正在加载视频...

视频加载失败

جنت میں ٹھنڈی ہوا اور دودھ شہد کی نہروں کا ذکر کیا جاتا ہے تو ٹھنڈی ہوا گرم علاقے کے آدمی کو پسند ہو گی کیوں کہ عرب سے تصور آیا تو ٹھنڈی ہوا کا ذکر ہو گیا ، کیوں کہ عرب سے تصور آیا دودھ شہد کا ذکر...

42,919 次观看 • 2 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

دودھ جلیبی! ہر وہ بندہ جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میری غذا بہت عمدہ ہے اور میں اپنی غذا کے معاملے میں کوئی سستی نہیں کرتا۔ اگر اس کی غذا میں دودھ جلیبی شامل نہیں ہے تو وہ اپنے دعوے میں جھوٹا ہے۔ دودھ جلیبی عمدہ غذائیت کے ساتھ ساتھ ٹھنڈی شاموں کو بھی قوس و قزح بنا دیتی ہے۔ دودھ جلیبی کے اگرچہ متعدد فوائد ہیں لیکن چند افادہ عام کے لیے چند ایک لکھ دیتا ہوں۔ دودھ جلیبی جسم کو توانائی دینے کے ساتھ ساتھ سردی کا احساس بھی کم کرتا ہے۔ ماہرین طب کا ماننا ہے کہ ہفتے میں ایک بار دودھ جلیبی کا استعمال صحت کو رونق بخش دیتا ہے ۔ سردی کے موسم میں ہڈیوں کا درد عام سی بات ہے، جوڑوں کے درد کے مریضوں کے لیے سردی کسی بڑی مصیبت سے کم نہیں، مگر دودھ جلیبی کے استعمال سے نا صرف ہڈیوں کے درد میں کمی واقع ہوگی بلکہ جوڑوں کے درد میں بھی آرام ملے گا۔ سردی کے موسم میں پٹھوں کی سوزش اور سختی کے باعث شدید درد محسوس ہوتا ہے۔ لیکن دودھ جلیبی کا ایک پیالہ نا صرف پٹھوں کی سوزش کے خاتمے میں بلکہ گرمی فراہم کر کے نقل و حرکت میں بھی مدد دے گا۔ شادی شدہ حضرات بھی خوش ہو لیں کیونکہ یہ جنسی صحت میں اضافے کے ساتھ اعلیٰ ذرخیزی میں بھی مدد دیتا ہے۔ سردی کی شاموں میں گرما گرم دودھ جلیبی کی سوغات کے بے شمار فوائد سردی کے موسم میں گرما گرم دودھ اور جلیبی مل جائے تو کیا ہی کہنے، دودھ جلیبی جسم و جاں کو توانائی بخشتی ہے اور چہرے کی رنگت نکھارنے کے لئے بھی آزمودہ ہے۔ سردیاں شروع ہوتے ہی گرم گرم دودھ کا استعمال بڑھ جاتا ہے، گرم دودھ میں اگر جلیبی ڈالی لی جائے تو وہ مرغوب غذا بن جاتی ہے۔ لوگ صرف ذائقے کے لئے ہی نہیں بلکہ توانائی بحال کرنے اور جسم کو گرم رکھنے کے لئے جلیبی ملا دودھ پیتے ہیں. آئیے اور سرد راتوں میں توانائی بہال کرنے کے لئے گرما گرم دودھ میں جلیبی ملا کر پیئں اور خود کو تندرست و توانا رکھیں.

Dairy & Cattle Farmers Association (DCFA) Pakistan

19,669 次观看 • 2 年前

میں آج آپ سے کچھ شکایات کرنے آیا ہوں۔ سیاست میں ایسا ہوتا ہے پریس کے لوگ باتیں کرتے ہیں ان کا حق ہے اور پریس کی آزادی ہونی چاہیے۔ لیکن اونٹ پٹانگ قسم کی باتیں بے بنیاد باتیں اور بغیر ثبوت کے باتیں (مناسب نہیں)۔ ​میں گاؤں گیا ہوا تھا وہاں میں سن رہا تھا کہ میڈیا پر آ رہا ہے کہ 'لیڈر آف دی اپوزیشن' صاحب نے پتا نہیں اپنے خاندان کے لوگوں کو کہاں کہاں لگایا ہے بہت بڑی مراعات کا مطالبہ کیا ہے اور اسپیکر کو پتا نہیں کیا کیا خطوط لکھے ہیں۔ ​میں چاہتا تو اس پر 'پریولج موشن' (تحریکِ استحقاق) لا سکتا تھا، لیکن میں ان باتوں میں پڑتا نہیں۔ آج میں نے مختصر بات کی جو ان حالات میں ضروری باتیں تھیں، میں نے اس کا (مراعات کا) ذکر نہیں کیا۔ ​صرف وضاحت کے لیے عرض ہے کہ جب سے میں اپوزیشن لیڈر بنا ہوں، شاید میرا صرف ایک خط گیا ہو اسپیکر کے پاس اور وہ بھی بہت معمولی بات کے لیے تھا۔ ​لیڈر آف دی اپوزیشن کے لیے وہی مراعات ہوتی ہیں جو ایک وفاقی وزیر (Federal Minister) کی ہوتی ہیں۔ لیڈر آف دی اپوزیشن کو رہنے کے لیے گھر دیا جاتا ہے، پتا نہیں کتنی گاڑیاں دی جاتی ہیں۔ میں جب سے اپوزیشن لیڈر بنا ہوں، میں نے اپنے پولیس اسکاٹ (محافظ دستے) کو بھی کہہ دیا ہے کہ میرے ساتھ مت جاؤ۔ ​ مجھے تو جو گھر سرکاری ملا ہوا ہے وہ گھر پر تو رانا ثنا اللہ خان رہتا ہے میں نے تو اس کو بھی وہاں سے جانے کو نہیں کہا میں کرائے پہ بھی حکومت پاکستان کی طرف سے گھر لے سکتا تھا میں نے وہ بھی نہیں لیا. نہ ہی میں نے کوئی ذاتی لوگوں کو قومی اسمبلی میں بھرتی کروایا ہے نہ ہی ایسا ہو سکتا ہے دوسرا نہ ہی میں نے کوئی مرات لی ہے نہ ہی مجھے ضرورت ہے قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کا کچھ صحافیوں کی جانب سے کیے جانے والے نامناسب پروپیگنڈے پر جواب

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

34,798 次观看 • 4 个月前

شاید مقدمہ درج ہوا نہیں کروایا گیا ہے: عمران شفقت صاحب کا اہم نقطہ شریف خاندان کی پنجاب اور وفاق میں حکومت ہو، اسحاق ڈار پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ ہوں اور پاکستان نے سفارتی سطح کے اوپر بڑی کامیابیاں سمیٹی ہوں، ایسے وقت میں اُن کے نواسے کے خلاف مقدمہ درج ہو جانا اس کا مطلب ہے کہ یہ مقدمہ درج ہوا نہیں بلکہ کروایا گیا ہے، اسحاق ڈار پاکستان کے نائب وزیراعظم اس لیے ہیں کہ وہ نواز شریف صاحب کے سمدی ہیں، اور وہ نواز شریف صاحب کے سمدی اس لیے ہیں کہ نواز شریف کے بچپن کے دوستوں میں سے ہیں، اگرچہ وزیراعظم شہباز شریف، نواز شریف صاحب کے بھائی ہیں لیکن اُن کے ساتھ اسحاق ڈار کا ہونا نواز شریف کا آدمی ہونا قرار دیا جاتا ہے، اور پھر پنجاب میں علی ڈار مریم نواز کے مشیر ہیں، کچھ لوگ تو کہتے ہیں کہ حمزہ شہباز کا راستہ روکنے کے لیے مریم نواز نے اگلے وزیراعلی پنجاب کے لیے علی ڈار کو ذہن میں رکھا ہوا ہے تاکہ حمزہ شہباز کا راستہ روک سکیں:

Zeshan Noor

34,817 次观看 • 1 个月前

پاکستان میں صحت کا مسئلہ صرف ہسپتالوں کا نہیں، پورے سسٹم کا ہے — خاص طور پر وہ سسٹم جو گلی کے نکڑ پر دودھ کے ڈبے سے شروع ہوتا ہے۔ آج بھی اگر پاکستان جاؤ تو ایسے ایسے سائنسی تجربات دیکھنے کو ملتے ہیں کہ Albert Einstein بھی قبر میں کروٹ بدل لے۔ منظر کچھ یوں ہوتا ہے: دودھ کے کین کا ڈھکن بڑے وقار سے کھولا جاتا ہے۔ اوپر رکھی تُوڑی نکال کر ایسے پھینکی جاتی ہے جیسے یہ کسی خفیہ تجربے کا حصہ ہو۔ پھر ایک “ماہرِ دودھیات” اپنی آستین چڑھاتا ہے، اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے پوری بازو دودھ کے اندر ڈال کر باہر نکالتا ہے… اور پھر چہرے پر سنجیدگی لا کر اعلان کرتا ہے: ہاں جی، بلکل فِٹ ہے! اس کے بعد اگلا مرحلہ شروع ہوتا ہے — فلٹریشن ٹیکنالوجی کا۔ ایک سٹیل کے ٹب کے اوپر جالی والا کپڑا رکھا جاتا ہے، اور دودھ کو اس میں انڈیلا جاتا ہے۔ چھانتے ہوئے کپڑے پر تنکے، کیڑے، مکھیاں جمع ہو جاتی ہیں… جبکہ کچھ “بہادر سپاہی” دودھ کے ساتھ ہی اندر داخل ہو جاتے ہیں۔ شاید وہ بھی غذائیت بڑھانے کے مشن پر ہوں۔ اور اگر قسمت سے کسی خریدار کو ٹب میں تیرتی ہوئی مکھی نظر آ جائے تو دکاندار بڑے سکون سے اسے انگلی سے پکڑ کر دیوار پر یوں چپکا دیتا ہے جیسے کوئی آرٹ انسٹالیشن لگا رہا ہو۔ اس کے بعد وہی جملہ: ہاں جی، بلکل صاف ہے! - - مزے کی بات یہ ہے کہ یہی دودھ لوگ بڑے فخر سے خریدتے ہیں، اور ساتھ ایک فلسفیانہ جملہ لازمی دیتے ہیں: بھائی ڈبے والا دودھ تو کیمیکل ہوتا ہے… - - یعنی ایک طرف وہ دودھ ہے جس میں مکھی، تنکے اور “ماہر کی بازو” شامل ہے، اور دوسری طرف وہ دودھ ہے جو مشینوں سے گزرا ہے… مگر ہمارے نزدیک قدرتی وہی ہے جس میں کچھ نہ کچھ تیرتا ہوا ضرور ہو۔ بس یہی وہ لیول ہے جہاں صحت نہیں بنتی، بلکہ “ایمیونٹی ٹریننگ پروگرام” چل رہا ہوتا ہے 😄

Mansoor | Mr. Hide - Rebirth

40,478 次观看 • 4 个月前