Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

”سوات کی سرزمین سے ایک ایسا نوجوان پیدا ہوا، جس کا نام Murad Saeed ہے۔ مراد سعید ہمارے لیڈر ہیں، جنہوں نے ہماری سیاسی تربیت کی ہے۔ آپ تصور بھی نہیں کر سکتے کہ اسے اپنی مٹی، اپنے پشتون، اپنے لوگ اور پاکستان سے کتنی محبت ہے۔ آج اگر...

49,721 görüntüleme • 8 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اس پاک فوج پر الزام لگایا ہے جو پاسبانِ حرم ہے،جو صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ عالمِ اسلام کی عزت و غیرت کی محافظ ہے۔یہ وہ فوج ہے جس نے بھارت کا غرور خاک میں ملایا،اور ان کو دھول چٹا دی، اور دنیا میں پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا۔یہ وہ فوج ہے جس کے سینوں میں کلمہ طیبہ کی حرارت ہے، جو پانچ وقت اپنے رب کے حضور سربسجود ہوتی ہے،اور جس کا مقصد اسلام کی سربلندی اور وطنِ عزیز کا دفاع ہے۔مساجد کی حفاظت کے لیے پاک فوج، ایف سی اور پولیس کے جوانوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔سوات، لوئر دیر، بونیر، باجوڑ، مہمند، اورکزئی، وزیرستان، خیبر اور کرم میں جو امن قائم ہے،وہ کسی سیاسی نعرے کا ثمر نہیں بلکہ ہزاروں شہداء کے خون کی قیمت پر حاصل ہوا ہے۔یہ وہی بہادر بیٹے ہیں جنہوں نے دہشت گردی کے خلاف جہاد میں اپنی جانیں قربان کر کے پاکستان کے پرچم کو سربلند رکھا۔ایسی مجاہد فوج پر الزام لگانا نہ صرف قوم کی توہین بلکہ شہداء کے خون سے غداری کے مترادف ہے۔

Khadim Ali khan Yousaf zai

47,667 görüntüleme • 10 ay önce

پاکستان بننے کے بعد، پاکستان کے اندر تین قسم کے لوگوں نے پاکستان کی تخلیق اور پاکستان کے وجود کی تین طرح کی تعبیر کی ہے۔ ایک طبقے نے کہا کہ پاکستان اس لیے بنا ہے کہ یہاں قرآن و سنت کا نظام ہوگا۔ نہ اب انگریز ہے، نہ اب ہندو ہے، مسلم اکثریتی ملک ہے اور یہاں اب شریعت ہوگی۔ایک تصور یہ تھا۔ کچھ لوگ تھے جنہوں نے اس تصور سے پاکستان کی آزادی کی تعبیر کی کہ ہماری معیشت آزاد ہوگی، ہم کسی کے غلام نہیں ہوں گے۔ اور ایک طبقہ وہ تھا جس نے پاکستان کے وجود کو اس بات سے تعبیر کیا کہ ایک جمہوری ملک ہوگا اور جمہوری ماحول میں ہم سانس لیں گے اور اپنے فیصلے خود کریں گے۔ اب اسلامی نظام کا قیام، شریعت کے مطابق زندگی، معاشی خوشحالی یا جمہوری نظام۔۔۔ان تینوں حوالوں سے ذرا آپ پاکستان کا آج،مطالعہ کر لیں۔ یہاں شریعت کتنی ہے؟ قرآن و سنت کتنا ہے؟ معیشت کتنی خوشحال ہے؟ ہماری جمہوریت کا کیا حشر کر دیا ہے؟ کون سا مقصد ہے جو پاکستان کے کسی ایک شہری کا مکمل ہوا ہو؟قرآن و سنت کے طلبگار، وہ بھی محرومیت کا اظہار کر رہے ہیں۔ معیشت کی بات کرنے والے، وہ بھی محرومیت کا شکار ہیں۔ اور جمہوریت کی بات کرنے والے، وہ بھی مایوس بیٹھے ہوئے ہیں۔ اب اس ملک کے وجود کی اگر نفی ہوئی ہے تو تمہارے رویوں نے کی ہے۔ سیاسیات تو ایک بڑا وسیع میدان ہے، بڑا توسع ہے اس میدان میں۔۔ ہمیں کہا جاتا ہے کہ مولوی صاحب! اب قرآن و سنت کی باتیں چھوڑو۔ اب قرآن و سنت کی بات کرنے والے اور مذہب کی بات کرنے والے کی ملک کی سیاست میں کوئی گنجائش نہیں۔ ہم نے اگر ملک کی سیاست میں گنجائش پیدا کی ہے تو اس میں تمہارا کیا کردار ہے؟ یہ مقام بھی ہمارے ان نوجوانوں اور کارکنوں نے اپنی قربانیوں سے حاصل کیا ہے۔ اور مت سوچے کوئی کہ وہ ہمارے لیے دنیا تنگ کر دیں گے، ہمارے لیے گنجائش تنگ کر دیں گے۔ میں انہیں کہنا چاہتا ہوں کہ اپنے لیے گنجائش تنگ کر رہے ہو۔ ہم نظریاتی لوگ ہیں اور اپنے نظریات کے لیے ایک تاریخ رکھتے ہیں۔ دو سو سالہ تاریخ ہماری پشت پر ہے، تمہاری پشت پر کیا ہے؟ انگریز کی غلامی، خوشامد، ان کے گھوڑوں کے خرخرے، اور اس کے بدلے میں جاگیریں حاصل کرنا اور بڑے بڑے جاگیردار بن جانا یہ تمہاری تاریخ ہے۔ اور قربانیاں دینا ہماری تاریخ ہے، تم کس چیز میں ہمارا مقابلہ کر سکتے ہو؟ تو جنابِ رسول اللہ ﷺ کے دین کی سربلندی کے لیے میدان میں اترنا، یہ ہمارا مشن ہے۔ یہ مدرسے، یہ مولویوں کے مشین نہیں ہیں، یہ بذاتِ خود ایک مشن ہے۔ اور مولوی کا کام کیا ہے؟ یا امت کی امامت کرنا، یا لوگوں کے جنازے پڑھانا۔ ہمیں قوم کی امامت کرنے کا طریقہ بھی آتا ہے اور تمہارے جنازے پڑھنے کا طریقہ بھی آتا ہے۔ تو ملک کے مقاصد کو ذرا سمجھنا ہے۔ آزادی کے جشن منائیں، لیکن جشن کی آڑ میں ملک کے بنیادی مقاصد سے آنکھیں چرانا، آنکھیں بند کرنا۔۔۔یہ نہیں ہوگا، ان شاء اللہ۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

11,760 görüntüleme • 1 ay önce

اللہ کی فوج کے ساتھ لاکھ سپاہیوں سے دوسرا سوال: آپ کے ادارے کے سربراہ اس سدیوں میں پیدا ہونے والے لیڈر کو torture کر رہے ہیں۔ یہ وہ بندہ ہے جس سے آپ کے ملک کی پہچان ہے اور جب آپ یہ وڈیو دیکھیں گے تو مانیں گے کہ یہ سچ میں ہماری قوم کے غریبوں کے لیے درد رکھتا ہے! آپ سب فوج میں آکر شاید اپنے آپ کو عام پاکستانیوں سے الگ سمجھنے لگے ہیں، اس لیے شاید درد نہیں ہوتا آپ کے دل میں جب قوم کے لیڈر کو اس طرح ٹارچر کیا جارہا ہو ؛ آج آپ شاید محفوظ ہوں مگر یہ جو نانصافی اور ظلم ہے ، یہ آپ کے گھر تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ بس پوچھنا یہ تھا کہ ادارے کے بڑوں کو خط یا WhatsApp بھیجنے کی اجازت ہے؟ اور اگر ہے تو کچھ گلہ کیا یا پھر یہ سمجھانے کی کوشش کی اتنا ظلم بےگناہوں پر نہیں کرنا چاہیے؟ اور اگر نہیں ہمت ہوئی یہ سب کہنے کی تو کس منہ سے اپنے بچوں کو بہادری اور حق بات کرنا سکھائیں گے؟ بندوق استعمال کرلینا بہادری نہیں ہوتی، وہ تو جنگ کے کچھ دنوں میں چلتی ہے، مگر روز مرہ زندگی میں تو اصولوں کی جنگ ہوتی ہے، کس منہ سے اصول سکھائیں گے؟ جب وہ بڑے ہو کر پچھلے تین سال کے واقعات پڑھ کر آپ سے پوچھیں گے کہ آپ کی ظالموں تک رسائی تھی مگر پھر بھی کچھ نہیں بولے ان کو! لوگوں کو بہت مان تھا آپ سب پر۔ ایک ظلم کو جھیلنے کا دکھ تو ہے ہی سب کو مگراس سے بڑا دکھ شاید مان ٹوٹنے کا ہے۔ کچھ کریں ناُ کریں، موقعہ ملے تو یہ ضرور پوچھیے گا اپنے بڑوں سے اور کچھ ساتھیوں سے کہ گولی کیوں چلائی اللہ کی فوج نے اللہ کے پر امن اور نہتے بندوں پر !

Jibran Ilyas

45,535 görüntüleme • 10 ay önce

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کا کوہاٹ اولڈ پولیس لائنز میں دھماکے, دہشت گرد حملے پر اہم ویڈیو پیغام آج کوہاٹ میں جو دہشت گردوں کا حملہ ہوا، خودکش حملہ ہوا، جس میں ہمارے پولیس جوان شہید ہوئے ہیں، عام عوام شہید ہوئے ہیں، تو اس دہشت گردی کے حملے کی صوبائی حکومت شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور اپنے شہداء کے درجات کی بلندی کی دعا کرتی ہے۔ ہم پورے پاکستان کو، اور خاص کر وہ لوگ جو خیبرپختونخوا کی عوام کو دہشت گرد بولتے ہیں، ان کو آج ایک دفعہ پھر پیغام دیتے ہیں کہ خیبرپختونخوا کی عوام نے پاکستان کے لیے 80 ہزار جانوں سے زیادہ نذرانہ پیش کیا ہے، تبھی پاکستان میں امن آیا تھا۔ ہم دہشت گردی کے خلاف لڑنے والا فرنٹ لائن صوبہ ہیں۔ ہماری عوام مسلسل قربانی دے رہی ہے۔ تو اس قربانی کی قدر کی جائے۔ یہاں پر ہمارے لوگ قربانی دے رہے ہیں، تو اس وجہ سے باقی صوبوں میں اور اسلام آباد میں امن ہے۔ ہم فرنٹ لائن پر لڑ رہے ہیں دہشت گردی کے خلاف، تو اسی لیے باقی پاکستان میں امن ہے۔ تو اسی لیے اس قربانی کی قدر کرنی چاہیے۔ ان کا ایک ایک حرف ہمارے زخموں کو تازہ کرتا ہے، ہماری شہداء کی بے حرمتی کرتا ہے۔ ہماری قربانی کو براہِ راست سمجھنا، میرا خیال ہے، بیوقوفوں والا کام ہوتا ہے۔ جس طرح ایک سب سے بڑے صوبے کے جعلی وزیراعلیٰ کی یہ اسٹیٹمنٹ آتی ہے کہ مجھے انڈیا سے کوئی خطرہ نہیں ہے، باقی تین صوبوں سے خطرہ ہے۔ تو یہ صوبے محب وطن پاکستانی ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے لیے قربانی دی تھی، دے رہے ہیں اور ان شاء اللہ تعالیٰ ہمیشہ دیں گے، کیونکہ یہ ہمارا پاکستان ہے۔ ہم کسی بھی سازش اور کسی بندے کی طرف سے بھی اس سازش کو ہمیشہ ناکام بنائیں گے، جو ہمارے عوام کے درمیان تفریق پیدا کرے گا، تعصب پیدا کرے گا، نفرتیں پیدا کرے گا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ ہمیشہ پاکستان زندہ باد رہے گا، قائم و دائم رہے گا، اور ہماری یہ قربانیاں پاکستان کے لیے ہمیشہ رہیں گی۔

PTI

130,354 görüntüleme • 13 gün önce

عجیب بات ہے جرم بھی کرتے ہیں اور چونچ بھی اونچی رکھتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے اوپر تنقید نہ کرو تم پاک ہو تو ہم آپ کو پاک کہیں گے۔ ہندوستان نے حملہ کیا، آپ نے جواب دیا، ہم نے آپ کو سراہا ہے، اگر آپ نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی ہے ہم نے آپ کو سپورٹ کیا ہے ،ہم اپنے خطے میں جنگ نہیں چاہتے، لیکن یہ سوال ضرور اٹھاتے ہیں کہ ہماری پالیسیاں کون بناتے ہیں؟ ہمارے پالیسی ساز کون ہیں؟ ہمارے پالیسی ساز کیا پالیسیاں بنا رہے ہیں؟ یہ ہماری عقل ہے، یہ پاکستان کا مفاد ہے کہ ہندوستان کا بارڈر مکمل بند، افغانستان کا بارڈر مکمل بند، مغرب کی طرف بھی آپ تجارت نہیں کرسکتے، کاروبار نہیں کرسکتے، مشرق کی طرف بھی آپ کاروبار نہیں کرسکتے اور ایک چین کا چھوٹا سا کوریڈور ہے وہ بھی آپ نے بند کر رکھا ہوا ہے، اس پر بھی کوئی فعالیت ادھر نہیں آرہی، ایران جن حالات میں ہے وہ آپ کے نہ اچھے کا نہ برے کا، ہر طرف آپ نے پاکستان کو غیر محفوظ بنا دیا ہے، محصور کر دیا ہے، یہ کون سی عقل کی پالیسی ہے کہ آج پاکستان ایک محصور مملکت کی شکل اختیار کر گیا ہے؟ یہ کون سی سیاست ہے؟ یہ کون سی پالیسی ہے دہشتگردی کی خلاف ہم جنگ لڑ رہے ہیں تو دہشتگردی تو بڑھ رہی ہے، تو دہشتگردی کی خلاف تو تین چار دہائیوں سے آپ لڑ رہے ہیں، آپ نے سوات سے لے کر پورے خیبر پختونخوا میں کتنے آپریشنز کیے اور ہر آپریشنز کے نتیجے میں آپ ملک کے لئے لڑ رہے ہیں اور ہم شاید ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں، مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی، کس کس بات کو روئے ہم آپ کے؟ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا پشین میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,439 görüntüleme • 3 ay önce