سمجھ آ جائے جو سعودیہ اور ترکی وغیرہ سمجھ چکے ہیں۔

Qaimkhani

23,562 次观看 • 7 个月前

مخصوص خفیہ ایجنسی اورسی ٹی ڈی پر مشتعمل درجنوں اسلحہ بردار افراد نے مجھے اسلام آباد میں اپنے گھر سے گزشتہ جمعہ کی رات کو 12:10 منٹ پر اغوا کیا تھا۔ میں اپنے والدین کا ایک ہی بیٹا ہوں۔ اغوا کے لئے خفیہ ایجنسی کی کالی ویگو، سی ٹی ڈی کے دو ڈالے اور ایک ٹویوٹا فیلڈر گاڑی کو استعمال کیا گیا۔ گاڑی میں بٹھاتے ساتھ ہی میری آنکھوں پر پٹی اور کالا کپڑا باندھ دیا گیا تھا۔ متعلقہ جگہ پر پہنچے تو مجھ سے کہا گیا کہ آپ ہم سے تعاون کریں اور ہم آپ سے۔ وہ سوالات پوچھتے گئے کہ آپ نو مئی کو کہاں تھے وغیرہ وغیرہ اور میں جوابات دیتا گیا۔ پھر مجھ سے کہا گیا کہ ایک وڈیو بناؤ جس میں بتاؤ کہ میں احتجاج اور سوشل میڈیا پر ریاست پاکستان کے خلاف جو بھی کمپین کرتا ہوں اس کا حکم عمران خان اور پارٹی کی سینئر قیادت دیتی ہے اور معافی مانگو۔ میں نے یہ کام کرنے سے انکار کر دیا کہ عمران خان کے خلاف کوئی بیان نہیں دوں گا۔ پھر یہ سنتے ساتھ ہی انہوں نے مجھ پر بدترین تشدد کرنا شروع کر دیا۔ میرے سر اور جسم پر جوتوں، مُکوں اور مختلف اوزاروں سے کئی گھنٹوں تک تشدد کرتے گئے۔ تشدد کے نشانات ابھی تک میرے جسم پر موجود ہیں ہیں اور تصاویر بھی ریکارڈ کا حصہ بن گئی ہیں۔ میں عمران خان اور پارٹی کے خلاف بیان کے لئے نہیں مانا اور نا ہی وڈیو بنوائی۔ بدترین تشدد کے بعد جب میری حالت بے زار ہوگئی تو انہوں نے مجھے پانی پِلایا اور کہا کہ ہم آپ کو چھوڑنے لگے ہیں اور مجھے امادہ کیا گیا کہ میں اپنے اغوا کی تفصیلات کسی کو نہیں بتاؤں گا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ میری اتنی جلدی رہائی جسٹس محسن اختر کیانی کی وجہ سے ہوئی۔ اگر مجھے رہا نا کیا جاتا تو میرے والدین ہائی کورٹ میں پیٹیشن دائر کرتے جس کے لئے میں نے پہلے سے ہی ایک بیان حلفی لِکھ کر اپنے دوست کو دیا ہوا ہے جس میں لکھا ہوا ہے کہ مجھے اغوا کر کے غائب کر دیا جائے تو ذمہ داران کے نام لکھے ہوئے ہیں جس کا ڈائرکٹ الزام خفیہ اداروں پر جاتا ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی جس طرح سے احمد فرحاد کا کیس چلا رہے ہیں اس سے حساس اداروں پر سخت ترین دباؤ ہے۔ میرا موبائل فون آج دن تک واپس نہیں کیا گیا جس میں میری ذاتی زندگی کی بہت معلومات ہیں۔ نا تو میں بلیک میل ہوں گا اور نا ہی میں کبھی عمران خان اور اپنی پارٹی کی خلاف جاؤں گا بے شک مجھے قتل کر دیا جائے۔ میں اپنے خون کے آخری قطرے تک عمران خان کا وفادار رہوں گا، انشاءاللہ۔ اس کے علاوہ میں تمام پی ٹی آئی ورکرز، سوشل میڈیا وارئرز اور دوستوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے وقت ضائع کئے بغیر میری رہائی کے لئے آواز اٹھائی اور دعایئں کی۔ میں ساری زندگی آپ لوگوں کا احسان مند رہوں گا۔ PTI

Wajahat Sami

666,190 次观看 • 2 年前

جھنگ ایشال فاطمہ کیس خصوصی رپورٹ کے مطابق 17/18 سالہ ایشال فاطمہ سلطان کالونی سے اغوا کے بعد قتل ہوئی۔ خلیل الرحمان نامی لڑکا فرسٹ ائیر کی طالبہ کو لے گیا۔ لڑکی کو خلیل حسیب خان نامی شخص کی قریبی عزیزہ کے گھر لے جایا گیا۔ گھر میں امیش جوگی اور حسن کوڑیانہ کو بھی بلایا گیا۔ سب نے مل کر لڑکی کو ڈانسنگ گولیاں اور نشہ آور ادویات دیں۔ بچی کی حالت غیر ہوئی، 2 دن تک ٹیکے لگاتے رہے مگر حالت نہ سنبھلی۔ حالت بگڑنے پر حسن اور امیش لڑکی کو مقامی ہسپتال چھوڑ گئے۔ خلیل گاڑی میں باہر بیٹھا رہا، تھوڑی دیر بعد لڑکی انتقال کر گئی۔ والد کی FIR کے بعد CCD اور پولیس متحرک ہوئی۔ سب انسپکٹر ملک علی رضا CCD نے امیش جوگی کو فوری گرفتار کیا۔ انچارج اسد دھولکہ، انسپکٹر حافظ عثمان ہراج ریڈ کر رہے ہیں۔ SHO سیٹلائٹ ٹاؤن ذیشان حیدر سیال نے گاڑی برآمد کی۔ باقی ملزمان حسیب، حسن، خلیل الرحمان کی تلاش جاری ہے۔ CCD کیس میں محنت سے کام کر رہی ہے، ایک ملزم گرفتار، باقیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں۔

Daim Mubashar

200,646 次观看 • 2 个月前