正在加载视频...

视频加载失败

جیسے ہی پاکستان نے انڈیا کے میچ کا بائیکاٹ کیا ۔ دنیا انڈین کرکٹ پر پھٹ پڑی ، اسٹرلین صحافی نے کہا جے شاہ میں ایک جاہل اور نکمے انسان ہیں ان کو کچھ نہیں پتہ ان کی اہلیت صرف یہ ہے کے وہ BJP انڈیا کے وزیرداخلہ کے...

64,700 次观看 • 6 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور معروف کمنٹیٹر مائیکل ایتھرٹن، پاکستان اور انگلینڈ کے میچ کے دوران فخرِ پاکستان اور سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت کے حوالے سے اپنے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر انہیں ذرّہ برابر بھی یقین ہوتا کہ عمران خان نے کوئی سنگین غلطی کی ہے یا ان کے خلاف لگائے گئے الزامات میں حقیقت ہے، تو کیا وہ کبھی ایک براہِ راست کرکٹ میچ کی کوریج کے دوران اس حساس معاملے کو اٹھاتے؟ Sky Sports دنیا کے معروف اسپورٹس براڈکاسٹرز میں شمار ہوتا ہے۔ ایسے عالمی سطح کے پلیٹ فارم پر، وہ بھی پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان براہِ راست میچ کے دوران، عمران خان کی صحت اور ان کے حالات پر گفتگو ہونا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ان کا معاملہ اب محض پاکستان کی سیاست تک محدود نہیں رہا۔ عمران خان کی عالمی سطح پر قائم ساکھ، ان کی کرکٹ کی خدمات اور پاکستان کو دنیا بھر میں پہچان دلانے میں ان کے کردار سے دنیا بخوبی واقف ہے۔ تین سال سے قید عمران خان کی آواز کو دبایا جا سکتا ہے، لیکن ان کی عالمی کریڈبیلٹی اور پاکستان کے لیے ان کی خدمات کو دنیا کی نظروں سے نہیں چھپایا جا سکتا۔ 🇵🇰

Jahanzeb Khan PTI UK

59,144 次观看 • 3 天前

ڈی جی آئی ایس پی آر نے ہمارے کان کھا لئے کہ “فتنہ الہندستان” نے تباہی تباہی مچا رکھی ہے ۔ لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ فیلڈ مارشل نے یہ بات مارکو روبیو کو کیوں نہیں بتائی ؟! مارکو روبیو انڈین صحافی کے سوال پہ کئی جواب دے سکتے تھے۔ وہ کہہ سکتے تھے ہمارا انڈیا سے الگ تعلق ہے پاکستان سے الگ،لیکن انہوں نے ایسا نہیں کہا بلکہ کہا کہ: “ہاں یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کے اندر سے انڈیا پہ دہشتگردی کے حملے ہوتے ہیں۔ پاکستان کی زمیں انڈیا کے اندر دہشتگردی کے لیے استعمال ہوتی ہے” فیورٹ فلیڈ مارشل کا شٹل کاک بنکر گھومنے کا حاصل جمع کیا نکلا؟ انڈیا کہ ہمیشہ سے پاکستان کے خلاف یہی پوزیشن ہے، مارکو روبیو انڈیا میں کھڑے ہو کر اس پوزیشن کو اس وقت تسلیم کر رہے ہیں جس وقت ہم نے بلوچستان کے اندر شہید ہونے والے لوگوں کو دفنایا بھی نہیں ہے۔اس موقع پر مارکو روبیو یہ بھی کہہ سکتے رھے کہ جیسے انڈیا کو concern ہے ویسے پاکستان کو بھی concern ہے ہم اسے دیکھ رہے ہیں۔لیکن انہوں نے ایسا نہیں کہا اور پاکستان کو دہشتگردی کے لیے مورد الزام ٹھہرایا یہ ہے جھوٹے بیانیے پاسپورٹ اور سلوٹ کی عزت ۔

Rodium-A

71,376 次观看 • 3 个月前

کبھی کشمیر کبھی گلگت بلتستان کے لوگوں سے الجھتے ہیں۔ ان کی زمینوں پر قبضہ کرتے ہیں۔ ان کو آئینی شناخت نہیں دیتے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ حیات کہا گیا۔ کشمیریوں کے ساتھ یہ کیا ہو رہا ہے۔ جس طرح پاکستان کے علاقوں میں لوگوں کے مینڈیٹ کو ٹھڈے مار کر پرے پھینکا جاتا ہے اور اپنی مرضی کے حکمران ٹھونسے جاتے ہیں۔جی بی میں بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ عوام کی منتخب حکومت کو گرایا گیا اور لوٹوں کو مسلط کیا گیا۔ کشمیر کے لوگوں کو وہ حقوق نہیں مل رہے جو متنازع علاقے کے حقوق ہوتے ہیں۔ کشمیری بھائی کہتے ہیں کہ بجلی یہاں بنتی ہے ہم سستی دو آئی ایم ایف سے قرضے لے کے بجلی مہنگے کرتے ہو۔ بجلی، پٹرول، ڈیزل، گندم سب کچھ مہنگا کر دیا گیا۔ اگر تم یہاں پر گندم کے حوالے سے کام کرتے تو پاکستان میں گندم کی مطلوبہ مقدار پیدا ہو جاتی ہے۔ پاکستان زرعی ملک ہے۔ اب ان کو مارو مت ان کی بات سنو۔ لوگوں کے اندر کئی سالوں کا غصہ موجود ہے۔ یہ ایک دو دن کی بات نہیں ہے۔ تم نے ناراض کیا انہیں، تم نے انہیں چھوٹا، حقیر اور پست سمجھا۔ اج کشمیر کے لوگوں پر گولیاں جلتی ہیں۔ ان کے ساتھ ملو بات کرو ۔یہ پاکستان سے محبت کرنے والے لوگ ہیں۔ انہیں مایوس نہ کرو جو بھی ان کے ان کو مایوس کر رہا ہے وہ پاکستان کا دوست نہیں ہے۔ وہاں پر اس وقت حکومت کی کوئی رٹ نہیں ہے جیسے پورے پاکستان میں لیک آف ریٹ ہے۔ آپ بلوچستان کو دیکھ لو کیا حالت ہے۔ سندھ کو دیکھ لو۔ کراچی کو دیکھ لو وہاں دن دھاڑے ڈاکے پڑتے ہیں۔ لوگ قتل ہو رہے ہیں کچے کے ڈاکو لوگوں کے بچوں کو اٹھا کے لے جا کر قتل کر رہے ہیں۔ بھتہ لے رہے ہیں۔ کوئی پوچھ نہیں رہا اب لوگ تنگ آچکے ہیں۔ تنگ آمد بجنگ آمد ہوتا ہے۔ جن کے پاس طاقت ہے میں انہیں کہتا ہوں خدا کے لیے مزید آگے نہ بڑھو اس وطن کا خیال رکھو۔ ہر وہ کام جس سے انڈیا طاقتور اور پاکستان کمزور ہو اس سے انڈیا علاقے کا اسرائیل بنے۔ 25 26 کروڑ عوام کا ایٹمی ملک پاکستان سرجیکلی اپ جگہ پر واقع ہے اور ساؤتھ ایشیا کے اندر، اس خطے کے اندر طاقت کا توازن بحال رکھ سکتا ہے۔ پاکستان کمزور ہونے سے طاقت کا توازن بگڑ جائے گا ابھی انڈیا نے ہماری علاقائی حدود میں داخل ہو کر بیس بائیس افراد مارے ہیں۔ گارڈین نے خبر نشر کی ہے انڈین وزیر دفاع نے اعتراف کیا ہے۔ یہاں کوئی کیوں بولتا نہیں ہے۔ ہمیں اپنوں سے نہیں انڈیا سے لڑنا چاہیے۔ ہمیں کشمیر آزاد کروانا چاہیے تھا۔ ہمیں کشمیری مظلوموں کے ساتھ دینا چاہیے تھا۔ کشمیر کے مظلوموں کے ساتھ بات چیت کرو دشمن کو فائدہ اٹھانے کا موقع نہ دو۔ اسے طولانی نہ ہونے دو۔ان سے بات چیت کرو۔ کشمیری اس وطن کے باوفا بیٹے اور سرحدوں کے محافظ ہیں۔ جیسے چمن کے لوگ ہیں وہ بھی پاک افغان بارڈر پر مدت سے بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان پر بھی ظلم ہو رہا ہے ان کے ساتھ بھی گھناونا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ لہذا کشمیر کے لوگوں کو ہم تنہا نہیں چھوڑیں گے وہ ہمارے بھائی ہیں ہماری جانیں ان پر فدا ہوں۔ ہم ان کے ساتھ ہیں ہم کبھی بھی ان پر ظلم کرنے والوں کا ساتھ نہیں دیں گے انشاءاللہ۔ مجھے امید ہے وہاں کی حکومت بھی بات چیت کے ذریعے مسائل حل کریں گی۔ یہ لوگ بڑے سخی ہیں بڑے دل والے ہیں یہ ٹھیک کر لیں گے جیسے جی بی کے لوگ ہیں وہ سب کچھ کر سکتے ہیں لیکن پاکستان سے محبت کی وجہ سے صبر کرتے ہیں برداشت کرتے ہیں لہذا ہم سب کی ذمہ داری ہے ہم میدان میں حاضر ہیں ہم نے پاکستان کو کمزور نہیں ہونے دیتا

Senator Allama Raja Nasir

50,869 次观看 • 2 年前

اقرار الحسن سے عوام نے جو سوالات پوچھے ہیں ان میں سے ایک کا بھی جواب نہیں دیا گیا۔ پہلا سوال آپ نے خود ایک انٹرویو میں کہا کہ جب آپ چھٹی جماعت میں تھے تو آپ کے والد نے دوسری شادی کی اور پھر جرمنی چلے گئے۔ آپ نے کہا کہ آپ کو نہیں معلوم وہ کہاں رہتے ہیں کیا کرتے ہیں یا انہوں نے کتنی شادیاں کی ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا صرف دوسری شادی کی وجہ سے کوئی ملک چھوڑ کر جرمنی میں پناہ لیتا ہے؟ ملک چھوڑنے کی اصل وجہ کیا تھی وہ آپ نے آج تک نہیں بتائی۔ دوسرا سوال آپ کے والد اسماعیل شاہ پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی شان میں گستاخی کے الزامات ہیں اور اس کی ویڈیو شواہد بھی موجود ہیں۔ آپ کے والد پر 295C کی دفعات بھی درج ہیں۔ اگر یہ سب جھوٹے الزامات تھے تو آپ کے والد نے عدالت کا دروازہ کیوں نہیں کھٹکھٹایا اور پاکستان چھوڑ کر بھاگنے کو ترجیح کیوں دی؟ تیسرا سوال آپ کی کمپنی Perfectum Pakistan کا واحد بیرون ملک دفتر جرمنی کے فرینکفرٹ میں ہے جہاں آپ کے والد مقیم ہیں۔ یہ محض اتفاق ہے یا آپ کے اور آپ کے والد کے درمیان کاروباری تعلق بھی ہے؟ اگر آپ کو اپنے والد کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تو پھر جرمنی میں دفتر کیوں؟ چوتھا سوال آپ نے خود ایک انٹرویو میں اعتراف کیا کہ آپ نے اہم معاملات پر والد سے رابطہ کیا اور ان سے مشورہ لیا۔ جب آپ انہیں نہیں جانتے اور ان سے کوئی تعلق نہیں تو پھر مشورہ کس بات پر لیا گیا؟ یہ تضاد کیسے؟ پانچواں سوال آپ کہتے ہیں آپ کو فخر ہے مگر برسوں میں ایک بار بھی والد سے ملاقات کا کوئی ویڈیو ثبوت سامنے نہیں آیا۔ جس باپ پر فخر ہو اس کے ساتھ ایک تصویر ایک مشترکہ ویڈیو بھی نہیں؟ یہ کیسا فخر ہے جو چھپ کر ہو؟ چھٹا سوال آپ کے والد کا تعلق اہل تشیع مکتب فکر سے ہے اور وہ ایک مذہبی مقرر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ اگر آپ واقعی ان کی سوچ اور عقائد سے الگ ہیں تو آپ نے کبھی عوامی سطح پر اپنے والد کے ان مبینہ بیانات سے لاتعلقی کا اظہار کیوں نہیں کیا؟ ساتواں سوال آپ نے پاسپورٹ شناختی کارڈ اور اسناد دکھا کر والد کا نام ثابت کیا مگر کسی نے آپ کی والدیت پر سوال نہیں اٹھایا۔ عوام آپ کے والد کے مبینہ کارناموں کے بارے میں حقائق جاننا چاہتی ہے جو زبان زد عام ہیں منقول

Aamir Gujjar

29,062 次观看 • 4 个月前