Sensitive content

This media may contain sensitive content.

Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

خاوند ڈوب رہا تھا۔ بیوی خود پر قابو نہ رکھ پائی اور وہ بھی نہر میں کود پڑی۔ پھر بچہ بھی روتے ہوئے ماں باپ کے پیچھے چلا گیا۔ اور یوں تینوں ڈوب گے🥲 جبکہ وڈیو بنانے والا واحد چھوٹا بچہ بچ گیا۔۔ یہ واقعہ ہم سبکے لئے سبق...

38,990 views • 3 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

ایک بچہ اپنے باپ کو بہت تنگ کر رہا تھا۔۔باپ پڑھائی میں مصروف تھا اور بچہ مسلسل تنگ کیئے جا رہا تھا۔۔جب منع کرنے کے باوجود بچہ باز نہیں آیا تو باپ کو ایک ترکیب سوجھی۔۔ٹیبل پر اخبار کا ایک ٹکڑا پڑا تھا جس پر دنیا کا نقشہ بنا ہوا تھا۔۔باپ نے اس نقشے کو پھاڑپھوڑ کراسکے ٹکڑے بچے کو دیئے اور کہا کہ اب نقشہ جوڑ کر اور دوبارہ دنیا کا نقشہ بنا کر میرے پاس لے آؤ۔۔والد نے سمجھا کہ اب تین چار گھنٹے بچہ اسے تنگ نہیں کرے گا مگر بچہ15منٹ میں نقشہ بالکل ٹھیک جوڑ کر واپس آگیا۔۔والد نے پوچھا کہ یہ تم نے دس پندرہ منٹ میں کیسے کر لیا؟ بچے نے کہا کہ کاغذ کے دوسری طرف ایک انسان کی تصویر تھی، میں نے اسے جوڑا اور دوسری طرف دنیا کا نقشہ خود بخود جڑ گیا۔۔شہباز شریف بھی یہی سمجھتے ہیں کہ وہ (ایران،امریکہ)والے معاملات، جو صفحے کی ایک سائیڈ پر ہیں، اسکو اگر ٹھیک کرینگے تو پاکستان کے معاملات، جو صفحے کی دوسری سائیڈ پر ہیں، خود بخود حل ہوجائیں گے۔۔نہیں جناب، یہ معاملات مختلف ہیں۔۔پاکستان کے مسائل خود بخود ٹھیک نہیں ہونگے: اسداللہ خان Asad Ullah Khan

Kismat Khan

56,950 views • 5 months ago

اگر جنرل صاحب کہتے ہیں آپ مجھے بھی کچھ نہ کہیں میں جو کچھ کروں میری مرضی ہے نہ میری عقل کسی کی پابند ہے نہ میری محنت کسی کی پابند ہے میرے خیال میں یہ درست نہیں ہے اگر ہم سیاسی جماعتوں پر تنقید کر سکتے ہیں ہم صدر اور وزیراعظم پر تنقید کر سکتے ہیں یا تو پھر یہ کہیں کہ ہمارا ادارہ جو ہے وہ سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور جنرل آ کر ٹی وی پر کبھی کہتے بھی ہیں کہ ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں لیکن اگر واقعتا ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے الیکشن میں کوئی دھاندلی نہیں کرتے الیکشن میں ان کا کوئی کردار نہیں ہوتا تو پھر تو ہم بھی کہیں گے کہ ہم نے غلط کیا لیکن اگر وہ الیکشن میں بھی اپنی دھاندلیاں کرتے رہے یعنی عجیب بات یہ ہے کہ اس 24 کے الیکشن میری معلومات کے مطابق 70 ارب روپیہ ایک صوبے سے انہوں نے نکالا کہتے ہیں کہ کس طرح ہم ان کو کہیں ابھی کہتے ہیں کہ اپ حافظ جی یا نابینہ کو نابینا نہ کہیں وہ بتائیں کہ اگر نابینے کو نابینا نہیں دیں گے تو کیا کہیں گے۔ مولانا عطاء الرحمن صاحب #سلیکشن_مافیا_نامنظور #آئین_شکن_مقدس_گائے #معافی_مائی_فٹ #لشکر_نہیں_خود_لڑو #شہداء_کو_ڈھال_نہ_بناؤ #پروپیگنڈہ_چھوڑو_امن_دو

Sadaqat Khan

19,608 views • 2 months ago

🔵 نیا سال آ گیا… لوگ خوشیاں منا رہے ہیں، دعائیں کر رہے ہیں، اور ادھر بلاسفیمی بزنس گروپ کی متاثرہ مائیں ایک اور سال اپنے بچوں کے بغیر دیکھ رہی ہیں۔ جب گھڑی نے بارہ بجائے، تو کسی ماں نے کیک نہیں کاٹا… اس نے اپنے بچے کی تصویر کو سینے سے لگایا اور خاموشی سے رو دی۔ اس کے لیے نیا سال کوئی خوشخبری نہیں لایا، بس ایک اور سالِ انتظار دے گیا۔ یہ سال بھی گزر گیا دروازہ نہ کھلا قدموں کی آہٹ نہ آئی وہ بچہ، جسے جھوٹے الزام میں چھین لیا گیا تھا، واپس نہ آیا۔ ماں آج بھی وہی سوال کرتی ہے: میرا بیٹا کس جرم کی سزا کاٹ رہا ہے؟ اور جواب میں صرف خاموشی ملتی ہے… لمبی، ظالم خاموشی۔ نئے سال کی رات سب کچھ بدلنے کا وعدہ کرتی ہے، مگر ان ماؤں کے لیے وقت وہیں رک گیا ہے جہاں ان کا بچہ آخری بار نظر آیا تھا۔ یہ آنسو کمزوری نہیں، یہ زندہ ضمیر کے ثبوت ہیں۔ اور اگر اس نئے سال میں بھی ان کی آواز نہ سنی گئی تو یہ ملک صرف سال نہیں بدلے گا، اپنا ضمیر کھوتا جائے گا۔ #StopBlasphemyBusiness #JusticeFor450 #450LivesMatter

Voice of the Victims of Blasphemy Business Group

17,428 views • 9 months ago

آج سمجھانا چاہتا ہوں کہ پاکستان کیا تھا، کیا ہے اور کیا ہوگا؟ بنگالیوں کے لیے پاکستان کیا تھا؟ ہماری فوج کے لیے پاکستان کیا تھا، کیا ہے اور کیا ہوگا؟ ہمارا دس لوگوں کا وفد مشرقی پاکستان بھیجا گیا۔ ہمارے وفد میں سے ابھی کافی لوگ زندہ ہیں۔ ہمیں پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے بھیجا گیا تھا۔ حفیظ خان صاحب بھی ہمارے ساتھ تھے۔ وہ بھی شاید اب کینیڈا میں رہتے ہیں۔ صلو درانیCount de Monet بھی ہمارے ساتھ تھے۔ جو کچھ ہم نے وہاں دیکھا، کاش ہم نہ دیکھتے۔ ہمارے ساتھ حامد میر کے والد، ڈاکٹر وارث میر، بھی تھے۔ انڈیا کی پابندی کی وجہ سے ہم پہلے سری لنکا گئے، وہاں سے پھر ڈھاکہ پہنچے۔ ہمارا قیام ڈھاکہ یونیورسٹی کے ہوسٹل میں تھا۔ جہاں ہم رہ رہے تھے، وہیں مکتی باہنی کا گڑھ بھی تھا۔ وہاں ہمارے سروں کی قیمتیں طے ہو چکی تھیں۔ ہمیں پتا چلا کہ ہمارے سروں کا سودا ہو چکا ہے۔ ہم مشکل سے وہاں سے بھاگ کر ڈھاکہ ایئرپورٹ پہنچے، جہاں سے آخری جہاز نکل رہا تھا۔ ہم پاکستان آئے اور سارا ماجرا بتایا۔ جو پاکستان کا شکار وہاں ہوا، وہ میں نے اکیلے نہیں بلکہ ہم سب نے دیکھا۔ وہاں بنگالی کی لاش کو کتے اور گدھ کھا رہے تھے، جو شتولاک دریا کے کنارے پڑی تھی۔ ہم نے فوجیوں سے پوچھا کہ یہ کس کی لاش ہے، تو جو جواب ملا، وہ بہت خطرناک تھا۔ انہوں نے کہا: ’’ہم نے اسے مارا۔ یہ بہت چالاک تھا۔ ایک گولی چلائی تو یہ دریا میں چلا گیا۔ چھ گولیاں چلائیں تو یہ بچ گیا۔ ساتویں گولی سے یہ مارا گیا۔‘‘ وہ بیچارہ کہیں سے مشکوک نہیں لگ رہا تھا۔ اپنی روزی روٹی کمانے نکلا ہوگا۔ انہوں نے عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر عورتوں کو مکتی باہنی کا حصہ قرار دے کر ان کے ساتھ زیادتیاں کیں۔ یہ آج خیبر پختونخوا میں بھی یہی کر رہے ہیں اور بلوچستان میں بھی یہی کر رہے ہیں۔ کشمیر اور پنجاب میں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔ یہ وہاں تحریک انصاف کے لوگوں کو غائب کر رہے ہیں۔ اختر مینگل کے بھائی کی لاش کو کتے کھا رہے تھے، لیکن وہ آج بھی پاکستان کے ساتھ ہیں۔ سردار عطاء اللہ مینگل وزیر اعلیٰ تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر پاکستان ٹوٹا تو بلوچستان کا نام پاکستان ہوگا اور قومی زبان بھی اردو ہوگی۔ تم نے اسلام آباد کو کنٹینرستان بنا دیا ہے۔ تم نے ہر عہد میں پاکستان کو توڑا ہے۔ آج بھی توڑنے کی سازش کر رہے ہو۔ عاصم منیر! تم نے اپنا محاصرہ خود کر لیا ہے۔ عاصم منیر! تم پاکستان کا تو کبھی نہیں سوچو گے، تم خود کو تو بچا لو۔ مشرقی پاکستان میں جو دیکھا اس کے بارے میں 2011 میں گفتگو۔ 👇

Javed Hashmi

63,673 views • 3 days ago