Video yükleniyor...
Video Yüklenemedi
حامد میر کدو ۔ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں BISP پروگرام میں بلین آف بلین کرپشن کی نشاندہی کی گئی آپ کیا کہنا چاہتی ہیں ؟ شازیہ ۔ دیکھیں دنیا کا کوئی بھی کیش پروگرام اُٹھا کر دیکھیں اُس میں 15/20 فیصد کرپشن کا مارجن رکھا جاتا ہے یہ... show more
10,636 görüntüleme • 2 ay önce •via X (Twitter)
11 Yorum

اب ذرا 834 ارب کا 15/20 فیصد کرپشن کے مارجن کا حساب لگا لیں جس کو پیپلزپارٹی جائز تصور کرتی ہے،بے شرم حُکمران اب سرعام کرپشن ہونے کا ذکر کرتے ہیں،عوام پر بجلیاں گری ہوئی ہیں مگر حُکمران سر عام کرپشن کر رہے ہیں۔۔۔شرمناک

سندھی کرپشن کو اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں

اس کے باپ نے سندھ میں پہلی کرپشن سیلاب زدگان کے لوٹے کمبل کا ٹرک چوری کیا۔

mian sb k tatta ab corruption pr bt kray ga

Is kutya ki zaban rukne k nam nhi leri bholoro ki zaban MN hi dm hota h kam krate inki gand tot jati badchodi krwalo in bholoron se Sara Sindh tanah krke khagai

Every Govt endorsed this corrupt program

لوٹ مار چوری ڈکیتی یہ سب سندھ کی روایات ہیں سندھ میں ان سارے جرائم کرنے والے کو عزت دی جاتی ہے یہ سندھ کا کلچر ہے لہذا پریشان نا ہوں وہ وہی کہے رہی ہے جو زندگی بھر دیکھتی ارہی ہے 🧐

Kipsam bhai chalain ye log maan to gae hain, loon league to maanti bhi ni.

ساہوکاروں کی حکومت میں 15,20 فیصد کیش کرپشن ہی نہیں ہر برائی کے لئے اتنا مارجن رکھا جاتا ہے تاکہ اپنے وجود کو ثابت کر سکیں

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں بھی خان صاحب نے چھانٹی کی تھی ہزاروں لوگوں کو اس میں سے نکالا گیا تھا جن کے بنک اکائونٹ گاڑیاں وغیرہ ہوتے ہوئے بھی وہ اس پروگرام سے رقم بٹورتے تھے ابھی چند دن پہلے پانچ ہزار سے اوپر خواتین کا ایک ہی شوہر نکلا تو کیسے شفاف ہوا

کیونکہ مملکت پاکسان کی بدقسمتی ھے کہ نظام حکومت تجارت ھے
