Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

تند و مست ہوا سے بھی ٹکرا گۓ اے وطن تجھ پر فدا ہونےکو أ گۓ شوق شھادت نہ چھین سکا کوئ کفن اوڑھے ماں کے أنگن میں أ گۓ کرے اگر دشمن دھرتی ماں پر وار تیری گود میں پلے ہم جانثار أ گۓ بحر و بر ہو...

66,334 views • 1 month ago •via X (Twitter)

1 Comments

MOHSIN غوری's profile picture
MOHSIN غوری1 month ago

❤️❤️❤️❤️🇵🇰❤️❤️❤️❤️

Related Videos

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ یَنْصُرْكُمْ وَ یُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ● ترجمہ: اے ایمان والو اگر تم دینِ خدا کی مدد کرو گے اللہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جمادے گا چئیرمین تحریک انصاف پاکستان جناب عمران خان سے آج ایک دفعہ پھر زمان پارک لاہور میں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات ہوئی،انہیں ہمیشہ کی طرح ثابت قدم،بلند ہمت،شجاع،نڈر اور بہادر پایا۔ عمران خان صاحب ملک میں بنیادی انسانی حقوق اور آئین کی حکمرانی ،ملکی خودمختاری اور پاکستان کو ایک آزاد ملک بنانے کی جدو جہد میں جان تک قربان کرنے کو تیار ہیں،ہم ان کیے عزم و حوصلے اور ثابت قدمی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، یہ قانون قدرت ہے کہ قوموں پر مسلط کرپٹ گروہ ہر حال میں رسوا ہوتے ھیں اور ان کاُ انجام برا ھوتا ھے ان شاء اللہ وطن عزیز پاکستان کے باشعور،غیور عوام اپنی جدوجہد میں ضرور کامیاب ہونگے،اور ھم کبھی بھی سچائی کے راستے پر چلنے والوں کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔ پاکستان زندہ باد

Senator Allama Raja Nasir

345,366 views • 3 years ago

مقتدرہ سےکہنا چاہتا ہوں کہ آپ بھی کوئی غیر نہیں ہیں،آپ بھی ہمارے پاکستانی ہیں،آپ بھی ہمارے کلمہ گو بھائی ہیں۔لیکن ملک کے اندر رہنا ہے تو میرے لیے بھی ایک دائرہ ہے، مجھے اپنے دائرے سے باہر نہیں جانا چاہیے۔ پارلیمنٹ کا بھی ایک دائرہ ہے، ہر محکمے کا ایک دائرۂ اختیار ہے، اسی طرح فوج کا بھی ایک دائرۂ اختیار ہے۔ فوج کی بھی ایک ذمہ داری ہے، اپنی ذمہ داری پر نظر رکھو۔ ملک اجڑ رہا ہے۔ خیبر پختونخوا میں آج کوئی حکومت نہیں ہے،مغرب کا سورج غروب ہونے کے بعد، صبح سورج طلوع ہونے تک پولیس اپنے تھانے سے باہر نہیں آتی۔ اور جب پولیس تھانے سے باہر نہیں آئے گی تو پھر سڑکیں مسلح گروہوں کے سپرد ہوں گی، پھر سڑکیں اور راستے ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر ہوں گے۔ آپ کی حاکمیت کو میں اپنے صوبے میں جانتا ہوں، تمہاری کوئی حکومت نہیں ہے۔ تم صرف دارالحکومتوں میں اپنے اپنے بڑے بڑے بنگلوں کے اندر بیٹھے ہوئے ہو، ٹانگ پر ٹانگ ڈال کر سمجھتے ہو کہ ہم حکمران ہیں۔ کم از کم میرے صوبے میں تمہاری کوئی حکومت نہیں ہے۔ اور یہ بات سن لو، دل کے کان کھول کر سن لو، یہ حقائق ہیں۔ میں کوئی اسٹیج پر خطابت نہیں دکھا رہا ہوں۔ بلوچستان میں بلوچ علاقوں میں بغاوتیں تھیں، پورا بلوچ علاقہ پاکستان کے اختیار سے نکل چکا تھا۔آج بھی وہاں پر پاکستان حکومت کی کوئی رٹ موجود نہیں ہے۔لیکن ہم تو بلوچ علاقے کو رو رہے تھے،اب تو پشتون علاقہ بھی خون میں نہا رہا ہے۔پشتون علاقے میں ہم نے دو تین دن کے اندر پچاس سے زیادہ لاشیں وصول کی ہیں۔ ہم نے بازاروں میں ایک ہی کام کیا کہ اپنے پیاروں کے لیے کفن خرید سکیں۔ ہم نے صرف ایک ہی کام کیا کہ اپنے پیاروں کے جنازے پڑھ سکیں۔ یہ کیا پاکستان کے عوام کی قسمت میں ہے کہ ہم نے یہاں پر خون دے کر وقت گزارنا ہے؟ نہ میرا بچہ اسکول پڑھنے کے لیے گھر سے باہر نکل سکتا ہے،نہ میرے صوبے کا غریب انسان روزی مزدوری کے لیے گھر سے باہر جا سکتا ہے، اور اگر گھر سے باہر نکلتا ہے تو وہ اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتا۔ پھر کہتے ہیں، ہمارے جوان جو شہید ہو رہے ہیں۔ او بابا! تیرے جوانوں نے پٹی اسی لیے باندھی ہے، تنخواہ اسی کے لیے لے رہے ہیں کہ اس نے ملک کی سلامتی کے لیے لڑنا ہے۔ تم اپنے خون کا میرے اوپر کیا احسان ڈالتے ہو؟ تم میرے خون پسینے کے ٹیکس سے اسی بات کے لیے تو تنخواہ لے رہے ہو، لیکن ہمیں کہتے ہو کہ تم لشکر نکالو، تم اسلحہ لے کر مسلح گروہوں کے خلاف لڑو۔ میں نے کوئی تنخواہ نہیں لی، میں کوئی لشکر نہیں بناؤں گا۔ تم چلے جاؤ گے، تم میری سرزمین کو آنے والی نسلوں تک ذاتی دشمنیوں کی طرف دھکیل رہے ہو، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے قتل و غارت گری کی طرف دھکیل رہے ہو۔ یہ سیاست کسی اور کو سمجھاؤ، یہ ہمیں مت سمجھایا کرو۔ آپ نے اگر سیاست کرنی ہے تو وردی اتار کر آئیے، الیکشن میں حصہ لیجیے، پتہ چل جائے گا کہ وردی والے کو لوگ کیا ووٹ دیتے ہیں۔ یہ آپ کا اختیار ہے کہ آپ جس کو چاہیں حکومت دیں گے، اور جس سے چاہیں گے حکومت چھین لیں گے۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا قصور پنجاب میں جلسے سے خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

281,323 views • 2 months ago

کیا رضا ڈار پی ٹی آئ کے عمر ڈار کا بھانجا اور ریحانہ ڈار کا نواسہ ہے ؟ سراسر جھوٹ کیا رضا ڈار نائب وزیراعظم ،وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا نواسہ ہے؟ جی ہاں سو فیصد درست(منیب فاروق نے اپنے ویلاگ میں کنفرم کیا ہے) پھر کچھ ن لیگی سوشل میڈیا ورکرز رضا ڈار کو عمر ڈار ریحانہ ڈار اور پی ٹی آئ سے کیوں جوڑ رہے ہیں ؟ غریب ٹھرکیوں کے نیفے میں سیدھا پستول اور امیر ٹھرکیوں کے خلاف قانون پر عمل؟ کیا بگاڑ لے گا یہ سسٹم رضا ڈار کا ؟ آج جسمانی ریمانڈ پر ہے کل جوڈیشل ریمانڈ پر جیل جاۓ گا پرسوں کوئ بڑا وکیل کروڑوں روپے فیس لیکر رضا ڈار کو ضمانت پر رہا کرا لے گا اور تیسرے دن پتا چلے گا کہ غیر ملکی خواتین اور رضا ڈار کے درمیان تمام معاملات باہمی رضامندی و خوش اصلوبی سے طے پا گۓ ہیں لہذا "مٹی پاؤ" ایک منٹ کے لیے مان لیتے ہیں یہ جنسی زیادتی وغیرہ کا کیس نہیں بلکہ کاروباری لین دین کا معاملہ ہے تو کیا کاروباری معاملات میں بیرون ملک سے خواتین کو بلا کر گھمایا پھرایا جاتا ہے ؟ جی بلکل مہمان نواز کی جا سکتی ہے تا کہ کاروبار کے مثبت نتائج نکل سکیں ۔ لیکن کیا گھمانے پھرانے کے بعد ان غیر ملکی خواتین کو اغواہ کر کے کہیں قید کیا سکتا ہے ؟ جی بلکل بھی نہیں کیوں کہ کاروبار میں ایسا نہیں ہو سکتا جب تک کاروباری بندہ فراڈیا دو نمبر نا ہو اب یا تو رضا ڈار دو نمبر کاروباری فراڈیا ہے یا پھر جنسی درندہ اگر کاروباری فراڈ کا معاملہ ہوتا تو خواتین کو بازیاب کروا کے انکے بیانات اور میڈیکل کروا کے انہیں فوری انکے ملک واپس نا بیجھ دیا جاتا بلکہ انہیں روک کر کاروباری فراڈ پر تحقیقات آگے بڑھائ جاتیں

𝐈𝐦𝐫𝐚𝐧 𝐇𝐚𝐛𝐢𝐛

39,770 views • 3 months ago

آپ اپنے شہداء کی بات کرتے ہیں، مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کس کو کہتے ہیں؟ مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کا مقام کیا ہے؟ میں قرآن و سنت کا ایک طالب علم ہوں، میں شہید کے مقام کو جانتا ہوں، شہید کیا ہوتا ہے؟ جو شہید اپنے وطن کے لیے قربانی دیتا ہے، اس کی قدر و منزلت کو میں جانتا ہوں۔ آپ مجھے اس کی قدر و منزلت نہ سمجھائیں۔ میں تمہیں جانتا ہوں کہ تمہاری نظر میں اپنے شہداء کی کیا قدر و قیمت ہے۔ پاکستان ایک ادارہ جاتی ملک ہے، اور پوری دنیا میں ادارے متعین ہیں، ان کا دائرۂ کار متعین ہے، ان کا دائرۂ اختیار متعین ہے۔ اگر میں نے آپ کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کیا ہے، اگر میں نے آپ کو ان کے اپنے دائرۂ کار اور اس دائرۂ کار کے اندر ان کی صلاحیتوں کی طرف متوجہ کیا ہے، تو میں اب بھی کہتا ہوں: پالیسی ساز لوگو! سپاہی نے تو آپ کا حکم ماننا ہے۔ پالیسی ساز تو آپ بڑے ہیں۔ میں آپ کی پالیسیوں سے اختلاف کر رہا ہوں، بڑے ادب و احترام کے ساتھ اختلاف کر رہا ہوں، لیکن آپ میرے بیان کی ازخود تشریح کر کے جو میری کردار کشی کرنا چاہتے ہیں، اور سمجھتے ہیں کہ فضل الرحمٰن جھک جائے گا، سرنڈر کر جائے گا۔ یاد رکھو! مجھے میرے ماں باپ نے سرنڈر ہونے کے لیے نہیں جنا۔ اور میں نے آپ کو اپنی ذمہ داریوں تک محدود رہنے کی بات کی ہے۔ یہ میں نے پہلی مرتبہ نہیں کی۔ یہ تو پارلیمنٹ میں اور عام جلسوں میں بھی میں نے بار بار کہی ہے۔ قصور والی بات قصوروار ٹھہری، اور عجیب بات بتاؤں، وکلاء حضرات! ذرا اس پر بھی غور کریں کہ اڑتالیس گھنٹے بعد ان کو پتا چلا کہ میں نے یہ بات کہی ہے۔ مجھے افسوس یہ ہے کہ میرے خلاف بدنیتی پر مبنی ایک جملے کی غلط تشریح کر کے قوم کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی، عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی، میڈیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی، اور شہداء کے خاندانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ میں ان کو بتانا چاہتا ہوں کہ صرف ہم ہیں، الحمد للہ، صرف ہم ہیں جنہوں نے ایک سے زیادہ مرتبہ جلسوں میں یہ بات کہی ہے: "اگر میری فوج پر خدا سخت وقت نہ لائے، میرے ملک پر خدا برا وقت نہ لائے، ورنہ جب میری فوج اپنے ملک کا دفاع کرے گی تو میرے یہ فقیر ان شاء اللہ اپنے فوجیوں کے شانہ بشانہ مورچوں میں کھڑے ہوں گے۔" آپ نے کبھی ہمارے اس جذبے کو سراہا؟ اور قربانیاں ہیں، اگر پاکستان کا ایک سپاہی ملک کے لیے قربانی دیتا ہے، اور اسی لیے وہ فوج میں بھرتی ہوا ہے، تو جمعیۃ علماء اسلام تو فوج نہیں ہے، پھر میری جمعیۃ علماء اسلام کی صفوں کے اندر سے بڑے اکابر سے لے کر عام علماء اور طلبہ تک دو سو سے زیادہ شہداء ہم نے کیوں دیے؟ کس کے لیے دیے؟ تم نے اس قسم کی حرکت کر کے جمعیۃ علماء اسلام کے کارکنوں اور ان کی قربانیوں کا مذاق اڑایا ہے، اور اب اس کا ردِعمل آئے گا۔ آپ سمجھتے ہیں کہ ہم پیچھے ہٹ جائیں گے؟ ہم نے ترتیب بنا لی ہے۔ میں چاروں صوبوں میں جاؤں گا۔ چاروں صوبوں میں وہاں کے عوام اور کارکنوں کے درمیان جاؤں گا، بڑے جلسوں سے بھی اور کنونشنوں سے بھی خطاب کروں گا۔ میں اپنا موقف لے کر آگے جاؤں گا۔ تم نے میرے علماء کو شہید کیا۔ علماء کرام شہید ہوئے۔ میرے استاد اور میرے شیخ مولانا حسن جان شہید ہو گئے۔ میرے والد صاحب کے شاگردِ رشید، وزیرستان کے استاد الاساتذہ مولانا نور محمد شہید ہو گئے۔ مولانا معراج الدین، جو میں سمجھتا ہوں کہ میرا دایاں بازو تھے، تم نے وہ بازو توڑ دیا۔ اور میں نے باجوڑ میں ایک جلسے کے ایک سو جنازے اٹھائے ہیں، میں روزانہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں کہیں نہ کہیں دو یا تین جنازے اٹھا رہا ہوں۔ میں تو آپ کے ہر جنازے پر آپ کے ساتھ رویا ہوں۔ کبھی یاد ہے کہ تم میرے جنازے پر میرے ساتھ روئے ہو؟ مجھے کہتے ہو تم نے غلط بات کی ہے؟ میں کہتا ہوں تم نے اپنے شہداء کی بھی تذلیل کی ہے، فوج کے شہداء کی بھی تذلیل کی ہے، ان کے خاندانوں کی بھی تذلیل کی ہے، تم نے میرے شہداء کی بھی تذلیل کی ہے، تم نے ان کی بھی بے توقیری کی ہے۔ معافی کہتے ہو فضل الرحمٰن مانگے؟ نہیں! آج اگر میری بات غلط ہے تو مجھے ضرور رائے دیں۔ آپ قانون کے ماہر ہیں، میری رہنمائی کریں۔ میرا مطالبہ یہ ہے کہ جس فوج نے، جس جنرل نے، جس دفتر سے میرے خلاف اور میری جماعت کے خلاف پروپیگنڈا کمانڈ کیا ہے، اس کو معافی مانگنی ہوگی۔ ہم نے ایسی کوئی کچی گولیاں نہیں کھیلی ہیں۔ بھروسا تم نے توڑا تھا، مگر خود کو سزا یوں دی کہ پھر جو مل گیا مجھ کو، بھروسا کر لیا اُس پر قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب #مرد_آہن_مولانا #پروپیگنڈہ_برگیڈ #چوکیدار_وڑگیا #BroadcastMaulanaNow #LawyersStandWithMaulana

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

24,788 views • 2 months ago

سید کی دعا سے سید کی سپہ سالاری تک کا سفر‼️‼️ مخدوم سید صفدر بخاری لاہور کے مشہور بزرگ ہیں۔ اس نایاب وڈیو میں یہ بتا رہے ہیں کہ اسلام آباد کے مشہور صوفی بزرگ شاہ عبدلطیف کاظمی المعروف بری امام نے آج سے ساڑھے تین سو سال پہلے پیشن گوئی کی تھی کہ نورپور ایک دن اسلام کا قلعہ بنے گا۔ یاد رہے بری امام کا دور اورنگزیب عالمگیر کا دور ہے جو ایک طاقت ور مسلم بادشاہ تھے اور ان کا دارلخلافہ دہلی تھا۔ لیکن انہوں نے دہلی کی بجائے نور پور شاہاں کو اسلام کا قلعہ بننے کی پیشن گوئی کی۔ شاید وہ جانتے تھے مغل سلطنت نے ختم ہونا ہے اور اصل اسلام کا قلعہ جس کی میر عرب ﷺکو ٹھنڈی ہوا آئی تھی وہ آگے بننا ہے۔ الحمدللہ ان کی پیشن گوئی سچ ثابت ہوئی اور نور پور شاہاں کا نام تبدیل ہو کر اسلام آباد بنا اور وہ اسلام کے قلعہ پاکستان کا دارلخلافہ بن گیا۔ اللہ کے ولی کی بات سچ ثابت ہوئی۔ ہر اللہ والا اس پر فخر کرتا ہے لیکن کفار جو کل بھی اس پیشن گوئی سے خائف تھے وہ آج بھی اس قلعہ کو کمزور کرنے کی تدبیریں کر رہے ہیں۔ باہر کے دشمن جنگ کر کے اور اندر کے دشمن فتنہ و فساد کر کے اپنا مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ دشمن کا وار وہی پرانا ہے فرقہ واریت، لسانیت اور سیاست۔ اندرونی دشمن یہاں تک کھل کر سامنے آ گئے کہ اسی اسلام آباد کو سومنات بنانے کی خواہش ظاہر کر دی۔ ان تمام دشمنان اسلام اور پاکستان کے لیے اتنا کافی ہے کہ یہ ملک اسلام کے نام پر قائم ہوا ہے اور اس کی حفاظت اللہ تعالی کرے گا۔ ہاں اس بار اللہ نے اپنے اس قلعہ کو بچانے کے لیے ابابیل نہیں چنے بلکہ یہ مقدس فریضہ شیردل پاک فوج کو دیا ہے۔ اس فوج کی کمان بھی شیر خدا علی المرتضی کی اولاد کو دی ہے۔ ہم رہیں نہ رہیں انشاءاللہ یہ وطن تا قیامت سلامت رہے گا۔ کیونکہ کل ایک سید نے کہا تھا کہ نورپور اسلام کا قلعہ بنے گا اور وہ بنا، اور آج ایک سید نے کہا ہے پاکستان ہمیشہ زندہ باد تو انشاللہ پاکستان ہمیشہ زندہ باد رہے گا 🇵🇰🇵🇰🇵🇰

حِجاب رندھاوا H.R

101,740 views • 18 days ago

اب فیصلہ پاکستان کے عوام کریں گے جج اپنی عدالتی حیثیت کو مجروح کر چکا ہے ہم عدلیہ کے وقار کو بحال کرنا چاہتے ہیں عدلیہ کا مقام اتنا بلند ہے کہ اگر اس کے وقار کو برقرار رکھنے کے لئے دو چار جج قربان ہوجائیں تو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اسلام میں عدل و انصاف کا معیار ہے بندیال صاحب آپ کو پارلیمنٹ کی تذلیل کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔ہتھوڑا گردی نامنظور تمام ادارے اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر اپنے فرائض انجام دیں۔ اگر سیاست کرنی ہے تو اس بلڈنگ سے باہر آ پتہ چل جائے گا اس بازار میں آپ کی قیمت کیا ہے، ہم کہتے ہیں کہ کہاں وہ جتھہ وہ دہشت گرد تحریک انصاف کا دہشت گرد ،میں کہتا ہوں کہ ساری پولیس ہٹ جائے ہم اس عمارت کی حفاظت کریں گے اس عمارت کے تحفظ اور وقار پر سودا نہیں کیا جاسکتا۔ 2018 کے انتخابات میں ننگی دھاندلی ہوئی تو ہم میدان میں نکلے اور پھر یہ نہیں دیکھا کہ کوئی جنرل ناراض ہوتا ہے،اس وقت اسی جگہ مظاہرہ کیا لیکن کوئی سومو ٹو ایکشن نہیں لیا گیا جب آزادی مارچ کیا اور پندرہ لاکھ لوگ شریک ہوئے تو آپ کے کان پر جوں تک نہیں رینگی آج جب نکے کے ابا نے اس سے ہاتھ اٹھا لیا تو آپ اس کا ابا بننے کی کوشش کر رہے ہیں، آپ کو اس کا ناجائز ابا تسلیم نہیں کیا جائے گا ہم نے ہمیشہ غلامی کی زنجیریں توڑی ہیں اور آج بھی غلامی کی زنجیریں توڑنا جانتے ہیں چیلنج کرتا ہوں اس ایک مہینہ میں کتنا مس کنڈکٹ کیا ہے اپنی عدالت۔ وزیر اعظم نے ہمیشہ عدلیہ کا احترام کیا اگر تم نے حکومت پر ناجائز ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی تو پارلیمان وزیر اعظم کا تحفظ کرے گی اور تمھیں پریشانی ہوگی تحفظ کی جگہ نہیں ملے گی۔ 60۔ارب کی کرپشن کا مجرم جبکہ اس کے خلاف ریمانڈ دیا جا چکا ہے کیا اس کو کبھی ضمانت ملی ہے امریکی کانگریس کے اندر ایک یہودی جو فرینڈز آف اسرائیل کمیٹی کا چیئرمین ہے وہ بھی آرمی چیف کے خلاف ہے سی آئی اے سبکدوش افغان نژاد امریکی ایجنٹ بھی اور عمران بھی آرمی چیف کے خلاف ہے تکلیف کیا ہے ان کو کیا اس وجہ سے تکلیف نہیں کہ وہ حافظ قرآن ہے ۔ عمران خان بلا وجہ فوج کو نشانہ نہ بناؤ آرمی چیف سنیارٹی کی بنیاد پر آیا ہے ۔ جی ایچ کیو پشاور لاہور کور کمانڈرز کے گھروں قلعہ بالا حصار میانوالی کی ائیر بیس پر حملوں اور شہداء کی یادگاروں کو اکھاڑنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنی ہو گی ۔ عدالتیں مجرموں کو تحفظ نہ دیں ۔ کیا کسی جج کی تربیت میں فرق رہ گیا ۔ ہر ناجائز بات کو دستور کے مطابق قرار دے رہے ہیں ۔ چیف جسٹس سن لو یہ دستور ہم نے ہی بنا کر آپ کے پاس بھیجا ہے جس قانون کی بنیاد پر فیصلے کرتے ہو وہ ہمارے ہاں سے بن کر گیا ہے ۔ آپ جانتے اور ہم نہیں جانتے ۔ پاکستان میں یہودی لابی نہیں چلے گی اسرائیل کو تسلیم کرنے اور قادیانیوں کو دوبارہ مسلمان بنانے کی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے، آئین کی اسلامی حیثیت کا مکمل تحفظ کیا جائے گا ۔ عمران خان نے امریکی وساطت سے مودی کے ساتھ گٹھ جوڑ کرتے ہوئے اسے کشمیر کی حیثیت سے متعلق شق 370 ختم کرنے اور مقبوضہ کشمیر کو بھارت میں ضم کرنے کا موقع فراہم کیا ۔ پاک فوج نظریہ پاکستان اور خارجہ پالیسی کی صحیح سمت میں تحفظ کر رہی ہے پہلے بھی فوج کے شانہ بشانہ رہے ہیں آج بھی ساتھ کھڑے ہیں اور آئندہ بھی پاک فوج کے شانہ بشانہ نظر آئیں گے ۔ باجوہ کو بھی کہا تھا کہ احساس کرو صحیح سمت نہیں ہے ملک پر مشکل وقت آیا تو یہ یوتھیے اور تتلیاں نہیں ہمارے یہ جانباز کام آئیں گے ۔ جرنیلوں ، ججزوں ، امریکا ہو یورپی یونین ہو بھارت ہو سب کے سامنے حق بات بولیں گے آج عمران خان کے پرتشدد واقعات اور حملوں کے حوالے سے بھارتی فوج میں خوشی کے شادیانے بجائے جا رہے ہیں اور بھارتی فوج کہہ رہی ہے بھارت کا بھائی عمران خان سب سے پیارا عمران خان ۔ دشمن خوشیاں منا رہا ہے کہ عمران خان نے پاکستان کا ستیاناس کر دیا ۔ پاک فوج ملک کو متحد رکھنے کی طاقت ہے جو فوج کو کمزور کرے گا ایسا ملک کو کمزور کرنے کے مترادف ہو گا اور عمران خان اسی ایجنڈے پر کام کر رہا ہے ۔ جب عوامی قوت شاہراہ دستور پر آ گئی تو ججز کے تیور بدلے ہوئے تھے اور ایک ہفتے کے لیے کیس چھوڑ کر چلے گئے ۔ کوئی کسی غلط فہمی میں نہ رہے یہ مجمع پھر آئے گا اب دو تین کے نوٹس پر آیا ہے پھر ایک دن کے نوٹس پر اس سے دگنا آئے گا جو گھروں میں رہ گئے ہیں وہ بھی آئیں گے ۔ پھر جھنڈے لہرائے جائیں گے عوامی عدالت لگی ہے عوامی فیصلے ہوں گے کسی اور کے فیصلے نہیں چلنے دیں گے ۔
33:11

Sensitive content

اب فیصلہ پاکستان کے عوام کریں گے جج اپنی عدالتی حیثیت کو مجروح کر چکا ہے ہم عدلیہ کے وقار کو بحال کرنا چاہتے ہیں عدلیہ کا مقام اتنا بلند ہے کہ اگر اس کے وقار کو برقرار رکھنے کے لئے دو چار جج قربان ہوجائیں تو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اسلام میں عدل و انصاف کا معیار ہے بندیال صاحب آپ کو پارلیمنٹ کی تذلیل کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔ہتھوڑا گردی نامنظور تمام ادارے اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر اپنے فرائض انجام دیں۔ اگر سیاست کرنی ہے تو اس بلڈنگ سے باہر آ پتہ چل جائے گا اس بازار میں آپ کی قیمت کیا ہے، ہم کہتے ہیں کہ کہاں وہ جتھہ وہ دہشت گرد تحریک انصاف کا دہشت گرد ،میں کہتا ہوں کہ ساری پولیس ہٹ جائے ہم اس عمارت کی حفاظت کریں گے اس عمارت کے تحفظ اور وقار پر سودا نہیں کیا جاسکتا۔ 2018 کے انتخابات میں ننگی دھاندلی ہوئی تو ہم میدان میں نکلے اور پھر یہ نہیں دیکھا کہ کوئی جنرل ناراض ہوتا ہے،اس وقت اسی جگہ مظاہرہ کیا لیکن کوئی سومو ٹو ایکشن نہیں لیا گیا جب آزادی مارچ کیا اور پندرہ لاکھ لوگ شریک ہوئے تو آپ کے کان پر جوں تک نہیں رینگی آج جب نکے کے ابا نے اس سے ہاتھ اٹھا لیا تو آپ اس کا ابا بننے کی کوشش کر رہے ہیں، آپ کو اس کا ناجائز ابا تسلیم نہیں کیا جائے گا ہم نے ہمیشہ غلامی کی زنجیریں توڑی ہیں اور آج بھی غلامی کی زنجیریں توڑنا جانتے ہیں چیلنج کرتا ہوں اس ایک مہینہ میں کتنا مس کنڈکٹ کیا ہے اپنی عدالت۔ وزیر اعظم نے ہمیشہ عدلیہ کا احترام کیا اگر تم نے حکومت پر ناجائز ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی تو پارلیمان وزیر اعظم کا تحفظ کرے گی اور تمھیں پریشانی ہوگی تحفظ کی جگہ نہیں ملے گی۔ 60۔ارب کی کرپشن کا مجرم جبکہ اس کے خلاف ریمانڈ دیا جا چکا ہے کیا اس کو کبھی ضمانت ملی ہے امریکی کانگریس کے اندر ایک یہودی جو فرینڈز آف اسرائیل کمیٹی کا چیئرمین ہے وہ بھی آرمی چیف کے خلاف ہے سی آئی اے سبکدوش افغان نژاد امریکی ایجنٹ بھی اور عمران بھی آرمی چیف کے خلاف ہے تکلیف کیا ہے ان کو کیا اس وجہ سے تکلیف نہیں کہ وہ حافظ قرآن ہے ۔ عمران خان بلا وجہ فوج کو نشانہ نہ بناؤ آرمی چیف سنیارٹی کی بنیاد پر آیا ہے ۔ جی ایچ کیو پشاور لاہور کور کمانڈرز کے گھروں قلعہ بالا حصار میانوالی کی ائیر بیس پر حملوں اور شہداء کی یادگاروں کو اکھاڑنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنی ہو گی ۔ عدالتیں مجرموں کو تحفظ نہ دیں ۔ کیا کسی جج کی تربیت میں فرق رہ گیا ۔ ہر ناجائز بات کو دستور کے مطابق قرار دے رہے ہیں ۔ چیف جسٹس سن لو یہ دستور ہم نے ہی بنا کر آپ کے پاس بھیجا ہے جس قانون کی بنیاد پر فیصلے کرتے ہو وہ ہمارے ہاں سے بن کر گیا ہے ۔ آپ جانتے اور ہم نہیں جانتے ۔ پاکستان میں یہودی لابی نہیں چلے گی اسرائیل کو تسلیم کرنے اور قادیانیوں کو دوبارہ مسلمان بنانے کی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے، آئین کی اسلامی حیثیت کا مکمل تحفظ کیا جائے گا ۔ عمران خان نے امریکی وساطت سے مودی کے ساتھ گٹھ جوڑ کرتے ہوئے اسے کشمیر کی حیثیت سے متعلق شق 370 ختم کرنے اور مقبوضہ کشمیر کو بھارت میں ضم کرنے کا موقع فراہم کیا ۔ پاک فوج نظریہ پاکستان اور خارجہ پالیسی کی صحیح سمت میں تحفظ کر رہی ہے پہلے بھی فوج کے شانہ بشانہ رہے ہیں آج بھی ساتھ کھڑے ہیں اور آئندہ بھی پاک فوج کے شانہ بشانہ نظر آئیں گے ۔ باجوہ کو بھی کہا تھا کہ احساس کرو صحیح سمت نہیں ہے ملک پر مشکل وقت آیا تو یہ یوتھیے اور تتلیاں نہیں ہمارے یہ جانباز کام آئیں گے ۔ جرنیلوں ، ججزوں ، امریکا ہو یورپی یونین ہو بھارت ہو سب کے سامنے حق بات بولیں گے آج عمران خان کے پرتشدد واقعات اور حملوں کے حوالے سے بھارتی فوج میں خوشی کے شادیانے بجائے جا رہے ہیں اور بھارتی فوج کہہ رہی ہے بھارت کا بھائی عمران خان سب سے پیارا عمران خان ۔ دشمن خوشیاں منا رہا ہے کہ عمران خان نے پاکستان کا ستیاناس کر دیا ۔ پاک فوج ملک کو متحد رکھنے کی طاقت ہے جو فوج کو کمزور کرے گا ایسا ملک کو کمزور کرنے کے مترادف ہو گا اور عمران خان اسی ایجنڈے پر کام کر رہا ہے ۔ جب عوامی قوت شاہراہ دستور پر آ گئی تو ججز کے تیور بدلے ہوئے تھے اور ایک ہفتے کے لیے کیس چھوڑ کر چلے گئے ۔ کوئی کسی غلط فہمی میں نہ رہے یہ مجمع پھر آئے گا اب دو تین کے نوٹس پر آیا ہے پھر ایک دن کے نوٹس پر اس سے دگنا آئے گا جو گھروں میں رہ گئے ہیں وہ بھی آئیں گے ۔ پھر جھنڈے لہرائے جائیں گے عوامی عدالت لگی ہے عوامی فیصلے ہوں گے کسی اور کے فیصلے نہیں چلنے دیں گے ۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

134,553 views • 3 years ago

بطورِ صحافی رضی دادا Rizwan Razi™ کی حب الوطنی یا ان کی نرم دل، محبت اور انسانیت سے بھرپور شخصیت پر شک کرنا non-negotiable ہے۔ Period! ہم یہ اُمید رکھتے ہیں کہ وہ اس شخص سے پہلے ہی حساب لے چکے ہوں گے جس نے ان کی واضح ہدایات کے برخلاف ویڈیو میں بدنیتی سے editing کی۔ کیونکہ یہ محض professional غفلت نہیں تھی، یہ تو سیدھی سیدھی conspiracy اور غداری تھی۔ یاد رکھیں! جب رضی دادا جیسا ایک ایسا صحافی: جو اپنے زورِ بازو سے مقام حاصل کرنے والا ہے، جو سینئر ہے، نیک دل ہے اور کسی طور منافق نہیں: اپنے وطنِ عزیز پاکستان کی محبت میں، انسانیت کے درد میں یا قوم کے مسائل کے حل کی بےچینی میں لب کشائی کرتا ہے، تو بعض اوقات الفاظ سخت لگ سکتے ہیں۔ لیکن یہی انسانی فطرت ہے۔ گہرے جذبات کے لمحوں میں لہجہ چبھ بھی سکتا ہے، چاہے دل میں ذرّہ برابر بھی بُرائی نہ ہو۔ یہ زندگی کا اصول ہے: کوئی انسان کامل نہیں، کوئی جان بےعیب نہیں۔ کامل تو صرف اللہ ربّ العالمین ہیں 🕋 مگر افسوس: ہمارے اسی پاکستان میں وہ سرٹیفائیڈ اور بدنامِ زمانہ anti-national عناصر آج بھی ڈھٹائی کے ساتھ، بغیر کسی شرمندگی کے آزاد گھومتے ہیں: جو صحافت، سیاست، حب الوطنی اور انسانی حقوق کی آڑ میں زہر اگلتے ہیں، جو صوبائی نفرت کے زہر سے ہماری یکجہتی کو کمزور کرتے ہیں، جو 1947 سے اب تک ہماری قوم کو کھوکھلا کر رہے ہیں: ان کے political posts اور work contracts کبھی منسوخ نہیں ہوتے، انہیں عارضی طور پر بھی معطل نہیں کیا جاتا، ان کے social platforms کبھی block نہیں کیے جاتے۔ ان کے زہریلے پروپیگنڈے کو نہ صرف برداشت اور celebrate کیا جاتا ہے، بلکہ انعام و اعزاز سے نوازا جاتا ہے۔ اور دوسری طرف، وہ لوگ جو سچ میں ہمارے پاکستان سے محبت کرتے ہیں، جو سچائی اور صلاحیت کے ساتھ ڈٹے رہتے ہیں: انہیں جھوٹے پروپیگنڈوں اور مقدمات میں ذلیل و خوار کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مگر تاریخ کی گواہی ہے: سازش ہمیشہ دم توڑتی ہے، اور سچائی ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ رہی بات ہمارے وجود کی: ہماری والدہ ایک فخر سے سرشار گکھڑ راجپوت (پنجابی) ہیں: ہمارے والد مغرب سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہم دبئی میں پیدا ہوئے، بچپن کا کچھ حصہ لاہور اور بیرونِ ملک میں گزرا، لیکن ہماری زندگی کا سب سے بڑا حصہ سندھ میں بسر ہوا۔ سندھ ہمارا گھر ہے، کراچی ہمارا شہر ہے۔ اتنا Diverse Family Background، مختلف ملکوں اور تہذیبوں میں پروان چڑھنے کے باوجود: یہی ہے ہمارے پاکستانی ہونے کا اصل حسن: ہماری جڑیں کئی سمتوں میں ہیں، لیکن ہمارا خون اور ہماری وفاداری ایک ہی دھرتی سے بندھی ہے: ہمارا پاکستان 🇵🇰 ہمارا پورے سندھ کی طرف سے اس موضوع پر رائے دینا unfair ہوگا، کیونکہ ہمارے بہت سے سندھی بھائی بہنوں کے جذبات اس بیان سے مجروح ہوئے ہیں … لیکن as an individual: چونکہ سندھ ہمارا بھی گھر ہے اور ہم سندھ کی ایک proud بیٹی اور resident ہیں: ہم یہ اعلان کرتے ہیں: نہیں! ہمیں رضی دادا کے الفاظ سے کوئی توہین محسوس نہیں ہوئی۔ اگر انہوں نے ہمیں “بندر” کہا تو کیا ہوا؟ ہم ایک Proud Pet-Parent ہیں، اور اگر کوئی ہمیں “B*tch” کہہ دے تو بھی ہم اسے وقار کے ساتھ قبول کریں گے: کیونکہ ہمارے نزدیک جانور گالی نہیں ہیں: وہ اللہ تعالیٰ کی سب سے معصوم، سب سے وفادار اور سب سے رحمدل مخلوق ہیں۔ ہماری رائے میں جانوروں کے نام گالی نہیں ہوتے: یہ دراصل عظیم القاب ہیں: کیونکہ ہر جانور اپنے اندر کچھ نہ کچھ غیر معمولی خصوصیت سموئ ہوئے ہے، چاہے وہ بندر ہو، کُتا ہو، گدھا ہو، شیر ہو، بھیڑیا ہو یا سانپ: سب جانور اللہ تعالیٰ کی بہترین مخلوقات میں سے ہیں ❤️ ہمارے ملک میں اصل سخت الفاظ وہ ہیں جو unfairly ہر باعزت فرد پر برسائے گئے: چاہے وہ ہم ہوں یا اور بےشمار لوگ۔ یہ سب سیاسی اور ذاتی دشمنیاں نکالنے کے لئے کیے گئے وار ہیں۔ ہر ادارے پر، ہر صوبے پر: چاہے وہ سیاست میں ہوں، کسی اور پیشے میں یا ذاتی زندگی میں۔ تو کیا ہوا؟ الفاظ ہماری قیمت متعین نہیں کرتے۔ ہماری اصل قیمت ہماری سچائی، ہمارے اعمال اور ہمارے کردار سے طے ہوتی ہے ✅ /1

Ayyan

21,679 views • 1 year ago

جنرل عاصم منیر ، چیف آف آرمی سٹاف کا ۱۴۷ لانگ کورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب- ریاست کا محور پاکستان کی عوام ہیں- -“پہلی اور سب سے اہم ذمہ داری ریاستِ پاکستان کے ساتھ وفاداری اور پاکستان کی مسلح افواج کو تفویض کردہ آئینی کردار سے وابستگی ہے -ہمارے لیے عوام کی حفاظت اور سلامتی سے زیادہ مقدس کچھ نہیں اور کوئی فرض مادرِ وطن کی حفاظت سے زیادہ اہم نہیں -فوج ہمارے عظیم قائد کے نظریہ پر عمل پیرا ہے جس میں ذات، رنگ، نسل، جنس یا علاقائی تفریق نہیں-امن کے لیے ہماری کوششوں کو کسی صورت کمزوری نہ سمجھا جائے-ہم اپنے مادر وطن کے دفاع کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ پاک فوج اپنے اس فرض کو نبھانے کے لئے ہمہ وقت تیار ھے - افواجِ پاکستان کے غیور اور سر بکف سپاہی دشمن کی تعداد یا وسائل سے مرعوب نہیں ہوتے-افواجِ پاکستان اپنے مضبوط قوتِ ارادی ، وعدہِ پروردگار اور اُسی کے تابعِ فرمان ہیں- آرمی چیف نے قرانِ مجید کی سورہِ بقرہ کی آیہِ کریمہ کے ایک حصے کی تلاوت کی، جسکا ترجمہ ہے کہ : *" کتنی ہی بار ایسا ہوا کہ اللہ کی مرضی سے چھوٹی قوت نے بڑی طاقت کو شکست دی- دشمن ریاستی اور سماجی ہم آہنگی کو متاثر کرنا چاہتا ھے-دہشت گردی کی جنگ میں عوام اور ریاست کا کلیدی کردار ھے-بیش بہا قربانیوں کے نتیجے میں قائم ہونے والے امن کو کسی صورت متاثر نہیں ہونے دیں گے ۔دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کی ملک میں کوئی جگہ نہیں- ہمیں اپنے ظاہری اور چھپے ہوئے دشمن کو پہچاننا ہو گا اور اس ضمن میں حقیقت اور ابہام میں واضح فرق روا رکھنا ہوگا-دشمن عوام اور مسلح افواج کے درمیان دراڑ ڈالنے کی سازشوں میں سرگرم ہے-عوام اور پاک فوج کے باہمی رشتے کو قائم و دائم رکھا جائے گا-افغانستان میں استحکام ہماری سلامتی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے- ہم اپنے کشمیری بھائیوں کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھیں گے- پاکستان کشمیر کے عوام کے بنیادی انسانی حقوق کے لیے ان کی تاریخی جدوجہد اور حَقِ خودارادیت کے لیے اُن کے ساتھ ہمیشہ کھڑا رہے گاعالمی برادری کو یہ جان لینا چاہیے کہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پرامن حل کے بغیر، علاقائی امن ہمیشہ مبہم رہے گا-"؛ جنرل عاصم منیر #آرمی_چیف

Atique Ur Rehman

238,663 views • 3 years ago

خاموشی جرم ہے! دہشت گردوں کو پناہ دینے والے بھی مجرم ہیں! جب بھی کوئی دہشت گرد حملہ ہوتا ہے، سوال اٹھتا ہے کہ یہ قاتل کہاں سے آتے ہیں؟ انہیں پناہ کون دیتا ہے؟ ان کے لیے محفوظ راستے کون بناتا ہے؟ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ معاشرے کے کچھ عناصر جان بوجھ کر یا خوف کی وجہ سے ان شدت پسندوں کی مدد کرتے ہیں۔ مگر یہ خاموشی اور چشم پوشی مزید خون بہانے کا سبب بنتی ہے۔ یہ دہشت گرد کہیں باہر سے نہیں آتے—یہ ہمارے ہی شہروں، دیہاتوں، اور محلوں میں چھپے ہوتے ہیں۔ کوئی انہیں رہائش دیتا ہے، کوئی خوراک، اور کوئی ان کی نقل و حرکت پر خاموش رہ کر نادانستہ طور پر ان کے معاون بن جاتا ہے۔ مگر یاد رکھیں! جو دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو محفوظ سمجھتے ہیں، وہی ایک دن انہی کے ہاتھوں تباہ ہو جاتے ہیں۔ دہشت گرد کسی کے خیرخواہ نہیں! یہ عناصر نہ مذہب کے وفادار ہیں، نہ ملک کے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو ہمارے بچوں کو یتیم، ماں کو بے سہارا، اور گھروں کو ویران کرتے ہیں۔ مگر ان کے خلاف بروقت اطلاع نہ دینا، ان کی پشت پناہی کرنا، یا خوف کے مارے خاموش رہنا—یہ سب مجرمانہ غفلت ہے۔ اپنی پولیس اور فورسز کے ساتھ کھڑے ہوں! ہماری پولیس اور سیکیورٹی ادارے اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں تاکہ ہم محفوظ رہیں، مگر ان کی کامیابی تبھی ممکن ہے جب عوام دہشت گردوں کے بارے میں بروقت اطلاع دیں۔ اگر کوئی مشکوک سرگرمی دیکھیں، اگر کوئی غیر متعلقہ شخص علاقے میں رہائش اختیار کرے، اگر کسی کی حرکات و سکنات مشکوک ہوں—تو فوراً پولیس یا متعلقہ اداروں کو اطلاع دیں۔ اب فیصلہ کریں! آپ کس کے ساتھ ہیں؟ یہ جنگ صرف حکومت یا پولیس کی نہیں، بلکہ ہم سب کی ہے۔ اگر ہم نے آج آنکھیں بند رکھیں، تو کل کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ دہشت گردوں کی مدد نہ کریں، بلکہ ان کا راستہ روکیں! کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوراً دیں، کیونکہ خاموشی کا مطلب ہے کہ آپ خود اپنے شہر، اپنے ملک، اور اپنے بچوں کے مستقبل کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔ “اب وقت آگیا ہے کہ ہم دہشت گردوں کے خلاف متحد ہوں! خاموشی جرم ہے!

Defense Intelligence

20,096 views • 1 year ago

رزق میں اضافے کے لئے چند اعمال! اللہ لطیف بعبادہ یرزق من یشاء و ھو القوی العزیز سورہ شوری آیت 19 ﷲ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، وہ جس کو چاہتا ہے، رزق دیتا ہے، اور وہی ہے جو قوت کا بھی مالک ہے، اِقتدار کا بھی مالک۔ مولانا شاہ عبدالغنی پھولپوری ؒ نے فرمایا کہ حضرت حاجی امداد اللہ ؒ سے منقول ہے کہ جو شخص صبح کو 70 مرتبہ یہ آیت پڑھا کرے وہ رزق کی تنگی سے محفوظ رہے گا۔ آیت مندرجہ ذیل ہے۔ اَللّٰہُ لَطِیف بِّعِبَادِہ یَرزُقُ مَن یَّشَائُ وَ ہُوَ القَوِّیُ العَزِیزُ پہاڑ کے برابر قرض اتارنے کی ایک نبوی دعا حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ تشریف لائے تو کہا کہ مجھے حضور ﷺ نے ایک دعا سکھائی ہے۔ میں نے کہا کہ وہ کیا؟ انہوں نے کہا کہ حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ اپنے اصحاب کو سکھلاتے تھے اور کہتے تھے کہ اگر تم میں سے کسی پر پہاڑ کے برابر قرضہ ہوگا، یہ دعا کرو گے تو اللہ تعالیٰ پورا کر دے گا۔ دعا یہ ہے: اَللّٰہُمَّ فَارِجَ الہَمِّ وَ کَاشِفَ الَغَمِّ مُجِیبَ دَعوَةِ المُضطَرِّینَ وَ رَحمٰنَ الدُّنیَا وَلاٰخِرَةِ وَ رَحِیمَہُمَا اَنتَ تَرحَمُنِی فَارحَمنِی بِرَحمَةٍ تُغنِینِی بِہَا عَن رَّحمَةٍ مَّن سِوَاک (حاکم، ابن مردویہ، عن ابی بکر الصدیق) ”اے اللہ! فکر مندی دور فرمانے والے! غم کے ہٹانے والے! جو لوگ مجبور حال ہوں ان کی دعاﺅں کے قبول فرمانے والے! تو مجھ پر رحم فرماتا ہے پس تو مجھ پر رحم فرما، ایسی رحمت کے ساتھ جس کے ذریعے تو مجھے بے نیاز فرما دے دوسروں کے رحم کرنے سے“۔ تنگ دستی اور قرض کیلئے عمل بعد نماز عشاء تنہا بیٹھ کر یَاوَہَّابُ 1414 بار پڑھ کر یہ دعا 100 مرتبہ پڑھا کریں۔ یَاوَہَّابُ ہَب لِی مِن نِّعمَةِ الدُّنیَا وَالاٰخِرَةِ اِنَّکَ اَنتَ الوَہَّابُ اول و آخر تین مرتبہ درود شریف بھی پڑھیں۔ (ملفوظات شیخ الاسلام ص 330) رزق میں برکت کیلئے ایک مجرب عمل مولانا شاہ عبدالغنی پھولپوری ؒ نے فرمایا کہ حضرت حاجی امداد اللہ ؒ سے منقول ہے کہ جو شخص صبح کو 70 مرتبہ پابندی سے یہ آیت پڑھا کرے وہ رزق کی تنگی سے محفوظ رہے گا اور فرمایا کہ بہت مجرب عمل ہے۔ آیت مندرجہ ذیل ہے۔ اَللّٰہُ لَطِیف بِعِبَادِہ یَرزُقُ مَن یَّشَائُ وَ ہُوَ القَوِیُّ العَزِیزُ۔ (معارف القرآن جلد 7 صفحہ 687) مال میں برکت پیدا کرنے‘ زوال سے بچانے کا عمل حدیث شریف میں آیا ہے کہ جس کسی کو منظور ہو کہ میرے مال کو زوال نہ ہو اور برکت اور خوشی حاصل ہو تو کہا کرے۔ اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ عَبدِکَ وَ رَسُولِکَ وَ عَلٰی المُومِنِینَ وَالمُومِنَاتِ وَالمُسلِمِینَ وَالمُسلِمَاتِ۔ (اے اللہ! رحمت نازل فرما اپنے بندے اور اپنے رسول محمد (ﷺ) پر اور مومن مردوں اور مومن عورتوں پر اور مسلم مردوں اور مسلم عورتوں پر۔ روزی کی کشادگی کیلئے دعا تنگی رزق کی شکایت پر ایک بار مفتی شفیع صاحب ؒ نے فرمایا کہ یہ انبیاء علیہ السلام کی سنت ہے، رزق جتنا مقدر ہوتا ہے اتنا ہی ملتا ہے اس کو (بڑھانے) کا کوئی خاص وظیفہ نہیں، ہاں دعا کرنا چاہیے، دعا کرنے سے اللہ تعالیٰ سکون دیں گے اور جب اللہ تعالیٰ سے تعلق بڑھ جاتا ہے تو پھر پریشانی نہیں ہوتی اور تعلق پیدا کرنے کی بڑی ترکیب یہ ہے کہ خوب مانگا کرے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کشائش رزق کیلئے یہ دعا کرتی تھیں: ”اَللّٰہُمَّ اجعَل اَوسَعَ رِزقِکَ عَلٰی عِندَ کِبَرِسِنِّی وَانقِطَاعِ عُمرِی“ ”اے اللہ تو میری روزی کو کشادہ کردے میرے بڑھاپے اور میری عمر کے ختم ہونے تک“۔ (جامع صغیر جلد 1صفحہ 57 ترغیب جلد 4 صفحہ 586) اَللّٰہُمَّ ابسُط عَلَینَا مِن ۰ بَرَکَاتِکَ وَ رَحمَتِکَ وَفَضلِکَ وَ رِزقِکَ ”اے اللہ آپ ہم پر اپنی برکتوں اپنی رحمتوں اپنے فضل اور اپنے دیئے ہوئے رزق میں فراغت اور فراخی نصیب فرمائیے“۔ (الحزب الاعظم صفحہ 60) مال و تجارت میں برکت ہونے کی دعا رسول اللہ ﷺ نے حضرت جبیر ؓ سے فرمایا کہ کیا تو چاہتا ہے کہ جب تو سفر کیلئے نکلے تو اپنے ساتھیوں سے حالت اور سہولت میں بہتر ہو اور توشے میں ان سے بڑھ کر ہو؟ انہوں نے عرض کیا ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم ان 5 سورتوں کو پڑھ لیا کرو۔ یعنی (1) قُل یَااَیُّہَا الکٰفِرُونَ پوری سورة (2) اِذَا جَائَ نَصرُاللّٰہِ پوری سورة (3) قُل ہُوَ اللّٰہُ اَحَد پوری سورة (4) قُل اَعُوذُبِرَبِّ الفَلَقِ پوری سورة، (5) قُل اَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ پوری سورة۔ ہر ایک سورة کو بسم اللہ سے شروع کرو اور بسم اللہ پر ختم کرو۔ حضرت جبیر ؓ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ان سورتوں کی برکت سے میں بہت مال دار ہو گیا جیسا آپ ﷺ نے فرمایا تھا ویسا ہی ہو گیا۔ (مسند ابو یعلیٰ)

خطبات العلماء

28,434 views • 1 year ago

"ایک چھری اپنی غیر سنجیدگی پر بھی پھیر " (کیوں کہ یہ نبیوں کی سنت ہے ؛ کوئی ٹک ٹاک نہی ) ہمارا معاشرہ اپنی زندگیوں میں کس قدر غیر سنجیدہ ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پوری بڑی عید پر سوشل میڈیا اس طرح کی وڈیوز سے بھرا رہا جس میں کہی کوئی بیل قصائی کو ٹکر مار کر بھاگ رہا ہے تو کہیں کوئی ویڑآ کسی دکان میں گھس کر وہاں شیشے توڑ رہا ہے - کہیں کوئی بیل چھت سے گر رہا ہے اور کہیں کوئی قصائی دوڑ رہا ہے اور بیل اس کے پیچھے پیچھے ہے - ایک وڈیو میں قصائی کے پاؤں میں رسی پھنسی ہے اور بیل بھاگ رہا ہے اور قصائی پیچھے پیچھے گھسیٹتا جارہا ہے اور بیک گراونڈ میں ٹک ٹاک والا سستا گانا چل رہا ہے - ان سب وڈیوز کو اکثر ازراہ مذاق اور طفنن پیش کیا گیا ہے (جیسا کہ اس وڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے جو میں نے یہاں لگائی ہے جس کے شروع میں ہی بنانے والے نے لکھا ہے کہ یہ میں نے "تفریح کیلئے " بنائی ہے ) جہاں کومنٹس اور پیچھے لگا میوزیک یہ چیخ چیخ کر بتا رہا ہے کہ ہمارے ہاں کسی انسان کے اوپر بیل کا چڑھ جانا اب ایک عام بات ہے - کسی انسان کا نیچے گر جانا اب بس دیکھنے والوں کیلئے ایک مذاق رہ گیا ہے - ہے یہ مذاق ہے بس تب تک جب تک وہ انسان آپ کا اپنا باپ یا بھائی نہ ہو یا اپ خود نہ ہوں - کسی جگہ میں نے ایسے واقعات کی مذمت اور ان کی روک تھام کیلئے کوئی تحریر نہی دیکھی نہ کوئی ایسی وڈیو نظر سے گزری - چلیں امریکا چلتے ہیں - یہاں امریکا میں اس سال قربانی کی - ایک فارم ہاؤس پر بکرا خریدا - اس کو پسند کیا - اس کا نام رکھا - لیکن اس کو گھر لانے کی اجازت نہی تھی - عید کے دن نماز پڑھ کر فارم پر گیے - اپنے سامنے وہی اس کو چھری پھروائی' پروفیشنل قصائی نے اس کی کھال اتاری ' اس کا گوشت کاٹا' لیکن کسی سڑک پر نہیں ' بلکہ ایک خاص جگہ پر جو چار دیواری تھی' آبادی سے دور تھی تاکہ جانور بھاگے بھی تو کسی کو نقصان نہ پہنچاسکے - پہلے مجھے یہ سب بہت عجیب لگتا تھا - یہ کیا بات ہوئی کہ سڑک پر نہ کوئی جانور نہ کوئی خون- یہ کیسی عید ہوئی - یہ کیا بات ہوئی - پر پھر مجھے اعداد و شمار نظر آیے جو میں نے سوشل میڈیا پر بہت کم دیکھے - محض اس سال 2026 میں عید کے صرف پہلے دن پاکستان میں چودہ ہزار لوگ جانوروں کو ذبح کرتے ہویے زخمی ہویے - یہ ڈیٹا ابھی ان حادثات کا ہے کہ جن واقعات میں لوگوں کو ہسپتال لیجانا پڑا یا 1122 کو بلانا پڑا - جن وڈیوز کی میں بات کر رہا ہوں وہ ان کے علاوہ ہیں - ان جانوروں کو جس اناڑی طریقے سے ذبح کیا جاتا ہے اور پھر جب وہ رسی تڑوا کر بھاگتے ہیں ان سے ہونے والے گاڑیوں کے نقصانات کا تخمینہ ایک ہزار سالانہ سے زیادہ ہے - یہ ہر سال ہوتا ہے - اس کے باوجود نہ میں کسی اتھارٹی کی طرف سے کوئی خاص اقدامات دیکھتا ہوں نہ عوام کی طرف سے کوئی خاص احتیاط - کسی بیل کو جب بس تین چار اناڑی لوگ ذبح کر رہے ہوتے ہیں تو بچوں سمیت عوام کا جم غفیر پاس کھڑا ہوتا ہے اس بات سے بے نیاز کے جب یہ بیل بھاگے گا تو کسی بچے پر چڑھ جائیگا - اس کے برعکس جب ایسا ہوتا ہے تو بچے کو بچانے والے کی ٹک ٹاک تو بہت وائرل ہوتی ہیں پر ایسا کوئی پلان واضح نہیں ہوتا کہ آئندہ ایسا نہ ہو - نہ ماں باپ پر کوئی پوچھ گچھ ہوتی ہے کہ اتنے چھوٹے بچے کے ساتھ آپ وہاں کیوں کھڑے تھے نہ بیل کے مالک سے سوال ہوتا ہے کہ آپ نے ذبح کرنے سے پہلے ایسی جگہ کا انتخاب کیوں نہی کیا جہاں اگر بیل بھاگے بھی تو باقی لوگوں یا املاک کا نقصان نہ ہو - نہ اس قصائی کا کوئی لائسنس ہوتا ہے کہ بھائی آپ واقعی پیشہ ور قصائی ہیں یا دو دن کیلئے مزدور اور حجام سے قصائی بنے ہیں اور اپنے سے پچاس گنا وزنی بیل کو گرانے کی کوشش میں معصوم بچوں اور لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں تو اس کا کوئی تو لائسنس ہوگا ' وہ دکھا دیں - الغرض میں ہر سال ایسی وڈیوز پر بس عوام کے قہقہے اور اقوال زریں کہ "جسے الله رکھے اسے کون چکھے " دیکھتا رہتا ہوں پر ان واقعات کے سدباب سے متعلق نہ کوئی تحریر پڑھنے کو ملتی ہے نہ کوئی انتظام یا قانون دیکھنے کو نظر آتا ہے - نہ کسی عالم کی طرف سے کوئی رہنمائی سامنے آتی ہے نہ میڈیا پر ایسی کوئی کیمپین دیکھنے کو ملتی ہے - اس تحریر کو پڑھ کر مذھب کے ایک فریضے پر اعتراض کرنے یا میرے مذھب بیزار ہونے کا فتوی لگانے سے پہلے اس کو دوبارہ پڑھیں اور پھر ہسپتال میں کسی قصائی یا بچے سے مل کر آئیں جس کا کولہا فریکچر ہوگیا ہو یا جس کا سر پھٹ گیا ہو - یا کسی ایسے دکان والے سے ملکر آئیں جس کی کل جمع پونجی کسی کے جانور کی سرعام قربانی کی نذر ہوگئی اور جس نے وہ دکان بنانے کیلئے قرضہ لیا تھا جو اب ٹوٹ پھوٹ گئی ہے اور یہی دکان اس کے خاندان کا واحد روزگار تھی - آپ قربانی ضرور کریں ' ہر سال کریں ' لیکن بس اپنے جانور کی قربانی کریں ' کسی کی کمر کی نہی ' کسی کی ہڈی کی نہیں ' کسی کی دکان کی نہی ' کسی کی گاڑی کی نہیں - اگر ہر سال ان احتیاطوں کو کرلیا جائے تو ممکن ہے کہ ہمیں ٹک ٹاک پر لطیفے اور سستی وڈیوز تو نہ ملیں پر عوام محفوظ ضرور ہوجائیں گے : 1. کسی بھی بیل یا ویڑے کو سڑک پر باندھنے کی پابندی ہونی چاہیے- اس کیلئے ایسی جگہ ہو جو چار دیواری والی ہو اور اگر کسی کے پاس ایسا انتظام نہیں تو اس کو بکرا لینا چاہیے ' بیل نہی - 2. جانور منڈیاں شہری آبادی سے دورہوں ' اور وہاں سے جانور لانے کیلئے کسی چنگچی کسی کھلی گاڑی کسی رکشے پر پابندی ہونی چاہیے - ایسی خاص گاڑیاں حکومت کی طرف سے چلائی جائیں جن میں جالی لگی ہو تاکہ جانور کو بغیر کسی حادثے کے دوسری جگہ پہنچایا جاسکے - 3. بیل اور ویڑوں کو گھروں میں لانے پر پابندی ہو - ان کو وہی رکھا جائے جہاں سے خریدا گیا ہو یا ایسے کھلے پلاٹ یا ایک خاص جگہ ہو جہاں ان کو باندھا جائے اور وہی قربان کیا جائے اور اس چیز کو حکومت خود ریگولیٹ کرے - 4. سڑک پر کسی بھی بیل کی قربانی قابل سزا جرم ہو - اس کیلئے لازمی ہو کہ چار دیواری والی جگہ ہو جہاں کسی بھی بچے کو لیجانا جرم ہو - بچوں نے دیکھنا ہو تو اوپر چھت سے دیکھیں یا وڈیوز میں دیکھیں لیکن تیس فٹ تک وہاں کوئی بچہ یا ایسا بندہ نہ کھڑا ہو جس کا اس قربانی سے کوئی تعلق نہی ہے - 5. جانور کی قربانی کرنے والا کوئی پروفیشنل قصائی ہو جس کا باقاعدہ لائسنس ہونا چاہیے - وہ عام دنوں میں بھی قصائی ہی ہو اور اس کے ساتھ کم سے کم پانچ چھے ایسے افراد ضرور ہوں جو جانور کو گرانے اور اس کو سنبھالنے میں مہارت رکھتے ہوں - 6. عید سے پہلے قصائی حضرات کی ٹریننگ کا طریقہ وضع کیا جانا چاہیے اور حکومت کی طرف سے یا محلوں کی سطح پر ایسی ورکشاپس ہونی چاہیے جن میں ان لوگوں کی ٹریننگ ہو اور اس کے بعد ہی ان کا اس سال کا قربانی کا لائسینس رینیو کیا جائے - 7 . جانور کو گرانے کا ایک آفیشل طریقہ حکومت کی طرف سے لاگو ہونا چاہیے اور اسی طریقے سے جانور کو گرایا جانا چاہیے - اور ان پابندیوں کو لوکل کمشنر اور بیوروکریسی کے افراد خود دیکھیں - 8 . کسی بھی بیل کو کرین سے اوپر یا نیچے لیجانے پر سخت پابندی ہونی چاہیے - یہ نہ صرف خطرناک ہے بلکہ اس قربانی کے جانور کی بھی توہین ہے جو کبھی چھت سے نیچے گر رہا ہے اور کبھی چھت پر لیجاتے ہویے پھسل رہا ہے - 9 . اگر کسی کے پاس ان جانوروں کو محفوظ طریقے سے رکھنے اور قربان کرنے کا انتظام نہی ہے تو ان کو پھر قربانی میں حصہ ڈالنا چاہیے اور ایسے فارمز اور کھلی جگہیں ہونے چاہیے جہاں ان جانوروں کو رکھا جائے جن میں لوگوں نے حصہ ڈالا ہو - 10 . جس کے جانور سے کسی کی گاڑی یا دکان کا نقصان ہو وہ شخص اس نقصان کو پورا کرنے کا پابند ہو اور اس کو حکومت کی طرف سے بھی اتنے سخت جرمانے کیے جائیں کہ لوگ ان قربانیوں کو نمائش اور تفریح کی بجاے ایک مقدس فریضہ سمجھ کر تمیز اور احتیاط سے انجام دیں - 11 . ایسے ماں باپ کی پولیس سے بازپرس ہونی چاہیے جو بچوں کو لے کر ذبح ہوتے بیل کے سر پر کھڑے ہوتے ہیں - امریکا میں بچے کو گود میں لے کر گاڑی کی اگلی سیٹ پر بٹھانا ہی اتنا بڑاجرم سمجھا جاتا ہے کہ ڈرائیور کا لائسنس کینسل ہوسکتا ہے کیوں کہ ان کے ڈیٹا کے مطابق حادثے کی صورت میں اگلی سیٹوں والوں کا زیادہ نقصان ہوتا ہے - اگر ہم فیشن میں مغرب کی نقل کرسکتے ہیں ' کھانوں میں ان کے پیزے اور پاستے کھاسکتے ہیں تو روز مراه کی زندگیوں میں بھی ان سے تھوڑی احتیاط تھوڑی تمیز سیکھ سکتے ہیں تاکہ بڑے نقصان سے بچ سکیں - 12. عید پر ایسی مزاحیہ وڈیوز اور ٹک ٹاک کو پروموٹ کرنے کی بجاے ایسی تحریروں کو لکھنے کا رجحان بنائیں اور ان کو وائرل کریں جن میں سنجدیگی ہو اور مثبت بات ہو ' کسی کی جان بچانے کی بات ' کسی کی دکان بچانے کی بات - میں جانتا ہوں کہ یہ تدابیر پڑھ کر بہت لوگ ہنس رہے ہونگے کہ یہ پاکستان ہے - یہاں ڈرائیورز کے پاس لائسنس نہی تو قصائی کے پاس کہاں سے ہوگا - لیکن یہ آگاہی دینے میں مجھے کوئی حرج نہی - میرے نزدیک اگر کوئی ایک بھی ان ہدایات پر عمل کرلیتا ہے اور کوئی ایک بھی حادثہ بچ جاتا ہے تو میرا وقت حلال ہوا - یاد رکھیں - عید قربان ایک بہت مقدس فریضہ ہے کوئی ٹکٹاک کا گانا نہی - یہ نبیوں کی سنت ہے - پر پوری سیرت نبوی (صلی اللہ علیھ وسلم ) میں ایسے کوئی واقعہ نہی ملتا جہاں کسی جانور کی قربانی کے وقت کسی دوسرے کو نقصان پہنچا ہو - قربانی ضرور کریں لیکن اپنا جانور قربان کرنے سے پہلے اپنے اندر نمود و نمائش کے حیوان کے گلے پر چھری پھریں ' اپنی بے احتیاط اور لاابالی طبیعت اور غیر سنجیدہ مزاج کی گردن کاٹیں ' تاکہ بس آپ کے جانور کا خون بہے ' کسی ایسے انسان کا نہیں جس کا اس قربانی سے کوئی لینا دینا بھی نہیں ہے - شکریہ قلم کی جسارت وقاص نواز -------------------------------------------------------- Noshi Gilani Moeed Pirzada Imran Riaz Khan Fan

Dr Waqas Nawaz

20,233 views • 4 months ago

وزیراعظم محمد شہباز شریف اور چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نےپاکستان کے سب سے بڑے ڈیٹا سینٹر اور اے آئی کلاؤڈ سکائی 47 قراقرم ون کا افتتاح کر دیا. وزیراعظم محمد شہباز شریف نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ متحرک، ترقی پسند اور شاندار مستقبل کے لیےسکائی 47 منصوبہ انتہائی اہم پیش رفت ہے،مشکلات اور چیلنجز کا امید اور حوصلے سے مقابلہ کریں تو معرکہ حق جیسے تاریخی کارنامے جنم لیتے ہیں،یہ منصوبہ پاکستان کے مستقبل کی ضمانت ہے اور ملک کو ناقابل تسخیر سکیورٹی فراہم کرے گا،متحد ہو کر کام کریں تو کوئی بھی ہدف ناقابل حصول نہیں۔ تقریب میں چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزراء اور دیگر نے بھی شرکت کی۔وزیراعظم نے کہا کہ سکائی 47 ڈیٹا سینٹر قراقرم ون کی افتتاحی تقریب میں شرکت میرے لیے باعث اعزاز ہے،جدید ترین ڈیٹا سینٹر انتہائی متاثر کن اور قابل تحسین ہے،عظیم منصوبے کا مشاہدہ کر کے بے حد خوشی ہوئی ہے جو انتہائی مختصر مدت میں غیر معمولی عزم ،پختہ یقین اور اعلی مہارت کے ساتھ مکمل کیا گیا ہے. وزیراعظم نے مزید کہا کہ اگر ہم اس ماڈل پر عمل پیرا رہیں تو نہ صرف ہم ماضی کے نقصان کا ازالہ کرپائیں گے بلکہ مستقبل کے لئے انتہائی متحرک ترقی یافتہ پاکستان بنا سکیں گے جو وقت کی ضرورت ہے، یہ کام مشکل ہے لیکن ناممکن نہیں جس طرح کہ معرکہ حق میں ہم نے عظیم کامیابی حاصل کی جو پاکستان کی تاریخ کا عظیم ترین لمحہ تھا۔وزیراعظم نے کہا کہ جب انسان کا عزم پختہ ہو تو سب کچھ ممکن ہے،چیلنجز اور مشکلات آتی ہیں لیکن اگر مشکلات اور چیلنجز کے مقابلے کے لیے امید ،حوصلہ اور توانائی ہو تو معرکہ حق جیسے تاریخی کارنامے جنم لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سکائی 47 جیسے عظیم منصوبے پاکستان کے مستقبل کی ضمانت ہیں ،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بصیرت افروز قیادت، شراکت دار زیڈ ٹی ای،وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سیکرٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی کو بھرپور حمایت پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں،قوم کو سکائی 47 جیسا تحفہ دینے پر تمام سٹیک ہولڈرز کا مشکور ہوں، مسلسل محنت ایسے عظیم منصوبوں کو حقیقت کا روپ دیتی ہے،اسی طرح کے منصوبے کراچی اور لاہور میں بھی مکمل کئے جائیں گے،تمام سرکاری اداروں کو اس سہولت سے منسلک کرنا چاہیئے۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ یہ منصوبہ پاکستان کے عوام کے لئے ایک بہترین تحفہ ہے جو ناقابل تسخیر سکیورٹی فراہم کرے گا اس منصوبے سے یہ امید اور حوصلہ ملتا ہے کہ اگر ہم متحد ہو کر کام کریں تو کوئی بھی ہدف ناقابل حصول نہیں۔قبل ازیں وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ڈیٹا سینٹر سے متعلق بریفنگ بھی دی گئی ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ سکائی 47 ڈیٹا سینٹر کا افتتاح پاکستان میں مصنوعی ذہانت کے نئے دور کا آغاز ہے۔انہوں نے کہا کہ آج ایک نئے معاشی دور کے دروازے کھل رہے ہیں،ہم اپنے وسائل اور افرادی قوت سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں گے، ڈیٹا سے حاصل ہونے والی بصیرت مستقبل کی حقیقی معاشی طاقت ہے،مصنوعی ذہانت کی عالمی دوڑ محفوظ، کم لاگت اور مؤثر استعمال پر منحصر ہوگی۔انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے میدان میں آئندہ مسابقت ڈیٹا کے مؤثر استعمال پر ہوگی،سکائی 47 میں جدید سٹوریج ،جی پی یوز اور ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ سسٹمز دستیاب ہوں گے۔ سی ای او سکائی 47 حسن عباس نے کہا کہ دنیا میں 12 ہزار ڈیٹا سینٹرز ہیں جبکہ پاکستان میں صرف 22 ڈیٹا سینٹرز ہیں اور ہماری ڈیجیٹل گنجائش بہت زیادہ ہے، ہمارا ای کامرس بزنس 25 سے 30 فیصد سالانہ کی شرح سے فروغ پا رہا ہے، اس ڈیٹا سینٹر کے ذریعے ملک میں ڈیجیٹل شعبے میں ایک مضبوط بنیاد رکھی جا رہی ہے۔ واضح رہے کہ سکائی 47 ڈیٹا سینٹر ٹیکنالوجی کے میدان میں خود انحصاری کی جانب اہم پیش رفت ہے،ڈیٹا سینٹر مصنوعی ذہانت ،مشین لرننگ اور ہائی پروفیشن کمپیوٹنگ کے تقاضے پورے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے،ڈیٹا سینٹر کلاؤڈ کمپیوٹنگ ڈیٹا ہوسٹنگ اور ڈیجیٹل خدمات کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرے گا،ڈیٹا سینٹر حساس قومی اور تجارتی معلومات کو محفوظ رکھنے کا اہم ذریعہ ہے

Prime Minister's Office

290,888 views • 2 months ago

آپ شاید میرا یقین نہ کریں لیکن مجھے آج معلوم ہوا ہے کہ ٹک ٹاک کی بھی مونوٹائزیشن ہوتی ہے اور وہاں بھی ڈالرز میں آمدن ہوتی ہے ورنہ مجھے صرف یو ٹیوب اور ایکس کا ہی معلوم تھا اور مجھے آج سمجھ آئی کہ یہ ٹک ٹاکرز ویڈیوز لیک ہونے کے زیادہ واقعات کیوں ہونا شروع ہو گئے ویسے میں سوشل میڈیا کے زہر آلود اثرات پر متعدد تحریریں لکھ چُکا ہوں مگر آج ٹک ٹاک کی مونوٹائزیشن اور ڈالرز میں آمدن کا سُن کر ایک مرتبہ تو پسینے چھوٹ گئے ایک وی لاگ سے اندازہ ہوا نہ صرف ٹک ٹاک پر آپ یو ٹیوب سے زیادہ کماتے ہیں بلکہ یہاں ویڈیوز دیکھنے اور ویڈیوز کو ریسپونڈ کرنے سے بھی کمائی ہوتی ہے محترمہ حکومت صاحبہ Shehbaz Sharif DG ISPR Mohsin Naqvi Maryam Nawaz Sharif اگر اس عنفریت (ٹک ٹاک) کو پاکستان میں بند نہ کیا گیا تو آنیوالے چند سالوں میں جب آج کے دس سال کا لڑکا/لڑکی 17/18 سال کا ہوگا تو ہمارے معاشرے کا چہرہ بگڑ کر بہت بدنما چُکا ہوگا جب ایک لڑکے/لڑکی کو بیہودگی پھیلانے پر ٹھیک ٹھاک پیسے مل رہے ہونگے تو پھر اس بیہودگی کو عام ہونے سے کوئی نہیں روک سکے گا اس میں تباہ حال بات یہ ہے کہ ایک بچہ/بچی 18/20 سال کی سخت محنت طلب پروفیشنل تعلیم کے بعد برسر روزگار ہوتا ہے اور پھر وہ لاکھ روپیہ سے اپنی پروفیشنل زندگی کا سفر شروع کرتا ہے 👆 یہ بات تو میں نے پروفیشنلز ڈاکٹر انجنئیرز اکاؤنٹینٹس وکلاء سے متعلق کی یہاں تو لاکھوں بچے بچیوں کی تعداد ہے جو مالی مشکلات کی باعث میٹرک انٹر کے کے بعد ہی چھوٹی موٹی چند ہزار کی نوکریاں کرنا شروع ہو جاتے ہیں پیسہ ہر انسان کی ضرورت ہے میں نے اپنی زندگی میں کسی انسان کا پیٹ پیسے سے بھرتے ہوۓ نہیں دیکھا بھلے وہ غریب ہے یا امیر تو جس ملک میں لاکھوں فیملیز سطح غربت سے نیچے رہتی ہوں بروکن فیملیز ہیں جن میں پچوں کا کوئی پرسان حال نہیں گھر کے حالات یا ماحول کی وجہ سے سپائلڈ اور بغاوت پر اُترے ہوۓ بچے ہیں بہت سی نابالغ اولادیں جو صرف اس ڈر سے اپنے گھر میں رہتی ہیں کہ وہ جانتے ہیں کہ باہر اُنہیں روٹی تک نہیں ملے گی ٹک ٹاک والے ان حالات میں میرے مُلک کے بچے کا دیھان کیونکر اس طرف نہیں جاۓ گا یا وہ بغاوت پر نہیں اُترے گا؟ اور اُسکے ذہن میں یہ سوال کیونکر پیدا نہیں ہوگا؟ کہ اُسے محنت کی ضرورت کیا ہے؟ کیونکہ اُسکی نظروں کے سامنے ایک جاہل اور کنجر مافق ٹک ٹاکر کے پاس فیم اور پیسہ دونوں کہیں زیادہ ہیں بلکہ وہ حرامزادے تو مذھبی اور سیاسی لیڈرز بھی بنے ہوۓ ہیں اور اس کام میں محنت کوئی ہے ہی نہیں بیہودہ بکواس کرنا ہے جسم کی نمائش کرنا ہے اور پھر کسی دن کپڑے اُتار دینے ہیں پیسہ تو اندھا کر دیتا ہے اور پیٹ کی بھوک تو ازل سے کپڑے اُترواتی آئی ہے یہ بیہودگی والی خوفناک صورتحال تو اس مُلک کی ناپختہ ذہن بچیوں کے لئیے ہے اور لڑکوں کے لئیے ٹک ٹاک پر کیا ہے؟ ہتھکڑی لگے بدمعاش قاتل ڈکیٹ گینگسٹرز ٹک ٹاک پر اپنا آپ ہیرو کی طرح پیش کرتے ہیں بدماشعوں غنڈوں کے شرمناک قصے بہادری کے قصے بنا کر پیش کئیے جارہے ہیں مفرور مجرم انٹرویوز دے رہے ہیں مطلب آپ اس اپلیکیشن کے ذریعہ اپنے وطن کی ینگ جینریشن کو کیا پیغام دے رہے ہیں ہیں؟ کہ اس ملک کی لڑکیاں بیہودگی سے انسپائر ہوں اور لڑکے بدمعاش غنڈوں سے؟ یہ 13 سے 25 سال تک کی عمر بہت خطرناک لاپرواہ اور نفع نقصان کا سوچے بغیر جُرأت والی ہوتی ہے اس عمر میں کوئی لانگ ٹرم پلاننگ نہیں ہوتی نہ یہ سوچ ہوتی ہے کہ کل کیا ہوگا یا نتائج کیا ہونگے یہ بچے صرف آج میں جیتے ہیں ابھی حال ہی میں ایک جھوٹی ریپ ٹک ٹاک پر پنجاب میں آگ لگ گئی ایک جان چلی گئی املاک کو نقصان پہنچا جانے کتنے طلباء جن میں بچے بچیاں دونوں شامل ہیں کالج سے نکالے گئے اُنکا فیوچر ختم ہو گیا آپ نے ایک ٹک ٹاکر گرفتار کی جس نے بچی کی ماں ہونے کا جھوٹا دعوہ کیا اور بچوں کو گرفتار اور پھر کالجز سے نکال دینے کے آرڈرز جاری کر دئیے ایک یوٹیوبر عمران ریاض نے سب سے پہلے اس جھوٹی خبر پر پورا پروگرام کیا معاملے کو ہوا دی اور ملک انتشار پھیلایا آگ لگوا دی وہ کُتی کا بچہ تو اب بھی روز یوٹیوب پر بیٹھا ہوتا ہے اس فساد کے پیچھے ایک سیاسی پارٹی کی پوری لابی موجود تھی آپ نے خود اُنکے واٹس ایپس ایکسپوز کئیے کوئی پکڑا گیا؟ کہاں گئیے آپکے وہ دعوے کہ ہم اس معاملے میں ملوث کسی کو نہیں چھوڑیں گے جنہوں نے مکمل پڑھنا ہو وہ آرٹیکل میں پڑھ لیں یہ جو کلپ میں لگا رہا ہوں اسکے لئیے تھوڑی تھوڑی معذرت یہ کلپ انڈیا کا ہے اور انڈیا میں تو تباہی پھری ہوئی ہے پاکستان میں ابھی اکا دُکا واقعات ہیں لیکن اگر حکومت نے سخت اقدامات نہ کئیے تو دو چار سال میں پاکستان میں بھی یہی ہوگا جیسے کہ کلپ میں لڑکا بتا رہا ہے بیشک ہمارا مذھب فرق ہے مگر کلچر اور ڈی این اے ایک ہی ہے

کاشف چوہدری

20,458 views • 1 year ago

660,000 لوگوں نے میری ویڈیوز دیکھیں جن میں کہہ رہا ہوں کہ اوورسیز پاکستانیوں نے عمران خان کی کال پر 10 فیصد کم پیسے بھیجنے ہیں جنوری میں۔ ان میں سے 40 فیصد لوگ اوورسیز پاکستانی ہی ہیں۔ یعنی 270,000 لوگ۔ اگر اتنے بھی بات مان لیں، تو کتنا اثر ہوگا؟ میں حساب کرکے آپ کو بتائوں گا آج۔ 🔶اور یہ لوگ ہیں بھی کدھر سے؟ امریکہ، انگلینڈ، یو اے ای اور سعودی عرب۔ چار وہ بڑے ملک جہاں سے سب سے زیادہ ریمٹنس، سب سے زیادہ پیسے واپس پاکستان جاتے ہیں۔ 🔶تو ان کے پیسے کم بھیجنے سے کتنا بڑا ایکنامک دھچکا لگے گا حکومت کو؟ اسٹیبلشمنٹ کو؟ میں آج آپ 🔶پی ٹی ائی آفیشل والوں نے میسج نہیں پھیلانا، نہ پھیلائیں۔ ان کو نہیں لگتا یہ ہو سکتا ہے۔ ان کا اپنے اوپر کانفیڈنس نہیں ہے۔ تو چھوڑے انھیں۔ 🔶 آپ اور میں، ہم اپنے زور بازو پہ بھروسہ کرتے ہیں۔ ہم اپنے اندر ایمان پیدا کرتے ہیں۔ مل کے فیصلہ کرتے ہیں، کہ ہم یہ عالمی مہم کامیابی سے خود ہی چلا سکتے ہیں۔ 🔴فرض کریں کہ 2 لاکھ70 ہزار آدمی ہر مہینے 100 ڈالر گھر بھیجتے ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کچھ لوگ ان میں سے زیادہ بھیجتے ہیں، کچھ لوگ کم بھیجتے ہیں۔ لیکن فرض کر لیں کہ 100 ڈالر جو بنتے ہیں نا، وہ ریال میں بنیں، وہ پاؤنڈ میں بنیں، فرض کریں کہ 100 ڈالر کے برابر پیسے وہ گھر بھیجتے ہیں۔ 🔴تو مہینے میں وہ کل رقم جو گھر بھیجتے ہیں، وہ ہے 27 ملین ڈالر۔ اور اس کا 10 فیصد بنتا ہے دو اشاریہ سات ملین ڈالر۔ 2.7 ملین ڈالرز۔ تو یہ 10 فیصد کا ٹیکہ کتنا اثر کرے گا؟ 🔴دیکھیں، اس سال ریمیٹنس تھی تقریبا 27 ارب ڈالر۔ اس سے تھوڑی زیادہ۔ تو 27 بلین ڈالرز کا 27 ملین ڈالرز تقریبا 0.01 فیصد بنتا ہے۔ 🔴اب یہ سن کے آپ اپنا دل نہ توڑیں۔ کہ بلال اُف۔ یہ تو بہت چھوٹا نمبر ہے۔ ریلیکس کریں۔ یہ سٹارٹ ہے۔ اور یہ آپ اور میں، ہم دو مل کے ہی سٹارٹ کر رہے ہیں۔ 🔴دیکھیں میں تو بہت چھوٹا سا کرییٹر ہوں۔ میں کون ہوں؟ اور میں اگر 0.01 پرسنٹ لگا سکتا ہوں تو سوچیں کہ جو مجھ سے کہیں بڑے کریٹرز ہیں، ٹک ٹاک پہ اگر اپ لے لیں علی زئی ہو گئے۔الہ دین ہو گئے۔ آصف ہو گئے۔ 🔴یا ٹوٹر پہ لے لیں۔ فلک جاوید صنم جاوید طیبہ راجہ وجاہت۔ یہ سب جو ریمٹنس کی بات کر رہے ہیں، ان کے نمبر آپ لانا شروع کر دیں۔ ان کی فالوئنگ تو ملینز میں ہے۔ اگر 0.01 پرسنٹ میں لے کے جا سکتا ہوں، تو 0.3 یہ لے کے جا سکتے ہیں۔ 🔶کوئی بندہ 0.5 لے کے جا سکتا ہے۔ تو ایسے کرتے کرتے ہم پہنچ جائیں گے۔ ایک دو فیصد کا اگر ہم اماؤنٹ اگر کٹ ڈال دیتے ہیں نا، اسٹیبلشمنٹ کو سمجھ آجاتا ہے کہ یہ ہم نے مل کے کٹ ڈال لیا، تو وہ دو باتیں ہوں گی۔ 🔴ایک تو پی ٹی ائی والوں میں کانفیڈنس آ جائے گا کہ یہ کام ہو سکتا ہے۔ کیونکہ ہم ان کو کر کے دکھا دیں گے۔ ہم شروع کر کے دکھادیں گے۔ 🔴اور دوسرا اگلوں کو دھچکا لگے گا، اسٹیبلشمنٹ کو لگے گا، کہ یہ تواب گرے کہ اب گرے۔ دیکھیں، جنگ میں میچ جیتنا نہیں ہوتا۔ آپ نے صرف اگلوں پہ، یہ ان کے دماغ پہ، یہ حاوی کرانا ہوتا ہے کہ میچ ان کے ہاتھ سے نکل رہا ہے۔ بس۔ 🔴اور اس کے لیے 100 فیصد کامیابی نہیں چاہیے ہوتی۔ صرف یہی پرسینٹیج ایک دو فیصد تک لے جاؤ، وہ انسان بن جائیں گے۔ یہ میں آپ کو لکھ کے دیتا ہوں۔ 🔶پی ٹی ائی افیشل والے، بیرسٹر گوہر ہو گئے وغیرہ، ان لوگوں میں وہ کانفیڈنس نہیں ہے۔وہ یہ نہیں سمجھتے کہ ہم پوری دنیا کے پاکستانیوں کو ملا کے تو اتنی کامیاب مہم چلا سکیں گے۔ ان کو یہ لگتا ہی نہیں کہ ایسا ہو سکتا ہے۔ 🔶ان میں عمران خان والا ویژن نہیں ہے۔ ان میں عمران خان والا ایمان نہیں ہے۔ عمران خان 92 کے ورلڈ کپ میں بھی اپنی ٹیم سے آگے تھا اور وہ شوکت خانوں میں بھی ٹیم سے آگے تھا اور وہ آج بھی سیاست میں بھی اپنی ٹیم سے آگے ہے۔ 🔶یہ لوگ سٹرگل کی آگ میں پک کے بڑے نہیں ہوئے۔ آپ اور میں ہوئے ہیں۔ ہم کر یں گے۔ ایاک نعبدو و ایاک نستعین اللہ تجھ سے مدد مانگتے ہیں تیری عبادت کرتے ہیں تجھ سے ڈرتے ہیں اور کسی کے باپ سے نہیں ڈرتے

Bilal Ansar Khan

59,136 views • 1 year ago

Monitoring اماں لعل جان و فدائی حوا: ایک آغوش، ایک عہد، ایک بیانیہ شہید فدائی حوا بلوچ، جن کا کوڈ نام دروشم تھا، 13 ستمبر 2006 کو تمپ کے علاقے کوہاڈ میں پیدا ہوئیں۔ وہ ایک ایسے گھرانے میں پروان چڑھیں جہاں سیاست محض گفتگو کا موضوع نہیں بلکہ روزمرہ کی حقیقت تھی۔ ان کے والد، ناکو نبی بخش، 8 نومبر 2021 کو شہید کیئے گئے۔ ایک بیٹی کے لیئے باپ کی غیر موجودگی ہمیشہ ایک خلا چھوڑتی ہے، مگر مزاحمتی معاشروں میں یہ خلا صرف ذاتی نہیں رہتا، وہ اجتماعی یادداشت کا حصہ بن جاتا ہے۔ اکتیس جنوری کو آپریشن ھیروف کے دوران مجید بریگیڈ کی جانباز فدائی بن کر حوا بلوچ گوادر کے محاذ پر دشمن کے فوجی کیمپ میں اپنے ساتھی فدائین کے ہمراہ داخل ہوتی ہے، آخری گولی تک لڑتی ہے، اور مزاحمتی تاریخ کے ماتھے کی جھومر بن جاتی ہے۔ بعض اوقات تاریخ توپوں کی گھن گرج سے نہیں، ماں کی خاموش پیشانی سے لکھی جاتی ہے۔ بعض اوقات انقلاب نعروں سے نہیں، رخصتی کے وقت کی مسکراہٹ سے جنم لیتا ہے۔ موقع وداع کی یہ ویڈیو، جس میں فدائی حوا اپنی والدہ اماں لعل جان سے گلے مل کر ہنستے ہوئے اپنے آخری فدائی مشن کیلئے روانہ ہوتی ہے، محض چند منٹ کا منظر نہیں، بلکہ ایک پورے عہد کی روح ہے۔ وہ لمحہ جب اماں لعل جان اپنی بیٹی کو ہنستے ہوئے گلے لگاتی ہیں، دراصل وہ لمحہ ہے جب ایک ماں اپنی ذات سے بلند ہو کر قوم بن جاتی ہے۔ اس گلے ملنے میں لرزش نہیں، الزام نہیں، سوال نہیں۔ جیسے وہ جانتی ہو کہ اس کی بیٹی صرف اس کی نہیں رہی۔ جیسے ایک قدیم درخت اپنی سب سے مضبوط شاخ کو آندھی کے سپرد کر دے، اس یقین کے ساتھ کہ وہ شاخ ٹوٹے گی نہیں، بلکہ ہوا کا رخ بدل دے گی۔ حوا کی مسکراہٹ میں بچپن کی معصومیت نہیں، ایک شعوری بلوغت ہے۔ اٹھارہ برس کی عمر میں اکثر لڑکیاں خواب دیکھتی ہیں، مگر اس کی آنکھوں میں خواب نہیں، فیصلہ ہے۔ وہ فیصلہ جو کسی جذباتی لمحے کا نتیجہ نہیں، برسوں کی خاموش تربیت کا ثمر تھا۔ اماں لعل جان کے چہرے پر سکون کیوں ہے؟ کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ غلامی میں پرورش پانے والی نسلیں یا تو خوف سیکھتی ہیں یا مزاحمت۔ اور ان کی بیٹی نے خوف کو قبول نہیں کیا۔ اس سکون میں دکھ ہے، مگر شکست نہیں۔ اس میں درد ہے، مگر پچھتاوا نہیں۔ مزاحمت صرف میدان میں نہیں ہوتی۔ مزاحمت اس لمحے میں ہوتی ہے جب ایک نوجوان لڑکی اپنی ماں کے سامنے کھڑی ہو کر کہتی ہے کہ میں قربان ہونے کیلئے تیار ہوں۔ مزاحمت اس لمحے میں ہوتی ہے جب ماں اپنے آنسو نگل کر کہتی ہے کہ جا بیٹی، میں تیرے لیئے دعاگوار ہوں۔ فدائی حوا کی کہانی، سب سے پہلے ایک انسانی کہانی ہے۔ ایک ایسی بیٹی کی کہانی جس نے باپ کی یاد کو کمزوری نہیں، قوت بنایا۔ ایک ایسی ماں کی کہانی جس نے خوف کو بیٹی کی راہ میں دیوار نہیں بننے دیا۔ یہ بلوچ عورت کی نئی تعریف ہے۔ وہ صرف مظلوم نہیں، وہ فیصلہ ساز بھی ہے۔ وہ صرف رونے والی نہیں، رخصت کرنے والی بھی ہے۔ اماں لعل جان جب بیٹی کو گلے لگاتی ہیں تو وہ صرف اسے الوداع نہیں کہتیں، وہ ایک پیغام دیتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ہماری مائیں ٹوٹتی نہیں، ہمارے گھر خالی ہوکر بھی کمزور نہیں ہوتے، ہماری بیٹیاں صرف خواب نہیں دیکھتیں، وہ خواب کو حقیقت میں بدلنے کی قیمت بھی ادا کرتی ہیں۔ اس ویڈیو کو دیکھتے ہوئے آنکھیں نم ہوسکتی ہیں، مگر یہ کمزوری کی نمی نہیں، شعور کی نمی ہے۔ یہ اس بات کا احساس ہے کہ کچھ فیصلے آسان نہیں ہوتے، مگر ضروری ہوتے ہیں۔ اور جب ایک ماں اپنی بیٹی کے فیصلے کے ساتھ کھڑی ہو جائے، تو پھر اس فیصلے کی اخلاقی طاقت آسمانوں کو ہلا سکتی ہے۔ ویڈیو کے آخر میں، حوا کی تصویر ہمارے سامنے آتی ہے۔ مسکراتی ہوئی۔ مطمئن۔ جیسے اسے معلوم ہو کہ اس کی زندگی کا پیمانہ لمبائی سے نہیں، گہرائی سے ناپا جائے گا۔ جیسے وہ کہہ رہی ہو کہ میں گئی نہیں، میں ایک سوال چھوڑ گئی ہوں۔ اور جب تک اس سوال کا جواب وطن کی آزادی و انصاف کی بحالی کی صورت میں نہیں ملتا، تب تک یہ کہانی ختم نہیں ہوگی۔

Bàhot باھوٹ

140,922 views • 7 months ago

زمینی حقائق بمقابلہ آئیڈیلزم (مندرجہ ذیل تحریر کو پڑھتے وقت یاد رکھئے گا کہ ابھی ہمارے شہیدوں کی قبروں کی مٹی بھی خشک نہیں ہوئی، ابھی ہمارے سینکڑوں لوگ لاپتہ ہیں جن کے زندہ مردہ ہونے کا ہمیں علم نہیں اور ابھی تک اس خون ناحق کے خلاف ابتدائی رپورٹ تک درج نہیں ہوئی) مذاکرات یا مزاحمت؟ ڈٹ جانا یا گھٹنے ٹیک کر خوف کے بت کے آگے سجدہ میں گر جانا؟ زمینی حقائق کا بھاشن پڑھانے والوں کو ضرور بتائیے گا! اس دنیا کا سب سے بلند آئیڈیل کیا ہے؟ یقینا" "لا الہ الاللہ " دوسرے الفاظ میں، اللہ کے علاوہ ہر جھوٹے خدا کو سجدے سے انکار، یعنی حقیقی آزادی - صرف اور صرف اللہ کے آگے سرنگوں ہونا، صرف اسی کی بندگی اور غلامی کرنا! زمینی حقائق تو ہمیشہ حق اور سچ کے راستے میں دیوار بن کر حائل رہتے ہی ہیں۔ تو کیا ان کے سامنے مجبور و لاچار ہو کر گھٹنے ٹیک دئیے جائیں؟ ہرگز ہرگز نہیں! لہذا زمینی حقائق سے سمجھوتا کرنے، ان کے سامنے سجدہ ریز ہونے کی بجائے اپنے زمینی حقائق خود تخلیق کرنا سیکھو "وہی جہاں ہے تیرا جس کو تو کرے پیدا یہ سنگ و خشت نہیں جو تیری نگاہ میں ہے" تاریخ کیا بتاتی ہے؟ آج سے تقریبا" چودہ سو سال پہلے زمینی حقائق یہ تھے کہ ایک طرف 313 مومنین کا لشکر جن کے پاس نہ اعلی جنگی ساز و سامان تھا اور نہ حربی مہارت۔ مقابلے پہ تین گنا بڑا جنگجووں کا لشکر تھا جو کیل کانٹے سے لیس تھا لیکن زمینی حقائق کو خاطر میں لائے بغیر بلند آئیدیلز لے کر یہ مومنین میدان میں اترے اور زمینی حقائق کے خلاف بلند آئیڈیلز کا جہاد شروع کیا۔ یہ زمینی حقائق، حسین کے راستے میں بھی تھے لیکن آئیڈیلز پہ سمجھوتہ نہیں کیا! اور دنیا نے دیکھا خاتم النبیین رسول خدا صلی علی علیہ وسلم کی رحلت کے 80 سال بعد یہی بلند آئیڈیلز پر یقین رکھنے والے، زمینی حقائق کو روندتے ہوئے، دنیا کے کونے کونے، مشرق میں ہندوستان، شمال میں آرمینیا اور مغرب میں اندلس میں داخل ہو چکے تھے اور وہاں پہ خود اپنے زمینی حقائق تخلیق کر رہے تھے۔ اسلام کے بلند آئیڈیلز کی فتح کے جھنڈے گاڑھ رہے تھے۔ لہذا آپ کو زمینی حقائق سے خوفزدہ کرنے والے لوگ درحقیقت آپ کے بلند آئیڈیلز سے گھبراتے ہیں کتراتے ہیں۔ زمینی حقائق کے آگے سرنگوں ہونے والے لوگ انجانے میں ہی سہی لیکن خوف اور دنیاوی طاقتوں کے بتوں کے آگے سجدوں میں گر پڑتے ہیں جبکہ کسی آزاد مسلمان اور مومن کا یہ شیوہ نہیں ہو سکتا سمجھوتہ نہیں، صرف اور صرف حق اور سچ کی بات۔ صرف اور صرف انصاف اصل منزل حقیقی آزادی ہے خان کی رہائی، مینڈیٹ کی واپسی، شہدا کا انصاف، بائیکاٹ، سول نافرمانی اور مسلسل حق کا پرچار فوری اہداف ہیں حوصلہ، ہمت اور استقامت سے کام لیں آپ نے گھبرانا نہیں ہے کیونکہ گھبرانے کا وقت اب آپ کے مخالفین کا ہے یاد رکھیں جیت ہمیشہ حق کی ہوتی ہے #گولی_کیوں_چلائی

Khurram Zeeshan

505,850 views • 1 year ago