Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

میرے دشمن کا کوئی تیر نہ پہنچا مجھ تک دیکھنا اب کہ میرا دوست کماں کھینچتا ہے عہدِ فرصت میں کسی یارِ گزشتہ کا خیال جب بھی آتا ہے تو جیسے رگِ جاں کھینچتا ہے احمد فراز

10,969 görüntüleme • 1 ay önce •via X (Twitter)

8 Yorum

Sheikh Khalid profil fotoğrafı
Sheikh Khalid1 ay önce

WHAT A GOLDEN WORDS THANKS.

Raja Sajid profil fotoğrafı
Raja Sajid1 ay önce

🥀💔🌹

✿__•چوہدرانی© profil fotoğrafı
✿__•چوہدرانی©1 ay önce

واہ 🌺

اردو ورثہ profil fotoğrafı
اردو ورثہ1 ay önce

جی شکریہ آپ کا

✿__•چوہدرانی© profil fotoğrafı
✿__•چوہدرانی©1 ay önce

ہمیشہ کی طرح بہترین پوسٹس 🌺👌

اردو ورثہ profil fotoğrafı
اردو ورثہ1 ay önce

جی شکریہ آپ کا

Iqtidar🇵🇰 profil fotoğrafı
Iqtidar🇵🇰1 ay önce

عدو سے کیا گلہ، وہ تو عداوتوں پہ رہا ملال اس کا ہے جس نے وفا کا نام لیا۔

اردو ورثہ profil fotoğrafı
اردو ورثہ1 ay önce

جو زخم دوست دے جائیں، وہ عمر بھر نہیں بھرتے، دشمن تو وار کرتا ہے، اپنا دل ہی توڑ دیتا ہے۔ 💔

Benzer Videolar

کبھی لوٹ آئیں تو پوچھنا نہیں دیکھنا انہیں غور سے جنہیں راستے میں خبر ہوئی کہ یہ راستہ کوئی اور ہے ——————————— جناب سلیم کوثر کی غزل میری پسندیدہ ترین غزلوں میں سے .... میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے سر آئینہ مرا عکس ہے پس آئینہ کوئی اور ہے میں کسی کے دست طلب میں ہوں تو کسی کے حرف دعا میں ہوں میں نصیب ہوں کسی اور کا مجھے مانگتا کوئی اور ہے عجب اعتبار و بے اعتباری کے درمیان ہے زندگی میں قریب ہوں کسی اور کے مجھے جانتا کوئی اور ہے مری روشنی ترے خد و خال سے مختلف تو نہیں مگر تو قریب آ تجھے دیکھ لوں تو وہی ہے یا کوئی اور ہے تجھے دشمنوں کی خبر نہ تھی مجھے دوستوں کا پتا نہیں تری داستاں کوئی اور تھی مرا واقعہ کوئی اور ہے وہی منصفوں کی روایتیں وہی فیصلوں کی عبارتیں مرا جرم تو کوئی اور تھا پہ مری سزا کوئی اور ہے کبھی لوٹ آئیں تو پوچھنا نہیں دیکھنا انہیں غور سے جنہیں راستے میں خبر ہوئی کہ یہ راستہ کوئی اور ہے جو مری ریاضت نیم شب کو سلیمؔ صبح نہ مل سکی تو پھر اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ یہاں خدا کوئی اور ہے سلیم کوثر

اردو ورثہ

33,878 görüntüleme • 1 yıl önce

"احمد فراز" مجھ سے پہلے تجھے جس شخص نے چاہا اس نے شاید اب بھی ترا غم دل سے لگا رکھا ہو ایک بے نام سی امید پہ اب بھی شاید اپنے خوابوں کے جزیروں کو سجا رکھا ہو میں نے مانا کہ وہ بیگانۂ پیمانِ وفا کھو چکا ہے جو کسی اور کی رعنائی میں شاید اب کے لوٹ کے نہ آئے تری محفل میں اور کوئی دکھ نہ رلائے تجھے تنہائی میں میں نے مانا کہ شب و روز کے ہنگاموں میں وقت ہر غم کو بھلا دیتا ہے رفتہ رفتہ چاہے امید کی شمعیں ہوں کہ یادوں کے چراغ مستقل بُعد بجھا دیتا ہے رفتہ رفتہ پھر بھی ماضی کا خیال آتا ہے گاہے گاہے مدتیں درد کی لو کم تو نہیں کر سکتیں زخم بھر جائیں مگر داغ تو رہ جاتے ہیں دوریوں سے کبھی یادیں تو نہیں مر سکتیں یہ بھی ممکن ہے کہ اک دن وہ پشیماں ہو کر تیرے پاس آئے زمانے سے کنارا کر لے تو کہ معصوم بھی ہے زور فراموش بھی ہے اس کی پیماں شکنی کو بھی گوارا کر لے اور میں، جس نے تجھے اپنا مسیحا سمجھا ایک زخم اور بھی پہلے کی طرح سہہ جاؤں جس پہ پہلے بھی کئی عہدِ وفا ٹوٹے ہیں اسی دوراہے پہ چپ چاپ کھڑا رہ جاؤں احمد فراز

اردو ورثہ

20,595 görüntüleme • 1 yıl önce