Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

خواتین پر تشدد اور ہراسمنٹ کو ریڈ لائن کہا گیا تھا۔ حافظ آباد میں 7 اوباشوں نے اس ریڈ لائن کی دھجیاں بکھیردیں ہیں۔ کئی دن تک تو مقدمہ درج نہیں ہوسکا۔ یہ اتنا خوفناک واقعہ تھا کہ لکھا بھی نہیں جاسکتا، مگر رائے ثاقب کھرل صاحب کے علاوہ...

32,408 views • 1 year ago •via X (Twitter)

3 Comments

Syed Ali Raza's profile picture
Syed Ali Raza1 year ago

Rai Saqib Hafizabas se hy Achi baat hy saaib bhai ne awaaz uthai

میں کون ہوں's profile picture
میں کون ہوں1 year ago

او احمقوں محترمہ کی بات سمجھو انہوں اپنی چند کنیزوں اور کچھ خاص خاندان کی خواتین کے بارے میں کہا تھا کیسا جاہل پترکار ہے تو

Dr Ahsan Kamal PT (Humanity)'s profile picture
Dr Ahsan Kamal PT (Humanity)1 year ago

Retweet please urgent

Related Videos

میں یہ سطور ایک بھاری دل کے ساتھ لکھ رہا ہوں۔ خاران کے علاقے کلی بزگ گواش میں جو کچھ ہوا، وہ صرف ایک واقعہ نہیں تھا، اس نے مجھے بطور بلوچ، بطور صحافی اور بطور انسان اندر سے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ رات کے اندھیرے میں بی ایل اے کے مسلح افراد ایک شہری کے گھر میں داخل ہوئے۔ یہ کوئی میدانِ جنگ نہیں تھا، کوئی مورچہ نہیں تھا، بلکہ ایک عام گھر تھا جہاں خواتین اور بچے موجود تھے۔ متاثرہ خاندان نے مجھے بتایا کہ گھر کے تمام افراد کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ دو حملہ آوروں کی شناخت بھی ہو چکی ہے، اور یہ لوگ کوئی اجنبی نہیں، مقامی سطح پر جانے پہچانے جاتے ہیں۔ مجھے سب سے زیادہ تکلیف اس بات نے دی کہ اس حملے میں صرف جسمانی تشدد نہیں ہوا، بلکہ گھریلو تقدس کو پامال کیا گیا۔ بلوچ معاشرے میں گھر اور عورت کو ہمیشہ حرمت دی گئی ہے۔ میں نے اپنے بڑوں سے سنا، اپنی تاریخ میں پڑھا اور اپنی زمین پر دیکھا ہے کہ بلوچ روایت میں عورت پر ہاتھ اٹھانا غیرت کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ مگر اس رات، بندوق کے زور پر اسی روایت کو روند دیا گیا۔ میں صاف کہنا چاہتا ہوں کہ عورت پر تشدد کسی بھی نام پر قابلِ قبول نہیں۔ چاہے کوئی خود کو آزادی کا دعویدار کہے، مزاحمت کے نام پر ہتھیار اٹھائے یا کسی نظریے کا سہارا لے ۔ خواتین پر ہاتھ اٹھانا نہ بلوچ روایت ہے، نہ بلوچ غیرت، اور نہ ہی انسانیت۔ اس واقعے کے بعد میں نے خاران ہی نہیں، پورے بلوچستان میں غم اور غصہ محسوس کیا۔ قبائلی عمائدین، سماجی حلقے اور انسانی حقوق کے کارکن سب ایک آواز میں یہی کہہ رہے ہیں کہ یہ عمل ناقابلِ قبول ہے۔ میں بھی انہی لوگوں میں شامل ہوں جو سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے آج اس پر خاموشی اختیار کی تو کل یہ آگ ہر گھر تک پہنچ سکتی ہے۔

Junaid Baloch

10,971 views • 8 months ago

ہم پختون چاہے صحافی ہوں، سیاستدان یا کچھ بھی، ہم پہلے دن سے کنفیوژ ہیں۔ چند دن پہلے محمود خان اچکزئی صاحب نے بیان دیا کہ ہم سب کو افغانستان کا تذکرہ لینا چاہیے۔ کسی نے ان کو یہ نہیں کہا کہ محمود خان صاحب کو یہ نہیں کہا کہ پہلے آپ لے لیں، پھر ہم بھی آ جائیں گے۔ ہماری سیاسی اشرافیہ -isms کے دور سے نہیں نکلا۔ یہ آج تک 50 اور 60 کی دہائی میں زندہ ہیں۔ وہ شروع ہی 1951 سے ہوتے ہیں۔ ہمارے شعرا کابل کو آئیڈلائز کرتے ہیں جب کہ پختون بیلٹ پر ہر بڑی تحریک پشاور سے شروع ہوئی، کبھی کابل یا قندہار سے نہیں ہوئی۔ منظور پشتین کا مومنٹ آیا تو ہم اس کا حصہ تھے، ہمیں لگا کہ قبائلی نوجوانوں کو ایک نئی راہ ملے گی، وہ مصیبتوں سے نکلے تھے۔ مگر ان کا رومانس کابل بن گیا۔ ذرا سوچیں کہ آپ اس دور میں کابل کو romanticise کر رہے ہیں۔ پنجاب کے بغیر ہماری بنتی نہیں ہے۔ پچھلے 200 سال سے ہماری dependency پنجاب کے ساتھ رہی ہے، کبھی کابل اور جلال آباد کے ساتھ رہی ہی نہیں ہے۔ یہ انٹی پنجاب بیانیہ ہمارا نہیں تھا۔ یہ اُن کا تھا اور رنجیت سنگھ کے زمانے سے تھا۔ اس سے نکلنا ہوگا۔حسن خان Hassan khan

Naya Daur Videos

14,839 views • 2 months ago

بریکنگ نیوز 🚨شہباز گل اپنے موقف پر، اپنے کیے گئے انکشاف پر ڈٹ گئے، اور ساتھ ہی ایک اور بڑا تہلکہ خیز انکشاف کرکے سہیل آفریدی کو چیلنج کردیا 🔥🔥 کل کے جو آپ کے انٹرویوز آئے اُس میں آپ نے Deny کیا اُس خبر کو جو ہم نے دی تھی۔ خبر یہ تھی کہ آپ کی ایک بہت ہی اہم شخصیت کے ساتھ ملاقات ہوئی اور ہم نے کورکمانڈر کا نام لیا تھا۔ پہلے ہم نے جس دن خبر دی بتایا کہ دو سے چار بجے، اُسی دن ہمارے سورس نے کنفرم کیا کہ ٹائمنگ غلط تھی چار بجے کے بعد اور یہ بھی بتایا کہ وہ سنئیر ترین پولیس افسران کے ساتھ ملاقات میں تھے، آئی جی کے گھر کے قریب۔ کتنی گاڑیوں پر گئے، کون کون انکے ساتھ تھا کورکمانڈر کے، کیسے وہ چیف منسٹر ہاؤس تک پہنچے۔ وہ تمام چیزیں ہمارے علم میں ہیں، ہم ان Details میں نہیں جارہے۔ اور ہمارے Source نے بتایا کہ ملاقات چار ساڑھے چار بجے کے بعد ہوئی، اگلے ہی ویلاگ میں ہم نے وہ اپڈیٹ کیا۔ آپ نے کہا کہ وہ ملاقات نہیں ہوئی۔ میری پوری ذمہ داری کے ساتھ انفارمیشن شئیر کرتا ہوں، اگر خبر غلط ہو تو میں پہلے ہی کہے دیتا ہوں، یہ سنی سنائی ہے، ہم اسکے اوپر پہرہ نہیں دے سکتے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ آپ کے بہت قریبی شخصیت وہ اس کے سورس ہیں اور وہ ڈرتے بھی نہیں ہیں، اور وہ کہتے ہیں کہ آپ بتا دیں، میں پکڑا بھی گیا تو خیر ہے، لیکن یہ آفریدی صاحب کو پتہ ہونا چاہیے کہ سب کو پتہ ہے۔ اچھا اب کیا آپ پہلی مرتبہ کورکمانڈر سے ملے ہیں، کئی مرتبہ پہلے بھی ملے ہیں۔ اب آپ اس ملاقات کو Deny کر رہے ہیں۔ میں کہے رہا ہوں ایک ملاقات نہیں، آپ کی بہت ساری ملاقاتیں ہوئیں اور پہلے بھی ہوتی رہیں اور آئندہ بھی ہونگی اور ہمارے بہت ساری ملاقاتیں علم میں بھی ہیں اور ہم نے کبھی یہاں سے رپورٹ نہیں کیا کیونکہ وہ Importants نہیں ہیں۔ آپ چیف منسٹر کے عہدے پر ہیں کئی وجوہات کی بناہ پر آپ کو ان سے ملنا پڑ سکتا ہے۔ اب کیونکہ یہ جلسے سے ایک دن پہلے معاملہ تھا اور پھر 27 تاریخ کے اوپر ہماری Reservations ہیں۔ کورکمیٹی کے اندر یہ ڈسکس نہیں ہوا، پولیٹیکل کمیٹی کے اندر یہ ڈسکس نہیں ہوا۔ بہت سے سنئیر لوگوں سے میں نے پوچھا، انہوں نے کہا کہ ہمارے علم میں نہیں ہے کہ Date کیسے دی گئی ہے۔ اُسی پر میں نے بھی سوالات اُٹھائے، مراد سعید صاحب نے بھی اُٹھائے اور علیمہ خانم صاحبہ نے بھی اُٹھائے۔ اب آپ نے کہا کہ ملاقات نہیں ہوئی، میں ابھی بھی پوری ذمہ داری سے اور ایمانداری سے اپنی خبر کے اوپر کھڑا ہوں کہ ملاقات ہوئی۔ بلکہ آپ کو ایک اور Interesting بات بتا دوں۔ کل تین آپ کے انٹرویو چلے، تین ڈیفرنٹ چینل پر۔ حالانکہ پورے سال کے اندر کبھی آپ کا کوئی بھی ایسا انٹرویو چلنے کی اجازت نہیں تھی۔ میرے فون کے اندر میسج ہے کبھی اچھے دن آئیں گے تو یہ کیمرے میں ریکارڈ کر لیجیے تاکہ ثبوت رہے کہ جن تین لوگوں نے کل آپ کا انٹرویو لیا، انٹرویو کے فوراً بعد اُنہی کی ٹیم میں سے مجھے یہ میسج بھیجا گیا۔ وہ بہت ہی معتبر شخصیت جنہوں نے میسج بھیجا کہ آپ کو پتہ ہے آپ کے چیف منسٹر نے آپ کی خبر کو جھٹلا دیا ہے کہ اُنکی ملاقات نہیں ہوئی، میں نے آگے سے کہا مجھے پتہ ہے اور ان کا جھٹلانا ہی بنتا ہے، یہی انکی پوزیشن ٹھیک ہے۔ میں بار بار تو چیزیں Rep نہیں کروں گا، میں نے جو کہنا تھا کہے دیا۔ تو اُس شخصیت نے آگے سے کہا کہ میری بھی یہی خبر ہے کہ اُنکی ملاقات ہوئی ہے۔ یہ میں بالکل خدا کو گواہ بناکر آپ کو بات کہتا ہوں اور یہ انہوں نے کہا اور کبھی آپ کو دیکھا بھی دیں گے اُنکی اجازت سے ویسے نہیں۔ ان سے اجازت لے کے اور وہ اجازت دے بھی دیں گے کیونکہ وہ خان صاحب کے خیرخواہ ہیں اور وہ چاہیں گے کہ آپ کو بھی پتہ چلے کہ میرے پاس یہ خبر تھی۔ اور انہوں نے ایک جملہ بولا کہ ایسی ملاقاتیں چھپتی تھوڑی ہیں۔ اگر مجھے ساری Details پتہ ہے، ایک ایک بات پتہ ہے اور آپ کو بھی پتہ ہے، تو CM صاحب کو بھی چھپانی نہیں چاہیے تھی۔ میں اپنی خبر پر ابھی بھی قائم ہوں کیونکہ اگر یہ خبر غلط ہوتی تو میں خود مانتا اور آپ سے معذرت کرتا کیونکہ کوئی میرا یہ کوئی IQ لیول کا ٹیسٹ تو نہیں ہے ناں۔

‏زہـــرہ لیــاقت

64,969 views • 1 month ago