正在加载视频...

视频加载失败

جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی/شہزاد خواجہ جنوبی مجسٹریٹ جنوبی ایس آئی یو پولیس اسٹیشن پر چھاپہ پولیس کی جانب سے قیدیوں والی وین میں چھپائے گئے 6 افراد بازیاب کرلیے گئے،،بازیاب ہونے والوں میں ہارون ،ادریس ،حفیظ،کامران ،عامر اور اسلم شامل ہیں ،جوڈیشل مجسٹریٹ شہزاد خواجہ نے تمام افراد کو فوری...

14,230 次观看 • 5 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

پولیس افسران کیمطابق پہلے پولیس ملازمین کو فوجی اہلکار کے بھائی سے غیر قانونی اسلحہ رکھنے پر اس کے گھر میں پوچھ گچھ کرنے کے دوران مبینہ ملزم کے بھائیوں بشمول فوجی اہلکار نے پولیس افسران و ملازمین کو یرغمال بنایا اور تشدد کیا۔ معاملہ بگڑنے پر فوجی اہلکار نے اپنے کمانڈر سے بات کی جس کے بعد آئی ایس آئی افسران بالخصوص میجر عبداللہ کے احکام پر الٹا پولیس اہلکاروں پر ہی ایف آئی آر کاٹ کر انہیں لاک اپ میں ڈال دیا گیا۔ مگر دوسرے روز کور کمانڈر بہاولپور کے بہاولنگر دورے کے بعد فوج نے منظم انداز میں تھانے پر دھاوا بولا، تھانے کے داخلی اور خارجی راستے بند کردیے گئے، دوکانیں بند کروائیں گئیں، ملوث پولیس افسر اور ملازمین کو لاک اپ سے زبردستی باہر نکالا اور شدید ترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ علاج کے لئے اسپتال بھی نا لے جانے دیا گیا۔ معاملہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد آر پی او، بریگیڈ کمانڈر اور آئی ایس آئی والوں نے ہمیشہ کی طرح معاملے کو دبانے کے لئے زبردستی صلح نامہ کروایا جس کے بعد پولیس لائن میں محصور شدید زخمی پولیس ملازمین کا علاج کروایا جاسکا

Adil Raja

279,440 次观看 • 2 年前

*اسلام آباد: پولیس وردی میں ملبوس افراد کی صحافیوں پر فائرنگ، آئی جی سے فوری نوٹس کا مطالبہ* تفصیلات کیمطابق اسلام آباد میں صحافیوں پر فائرنگ کے واقعے نے سیکیورٹی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ واقعہ تھانہ سیکرٹریٹ کی حدود میں پیش آیا جہاں پولیس وردی میں ملبوس چند افراد کی مشکوک سرگرمیوں پر صحافیوں نے اپنی گاڑی روک کر جانچ پڑتال کی کوشش کی۔ ذرائع کے مطابق جیسے ہی صحافیوں نے سوالات کیے، مذکورہ افراد بغیر کوئی وضاحت دیے دو موٹر سائیکلوں پر فرار ہو گئے، جس سے ان کے اصل عزائم پر شکوک مزید گہرے ہو گئے۔ صحافیوں کی جانب سے تعاقب کیے جانے پر مشتبہ افراد تھانہ آئی نائن کی حدود میں پہنچے جہاں انہوں نے خود کو بے نقاب ہونے سے بچانے کے لیے صحافیوں پر براہِ راست فائرنگ کر دی۔ سوال یہ ہے کہ اگر وہ واقعی پولیس اہلکار تھے تو وہ موقع سے کیوں فرار ہوئے؟ اور اگر مجرم عناصر تھے تو انہیں پولیس وردی کس نے فراہم کی؟ صحافیوں پر فائرنگ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ملزمان کسی سنگین جرم میں ملوث تھے اور اپنی شناخت ظاہر ہونے سے بچنے کے لیے انتہائی قدم اٹھایا۔ صحافتی حلقوں نے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آئی جی اسلام آباد سے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس وردی میں ملبوس مسلح افراد کی موجودگی، ان کے فرار اور فائرنگ کی وجوہات کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں، ملزمان کو فوری گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

Israr Ahmed Rajpoot

106,820 次观看 • 8 个月前

پاکستان میں 80 فیصد صحافیوں نے جرنلزم نہیں پڑھی بلکہ مجاہد شیخ، وسیم صابر، حماد اسلم جیسے 70 فیصد محض ایف اے پاس ہیں اور شیراز نثار، رمضان بیگ یاسر شمعون جیسے تھڑا کلچر سے صحافت میں وارد ہوے ہیں ایک نیوز چینل میں جاب کی پریس کارڈ بنا اور لو جی بن گئے صحافی.. اب بلیک میل کرو اور کماؤ پالیسی شروع.. اب چونکہ صحافت پڑھی نہیں صحافت کی اخلاقیات سیکھی نہیں پریس کانفرنس کا مطلب وہ جانتے ہی نہیں کہ صحافی کیس میں فریق نہیں وقوعہ نگار ہے جہاں تک کہ اس سے بھی واقف نہیں کہ مجسٹریٹ کی ڈیوٹی کیا ہے اور پولیس ہنگامی صورتحال میں مجسٹریٹ کے دروازے پر کیوں پہنچی؟ قانون کے تحت کسی بھی خاتون کا ریپ چارجز یا ہنگامی میڈیکل کروانے کے لیے عدالت یا متعلقہ علاقے کے مجسٹریٹ کی اجازت یا تحریری حکم نامہ درکار ہوتا ہے عدلیہ کی طرف سے روزانہ ایک مجسٹریٹ کو "ڈیوٹی مجسٹریٹ" مقرر کیا جاتا ہے، جس کی ذمہ داری چوبیس گھنٹے (بشمول رات کے وقت) ہنگامی عدالتی امور کو نمٹانا ہوتی ہے۔ بازیاب کی گئ دو غیر ملکی خواتین کی جانب سے ڈپٹی پرائم منسٹر کے رشتے دار پر ریپ چارجز لگائے گئے تھے یہ ہائی پروفائل کیس تھا اگر پولیس رات کے وقت ہی ان کا طبی معائنہ (Medical Examination) اور ضابطہ فوجداری (CrPC) کی دفعہ 164 کے تحت بیان قلمبند نہ کرواتی، تو خواتین کے بیرون ملک روانہ ہونے کے بعد ملزمان کو سزا دلوانا اور کیس کا قانونی وجود برقرار رکھنا ناممکن ہو جاتا پولیس کی جانب سے بار بار کال کے باوجود ڈیوٹی مجسٹریٹ نے کال پک نہ کی، اس لیے خواتین کا میڈیکل مٹیریل ضائع ہونے سے بچانے اور فوری آرڈر لینے کے لیے مجسٹریٹ کے گھر جانے کے علاوہ پولیس کے پاس کوئی قانونی راستہ نہیں بچا تھا۔ جب ایک سینئر پولیس افسر، باقاعدہ سرکاری وردی میں، سرکاری گاڑی پر، اور آفیشل کیس کے سلسلے میں جج کے پاس جا رہا ہے، تو اس میں کسی کی عزتِ نفس کیسے مجروح ہو سکتی ہے؟ اگر مسئلہ رات کو گھر جانے کا ہے تو جج صاحب اسی مخصوص وقت کے لیے ڈیوٹی مجسٹریٹ تھے ڈیوٹی مجسٹریٹ سے سوال ہونا چاہیے تھا کہ وہ ڈیوٹی پر ہونے کے باوجود دستیاب کیوں نہ تھا لیکن چونکہ عدلیہ مقدس گائے ہے اس لیے جج سے سوال نہیں ہوا بلکہ جج کے دروازے پر جائے کو جواز بنا کر تھانہ ڈیفنس سی کے ایس ایچ او (SHO) کو سسپنڈ کر دیا گیا باقی پاکستان کی صحافت اور صحافیوں پر فاتحہ پڑھ لیجیے

حِجاب رندھاوا H.R

11,317 次观看 • 1 个月前

چکوال تھانہ لاوہ کے علاقے دربٹہ سے شادی شدہ خاتون سکول ٹیچر کو بااثر افراد نے اغواء کرلیا خاتون کو اغواء ہوئے 1 ماہ گزر گیا تھانہ لاوہ پولیس ملزمان کو گرفتار کرنے میں ناکام بچی کا بزرگ والد 5 دن تھانہ لاوہ کے چکر لگاتا رہا لاوہ پولیس نے مقدمہ درج نہیں کیا 5 دنوں کے بعد بڑی مشکل سے بچی کے والد کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف پولیس نے بچی کے والد سے آپنی مرضی کی تحریر بنوا کر مقدمہ درج کیا ایف آئی آر میں اغواء کی دفعات تک نہیں لگائیں گئیں تھانہ لاوہ پولیس بچی کو بازیاب کروانے میں مکمل ناکام الٹا پولیس ملزمان کی پشت پناہی کرنے لگی بچی کے والد اور بہن کے مطابق پولیس تعاون نہیں کررہی ہے اور نہ ہی ہمارے کیس میں دلچسپی لے رہی ہے خدشہ ہے کہ میری بچی کو ملزمان قتل کردیں گے مغویہ کے والد کے مطابق ایس ایچ او تھانہ لاوہ نے سی ڈی آر کے مطابق ہم سے ایک ملزم نعیم ء اللہ کو خود نامزد کروایا اور بغیر تفتیش اور ہماری بچی برآمد کروائے ملزم کی گرفتاری ڈال دی اب پولیس نہ ہماری بچی بازیاب کروا رہی اور الٹا کیس کو خراب کرنے کیلئے مرکزی ملزم نعیم ء اللہ والد عالم خان سے بغیر ہماری بہن بازیاب کروائے مقدمے سے بے گناہ یا جوڈیشل کرنا چاہتی ہے تاکہ ہماری بہن بازیاب نہ ہوسکے لیکن اصل اور حقیقت میں لاوہ پولیس ملزمان کو تحفظ فراہم کررہی ہے اور کیس کو لمبا کرنے کیلئے ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے اور ہماری بچی کو بازیاب نہیں کروا رہی ہے وزیراعلی پنجاب انچارج سی سی ڈی سہیل ظفر چھٹہ اور آر پی او راولپنڈی فوری نوٹس لیکر میری بچی کو زندہ بازیاب کروائیں

sheikh saira sahiba

14,228 次观看 • 4 个月前

گوادر میں فوج کے ہاتھوں اپنے ہی اہلکار قتل | ✅ گوادر میں ہلاک ہونے والے دو مسلح افراد کے معاملے میں ڈرامائی موڑ ، پاکستانی ملٹری انیلیجنس (MI) نے اپنے ہی ایجنٹوں کو گرفتار کرنے کے بعد تعش میں آکر قتل کردیا اصل واقعہ: گزشتہ روز گوادر پولیس نے دو زیرِ حراست افراد، عدنان اور عبداللہ، کو ہلاک کر دیا۔ پولیس کے مطابق دونوں ملزمان کی نشاندہی پر ایک روز قبل پولیس سے چھینا گیا سرکاری اسلحہ برآمد کرنے کے لیے کارروائی کی گئی، جہاں مبینہ طور پر مسلح افراد نے پولیس پر فائرنگ کی، جس کے جواب میں پولیس نے فائرنگ کی۔ تاہم، دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ حقائق اس سرکاری مؤقف سے مختلف ہیں۔ ذرائع کے مطابق، عدنان اور عبداللہ دونوں مبینہ طور پر پاکستانی فوج کے ملٹری انٹیلیجنس (MI) سے وابستہ ایجنٹ تھے۔ ہلاک ہونے والے عبداللہ کا بھائی، فاروق، گوادر میں ایک مسلح گروہ کی سربراہی کرتا ہے، جسے مقامی سطح پر "ڈیتھ اسکواڈ" کہا جاتا ہے۔ فاروق اور اس کا گروہ پاکستانی فوج کی معاونت کرتے ہوئے گھروں پر چھاپوں، جبری گمشدگیوں اور دیگر کارروائیوں میں کردار ادا کرتا رہا ہے، جبکہ عدنان اور عبداللہ بھی ان سرگرمیوں میں شامل رہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق، دونوں افراد نے اپنی موٹر سائیکل ضبط کیے جانے کے ردعمل میں پولیس کا سرکاری اسلحہ چھین کر اپنے ٹھکانے پر منتقل کر دیا تھا۔ بعد ازاں، مبینہ طور پر اسلحے میں موجود ٹریکنگ چپ کی مدد سے اسی رات ان کے ٹھکانے پر چھاپہ مارا گیا، دونوں افراد کو گرفتار کر لیا گیا، جبکہ اسلحہ ٹھکانے کی چھت سے برآمد کیا گیا۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ جیونی میں ہونے والے حملے کے بعد پاکستانی خفیہ اداروں نے غصے میں آ کر اپنے ہی دونوں مبینہ ایجنٹوں کو پولیس کے ذریعے ایک ڈرامائی مقابلے کی صورت میں فائرنگ کروا کر ہلاک کر دیا #Balochistan #BalochistanFacts

Balochistan Facts

42,834 次观看 • 1 个月前

وزیر اعلی صاحب پلیز اسکی انکوائری کیجائے🚨 پشاور تھانہ خزانہ کی مبینہ غیر قانونی گرفتاری پر عوام برہم، تھانے کے باہر احتجاج پشاور (کامران گل ) تھانہ خزانہ کے ایس ایچ او کی جانب سے مبینہ طور پر ایک شہری کو بغیر کسی ٹھوس الزام کے حراست میں لینے پر علاقے کے عوام مشتعل ہوگئے اطلاعات کے مطابق گرفتار شخص کسٹم افسر اور ریٹائرڈ آرمی اہلکار کے گھر آیا ہوا مہمان تھا، جسے پولیس نے "شک کی بنیاد پر" تھانے منتقل کیاواقعے کی اطلاع ملتے ہی درجنوں مقامی افراد تھانے کے باہر جمع ہوگئے اور پولیس کے خلاف شدید احتجاج کیامشتعل شہریوں کا کہنا تھا کہ بغیر کسی ثبوت یا ایف آئی آر کے کسی مہمان کو گرفتار کرنا اختیارات کا ناجائز استعمال ہے !! ذرائع کے مطابق تھانے کے اندر بھی صورتحال کشیدہ رہی اور اہلکاروں کو عوامی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی غیر جانبدارانہ انکوائری کی جائے اور ذمہ دار افسر کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے !!

Mohammad Shehzad Khan

30,316 次观看 • 10 个月前