Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

خواجہ سعد رفیق صاحب نے بلاول بھٹو کو آئنہ دکھا دیا ، بات وہ کریں جو دنیا تسلیم کرے ، کراچی جیسے بلدیاتی الیکشن کی واردات کا سسٹم اگر پنجاب میں لاگو کرنے کی خواہش ہے تو براے مہربانی ، آپ چپ ہی رہیں ۔ ورنہ خالد مقبول صدیقی...

22,315 views • 3 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

پیپلز پارٹی، جو خود کو ایک بہت بڑی جمہوری پارٹی کہتی ہے، آج کس منہ سے جمہوریت کی بات کرے گی۔ 1973ء کا آئین ذوالفقار علی بھٹو کا ایک عظیم تحفہ تھا، اور آج اس کے نواسے نے اسی آئین کا جنازہ نکال دیا۔ آج وہ کس منہ سے ملک میں ڈیموکریسی، قانون اور آئین کی بات کرے گا، کس منہ سے عوام کے حقوق کی بات کرے گا۔میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ذوالفقار علی بھٹو کے پاس تو دو تہائی اکثریت تھی، اور صرف ایک چھوٹی سی اپوزیشن تھی۔ اس کے باوجود بھٹو نے تمام اپوزیشن کو ساتھ ملا کر کنسنسس پیدا کیا اور تمام مختلف سیاسی نقطہ نظر رکھنے والے لوگوں کو ساتھ لے کر قوم کو سب سے بڑا آئینی دستاویز تحفے میں دیا۔اب میں بلاول بھٹو صاحب سے پوچھنا چاہتا ہوں، آپ نے کیا کیا؟ آپ کی پارٹی نے تو 1973ء کے آئین کی روح کا قتل کیا ہے۔ آپ کی پارٹی نے اپنے نانا کی جو عظیم کنٹریبیوشن دی، آج اس کنٹریبیوشن کو خاک میں ملا دیا۔ آج اگر ذوالفقار علی بھٹو زندہ ہوتے تو کیا کہتے۔

Asad Qaiser

35,450 views • 10 months ago

ہندوستان کے اتنے بڑے دفاعی سسٹم کو چار گھنٹوں میں تباہ کردیا گیا لیکن ملک میں موجود مسلح گروہوں کو پچھلے چالیس سال سے ختم نہیں کیا جاسکا،اس وقت پورا ملک بدامنی کی لپیٹ میں ہے،پاکستان میں اگر کہیں کوئی رٹ ہے تو وہ مسلح لوگوں کی ہے تو پھر ہماری مسلح قوتیں کیا کر رہی ہے؟ اگر ان سے بات کی جائے تو کہتے ہیں ہم قربانیاں دے رہے ہیں آپ ہماری قربانیوں کو نہیں مانتے، جب آپ واقعی قربانی دیں گے تو ہم ایسے تسلیم کریں گے جیسے انڈیا کے مقابلے میں آپ نے چار گھنٹے قربانی دی اور ہم نے اس کو تسلیم کر لیا۔ اگر آپ عوام کے ووٹ چوری کرکے اقلیت کو اکثریت اور اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کریں گے اور عوام کو اس بات کا ادراک ہے کہ یہ الیکشن ہماری رائے کی مطابق نہیں، تو پھر جیسے فوج کو مارشل لاء لگا کر اقتدار پر قبضہ کرنے کا حق حاصل ہے تو عوام کو بھی اسلام آباد پر قبضہ کرنے کا حق حاصل ہے،ہمیں عوام کے ساتھ اسلام آباد آنے پر مجبور نا کیا جائے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

43,449 views • 1 year ago

وہ باتیں بھی کردی جو مولانا صاحب نے راز میں رکھی تھی سینئر سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی کی تازہ ترین گفتگو * مولانا فضل الرحمٰن نے تقریر کی ہے، اور ان کی جماعت نے بھی ان کے مؤقف کی تائید کی ہے۔ * مولانا کی جماعت سے میرا کوئی تعلق نہیں، لیکن ان کے والد، مفتی محمودؒ، کے قدموں میں بیٹھ کر قرآن سنتا رہا ہوں، اس لحاظ سے ان سے میرا ذاتی تعلق ضرور ہے۔ * مولانا صاحب نے بات تو سچ کی ہے، لیکن پروین شاکر کا شعر یاد آتا ہے: “بات تو سچ ہے، مگر بات ہے رسوائی کی۔” * کچھ عرصہ پہلے میری مولانا صاحب سے ملاقات ہوئی تھی۔ * مولانا فضل الرحمٰن نے مجھے بتایا کہ اس الیکشن سے پندرہ ماہ پہلے پاکستان کے مالکوں نے ان سے رابطہ کیا۔ * اس الیکشن کے نتائج کا فیصلہ پندرہ ماہ پہلے ہی کر لیا گیا تھا۔ * ایک دفعہ محمود اچکزئی صاحب نے بتایا تھا کہ ،پچاس ارب روپے میں اسمبلی کی نشستیں فروخت کی گئیں۔ * دنیا میں بڑا بننے سے پہلے اپنے ملک کو تو بچاؤ۔ * پاکستان کو تحفظ بھی چاہیے اور آزادی بھی، لیکن اگر تم یہ نہیں دو گے تو ہم خود اسے حاصل کریں گے۔

Fahim Akhtar Malik

27,095 views • 2 months ago

“کراچی پنجاب میں تھا اور پنجاب کا حصہ تھا۔”امیتابھ بچن بالکل درست کہہ رہے ہیں . امیتابھ بچن کی بات کراچی پنجاب میں تھا یا پنجاب کا حصہ تھا بالکل درست ہے اس کا سادا سا مطلب ہے کہ تقسیم سے پہلے کا کراچی تک پھیلا ہوا پنجاب ہندوستان کا اتنا بڑا صوبہ تھا کہ کراچی پنجاب کا ہی ایک حصہ لگتا تھا۔پنجاب ایک طرف جمنا دوسری طرف افغانستان تیسری طرف کراچی اور چوتھی طرف جموں کشمیر گلگت بلتستان چین تک پھیلا ہواتھا۔سندھ کا اسوقت کوئی وجود نہیں تھا سندھ بمبئی کا حصہ تھا کراچی کی بندرگاہ درحقیقت پنجاب کی گندم چاول کپاس اور زرعی اجناس یورپ ایکسپورٹ کرنے کیلئے ہی انگریزوں نے تعمیر کی تھی۔دوسرا سارا ناتھ انڈیا کراچی کی بندرگاہ براستہ پنجاب استعمال کرتا تھا۔اگر پاکستان نہ بنتا کراچی پنجاب کا ہی حصہ ہوتا اور اندرون سندھ بمبئئ کا حصہ ہوتا۔ویسے بھی کراچی کی بندرگاہ گذشتہ آٹھ ہزار سالوں سے ہڑپا سپتا سندھو کے زمانوں سے بلاشرکت غیرے پنجاب ہی بندرگاہ ہی کی بندرگاہ رہی ہےاور پنجاب ہی کے زیر استعمال میں رہی ہے۔قدیم پنجابی سلطنت سپتا سندھو /پنجاب ہڑپا اور ٹیکسلا کی ساری درآمدات و برآمدات عالمی تجارت میسوپٹیمیا اور دیگرقدیم دیشوں سے سندھو دریا سے جڑے سمندر/ کراچی کے ذریعہ ہی ہوتی تھی جوایسٹ انڈیا کمپنی نے کراچی کی بندرگاہ بننے تک انڈس دریا میں چلنے والے بحری جہازوں اور جہازی کشتیوں کے ذریعے کراچی کے سمندر تک مال پہنچانے اور لانے کیلئے جاری رکھی ۔پنجاب کی درآمد وبرآمدکیلئےہی کراچی کی بندرگاہ تعمیر کی گئی۔ہزاروں سالوں سے پنجاب کے پنج ست دریاؤں کا پانی ,پنجند کا پانی, پنجابی دریا سندھو /Indus کے ذریعے سمندر میں جاگرتاہے .سندھو دریا کےاندر بہنے والاسندھ گذرکر سمندر میں جاگرنےوالا پنجاب کےپنج ست دریاؤں کا پانی اور سمندر تک جانیوالی دریا کی بلاشرکت غیرے روزاول سے پنجاب کو سندھو دریا کا حق ملکیت دیتی ہے۔ پنجاب ہزاروں سالوں سے بیرونی دنیا تجارت کیلئے کراچی کی بندرگاہ یا سمندر اپنی بندرگاہ کے طور پر استعمال کرتا آ رہا ہے۔اور سپتا سندھو کی ساری بیرونی تجارت سمندر کےسندھو پنجاب سے جڑے ہونے کی وجہ سے ہوتی آرہی تھی۔ کیوں کہ اس وقت سندھ کا کوئی وجود نہیں تھا .سندھ صوبہ انگریزوں نے قائم کیا۔اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ سپتا سندھو اور ٹیکسلا کی آٹھ ہزار سال قدیم پنجابی سلطنوں کے زمانوں سے کراچی اور اس کا سمندر پنجاب کےزیر استعمال اور پنجاب کا حصہ رہا ہے اور پنجاب زمانہ قدیم آٹھ ہزار سال سے کراچی اور سمندر تک تھا اور ہے۔جب تک پنجاب کے پانچ دریاؤں کا پانی پنجند سے لے کر پنجاب کا سب سے بڑا پنجابی دریا سندھو المعروف دریائےپنجاب کراچی کے سمندر تک لے کر جاتا رہے گا اسوقت تک کراچی اس کی بندرگاہ اور سمندر بھی پنجاب کاحصہ رہے گا۔ اسی لئے امیتابھ بچن جو خود بھی پنجابی ہیں یا کوئی بھی اور پنجابی یا ساراپنجاب سارا نارتھ انڈیا کہہ سکتا ہے کہ کراچی پنجاب میں تھا۔اور سمندر کے سندھو دریا کے ذریعے پنجاب سےجڑے ہونے کی وجہ سے ہم بلا کسی تردر کے کہہ سکتے ہیں کہ کراچی پنجاب میں ہے تھا اور ہمیشہ رہے گا۔کیونکہ اسوقت پنجاب آدھے بھارت کے برابر تھا اور سندھ کو کوئی نہیں جانتا تھاتب سندھ کا کوئی وجود نہیں تھا۔سندھ کل کی بات ہے۔ساری دنیا پنجاب کو ہی ہند سے الگ ایک ملک کے طور پر اور کراچی پنجاب میں ہے کے طور پر ہی کراچی کو جانتی تھی۔

Chaudhry Nazeer Kahut

60,153 views • 1 month ago