Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

دشمنوں کے ساتھ میرے دوست بھی آزاد ہیں... دیکھنا ہے کھینچتا ہے مجھ پہ پہلا تیر کون... پروین شاکر

44,114 views • 3 years ago •via X (Twitter)

8 Comments

بے آبرو عشق's profile picture
بے آبرو عشق3 years ago

میرا سر حاضر ہے لیکن میرا منصف دیکھ لے کر رہا ہے میری فرد جرم کو تحریر کون آج دروازوں پہ دستک جانی پہچانی سی ہے آج میرے نام لاتا ہے مری تعزیر کون پروین شاکر

جیہ راجپوت 🇵🇸's profile picture
جیہ راجپوت 🇵🇸3 years ago

Dekhna hea kenchtta hea mjhe pye Phelaaa teer k0n 😍

Dr. Umar Farooq💚❤ 🇵🇰's profile picture
Dr. Umar Farooq💚❤ 🇵🇰3 years ago

اک اور تیر چلا اپنا عہد پورا کر ابھی پرندے میں تھوڑی سی جان باقی ھے

FANCO's profile picture
FANCO2 years ago

NEW OFFICIAL COLLABORATION ALERT! Get your PERSONALIZED @Godzilla_Toho Japanese hanko stamps at for yourself, friends and family! #fanco #godzilla #GodzillaMinusOne 👉

Mr CRYPTO EXPERT's profile picture
Mr CRYPTO EXPERT3 years ago

Wah wah

Mujeeb Ur Rehman Awan's profile picture
Mujeeb Ur Rehman Awan3 years ago

پا بہ گِل سب ہیں رہائی کی کرے تدبیر کون! دست بستہ شہر میں کھولے میری زنجیر کون!

Dr. Umar Farooq💚❤ 🇵🇰's profile picture
Dr. Umar Farooq💚❤ 🇵🇰3 years ago

شکریہ ریشمی دلاسے کا تیر تو آپ نے بھی مارا تھا

اردو ورثہ's profile picture
اردو ورثہ1 year ago

"یہ میری غزلیں یہ میری نظمیں" احمد فراز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ میری غزلیں یہ میری نظمیں تمام تیری حکایتیں ہیں یہ تذکرے تیرے لطف کے ہیں یہ شعر تیری شکایتیں ہیں میں سب تری نذر کر رہا ہوں یہ ان زمانوں کی ساعتیں ہیں جو زندگی کے نئے سفر میں تجھے کسی وقت یاد آئیں تو ایک اک حرف جی اٹھے گا پہن کے انفاس کی قبائیں اداس تنہائیوں کے لمحوں میں ناچ اٹھیں گی یہ اپسرائیں مجھے ترے درد کے علاوہ بھی اور دکھ تھے یہ مانتا ہوں ہزار غم تھے جو زندگی کی تلاش میں تھے یہ جانتا ہوں مجھے خبر تھی کہ تیرے آنچل میں درد کی ریت چھانتا ہوں مگر ہر اک بار تجھ کو چھو کر یہ ریت رنگ حنا بنی ہے یہ زخم گلزار بن گئے ہیں یہ آہ سوزاں گھٹا بنی ہے یہ درد موج صبا ہوا ہے یہ آگ دل کی صدا بنی ہے اور اب یہ ساری متاع ہستی یہ پھول یہ زخم سب ترے ہیں یہ دکھ کے نوحے یہ سکھ کے نغمے جو کل مرے تھے وہ اب ترے ہیں جو تیری قربت تری جدائی میں کٹ گئے روز و شب ترے ہیں وہ تیرا شاعر ترا مغنی وہ جس کی باتیں عجیب سی تھیں وہ جس کے انداز خسروانہ تھے اور ادائیں غریب سی تھیں وہ جس کے جینے کی خواہشیں بھی خود اس کے اپنے نصیب سی تھیں نہ پوچھ اس کا کہ وہ دوانہ بہت دنوں کا اجڑ چکا ہے وہ کوہ کن تو نہیں تھا لیکن کڑی چٹانوں سے لڑ چکا ہے وہ تھک چکا تھا اور اس کا تیشہ اسی کے سینے میں گڑ چکا ہے احمد فراز

Related Videos