Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی پوسٹ جس میں جھوٹ اور من گھڑت دعوی کیا گیا کہ ایک سٹوڈنٹ کو پولیس کی گاڑی نے ہٹ کیا تھا کی CCTV فوٹیج سامنے آ گئی ہے جس میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ سٹوڈنٹ موٹر سائیکلز پر سوار...

407,429 görüntüleme • 1 yıl önce •via X (Twitter)

10 Yorum

Mehar Sharafat Ali profil fotoğrafı
Mehar Sharafat Ali1 yıl önce

جس قدر جھوٹے وقوعے جھوٹی ایف آئی آرز اور 9 مئی کی آڑ میں چادر چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے لوگوں کے گھروں سے آپ لوگوں نے چوریاں کی ہیں آپ لوگوں نے خود اپنی لیگل حیثیت ختم کر دی ہے عوام میں اعتماد ختم کر چکے ہیں

Najam Wali Khan profil fotoğrafı
Najam Wali Khan1 yıl önce

باپ کو پکڑوا کے بھاگنے والا بزدل اور بھگوڑا ہی نہیں بہت ہی بے شرم اور جھوٹا آدمی ہے یار تو

Sara Mir profil fotoğrafı
Sara Mir1 yıl önce

یہ سی سی ٹی وی فٹیج کیسے ظاہر کرتی ہے کہ وہی بچہ ہے اور بغیرت کے بچوں اور جھوٹ کے پلندوں

Erum Jaffri profil fotoğrafı
Erum Jaffri1 yıl önce

تمھاری مالکن خود مان چکی ہے کہ تمھاری گاڑی نے پیچھے سے ٹکر ماری اور تمھارے ڈرائیور نے اُس کا اعتراف بھی کیا ہے دراصل پنجاب پولیس اور حکومت اتنا جھوٹ بول چکی ہے کہ اُنہیں خود بھی یاد نہیں کب کیا بولا تھا

Tamina Mirza profil fotoğrafı
Tamina Mirza1 yıl önce

Moonis KO sawaay apnay abbay k sab ki fiker hai

M Zubair Shah profil fotoğrafı
M Zubair Shah1 yıl önce

پنجاب کے حرامخور پولیس اس وڈیو میں جو دیکھا جا سکتا ہے کیا یہ ظلم بھی طلباء کے گروپ ایکدوسرے کے ساتھ کر رہے ہیں

Khalid Umar Ibrahim profil fotoğrafı
Khalid Umar Ibrahim1 yıl önce

پنجاب پولیس جو فوجیوں کی بی ٹیم ہے اس کے کارنامے اپنے کانوں سے سنیں۔ ان حرامیوں کی باتوں میں مت آنا۔ یہ فوجی حرامزادوں کی بی ٹیم ہے۔

Rachid abbacy profil fotoğrafı
Rachid abbacy1 yıl önce

صوبے کی بھرتی کی ھوئی وزیر اعلی خود کہا رہی کہ بچہ پولیس کی گاڑی کی ٹکر سے زخمی ھوا تو پھر کیا شک رہ جاتا ہے کسی کے لئے

AamirPTI profil fotoğrafı
AamirPTI1 yıl önce

یہ تو آپ ہیں یا یہ بھی فیک ہے

SSG of Pti profil fotoğrafı
SSG of Pti1 yıl önce

یہ وہ ویڈیو نہیں ہے بے شرموں

Benzer Videolar

اسلام آباد میں سرعام بدمعاشی!! ابھی ایک شہری نے ویڈیو بھیجی!! کہہ رہاہے, پاکستان میں واقع ہی جنگل کا قانون ہے جوکہ آج ثابت ہو گیا آج میں اپنے کزنز کے ہمراہ مری سے براستہ ایکسپریس وے اسلام آباد کی طرف اسلام آباد آرہے تھے, تو اسی دوران ایک TOYOTA AXIO گاڑی جسکو ایک شخص شراب میں دھت ہو کر 846-BMC رجسٹرڈ نمبری چلا رہا تھا جس نے پہلے دو تین بار ہماری گاڑی کو ہٹ کرنے کی کوشش کی اور جس سے پہلے تو ہم نے بمشکل خود کو بچایا تو وہ شخص کبھی ہمارے آگے کبھی ہماری سائیڈ پر آکر سائیڈ دبانے کی کوشش کرنے لگا آخر کار ہم نے گاڑی اس سے پیچھے کر لی تو اس نے ہم سے آگے گاڑی بھگا کر آگے لے گیا آگے جا کر ایکسپریس وے کے عین درمیان میں گاڑی کھڑی دی اس میں سے نکل کے ہمیں گالیاں دینی شروع کر دی اور گاڑی سے پسٹل نکال کر ہم پر تان لیا جو کہ ویڈیو میں صاف دیکھا جا سکتا ہے عین اس وقت ہم نے ہمت کرکے فورا موبائل سے ویڈیو بناتے ہوئے گاڑی پیچھے کو بھگا لی اور اس طرح ہماری بچت ہوئی لیکن 130 پہ موٹروے پولیس اور 15 پر کال کرنے کے باوجود وہ بندہ بھاگ گیا یہ ہے آپ کے پنجاب اور اسلام آباد کی پولیس کی کارکردگی ایک بندہ سرعام ایکسپریس وے کے اوپر شراب پی کر گاڑی چلا رہا ہے اور لوگوں کی گاڑیوں میں ہٹ کر رہا ہے اور سرعام روڈ کے درمیان میں گاڑی کھڑی کرکے لوگوں پر اسلحہ تان رہا ہے اور پولیس کو بار بار کال کرکے اطلاع دینے کے باوجود وہ بھاگ جاتا ہے وہ بھی اتنی آسانی سے کہ جیسے اٹے میں سے بال نکلتا ہے ایک مشہور شاہراہ پر لوگوں کی جان کی یہ اہمیت ہے کہ کوئی بھی کہیں بھی سرعام روڈ کے درمیان کھڑا ہو کر پسٹل تان لیتا ہے باقی, اگر اسلام آباد کا یہ حال ہے تو باقی ملک کا تو اللہ ہی حافظ ہے!!

ZEShan ⚫

33,554 görüntüleme • 1 ay önce

یہ تحریر اور ویڈیو بھی وائرل ہے،کسی کو اصل حقائق معلوم ہیں تو کمنٹ کریں ، FIR بھی کہیں نظر نہیں آئی👇 مولانا ابوبکر معاویہ حفظہ اللہ گرفتار ہوئے، تھانے لائے گئے اور پھر ایک مقامی تھانے پولیس انچارج انہیں ہتھکڑیوں میں جکڑ کر پولیس کے پہرے میں بلا دلیل ذلیل کر رہا ہے اور انہین ڈر دھمکا کر خوفزدہ کر رہا ہے ۔۔۔۔۔۔ سوال یہ ہے کہ ان پر جو الزام اس نے لگایا، اس پر کہاں تفتیش ہوئی؟ اور اسے کس نے عدالت لگا کر فیصلہ سنانے اور پھر ویڈیو بنا کر اسے پھیلانے کی اجازت دی ؟ یہ کون سا قانون ہے ؟کون سی دفعہ کے تحت یہ سب درست ہے کہ ایک عام شہری تو کجا اتنے بڑے عالم دین کی ایک عام سا سپاہی یوں بے عزتی کرتا پھر رہا ہے ۔۔۔۔۔۔ یہ واقعہ کیا ہے؟ ، سن لیں گرفتاری اور تھانے میں لائے جانے سے پہلے مولانا ابوبکر معاویہ حفظہ اللہ نے ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر اپلوڈ کی تھی جس میں وہ بتا رہے تھے کہ ہم یہاں اس علاقے میں ڈاکوؤں کے نرغے میں ہیں اور پولیس ہماری مدد کے لیے نہیں آ رہی۔ جس جگہ سے ابوبکر معاویہ صاحب نے ویڈیو بنائی اس جگہ کا نام بھی وہ بتا رہے تھے حضرت مولانا ابوبکر معاویہ صاحب پولیس کو کال کرتے ہیں تو پولیس والے حسب عادت و روایت وہی پہلا جواب دیتے اور کہتے ہیں کہ یہ ہمارا علاقہ نہیں ہے ،دوسروں کو کال کی جاتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ابھی ہم آ رہے ہیں اور وہ نہین آتے، اسی دوران میں مولانا ابوبکر معاویہ صاحب ایک ویڈیو ریکارڈ کرکے اپلوڈ کرتے ہیں کہ ہم پولیس کو کہہ رہے ہیں اور یہ پہنچ نہیں رہے اور یہاں پر ڈاکوؤں نے سڑکوں پر قبضہ جما رکھا ہے ۔ ایک گاڑی میں بچے بھی ہیں۔ تھوڑی دیر میں مولانا ابوبکر معاویہ اپنی لائسنس یافتہ کارتوسی گن سے دو فائر کرتے ہیں جس سے ڈاکو راستہ چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں۔ ٹریفک کھل جاتی ہے اور وہ بھی گھر پہنچ جاتے ہیں۔ صبح ہوتے ہی اس جرم میں ان کو اسی لباس میں گرفتار کر لیا جاتا ہے اور پھر ان کی تھانے کے اندر ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جاتی ہے کہ انہوں نے بچے کے ساتھ بدفعلی کرنے کی کوشش کی ہے یا اس سے دبوا رہے تھے اور پھر پولیس والا ان سے انتہائی بدتمیزی کر رہا اور بدترین الزامات لگا رہا ہے ۔ اس عرصے میں نہ تو کسی بچے کو سامنے لایا گیا اور نہ جنہوں نے ایف ائی ار کروائی ہے وہ سامنے آئے، نہ ہی بچے کے ورثا تک سامنے آئے ہیں ۔صاف سیدھا نظر آ رہا کہ یہ سب صرف اور صرف پولیس نے اپنی پیشہ ورانہ اور ذمہ داری کی ناکامی چھپانے اور اس کے جواب میں علما کو ٹارگٹ کرنے کی کی کوشش ہے اور پولیس والا پہلی ویڈیو کی وجہ سے انتقام لے رہا ہے ۔ہماری سب اہل ایمان سے یہ گزارش ہے کہ وہ ایک جید و متحرک عالم دین کے لیے آواز اٹھائیں۔مولانا ابوبکر معاویہ کا جرم صرف یہ ہے کہ انہوں نے پولیس کے نہ آنے پر راستہ واگزار کیا اور ویڈیو اپلوڈ کی جسےعلاقے کی پولیس نے اپنی بدنامی تصور کرکے ان کے خلاف مذموم کارروائی کی اور پھر ان پر انتہائی گھٹیا اور قبیح ترین الزام عائد کر کے تھانے میں خود ہی عدالت لگا کر انہیں نشانہ بنا دیا۔ سوال یہ ہے کہ اگر کسی کالج یونیورسٹی کا معاملہ ہو تو سارے لبرل سیکولر فوری اس کے دفاع میں آجاتے اور معاملہ دبا دیتے ہیں ، بہاولپور اسلامیہ یونیورسٹی کا واقعہ ایک مثال ہے تو پھر دینی طبقات جماعتیں علما اور شخصیات کہاں ہیں؟ وہ اس پر مکمل چپ سادھے بیٹھے ہیں ، آخر کیوں ؟ ( علی عمران شاہین)

Ammar Khan Yasir

83,355 görüntüleme • 2 yıl önce

خزینہ بانڈہ حملے کی مبینہ ویڈیو منظرعام پر، پولیس کی استعداد کار اور سیکیورٹی تیاریوں پر سوالات ضلع ہنگو کے علاقے خزینہ بانڈہ میں پولیس چیک پوسٹ اور بیک اپ پارٹی پر ہونے والے حملے سے منسوب ایک تفصیلی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے، جسے کالعدم ٹی ٹی پی سے منسوب کیا جا رہا ہے۔ ویڈیو کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم اس نے خیبرپختونخوا میں پولیس کی استعداد اور سیکیورٹی تیاریوں پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ویڈیو میں جدید ڈرونز، جدید اسلحہ اور حملہ آوروں کی مربوط جنگی حکمتِ عملی کا استعمال دیکھایا گیا ہے، جبکہ پولیس اہلکار محدود وسائل میں غیر پیشہ وارانہ انداز میں اپنی پوزیشنوں کا دفاع کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس کے بعد سوشل میڈیا اور مختلف حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ پولیس کو گزشتہ برسوں میں بڑے پیمانے پر وسائل اور فنڈز فراہم کیے جانے کے باوجود انسدادِ ڈرون ٹیکنالوجی، جدید حفاظتی آلات اور ضروری جنگی سازوسامان کیوں میسر نہیں آ سکے۔ دوسری جانب ایک اور ویڈیو بھی گردش کر رہی ہے، جس میں مبینہ طور پر حملے کے دوران اغوا ہونے والے پولیس اہلکاروں کی رہائی کا منظر دکھایا گیا ۔ اس ویڈیو کی بھی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ اس حوالے سے خیبرپختونخوا پولیس یا دیگر متعلقہ حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف بھی سامنے نہیں آیا۔ دفاعی و سیکیورٹی امور پر نظر رکھنے والے بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ پولیس بنیادی طور پر سماجی جرائم کو کنٹرول اور معاشرے کو ریگولیٹ کرنے والی سوشل فورس ہے، جبکہ جدید ٹیکنالوجی اور عسکری مہارت سے لیس شدت پسند گروہوں کا مقابلہ کرنے کے لیے خصوصی فوجی تربیت، جدید سازوسامان اور مؤثر انٹیلی جنس اور فضائی معاونت درکار ہوتی ہے۔ ان کے مطابق اگر پولیس کو درپیش خطرات کی نوعیت کے مطابق اگر وسائل، تربیت اور ٹیکنالوجی فراہم کر بھی دی جائے تو بھی پولیس فورس ایسے حملوں سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت نہیں پا سکتی۔ حالیہ ویڈیوز اور ان پر ہونے والی بحث نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال سامنے لا کھڑا کیا ہے کہ آیا خیبرپختونخوا پولیس موجودہ سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے قابل ہے ؟ یا پھر خیبر پختون خوا پولیس مکمل انہدام کی طرف بڑھ رہی ہے ؟؟؟

Aslam Awan

18,570 görüntüleme • 1 ay önce

گوادر میں فوج کے ہاتھوں اپنے ہی اہلکار قتل | ✅ گوادر میں ہلاک ہونے والے دو مسلح افراد کے معاملے میں ڈرامائی موڑ ، پاکستانی ملٹری انیلیجنس (MI) نے اپنے ہی ایجنٹوں کو گرفتار کرنے کے بعد تعش میں آکر قتل کردیا اصل واقعہ: گزشتہ روز گوادر پولیس نے دو زیرِ حراست افراد، عدنان اور عبداللہ، کو ہلاک کر دیا۔ پولیس کے مطابق دونوں ملزمان کی نشاندہی پر ایک روز قبل پولیس سے چھینا گیا سرکاری اسلحہ برآمد کرنے کے لیے کارروائی کی گئی، جہاں مبینہ طور پر مسلح افراد نے پولیس پر فائرنگ کی، جس کے جواب میں پولیس نے فائرنگ کی۔ تاہم، دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ حقائق اس سرکاری مؤقف سے مختلف ہیں۔ ذرائع کے مطابق، عدنان اور عبداللہ دونوں مبینہ طور پر پاکستانی فوج کے ملٹری انٹیلیجنس (MI) سے وابستہ ایجنٹ تھے۔ ہلاک ہونے والے عبداللہ کا بھائی، فاروق، گوادر میں ایک مسلح گروہ کی سربراہی کرتا ہے، جسے مقامی سطح پر "ڈیتھ اسکواڈ" کہا جاتا ہے۔ فاروق اور اس کا گروہ پاکستانی فوج کی معاونت کرتے ہوئے گھروں پر چھاپوں، جبری گمشدگیوں اور دیگر کارروائیوں میں کردار ادا کرتا رہا ہے، جبکہ عدنان اور عبداللہ بھی ان سرگرمیوں میں شامل رہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق، دونوں افراد نے اپنی موٹر سائیکل ضبط کیے جانے کے ردعمل میں پولیس کا سرکاری اسلحہ چھین کر اپنے ٹھکانے پر منتقل کر دیا تھا۔ بعد ازاں، مبینہ طور پر اسلحے میں موجود ٹریکنگ چپ کی مدد سے اسی رات ان کے ٹھکانے پر چھاپہ مارا گیا، دونوں افراد کو گرفتار کر لیا گیا، جبکہ اسلحہ ٹھکانے کی چھت سے برآمد کیا گیا۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ جیونی میں ہونے والے حملے کے بعد پاکستانی خفیہ اداروں نے غصے میں آ کر اپنے ہی دونوں مبینہ ایجنٹوں کو پولیس کے ذریعے ایک ڈرامائی مقابلے کی صورت میں فائرنگ کروا کر ہلاک کر دیا #Balochistan #BalochistanFacts

Balochistan Facts

42,834 görüntüleme • 2 ay önce