Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

دریائے نیل کا سنا تھا کہ وہ خوبصورت جوان لے ڈوبتا ہے مگر سمندرے ہند تو ہندوستان کے لوگوں کی طرح حرامی نکلا 💦 دو میاں بیوی جن کی نئی شادی ہوئی تھی سمندر میں یعنی مون منانا مہنگا پڑ گیا

15,118 просмотров • 1 месяц назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

دوسری شادی کے حق میں دلیلیں دینے والے معصومہ کے کردار کو جسٹیفائی کر رہے ہیں کہ دوسری شادی گناہ تو نہیں ہے، دوسری شادی عین شریعت ہے،عرض ہے کہ معصومہ نے پہلے ٹی ٹی کے بیٹے کو ہی پھنسانے کی کوشش کی تھی،جب وہ موسیٰ کو فائل دینے جانے سے پہلے گاڑھی لال لپ اسٹک لگایا کرتی تھی،موسی اس دو نمبر عورت کے دو نمبر ہتھکنڈوں میں نہیں آیا جب وہ موسیٰ سے ناامید ہو گئی تو ٹی ٹی کی طرف چلی گئی،کیونکہ اسے موسی یا ٹی ٹی کی پہلی دوسری شادی سے کنسرن نہیں تھا۔ اس کا کنسرن تھا راتوں رات امیر ہونا،ٹی ٹی(توقیر تاثیر )اس کے جال میں پھنس گئے،بقول معصومہ کے "ارے اماں ٹی ٹی کی عمر کے مردوں کو کوئی لڑکی ہنس کر دیکھ لے تو بیچارے ہفتہ بھر بھول نہیں پاتے، میں تو اسکی جوان بیوی ہوں" ڈرامے کی شروع کی قسطوں میں جب ریحام اور اس کا بیٹا معصومہ کے باپ کو دیکھنے ہسپتال جاتے ہیں، اس دن معصومہ جس طریقے سے ریحام کے ہینڈ بیگ اور انگوٹھیوں کی قیمتوں کا اندازہ لگا رہی ہوتی ہے، اس نے اسی دن اس فیملی کو ٹارگٹ کر لیا تھا اور اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئی،اگر اس طرح کی دوسری شادی کرنا شریعت ہے تو ضرور کریں سب،اپنے ساتھ کی بیوی جو ساتھ جوان تھی اور ساتھ ہی بوڑھی ہورہی ہو، اس پر جوان لڑکی کو دوسری بیوی بناکر یہ جتانا کہ بوڑھی صرف تم ہورہی ہو، میں نہیں پھر بیٹے کو ایم ڈی کی سیٹ سے فارغ کرکے اس کے کریڈٹ کارڈز بلاک کر دینا، اس کی شادی میں اس لئے شرکت نہ کرنا کہ اس نے سوتیلی ماں سے بدتمیزی کیوں کی، یہی پچھتاوے چھوڑتا ہے ویسے اس طرح کے اتفاقات کے لئے ٹی ٹی کی طرح بے انتہا امیر ہونا اور معصومہ کی طرح خوبصورت اور مکار ہونا بھی ضروری ہے۔

شبانہ شوکت

109,160 просмотров • 1 год назад