正在加载视频...

视频加载失败

خیبر پختونخواہ کا وزیر ڈاکٹر امجد علی جھوٹ بولتے ہوئے رنگے ہاتھو ں پکڑا گیا۔ صوبائی حکومت کا لیٹر ساتھ لگا ہوا ہے۔ ہوم ڈیپارٹمنٹ نے 09/09/024 کو باقاعدہ کمشنر ملاکنڈ کو آگاہ کیا تھا کہ سفارتکار سوات آرہے ہیں نالائق وزیر نے اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے وفاقی...

17,775 次观看 • 2 年前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

اسلام آباد: 6 اپریل, 2026 اسلام آباد میں وزیراعظم محمد شہباز شریف سے وفاقی وزیر برائے ریلویز حنیف عباسی نے ملاقات کی، جس میں پاکستان ریلویز کی مجموعی کارکردگی، جاری اصلاحات اور مستقبل کے منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران وزیر ریلویز نے وزیراعظم کو پاکستان ریلویز کے آپریشنل امور پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ خلیج کی صورتحال میں عوامی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے ملک بھر میں چلنے والی تمام آپریشنل ٹرینوں کے کرایوں میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کیا جا رہا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ موجودہ معاشی حالات میں حکومت عوام پر اضافی بوجھ ڈالنے سے گریز کر رہی ہے اور ریلوے کے نظام کو بہتر بنا کر آمدن میں اضافہ کرنے پر توجہ دی جائے۔ وزیراعظم نے اس موقع پر ہدایت کی کہ پاکستان ریلویز کو ایک جدید، محفوظ اور قابلِ اعتماد سفری نظام میں تبدیل کرنے کے لیے اصلاحاتی اقدامات کو تیز کیا جائے. وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت عوامی فلاح و بہبود کے ایجنڈے پر کاربند ہے اور تمام اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنا کر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے وزیر ریلویز کو ہدایت کی کہ ریلوے کے جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے اور عوام کو بہتر، محفوظ اور سستی سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔

Prime Minister's Office

12,798 次观看 • 5 个月前

نواب اکبر بگٹی کی شہادت کے بعد ملتان سروسز کلب میں—اس زمانے میں سروسز تھا، پھر ایم جی ایم بنایا انہوں نے—ایک فل کرنل کے ساتھ میرا مذاکرہ ہوا، جو حاضر سروس تھا اور تازہ تازہ ڈیفر (defer) ہوا تھا کہ ترقی نہیں ہوئی تھی۔ بلوچستان پر گفتگو ہوئی تو میں نے اسے کہا کہ، ”یہ اکبر بگٹی کو آپ لوگوں نے اس حالت میں مار کے بہت بڑا نقصان کیا ہے، اپنا بھی اور ہمارے ملک کا بھی۔“ کہنے لگا کہ، ”نہیں، آپ کو نہیں پتا۔“ میں نے پوچھا کہ، ”کیا نہیں پتا؟ خیر بخش مری سے زیادہ نیشنلسٹ تو کوئی بھی نہیں ہے بلوچستان میں، نہ کوئی تھا۔ وہ تو کہتا ہے کہ اکبر بگٹی کبھی بھی ان کے ساتھ نہیں تھا، کاش کہ ان کے ساتھ ہوتا!“ پھر کہتا ہے کہ، ”نہیں، آپ لوگوں کو نہیں پتا۔“ میں نے کہا کہ، ”بتاؤ پھر۔“ وہی ٹپیکل منجن کہ وہ پاکستان دشمن ہو چکا تھا، نواب اکبر بگٹی۔ وہ ڈاکٹر کے ریپسٹ کو پکڑوانا—اگر وہ فوجی ہے—تو وہ پاکستان دشمن ہو گیا؟ جب ذوالفقار علی بھٹو نے فوج کشی کی، خیر بخش مری اور اس کے قبیلے کے خلاف، تو یہی نواب اکبر بگٹی اس وقت بھٹو کا گورنر تھا؛ اور ان کو بڑا پتا چلتا ہے کہ گورنر اسٹیٹ کا نمائندہ ہوتا ہے، حکومت کا نہیں۔ تھوڑی دیر تو میں نے اس کی بکواس برداشت کی، پھر میں نے کہا، ”کہاں کے رہنے والے ہو؟“ کہتا ہے، ”چکوال کا۔“ میں نے کہا، ”ریٹائرمنٹ کا کیا پلان بنایا ہے؟“ کہتا، ”یہ میری ذاتی زندگی ہے۔“ میں نے کہا، ”تمہاری ذاتی زندگی تمہارے باپ نے تمہیں دی ہے؟ تمہاری آبائی زمین کا نہیں پوچھ رہا، یہ پوچھ رہا ہوں کہ تم نے تنخواہ میرے سے لی ہے، ریٹائرمنٹ کی پینشن مجھ سے لو گے! دو تین ڈیفنسوں میں اور کنٹونمنٹ میں جو تمہیں پلاٹ مل رہے ہیں، یہ میری زمین ہے۔ تم چکوال میں جا کے استنجا کرو گے اور میں کوہِ سلیمان میں بیٹھتا ہوں۔ مجھے دوسری سائیڈ والے بلوچ بے غیرت کہتے ہیں کہ میں پنجابیوں کے ساتھ ملا ہوا ہوں۔ تم ریٹائرمنٹ کے بعد چکوال میں جا کے بیٹھو گے اور میں وہیں بیٹھوں گا، ڈائریکٹ ان کی ہٹ (hit) میں!“ یہ ہیں جی ہمارے فیصلے کرنے والے، اور ان کا والد ان کے ورثے میں وہ ٹکسال بھی چھوڑ کے گیا تھا، جس میں یہ غدار اور غیر مسلم کا سرٹیفیکیٹ جاری کرتے ہیں! آخری بات بھی تم لوگوں نے کہ اب سخت فیصلے کیے جائیں گے، مجھے اپنے تین سالہ دور میں نرم فیصلے بتاؤ ؟ پنجاب پہ کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ فاٹا کشمیر اور بلوچستان میں کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ سندھ زرداری کو دے کہ تو کوئی سندھ پہ نرم فیصلہ کیا ہے ؟ سب سے بڑی پولیٹیکل پارٹی کو اس حد تک دیوار سے لگا کے تو تم نے ملک پہ کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ ڈروز وقت سے کہ یہ سب مل کے جب تم پہ ایک سخت فیصلہ مسلط کریں گے !

Jack~The~Ripper

19,361 次观看 • 2 个月前

نو منتخب وزیر اعظم بنگلہ دیش جناب طارق رحمان سے ملاقات: دوطرفہ تعلقات کو ہر شعبے میں مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ وزیر اعظم شہباز شریف کی نمائندگی کرتے ہوئے بنگلہ دیش کے وزیر اعظم طارق رحمان سے نئی حکومت کی حلف برداری کی تقریب کے بعد ملاقات کی۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے نیک تمناؤں اور مبارکباد کا پیغام پہنچایا اور وزیر اعظم طارق رحمان کو پاکستان کے سرکاری دورے کی باضابطہ دعوت دی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان باہمی احترام، مشترکہ تاریخ اور ہم آہنگ معاشی مفادات کی بنیاد پر ایک مضبوط اور مستقبل بین شراکت داری کا خواہاں ہے۔ وزیر احسن اقبال نے بنگلہ دیش میں پُرامن جمہوری انتقالِ اقتدار کو جمہوری استحکام کی اہم پیش رفت قرار دیا۔ وزیر اعظم طارق رحمان نے پاکستان کی خیرسگالی کو سراہتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان تعمیری اور مستقبل پر مبنی تعلقات کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ ہم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش نوجوان آبادی رکھنے والی ابھرتی ہوئی معیشتیں ہیں اور آبادی کا یہ تناسب ایک سنہری موقع فراہم کرتا ہے۔ مہارتوں، کاروباری صلاحیتوں اور ڈیجیٹل معیشت میں سرمایہ کاری کے ذریعے نوجوانوں کو ترقی کا محرک بنایا جا سکتا ہے۔ میں نے دوطرفہ تجارت میں اضافے، ساحلی بندرگاہوں کے ذریعے بحری روابط کے فروغ اور سپلائی چین کے انضمام پر زور دیا تاکہ علاقائی اور عالمی منڈیوں تک رسائی بہتر بنائی جا سکے۔ انہوں نے صنعتی صلاحیتوں، ایس ایم ای سیکٹر اور برآمدی حکمت عملی میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی تجویز دی تاکہ دونوں ممالک عالمی ویلیو چینز میں اہم کردار ادا کر سکیں۔ بنگلہ دیش–پاکستان نالج کاریڈور کے آغاز سے وزیر اعظم کو آگاہ کیا جس کا مقصد اعلیٰ تعلیم، تحقیق، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور نوجوانوں کے تبادلوں کو فروغ دینا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان کے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین جلد بنگلہ دیش کا دورہ کریں گے تاکہ جامعات کے درمیان ٹوئننگ پروگرامز اور طویل المدتی ادارہ جاتی شراکت داری کو حتمی شکل دی جا سکے۔ ہم نے اتفاق کیا کہ تعلیمی اور تحقیقی روابط پائیدار تعاون کی بنیاد بنیں گے۔ مشترکہ ترقیاتی چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے کلیدی قومی اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے اور مصنوعی ذہانت سمیت جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے تعلیم، صحت، ماحولیاتی تبدیلی اور گورننس کے شعبوں میں بہتری لانے پر مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا۔ ثقافتی اور فکری روابط کو اجاگر کرتے ہوئے اقبال اکیڈمی کو ڈھاکہ میں دوبارہ فعال بنانے اور شاعرِ مشرق علامہ اقبال کی 150 ویں سالگرہ آئندہ سال ڈھاکہ میں مشترکہ طور پر منانے کی تجویز پیش کی، تاکہ ان کے پیغامِ خودی، اتحاد اور روحانی جمہوریت کو خراجِ عقیدت پیش کیا جا سکے۔ دونوں رہنماؤں نے اس امر پر زور دیا کہ ثقافتی سفارت کاری اور عوامی روابط معاشی تعاون کو تقویت دیں گے۔ وزیر اعظم طارق رحمان نے پاکستان کے اپنے سابقہ دورے میں سابق وزیر اعظم جناب نواز شریف سے اپنی والدہ مرحومہ خالدہ ضیاء کے ہمراہ اپنی ملاقاتوں کو نہایت خوشگوار اور یادگار قرار دیا اور وزیر اعظم شہباز شریف اور جناب نواز شریف کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ ملاقات کے اختتام پر دونوں ہم نے تعاون کے عملی فریم ورک کو تیز کرنے اور خیرسگالی کو ٹھوس نتائج میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے سارک کو فعال بنانے اور جنوبی ایشیا کو جیوپولیٹکس کے بجائے جیو اکنامکس کی بنیاد پر آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ہم نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جنوبی ایشیا دنیا کے کم ترین مربوط خطوں میں شمار ہوتا ہے۔ بہتر رابطہ کاری، تجارتی سہولت کاری اور علاقائی ویلیو چینز کے فروغ کے ذریعے پاکستان اور بنگلہ دیش خطے کے تقریباً ایک چوتھائی انسانوں کے لیے خوشحالی اور مشترکہ ترقی کے نئے دروازے کھول سکتے ہیں

Ahsan Iqbal

17,104 次观看 • 7 个月前

اسلام آباد: 6 اپریل 2026 وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پیٹرولیم مصنوعات ، توانائی کی بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات کے نفاذ کے حوالےسے اہم جائزہ اجلاس کی صدارت کی. صوبہء پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان ، اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری ، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں بازار، مارکیٹیں، شاپنگ مالز رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ. اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ خیبر پختونخوا کے ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں بازار، مارکیٹس اور شاپنگ مالز رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت ہو گی. یہ فیصلہ صوبائی حکومت کی مشاورت سے کیا گیا ہے. روزمرہ کے استعمال کی اشیاء کی دکانیں، ڈیپارٹمنٹل اسٹورز اور ہر قسم کے مالز بھی رات 8 بجے بند ہوں گے. اجلاس میں مزید فیصلہ کیا گیا کہ بیکریاں، ریسٹورنٹ تندور، اور کھانے پینے کی دیگر دکانیں رات دس بجے بند کر دئے جائیں گے. میرج ہالز، مارکیز، اور دیگر کمرشل جگہیں جن میں شادیاں منعقد ہوتی ہیں ، رات 10 بجے کے بعد بند رہیں گی. نجی پراپرٹیز اور گھروں میں بھی شادی بیاہ کی تقریبات 10 بجے رات کے بعد منعقد کرنے پر پابندی ہو گی. میڈیکل اسٹورز اور فارمیسیز کے اوقات کار ان پابندیوں سے مستثنیٰ ہوں گے. اجلاس میں کئے گیے فیصلوں کا اطلاق 7 اپریل سے ہوگا. اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ صوبہء سندھ میں مارکیٹس اور دیگر اوقات کار کے حوالے سے مشاورت کا عمل جاری ہے. وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی مد میں دی گئی سبسڈی ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے منتقل کرنے کا عمل جاری ہے ؛ 1 لاکھ ٹرانزیکشن ہو چکی ہیں. اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِاعظم نے کہا کہ وزراء اعلیٰ پنجاب، خیبر پختونخوا ،بلوچستان، گلگت بلتستان اور وزیراعظم کا آزاد جموں و کشمیر کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے قومی اہمیت کے ان اہم معاملات میں اتفاق رائے سے فیصلہ کیا. سندھ حکومت کی سٹیک ہولڈرز سے مشاورت جاری ہے. مجھے امید ہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ بھی اس حوالے سے جلد مشاورت کا عمل مکمل کرنے کے بعد، اس فیصلے میں شامل ہو جائیں گے. وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ گلگت شہر اور مظفرآباد شہر میں انٹراسٹی پبلک ٹرانسپورٹ ایک ماہ کے لئے مفت ہو گی ؛ تمام اخراجات وفاقی حکومت برداشت کرے گی. اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی ۔

Prime Minister's Office

32,513 次观看 • 5 个月前

ابھی ابھی آغا شیخ سرور سے بات ہوئی، وہ کوریج میں مصروف تھا اور لوگوں کی کوریج کرنے کے لیے قافلے کی مرکزی گاڑیوں سے الگ ہو کر ایک موٹر سائیکل سوار سے لفٹ لے کر لوگوں کے درمیان کوریج کر رہا تھا، ویڈیوز بنا رہا تھا، اپنی کمنٹری کر رہا تھا کہ اچانک ایک ڈالہ اس بائیک کے آگے آیا اور ڈالے میں سوار لوگ اترے اور وہاں سے امین اللہ نام کا شخص اترا اور پھر انہوں نے آغا شیخ سرور کو مارنا شروع کر دیا۔ آغا شیخ سرور کو مارتے ہوئے وہ یہ بھی کہہ رہا تھا اپنے گارڈز سے کہ اس کو گولی مار دو۔ آغا شیخ سرور نے بتایا کہ اس کے ہاتھ کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے اور جبڑے ڈسلوکیٹ ہوئے ہیں زبان پہ کٹ لگے ہیں اور وہ بری طرح سے زخمی ہے۔ صرف آغا شیخ سرور کو نہیں زعیم لغاری اور ان کے ساتھ ساتھ شاکر اعوان کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ وہ کہتے ہیں اگر مینا خان آفریدی بیچ میں آ کر نہ بچاتے تو مجھے گولی ماری جا سکتی تھی۔ آغا شیخ سرور نے یہ بھی کہا کہ اس کو کارکنوں نے بھی بہت سپورٹ کیا اور مارنے والوں سے بچانے میں مدد کی۔ میں نے پوچھا کہ یہ امین اللہ نام کا شخص کیوں تشدد کروا رہا تھا، کیوں آپ کی جان کے پیچھے پڑ گیا؟ تو اس نے کہا مجھے کسی نے یہ بتایا کہ امین اللہ ہی ٹی آئی حیدر آباد کا کوئی عہدیدار ہے اور اسے اس بات پر غصہ تھا کہ لیاری کی کوریج کے موقع پر آغا شیخ سرور نے جب ایک جگہ کوریج کی تو امین اللہ کے کسی مخالف کو کوریج ملی تھی اور امین اللہ کو اس بات کا شدید رنج تھا۔ اب یہ تینوں صحافی اس کوریج کا بائیکاٹ کرنے ارادہ رکھتے ہیں

Tariq Mateen

72,255 次观看 • 22 天前

اسلام آباد : 28 جولائی، 2026. وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پرائم منسٹر اپنا گھر اسکیم پر پیشرفت کے حوالے سے جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا. اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ عام آدمی کو چھت فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے. ملک کے غریب و متوسط طبقے کو اپنی چھت کے حصول کے لیے ’’وزیراعظم اپنا گھر اسکیم‘‘ کا اجراء کیا ہے. اپنا گھر اسکیم کے حوالے سے کام کی رفتار کو تیز کیا جائے. سرکاری اور نجی بینک اپنا گھر اسکیم کو کامیاب کرنے کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ فنانسنگ کریں. وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اپنا گھر اسکیم کے لئے عمودی اور افقی ماڈل ہاؤسنگ منصوبوں کے لئے حکمت عملی ترتیب دی جائے. اجلاس کو پرائم منسٹر اپنا گھر اسکیم کی فناسنگ میں پیشرفت کے حوالے سے بریفنگ دی گئی. بریفنگ میں بتایا گیا کہ اپنا گھر اسکیم کی فنانسنگ کے لئے بینک اب تک 204 ارب روپے منظور کر چکے ہیں جبکہ 27 ارب روپے کی فنانسنگ کی جاچکی ہے. وزارت ہاؤسنگ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان اپنا گھر اسکیم پر پیشرفت کا ہر ہفتے جائزہ لے رہے ہیں. اجلاس میں وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر ہاؤسنگ اینڈ ورکس میاں ریاض حسین پیر زادہ ، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

Prime Minister's Office

12,854 次观看 • 2 个月前