Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

تیری ایسی دی تیسی تو وکیل نوں گال کڈیں۔ڈارھی والے وکیل کی دھمکی۔ ہن آرام اے؟

214,932 görüntüleme • 3 yıl önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

زمین کا بھوکا خارجی ملا!! یہ خارجی ملا کہہ رہا ہے کہ "افغان طالبان بھی پاکستان فتح کرینگے اور ٹی ٹی پی بھی تم لوگوں کا حشر کرے گی ان شاءاللہ!" کل ایک پولیس والی کو کیمروں کے سامنے گولی مارنے کی دھمکی دی کیونکہ اسکے خیال میں اس کے سر پر چادر ٹھیک نہیں تھی۔ یہ زمینوں کا بھوکا خارجی ملا کہتا ہے کہ پاکستان اور پاکستانی اس لیے مرتد ہیں کہ شاہراہ کے درمیان قبضے کی جگہ سے مسجد کہیں اور منتقل کرنے کی کوشش کیوں کی؟ بیس سال میں ٹی ٹی پی نے 100 سے زائد مساجد بم دھماکوں میں اڑائی ہیں نمازیوں سمیت۔ خاص طور پر جمعے کی نمازوں میں اور ایسے ہر حملے میں پچاس سے سو نمازیوں کی جانیں گئیں۔ اس حوالے سے جب اس منافق ملا سے پوچھا گیا کہ ٹی ٹی پی مسجدیں اڑا رہی ہے اس پر کیا آپ ٹی ٹی پی کو بھی مرتد کہیں گے؟ تو موصوف نے سخت برا منایا اور جواب دینے سے بھی انکار کردیا۔ مطلب مساجد کو نمازیوں سمیت بموں سے اڑانے والے مجاہد اور مساجد کو قبضے کی جگہ سے کسی اور جگہ متنقل کرنے والے مرتد؟ انکی مساجد سے محبت یا دین سے محبت انکی سیاسی ضروریات کی حد تک ہوتی ہے۔ ورنہ اگر سچ میں زمین پر قبضہ کر کے مسجد بنانا جائز ہو تو مولوی عبدالعزیز نے جی سکس، جی سیون اور فیصل مسجد کے قریب کوئی 20 کنال زمین پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ میں وہاں ایک مرلے کی مسجد اسکی اجازت کے بغیر بناتا ہوں جس پر اس کا کنٹرول نہ ہو۔ خدا کی قسم کہ مجھے اس مسجد سمیت زندہ جلا دیگا۔ اسی طرح فضل الرحمن نے جب اسمبلی میں کہا قبضے کر کے بنائی گئی مساجد کی ایک اینٹ کو ہاتھ نہیں لگا سکتے تو فضل الرحمن کی ڈیرہ اسمعیل خان میں 13 ہزار کنال زمین ہے۔ میں وہاں اسکو بتائے بغیر ایک کنال زمین پر مسجد و گھر و مدرسہ بناتا ہوں۔ جیسے اسلام آباد میں مولوی کر رہے ہیں۔ یقین مانیں وہ مسجد کھود کر وہاں میری قبر بنا دے گا۔ خدا کی قسم یہ سارے منافق ہیں۔ انکی شریعت انکا دین اور انکی مساجد سے محبت یا انکی حرمت انکی سیاسی ضرورت کے تابع ہوتی ہے۔ #Pakistan #14August

Shahid Khan

65,316 görüntüleme • 1 yıl önce

اور پھر مودی جی اور اجیت دول جی کیا حال چال ہے۔۔۔کچھ سمجھ آئی۔۔۔ہرا سمندر گوبھی چُندر بول میری مچھلی کتنا پانی۔۔حرام کے پِلّوں تم چلے تھے آپریشن سندور 2 کے ذریعے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے۔۔اور سپورٹ کرو بی ایل اے کو،اور سرمایہ کاری کرو “نک دا کوکا” کی تحریک اور قیدی نمبر 420 کو، اور سرپرستی کرو افغان طالبان کی، اور سر پر چڑھاؤ مولوی فضل الرحمن کو۔۔۔۔!!!! انشاء اللہ تمہارا آپریشن سندور 2 اُدھر ہی واڑ دیا جائے گا جہاں سے تم اِس دُنیا میں آئے تھے۔۔۔۔!!!! تم سمجھتے تھے کہ پاکستان والے سادھے اور سادھو ہیں۔۔۔وہ دُھریندر 1 اور دُھریندر2 فلموں میں پاکستان کو توڑنے والے تمہارے عمل اور بیانیے کو آرام اور ٹھنڈے پیٹوں تسلیم کر کے اپنے سر جھکا کر تمہاری ذلالتوں اور دلالتوں کو اکیس توپوں کی سلامی پیش کریں گے۔۔۔تو حاضر خدمت ہے آپریشن کاکروچ ۔۔۔اِس آپریشن کے ذریعے پنجاب سے لے کر آسام تک ایک سو پچاس کروڑ ہندوستانی مودی،راج ناتھ،جے شنکر،امیت شاہ اور اجیت دول اور ہندوتوا سرکار کے لیے ہندوستان کو نفرت کا تندور بنا دیں گے۔۔…!!!!! ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا۔۔آگے آگے دیکھیے اب ہوتا ہے کیا۔۔۔مادر پدر اور فادر پدر ہندوتوا سرکار۔۔!! Major Gaurav Arya (Retd) ZeeTV NDTV India Arnab Goswami Satire

Fayaz ul Hassan Chohan

17,278 görüntüleme • 2 ay önce

اسلام اباد دی کبوتری پھڑا بیٹھا ہاں ۔۔ یہ ہے بھولا ریکارڈ ہے جسکا دھندہ نائیٹ پارٹیز ارینج کروانا دوسرااس کا دھندہ چٹی دلالی کا ہے کسی فنکشن کیلے یا پھر رات گزارنے کیلے لڑکی چاہیے تو یہ خود دنیا کہ جس کونے میں ہو لڑکی پہنچ جاے گی ۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے اس کی سروس یو اے ای اور پاکستانی میں جاری و ساری ہے ۔ تیسرااسکا دھندہ جسم فروشی کے دھندے میں انے والی نئی لڑکیوں کو پرموٹ کرنا ہے ۔۔ یہ بندہ اک بار پکڑا گیا تھا پھر بندے کا پتر بن گیا تھا مگر کتے کی دم سیدھی ہو سکتی ہے مگر یہ بیشرم سیدھا نہی ہو سکتا ۔۔ قانون کا پستول بھی ہمیشہ نیفے دیکھ کر چلتا ہے ۔۔ اداروں سے اپیل ہے ایسا شخص جو کھلے عام سیکس ورکرز کی پرموشن کرے ننگے جسم کے ساتھ لڑکیوں کے ساتھ ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال دے کیا اس کے خلاف کوی کاروای ہو گی ۔ پنجاب اور پاکستان کے تمام اداروں سے اپیل ہے اس انسان کو فوری گرفتار کیا جاے ۔۔ یاپھر اگر اپکی نظر میں یہ شریف ہے تو پاکستان کا مثبت چہرہ دیکھانے والے اس شخص کو ایوارڈ سے کیوں محروم کیا گیا ہے ۔۔
0:17

Sensitive content

اسلام اباد دی کبوتری پھڑا بیٹھا ہاں ۔۔ یہ ہے بھولا ریکارڈ ہے جسکا دھندہ نائیٹ پارٹیز ارینج کروانا دوسرااس کا دھندہ چٹی دلالی کا ہے کسی فنکشن کیلے یا پھر رات گزارنے کیلے لڑکی چاہیے تو یہ خود دنیا کہ جس کونے میں ہو لڑکی پہنچ جاے گی ۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے اس کی سروس یو اے ای اور پاکستانی میں جاری و ساری ہے ۔ تیسرااسکا دھندہ جسم فروشی کے دھندے میں انے والی نئی لڑکیوں کو پرموٹ کرنا ہے ۔۔ یہ بندہ اک بار پکڑا گیا تھا پھر بندے کا پتر بن گیا تھا مگر کتے کی دم سیدھی ہو سکتی ہے مگر یہ بیشرم سیدھا نہی ہو سکتا ۔۔ قانون کا پستول بھی ہمیشہ نیفے دیکھ کر چلتا ہے ۔۔ اداروں سے اپیل ہے ایسا شخص جو کھلے عام سیکس ورکرز کی پرموشن کرے ننگے جسم کے ساتھ لڑکیوں کے ساتھ ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال دے کیا اس کے خلاف کوی کاروای ہو گی ۔ پنجاب اور پاکستان کے تمام اداروں سے اپیل ہے اس انسان کو فوری گرفتار کیا جاے ۔۔ یاپھر اگر اپکی نظر میں یہ شریف ہے تو پاکستان کا مثبت چہرہ دیکھانے والے اس شخص کو ایوارڈ سے کیوں محروم کیا گیا ہے ۔۔

Saleem Speaks

39,753 görüntüleme • 4 ay önce

بیشک عزت و ذلت اللّٰہ کے ہاتھ میں ہے ! زیر نظر یہ دو تصاویر رہائی کے سال بعد مجھے جیل کے اندر کام کرنے والے محکمہ جیل خانہ جات کے میرے اک ہمدرد بھائی نے جو خان صاحب سے بے حد پیار کرتاہے نے نام نہ بتانے کے شرط پہ بھیجیں کہ جب آپ کو گرفتار کرکے لائے تو آپ کے علم میں لائے بغیر یہ تصاویر ”کسی“ نے بنا کر ”اُوپر“ کسی کو بھجوائی تاکہ ”ان“ کی انا کو تسکین پہنچ سکے۔ میں اس بھائی کا نام اور متعلقہ جیل کا نام اسکی خود کی حفاظت کی خاطر آج بھی لینے سے گریز کرونگا اور صیغئہ راز میں رکھنے کو ترجیح دونگا ۔ لیکن یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ایسا کر کے آپ نہ میرا حوصلہ توڑ سکے اور نہ ہی میرے لیڈر Imran Khan اورمیری جماعت PTI سے میری کمٹمنٹ و وابستگی کوتوڑ سکے۔ اسیری کے زمانے میں ہمیشہ میں اپنا وکیل کا کالا کورٹ زیب تن رکھتا تھا اور کوشش کرتا تھا کہ جیل کے اندر اور جیل کے باہر گرفتاریوں کے وقت اور عدالتوں میں پیشیوں کے وقت کبھی بھی میرے چہرے پہ ان کو پریشانی نظر نہ آئے۔ کیونکہ یہی وہ چاہتے تھے۔ میرے چہرے کی مسکراہٹ چھیننا چاہتے تھے۔ (زیر نظر جہلم جیل کی گرفتاری کی ویڈیو موجود ہے) میرا پیغام ان کو ہمیشہ یہی ہوتا تھا کہ آپ میرے ہاتھوں میں ہتھکڑی تو پہنا سکتے ہیں لیکن آپ میرے چہرے کی مسکراہٹ نہیں چھین سکتے کیونکہ میرا رب آپ سے بہت بڑا ہے۔ آپ کے پاس اقتدار کی طاقت ہے اور میرے پاس میرے ایمان کی طاقت۔ میں یہ نہیں کہتا کہ میرا سر نہ ملے گا لیکن میری آنکھوں میں تمہیں ڈر نہ ملے گا زندگی کا اک تکلیف دہ دن اپنے ہی آبائی شہر مردان کی آبائی بار مردان بار جہاں میرے دادا پیر محمد خان صاحب نے بھی 1947 میں آزادی کے بعد سے وکالت کی اور میں نے بھی وہیں سے اپنی وکالت کی ابتداء کی وہاں وکیل کے یونیفارم میں دو مرتبہ ہاتھوں میں ہتھکڑی ڈال کر لایا گیا اور عدالت کے اندر بھی ہتھکڑی نہ کھولی گئی۔ (زیر نظر ویڈیو موجود ہے) لیکن یہ شاید بھول گئے تھے کہ عزت و ذلت ان زمینی خداؤں کے ظالم ہاتھوں میں نہیں بلکہ میرے رب کے ہاتھوں میں ہے۔ میں شکر گزار ہوں اللّٰہ تعالیٰ کا اور مجھے فخر ہے اپنے مردان کے عوام پہ جنہوں نے دوبارہ منتخب کر کے عزت کیساتھ تیسری بار واپس ایوان میں بھیجا۔ بیشک عزت و ذلت زمینی خداؤں کے نہیں میرے رب کے ہاتھ میں ہے۔ یہ سلسہ آج بھی جاری ہے جس طرح ہمارے کارکنان کےساتھ کیا جارہا ہے لیکن کوئی ایک کارکن بتا دیں جو باوجود اس طرح کی فسطائیت کے راہ حق سے ہٹایا جا سکا ہو۔ جتنی جلد طاقت عوام کے اصل نمائندوں کے حوالہ کریں گے اور قوم کے لیڈر عمران خان کی رہائی کریں گے تاکہ وہ اپنی قوم کی قیادت کر سکے اتنا ہی جلد یہ ملک واپس ترقی کی راہ پہ گامزن ہوگا۔ نصر من اللّٰہ و فتح قریب پاکستان زندہ باد 🇵🇰 تا قیامت پائیندہ باد

Ali Muhammad Khan

794,542 görüntüleme • 1 yıl önce

کسی کو سزا کسی کو جزا ( جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے) ملک میں کچھ بھی ہوجاے پاکستانی پولیس نے کبھی مجھے مایوس نہیں کیا - کسی بھی معاملے میں جو کرنا چاہیے ' اس کے بالکل متضاد اور برعکس کرکے ہمیشہ میری امید پر یہ لوگ پورا اترے ہیں - ان کو کیوں لگتا ہے کہ لوگ ان سے نرم دل ' میٹھا میٹھا یا حاتم طائ ہونا آئیکسپیکٹ کرتے ہیں - ہر گز نہیں - لوگ ان سے بس قانون کی عمل داری کرنا اور پروفیشنل ہونا ایکسپکٹ کرتے ہیں اور الحمد للہ یہ ہر موقع پر انتہائی غیر پروفیشنل' بے قانون اور غیر ذمے دار ثابت ہوتے ہیں - عورت کو بس ایک عورت اہلکار ہی ہاتھ لگاے -- لیکن نہیں - وہاں ان کے مرد اہلکار عورتوں کے گریبان پر ہاتھ ڈالتے بھی دیکھے گیے ہیں - ایک سرکاری افسر ہوتے ہویے ان کو عوام کا خادم ہونا ہوتا ہے - وہاں ان کے آئ جی پھولوں والی بگھیوں پر برطانوی راج والے پروٹوکول میں اسلام آباد کی سڑکوں پر مٹر گشت کرتے بھی دیکھے گیے ہیں - اور اب آج یہ نمونہ - ایک نوجوان جو بغیر ڈرائیور کے گاڑی کا تجربہ بغیر کسی لائسینس ' کسی انجنیرنگ اتھارٹی اپروول کے اسلام آباد کی ہائی وے پر کر رہا تھا ' اور ساتھ کیمرہ مین کو انٹرویو بھی دے رہا تھا ' اس نے پولیس کی گاڑی میں ٹکر دے ماری تو پولیس محض یہاں ویوز اور عوامی داد سمیٹنے کیلئے ایک انتہائی غفلت والے اقدام کو سراہ رہی ہے اور جگہ جگہ میمز بن رہی ہیں - یہ مذاق ہے ؟ ابھی تین دن پہلے اس ملک میں ایک حادثہ ہوا ہے جہاں ایک ہسپتال میں چودہ ننھے بچے جل کر دنیا سے چلے گیے ہیں ' اس کے بعد اس طرح کے بھیانک مذاق ؟ چلیں یہ تو پولیس تھی - یہی کسی کا بچہ اس نے نیچے دے دیا ہوتا - اپنے ویوز کے چکر میں کسی موٹر سائکل کو کچل دیا ہوتا - کسی ویل چیئر یا فٹ پاتھ پرچڑھ جاتا ' یا کسی کو ساری عمر کیلئے معذور کردیا ہوتا ' تو تب بھی پولیس کا یہی رسپانس ہوتا ؟ اگر جواب "نہیں " میں ہے تو اب یہ والا رسپانس کوئی بہت بردباری نہیں بلکہ انتہائی غیر پروفیشنل رویہ ہے - یہاں کوئی بھی مہذب ملک ہوتا تو اس آدمی کو جرمانہ کرکے اس کے ڈراوئنگ لائسنس کینسل کرکے اس کو حوالات میں رکھتا - کیا آ پ کو معلوم ہے کہ کسی بھی ملک میں شراب پی کر ڈرائیونگ کرنا انتہائی بڑا جرم سمجھا جاتا ہے اور ڈرائیور کا لائسنس معطل کرکے اس پر فوجداری مقدمہ چلایا جاتا ہے وہ اس لئے کہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ شراب پی کر ڈرائیور سیٹ پر ہوتے ہویے بھی دماغی طور پر کار کی سیٹ پر نہیں ہوتا - اور یہاں تو ڈرائیور دماغی طور پر نہیں ' جسمانی طور پر سیٹ سے ہی غائب ہے - اس پر یہ واہ واہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارا کوئی بھی شعبہ پروفیشنل نہی ہے - کیا پولیس والے نے چیک کیا کہ اس معاملے میں قانون کی کہتا ہے ؟ پاکستان پینل کوڈکیا کہتا ہے ؟ یہ کبھی سزا دے دینا اور کبھی معاف کردینا کسی پولیس والے کی بساط اور اختیار کب سے ہوگیا ؟ یہ ملک ہے یا ان کا تھانہ ہے کہ کسی کو چھتر چڑھا دیے کسی کو ہار پہنا دیے - جہاں تک اس سٹوڈنٹ کی بات ہے تو اس کو بھی معلوم ہونا چاہیے کہ آپ نے اگر ایسا تجربہ کرنا بھی ہے تو اس کا پروٹوکول ہے - آپ کسی آتھینٹک کمپنی سے گاڑی چیک کرواتے ہیں ' اس کے بعد اس گاڑی کے بنانے والے کی اہلیت اور کریڈنشل چیک کراتے ہیں اس کے بعد ایسا تجربہ کسی ایسی جگہ کرتے ہیں جہاں عوام یا ٹریفک نہ ہو - اگر اس طرح کے عمل پر شاباش ملنے لگی تو کل کو کوئی انجن لگا کا جہاز بنا کر چھت سے چھلانگ لگا دیگا اور کسی راہ چلتے پر ٹرانسفارمر جیسا انجن گرادیگا - اسی اصول کے مطابق ون ویلنگ کرنے والے سارے من چلوں کو ایوارڈ دینا چاہیے کہ یہ بھی ٹیلنٹ ہے - خدا کیلئے - کبھی تو ہمیں بھی غلط ثابت کریں - کوئی کام ویسے بھی کیا کریں جیسا قانون کی کتاب میں لکھا ہوتا ہے - آپ کو سوشل میڈیا پر حاتم طائ بننے کی تنخواہ نہی دی جاتی ' قانون پر عملداری کی تنخواہ ملتی ہے جس کا آپ کے عمل سے دور دور کا بھی تعلق نہی ہے - خرد کا نام جنوں پڑ گیا جنوں کا خرد جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے قلم کی جسارت وقاص نواز ---------------------------------------------------- Moeed Pirzada Hamid Mir حامد میر Imran Riaz Khan Islamabad Police

Dr Waqas Nawaz

66,050 görüntüleme • 1 ay önce

کسی کی قسم کی کوئی ڈیل نہ پہلے منظور تھی نہ آئندہ منظور ہے ،یہ بات کور کمانڈر اجلاس میں واضع طور پر بیان کردی گی تھی ،نہ ہی تو کوئی اس وقت ایسا موقع تھا نہ موقع ہے ۔اپ دوسروں کو اپنے وطن بلا کر پریشر ڈالیں ۔آزادی یا موت نعرہ آج بھی قائم ہے انشاللہ قائم رہے گا ۔اگر مسٹر خان نے ڈیلیں کرنی ہوتی تو تین سال اپنی زندگی ،لوگوں کی زندگیاں ،اپنا خون بہانے کی کسی کو کیا ضرورت تھی ،آپ باز رہیے ۔ الو کا پھٹہ سہیل آفریدی اسی طرح کور کمانڈروں کی باتوں میں ا کر اُدھر اُدھر بھاگتا رہا تو اس کا حال بھی مسٹر غنڈا پورا جیسا ہی ہو گا ۔ادارے کے چیف اس وقت امارات کے صدر کو بتا رہے کہ سہیل آفریدی کو ملک بھی کہیں بھی انے جانے کی اجازت ہے کوئی رکاوٹ نہیں ،جبکہ سہیل آفریدی کو کہا گیا تھاآج کے دن مسٹر خان کی رہائی کے لیے احتجاج کال کرے ،تاکہ انے والے مین رجیم کردار کے ساتھیوں کو پتہ چل سکے قوم مسٹر خان کی رہائی ہر صورت چاہتی ہے ۔پنجاب کے دورے بعد میں بھی کیے جا سکتے تھے ۔ اسی طرح بے مقصد ،باتوں میں ا کر اہم دن بے مقصد دورے کے کوئی نتائج نہیں ملنے والے سوائے ،آپ شوشل میڈیا پر واہ واہ کرانے کے ،یہی وجہ ہے جب بھی اسلامی ممالک جو رجیم چینج کرانے میں اہم رہے ہیں ان کے سربراہ مملکت کے وقت پی ٹی آئی کوئی احتجاجی کال نہیں دیتی تاکہ ریکارڈ رہے ،لیکن جیسے ہی چین کی کوئی اہم شخصیت کسی دورے کا اعلان ہوتا ہے ،پی ٹی آئی کو دیے ہوئے کمپرومائز وکیل اور آزاد سیاسی لیڈر جو ادارے کے لوگ ہین ،ایکٹو ہو کر احتجاج کرنے ا جاتے ہیں جبکہ وہ سب ادارے کے لوگ ہوتے ہیں ،اصل پی ٹی آئی نہیں ہوتی ۔دونوں صورت میں ادارے کو بیچنے کے مواد پی ٹی آئی کے خلاف مل جاتا ہے ۔چین کا کوئی دورہ کرنے اہے تو پی ٹی آئی ملک دشمن عناصر اسلامی ریاست کا کوئی دورہ کرنے اہے تو پی ٹی آئی ارد گرد مصروف کیوں رہتی ہے ؟ مسٹر آفریدی اپنی سوچ کو پختہ کریں ،عمل نہیں کر سکتے تو بہتر ہے کسی اور کو انے دیں ،آپ کا پہلا مقصد مسٹر خان کی رہائی ،اسٹریٹ موومنٹ کے لیے پنجاب کی قیادت کی زیادہ زمہ داری تھی کہ آپ لاؤ لشکر کے کر آج ہی لاہور جاتے ،پی ٹی آئی کو اپنی اسمبلی اور اسلام آباد پرامن احتجاج کی کال دینی چاہیے تھی تاکہ جو پیغامات لے کر اتے ہیں ان کو پتہ رہے قوم مسٹر خان کے ساتھ پہلے دن کی طرح کھڑی ہے ،کچھ بھی نارمل نہیں ہے ۔ 🥷🏼🪐🥷🏼✍️🥷🏼🪐👁️۵۲۸۱/۸۲۷۲🥷🏼🪐🥷🏼🪐🥷🏼👀👀👀👁️۲۵۱۷۱)۷۲۸۱🪐🥷🏼🪐✍️✍️🪐🥷🏼🧑🏼‍✈️🧑🏼‍✈️🧑🏼‍✈️👁️👁️🥷🏼🪐۲۶۱۸۲۹۲۶/۶۱۷۱🪐🪐۶۲۷۱۸۲۶۲/۶۲۷۲۸ آپ ہارے ہیں آپ ہار چکے ہیں ،چاہیے آپ شیشے کے پیچھے بیٹھ کر بھی ہار چکے ہیں ،آخری دم تک آزادی یا موت کا نعرہ جاری ہے ۔علیمہ خان کی بات کو حتمی سمجھا جائے ،کسی قسم کے کوئی مزاکرات نہیں ہوں گے ،پہل آپ نے کی تھی معافی بھی آپ کی پہل سے ہوگی ورنہ بھول جائیے جو کہتے ہیں پھر حل کیا ہے ؟ حل ایک ہی ہے عدالتیں آزاد ہو کر آزادی دیں ،سیٹیں 201واپس کی جائیں ،جیلوں میں قید فوجیوں سمعت پی ٹی آئی کے لوگ رہا کی جائیں ،ساری دنیا ملا کر بھی آپ ہاریں گے انشاللہ اللہ آپ حق ہے ،حق کی فتح دیر سے چاہیے ہو لیکن ہو گی ۔ قوم پر امید رکھے انشاللہ اللہ آسانی بھی لائے گا ۔

SAGA in Field

61,188 görüntüleme • 9 ay önce

آج پہلے فرید قریشی ، اسد ملک اور مغل نے سلمان اکرم راجہ کی میڈیا ٹاک میں مجھے ناصرف کارنر کرنے کی کوشش کی بلکہ میرے سوال پوچھتے وقت بولنا شروع کر دیتے تھے پھر جب لاسٹ میں میں سوال کرنے کی کوشش کی تو بھی مرزا اخلاق سے نعرے لگوا کر مجھے روکنے کی کوشش کی میں نہایت صبر کیساتھ سب برداشت کیا اور تحمل کیساتھ برداشت کرتے ہوئے سوال پوچھ کر دم لیا پھر سب میڈیا والے نیچے چلے گئے اور مرزا اخلاق بھی نیچے پہنچ گیا ان سب کیساتھ بیٹھ کر اظہر جاوید کو برا کہا گیا اور تحریک انصاف کے کارکن مرزا اخلاق نے اظہر جاوید کی والدہ کو گالیاں دیں مجھ سے برداشت نہیں ہوا اسی وقت اظہر جاوید کو فون کر کے بتایا کہ آپکی والدہ کو گالیاں دی جا رہی ہیں اور رپوٹرز بیٹھ کر سن رہے ہیں کیونکہ میں سب کے سامنے اظہر جاوید کو فون کر کے بتا رہی تھی اسکے بعد شوکت ڈار اتے ہیں میں ہم لوگ باہر چلے جاتے ہیں میں جب دوبارہ ریسٹورینٹ میں داخل ہوتی ہوں یہ لوگ کھانا کھانے میں مصروف تھے اور میں شوکت ڈار صاحب سے کہا کہ میں ٹویٹ کرنے لگی ہوں کہ ہزار سور ملکر بھی شیر کو نہیں ڈرا سکتے اتنے میں اس ملک نے شوکت ڈار کو مجھے گالی دیتے ہوئے کہا اسے کہیں اپنا منہ بند کر لے میں نے کہا تمہیں کیوں تکلیف ہو رہی میں تمہیں سور نہیں کہہ رہی اسکے بعد اس نے گالیاں دیتے ہوئے کہا کہ میں چغل خور ہوں اور پھر میں نے بھی گالیوں کے جواب میں گالیاں ہی دیں اس نے مجھے دھمکی دی کہ تم مجھے جانتی نہیں ہو ہم تمہارے گھر ائیں گے خیر میں ایسے گیدڑ بھبکیوں سے ڈرنے والی نہیں جو شخص اپنے گھر کی عورتوں پر تشدد کرنے کا عادی ہو اسکا مطلب یہ نہیں کہ باہر بھی گالی دے گا سن لی جائے گی میں نے پولیس میں ان لوگوں کے خلاف رپورٹ کروا دی ہے فرید قریشی کے خلاف پہلے ہی پولیس میں کمپلئین ہیں آج دوسرے گینگ ممبرز کا بھی اضافہ ہو گیا ہے میں نے ARY اور Hum والوں کو شکایات کیں تھیںیہ سلسلہ پچھلے ایک سال سے جاری ہے جان بوجھ کر تحریک انصاف کے لوگوں کو میرے خلاف چھوڑا جاتا ہے اور کئی مرتبہ جانی نقصان بھی پہنچانے کی کوشش کی گئی ایسڈ اٹیک تک کروایا گیا لیکن میں نا تب ڈری تھی نا اب ڈروں گی کوئی مرد اٹھے اور مجھے گالی یا میری ماں کو گالی دے گا میں اس سے ڈبل گالی اسکی گھر کی عورتوں کو دونگی اور جتنی چیخیں مارنی ہے مار گالی تو ڈبل ہی ملے گی

Safina Khan

60,764 görüntüleme • 1 yıl önce

بلوچستان میں بی وائی سی اور بی ایل اے حسن بن صباح طرز پر دہشتگرد نیٹورک چلارہی ہے ۔ حسن بن صباح کا یہ ماڈل اپنے دور میں بھی اتنا کامیاب تھا کہ طاقتور بادشاہ ملک شاہ سلجوقی اور سلطان احمد سنجر جیسے جنگجو اس پر قابو نہ پاسکے ۔ حالانکہ سلطان سنجر وہ شخص ہے جس نے منگولوں کو میدان جنگ میں اولین شکست دی تھی حسن بن صباح اپنے پیروکاروں کے زہنوں پر قبضہ کرتا تھا ۔ اس نے ایک جعلی جنت بنائی ۔ اس میں خوبصورت ترین خواتین جمع کیں ۔ یہ اپنے ہر پیروکار کو نشے کا عادی بنادیتا تھا ۔ پھر جن پیروکاروں کو فدائی بنانا ہوتا تھا ۔ ان کو نشہ آور محلول پلا کر ایک دن کیلئے جنت میں بھیجا جاتا ۔ پھر حسن بن صباح اپنے اس پیروکار سے کہتا کہ اگر وہ اس کیلئے جان دے گا تو ہمیشہ کیلئے اس جنت میں رہے گا ۔ کیوں کہ شیخ مرنے کے بعد اس کو زندہ کرے گا ۔ حسن بن صباح کا نیٹورک کرائے پر دستیاب تھا اس کے فدائیوں کو کرائے کا قاتل کہا جاتا تھا جو پیسے لیکر مسلمانوں پر حملے کرتے تھے اور بی ایل اے بھی کرائے پر دستیاب ہے ۔ بی ایل اے نے بھی خواتین کو اپنے کیمپس میں جمع کر رکھا ہے ۔ اکثریت خواتین کو بی وائی سی جیسی تنظیموں کے زریعے ٹریپ یا ریکروٹ کیا جاتا ہے ۔ ان خواتین کے زریعے پھر نوجوان کم عمر لڑکوں کو ٹریپ کیا جاتا ہے ۔ لڑکیوں اور لڑکوں کو پہلے دن سے نشہ آور اشیاء کا عادی بنایا جاتا ہے ۔ ان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم کردی جاتی ہے (کچھ غیر اخلاقی معاملات پر بات نہیں کرنا چاہتا ) پھر بی ایل اے نوجوانوں کو یہ باور کراتی ہے کہ بندوق اٹھانا بہادری ہے، خودکش حملہ قربانی ہے، ریاست سے نفرت شعور ہے، اور عام بلوچ و پشتون عوام کو نشانہ بنانا انقلاب ہے۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یہ انقلاب نہیں، دہشتگردی ہے۔ یہ آزادی نہیں، غلامی ہے۔ یہ جدوجہد نہیں، نوجوان نسل کی شعوری ہائی جیکنگ ہے۔ جو تنظیم بلوچ نوجوان کو کتاب، روزگار، تعلیم اور کاروبار کے بجائے بندوق، پہاڑ، بارود اور موت دیتی ہے، وہ بلوچ قوم کی خیر خواہ کیسے ہوسکتی ہے؟ بی ایل اے کا سب سے خطرناک ہتھیار صرف بندوق نہیں، بلکہ نفسیاتی جال ہے۔ پہلے نوجوان کو ریاست سے کاٹنا، پھر خاندان سے کاٹنا، پھر معاشرے سے کاٹنا، پھر اسے یہ یقین دلانا کہ مرنا ہی مقصد ہے۔ بلوچ عورت عزت کی علامت ہے، اسے کسی دہشتگرد نیٹ ورک کی ڈھال نہیں بننے دیا جاسکتا۔ بلوچ نوجوان مستقبل ہے، اسے کسی بیرونی ایجنڈے کا ایندھن نہیں بننے دیا جاسکتا۔ بلوچستان پاکستان کا دل ہے، اسے دہشتگردوں کی تجربہ گاہ نہیں بننے دیا جاسکتا۔ ہم صاف صاف کہتے ہیں بی ایل اے بلوچوں کی نمائندہ نہیں، بلوچوں کی دشمن ہے۔ یہ تنظیم بلوچستان کو ترقی سے، نوجوانوں کو زندگی سے، اور عوام کو امن سے محروم کرنا چاہتی ہے۔ ریاست، عوام اور سیکیورٹی فورسز کی جنگ کسی قوم کے خلاف نہیں، بلکہ اس دہشتگرد نیٹ ورک کے خلاف ہے جو بلوچستان کے نام پر بلوچستان ہی کو لہولہان کررہا ہے۔ جعلی جنت کے خواب دکھانے والے ہر دور میں بے نقاب ہوئے ہیں۔ بی ایل اے کا فریب بھی بے نقاب ہورہا ہے۔ بلوچستان امن، ترقی اور پاکستان کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ ہم دیکھ رہے ہیں ہم جواب دینے کے لئے تیار ہیں

Qaimkhani

15,327 görüntüleme • 4 ay önce