Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

حکیم بابر کی بیوی کے بعد بیس سالہ سمیرا کا بھی یہ کہنا ہے کہ لڑکے بیچ راستے میں چھوڑ جاتے ہیں۔۔۔اس لیے ستر سالہ مرد سے شادی کی عمر میں کیا رکھا ہے یہ میری عزت کرتے ہیں مجھے ہر مسئلے سے بچاتے ہیں

36,365 views • 7 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

فوجیو آج تک ہمیں یہ یاد نہیں ہے کہ کبھی بھارت کی فوج نےبھی اپنی منتخب حکومت کے خلاف سازش کی ہو، یا ایک سائفر پر عوامی حکومت گرائی ہو،عدم اعتماد کے لیے منڈیاں لگائیں ہوں۔ میرا خیال ہے کہ نہیں کی ۔۔!! یہ ایک بیماری صرف پاکستانی فوج میں پھیلی ہوئی ہے کہ وہ اپنی منتخب حکومتوں کو گراتے ہیں۔ “تو یہ کام اچھے بھی نہیں لگتے۔” کیونکہ دوسرے ملکوں کو پھر فوج کی کمزوریوں کا، جرنیلوں کی کمزوریوں کا پتہ چل جاتا ہے۔ وہ اسی سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ جو ہمارے دشمن ممالک ہیں اسی طرح جرنیلوں سے فائدے اٹھاتے ہیں۔ یہ جرنیل ملک کے ساتھ کیسے ہے عوام کے ساتھ کیسے ہیں اسی کا وہ فائدہ اٹھاتے ہیں۔اورپھر مداخلت کرتے ہیں۔ فوجی نے بڑے اعتماد سے کہا: “اس سے کیا ہوتا ہے؟ کچھ بھی نہیں ہوتا!” فوجیو اس سے ملکوں کی معیشت تباہ و برباد ہو جاتی ہے۔ اس سے ملک قرضوں کی دلدل میں دھنس جاتا ہے۔اس سے ملک میں انصاف ختم ہو جاتا ہے۔ اس سے ملک دہشتگردی اور عدم استحکام کی نظر ہو جاتا ہے۔اس سے ملک لوٹنے والے چوروں ڈاکوں کا نیٹورک مضبوط ہو جاتاہے۔ جس سے ایٹمی ملک کے اثاثےخطرے میں پڑ جاتے ہیں ۔ لیکن فوجی صاحب ٹھیک ہی فرما رہے تھے… “اس سے کیا ہوتا ہے؟ کچھ بھی نہیں ہوتا!”🙃

Rodium-A

27,287 views • 2 months ago

عربی شہزادے ہر سال دسمبر/جنوری میں تلور کے شکار کے لیے پاکستان آتے ہیں۔ ۔عربی شہزادوں کے لیے شکار گاہیں تیار کی جاتی ہیں۔ ہر سال چار کلو میٹر کے احاطے پر عارضی شہر تعمیر کیا جاتا ہے، اس عارضی شہر میں دو سو رہائشی مہمان خانے تیار کیے جاتے ہیں۔ عربی شہزادوں کی معاونت کے لیے ایک ہزار ملازم رکھے جاتے ہیں۔ یہ تمام ملازمین مقامی افراد ہوتے ہیں جن کو روزگار مل جاتا ہے۔ شہزادوں کے چلے جانے کے بعد بھی وہ ایک ہزار ملازم پورا سال تنخواہ سے مستفید ہوتے رہتے ہیں۔ اس صحرا میں پانی کی ترسیل ٹینکروں کے ذریعے کی جاتی ہے۔ صحرا میں مقیم شہر کو جنریٹر کے زریعے بجلی کی فراہمی بھی یقینی بنائی جاتی ہے۔ سکیورٹی کے سخت انتظامات کرتے ہوئے اس عارضی شہر کو خار دار تاروں سے سیل کیا جاتا ہے۔ ان تمام سہولیات کا انتظام میزبان حکومت کے تعاون سے کیا جاتا ہے۔عرب شہزادوں کے جانے کے بعد اس شہر کو مسمار کر دیا جاتا ہے۔ اور سامان کو گودام میں منتقل کر دیا جاتا ہے

Pakistan Tourism

102,187 views • 9 months ago