Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

جس مسجد بلال کے امام مسجد کو گولی لگنے اور مرنے کا واویلا مچایا جا رہا ہے،،، وہ بھی زندہ اور صیحیح سلامت ہے اور مسجد بھی محفوظ ہے اندازہ کرو کہ اس ملک الباکستان اور اس کی محافظ پاک فوج کا کس احسان فراموش اور کتی قوم سے...

14,144 просмотров • 16 дней назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

آج یہودیوں کے ابو ٹرمپ کے نائب صدر جے ڈی ماس نے تقریر کی اور اس میں اس نے اسلامی ایٹمی طاقت کے خاتمے کا ذکر کیا۔ ▪️واحد اسلامی ایٹمی طاقت کون ہے اور اس کا محافظ کون ہے؟ یقینا پاکستان اور اس کی افواج ▪️یہودیوں اور ان کے سہولت کاروں کو ہمیشہ سے نہ تو عرب سے کبھی خطرہ ہوا نہ ہی ایران سے۔ ڈیوڈ بن گوریان نے 1948 میں کہا تھا “ہمیں عربوں سے نہیں بلکہ پاکستان سے خطرہ ہے”۔ انہیں پتہ ہے کہ جب کبھی بھی ان پر چڑھائی ہوئی تو وہ پاک فوج ہی ہو گی۔ اسی لیے تو ان کا ہمیشہ نشانہ پاک فوج رہی۔ یہ جانتے ہیں کے پاکستان کو صرف ایک طاقت نے جوڑے رکھا ہے اور وہ ہے پاک فوج۔ ▪️مہاتما عمران ان کا ترپ کا پتہ ہے، اسی لیے تو یہ ٹرمپ کو ابو بنا کر اس کا انتظار کر رہے ہیں کہ ٹرمپ ابو آئیں گے اور ہمیں بچائیں گے۔ مہاتما اور اس کے حواریوں کا نشانہ بھی صرف پاک فوج ہے۔ ▪️لیکن یہ جانتے نہیں کہ یہ محمدی فوج ہے اور اس کا رکھوالا اللہ تعالی کی ذات ہے۔ یہ لاکھ مکر کر لیں چالیں چل لیں انشاللہ ان کا ہر مکر اور ہر چال ان کے منہ پر دے ماری جائے گی

سید عدنان بادشاہ 🇵🇰

53,523 просмотров • 2 лет назад

صحافی: مولانا صاحب آپ نے تقریر میں غزہ کا ذکر کیا فلسطین کا ذکر بھی کیا اور آپ نے کہا کہ یہ جو بالائے طاق رکھ کے آواز ہونی چاہیے، آپ سمجھتے ہیں کہ جو بڑے ممالک ہیں اسلامی ممالک ہیں سعودی عرب ہے پاکستان ہے ترکی ہے ان سب کو بڑی توانا طریقے سے آواز اٹھانی چاہیے پلیٹ فارم کی شکل میں تاکہ یہ ظلم و بربریت کا خاتمہ ہوسکے مولانا: ہم نے تو یہاں تک تجویز دی ہے کہ اسلامی امت کی اسی حوالے سے ایک تنظیم ہونی چاہیے اور اس تنظیم کی قیادت سعودی عرب کرے کہ مرکز اسلام کی نگرانی وہ کر رہے ہیں مرکز اسلام کی خدمت وہ کر رہے ہیں تو مکہ اور مدینہ دونوں مسلمانوں کے مراکز ہیں اسلام کے مراکز ہیں اور جن کی خدمت کی ذمہ داری جو ہے اس وقت خادم الحرمین الشریفین کے ذمے ہے تو یہ مقام ان کا ہے کہ وہ اسلامی دنیا کی قیادت کریں اس حوالے سے اور اس کو منظم کریں، اسی نظم کے ساتھ اور اسی وحدت کے ساتھ ہم دشمن سے دفاع کر سکیں گے مسلمانوں کا دفاع کر سکیں گے ان سے ان کے بشر حقوق کا دفاع کر سکیں گے ورنہ اسی طریقے سے دنیا ہمارا کھیلے گی کیا ہوا کیا گزرے افغانستان کے اوپر، کیا گزری عراق کے اوپر، کیا گزری لیبیا کے اوپر، کیا گزری شام کے اوپر اور اس وقت سعودی عرب اور یمن کے درمیان جو صورتحال ہے اس پر بھی اسلامی دنیا یقیناً پریشان ہے اور یہ حق ہے اس کا اور اس وقت جو فلسطینیوں پہ گزر رہی ہے حد کر دی ہے کہ کس طریقے سے یہ لوگ آئندہ انسان کی بات کریں گے یا انسانی حق کی بات کریں گے، تو یہ ضروری ہے کہ اسلامی دنیا کی طرف انہوں نے متوجہ کیا ہے اور ہم رابطہ عالمی اسلامی کے اور خادم الحرمین الشریفین کے اور ان کے ولی عہد کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس اقدام سے امت کو اس اہم مقصد کی طرف متوجہ کیا۔ صحافی: مولانا صاحب کچھ ممالک نے اسرائیل کو اسلامی ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہوا ہے تو آپ سمجھتے ہیں پاکستان پر بھی دباؤ ہو رہا ہے تو اس ساری صورتحال میں کیا لائحہ عمل ہو سکتا ہے کہ یو این تو اس پہ خاموش ہے امریکہ اس کا ساتھ دے رہا ہے تو کس طرح اسلامی ممالک اسرائیل کو روک سکیں گے؟ مولانا: اسلامی ممالک کی وحدت اور ایک موقف کے اوپر مجتمع ہونا، آج ایک موقف ہے سب کا کہ اسرائیل جو ہے وہ قابض ہے اور اس کا تسلط ہے اور فلسطینی جو ہے وہ آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں لہذا اسرائیل کو تسلیم کرنا یہ مسئلہ نہیں ہے بلکہ فلسطین کی آزادی یہ مسئلہ ہے مسلمانوں کا اور مسلمانوں کو اصل مسئلے کی طرف متوجہ ہونا چاہیے، ہمیں ایک غیر ضروری موقف کی طرف لے جایا جا رہا ہے جس میں خالصتاً یا اسرائیل کا مفاد ہے یا مغربی دنیا اور امریکہ کا مفاد ہے مسلمان کا مفاد کہاں گیا امت مسلمہ کا مفاد کہا گیا اور مسجد اقصیٰ کا حق کہاں چلا گیا جس پر مسلمانوں کا حق ہے پھر فلسطین جو ہے وہ ارض فلسطین مسلمانوں کی سرزمین ہے فلسطینیوں کی سرزمین ہے ان کی آزادی کا جو بنیادی سوال ہے جو 75 سال سے زندہ ہے کیا اس مقصد کو بھی ہم حاصل کریں گے یا نہیں کریں گے یہ بڑا بنیادی سوال ہے جی۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

13,145 просмотров • 2 лет назад