Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

ژوب میں اب لوگوں نے اسٹیبلشمنٹ کے حمایت یافتہ نامعلوم افراد کے خلاف آواز اٹھائی ہے، جب ان افراد نے لوگوں کو اغوا کرنے کی کوشش کی۔ ژوب میں پشتون قومی لشکر نے بروقت کارروائی کی اور نتائج دیے! اب یہ واضح ہے کہ دہشت گردی کی کوئی جگہ...

32,143 views • 1 year ago •via X (Twitter)

8 Comments

Amanullah's profile picture
Amanullah1 year ago

بڑی خبیث دشمن کے ہاتھوں لگے ہیں سمجھ یہ نہیں آتا کہ ہمارے پشتون ملٹری اسٹبلشمنٹ کے لوگ سب کچھ جانتے ہوئے بھی کیوں چپ ہیں

Proud-Pakhtoon's profile picture
Proud-Pakhtoon1 year ago

بڑوے انسان ایسا کچھ نہیں ہے۔یہاں جیسے آپ بول رہے ہیں ۔تم حرامی لوگ اتنے بھی گرسکتے ہو۔ہمارے پاس ایک چور گرفتار بھی ہے۔سب کچھ اون ریکارڈ ہے🤬🤬

ځوان نسل اګا دی's profile picture
ځوان نسل اګا دی1 year ago

د ټولی بدبحتی تباهی شاتګ مظلوم جوړید وجه د انګلیس اشعال بیا په همدی اشعال ولسونو جعلی پاکستان جوړا ول تر څو انګلیس اشعال ولسونه تر انګریزی قانون لاندی انګریز کرایی پوز اشعال وساتی د ازادی جهاد د انګریزی پاکستان نابودی یوازنی حل لاره ده

Fawad's profile picture
Fawad1 year ago

Agreed

FANCO's profile picture
FANCO2 years ago

NEW OFFICIAL COLLABORATION ALERT! Get your PERSONALIZED @MHAOfficial Japanese hanko stamps at for yourself, friends and family! #fanco #mha #MyHeroAcademia

Afghan's profile picture
Afghan1 year ago

Ab stablishment k khilaf b isa hona chaei

Asad Farooqi's profile picture
Asad Farooqi1 year ago

اور تم لندن کی سرد راتوں میں مزے لو لعنتی

Raz Mohammed's profile picture
Raz Mohammed1 year ago

قومی لشکر نہیں جی ایچ کیو کے فالتو کتے جنہیں اسلامی نظام کے مجاھدین کو شہید کرنے کا ٹاسک ملا ھے چند ڈالروں کے عوض ایمان تک بیچ دوگے پشتو میں اسے اربکیان دہ خرہ بچیان کہتے ھیں ۔

Related Videos

یہ تباہ شدہ گھر، یہ ملبہ، اور یہ دھماکوں کے نشانات نہ اسرائیل کے ہیں، نہ امریکہ کے، اور نہ ہی روس اور یوکرین کی جنگ کے۔ یہ مناظر وزیرستان، خیبر، باجوڑ اور سابق فاٹا کے اُن علاقوں کے ہیں جہاں برسوں کے مسلح تنازعات نے بے شمار خاندانوں کی زندگیاں بدل کر رکھ دیں۔ کبھی گھر ملبے کا ڈھیر بن گئے، کبھی بچے تعلیم سے محروم ہوئے، کبھی لوگ اپنے آبائی علاقوں سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے، اور پوری نسلیں خوف، صدمے اور غیر یقینی کیفیت کے سائے میں زندگی گزارتی رہیں۔ یہ صرف عمارتوں کی تباہی نہیں، بلکہ ٹوٹے ہوئے خوابوں، بکھرے ہوئے خاندانوں اور ایک ایسے خطے کی داستان ہے جس نے طویل عرصے تک جنگ اور تشدد کے اثرات برداشت کیے۔ ان زخموں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ آج بھی وزیرستان، خیبر، باجوڑ اور سابق فاٹا کے مختلف علاقوں میں ہزاروں بارودی سرنگیں موجود ہیں، جن کی زد میں آئے دن عام شہری آتے ہیں۔ کوئی اپنے دونوں ہاتھ کھو دیتا ہے، کوئی اپنے پاؤں، اور کئی معصوم بچے ہمیشہ کے لیے معذوری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ ایک طرف پنجاب اور ملک کے دیگر علاقوں میں بچوں کو تعلیم، ترقی اور بہتر مستقبل کے مواقع میسر ہیں، جبکہ دوسری طرف سابق فاٹا کے بے شمار خاندان آج بھی بارودی سرنگوں، خوف اور محرومی کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ وہاں کے بچے اسکول جانے کے بجائے ہر قدم پر اپنی جان بچانے کی فکر میں رہتے ہیں۔ یہ صرف زمین میں دفن بارود نہیں، بلکہ آنے والی نسلوں کے خوابوں کو دفن کرنے والی ایک تلخ حقیقت ہے۔ پشتون تحفظ موومنٹ (PTM) نے آغاز ہی سے بارودی سرنگوں کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور مسلسل یہ مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ علاقوں سے تمام بارودی سرنگیں فوری طور پر صاف کی جائیں تاکہ عام شہری، خصوصاً بچے، مزید ان کا نشانہ نہ بنیں۔ تاہم، ان مطالبات کے باوجود متاثرہ علاقوں کے بہت سے لوگ اب بھی خطرات کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ہر نئے حادثے کے ساتھ ایک اور خاندان غم میں ڈوب جاتا ہے، ایک اور بچہ معذوری کا شکار ہو جاتا ہے، اور ایک اور گھر امید کھو دیتا ہے۔ متاثرہ علاقوں کے لوگوں کا مؤقف ہے کہ ان کی جان و مال کے تحفظ اور محفوظ زندگی کے حق کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ #StopPashtunGenocide #StopStateTerrorism

Saleem Afridi

15,365 views • 20 days ago

جب تک ہمارے دماغ سے یہ کیڑا نہیں نکلے گا کہ ہم نے افغانستان کو زیر نگیں رکھنا ہے اور افغانستان میں کوئی حکومت وہ ہماری مرضی کے بغیر نہیں چلے گی اس وقت تک معاملات ٹھیک نہیں ہو سکتے، ہمیں ایک آزاد افغانستان ایک صاحب استقلال افغانستان ایک خودمختار افغانستان اس پر توجہ رکھنی چاہیے اور ماضی کے جو ہمارے اس حوالے سے قربانیاں ہیں ان کو کسی ایک کامیاب نتائج تک ہمیں پہنچانا چاہیے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں سفارتی جو ہماری ستتر یا اٹھتر سالہ کوششیں ہیں وہ اب تک کیوں ناکام ہیں یہ مستقل ایک سوال ہے، یہ کافی نہیں ہے ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے اور ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے، مسئلہ یہ نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ کیوں نہیں مانتے، کیا ساری غلطیاں ستتر سال سے انہی کی طرف ہیں اور کیا ہمارے طرف بلکل کوئی غلطی نہیں ہے، یہ بھی ہمیں قومی سطح پر سوچنا چاہیے، افغانستان صرف حکومت کا نام نہیں ہے، افغانستان صرف وہاں امارت اسلامیہ کا نام نہیں ہے، افغانستان وہاں کے عوام کا بھی نام ہے، افغان قوم کا نام ہے، افغان قوم کے ہمارے ساتھ رشتے ہیں، ہمارے ساتھ ان کے تعلقات ہیں، ہمارے ساتھ ان کی برادریاں شریک ہیں اور ہمارے ساتھ ان کی معاشرت شریک ہے، ان تمام رشتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں افغانستان کے حوالے سے سوچنا چاہیے، یہ ہر وقت رجیم چینج اور رجیم چینج کے باتیں یہ شاید نہ ختم ہونے والا سلسلہ بنے، ہم نے ظاہر شاہ کے خلاف انقلاب کی حمایت کی، پھر اس کے بعد کمیونسٹ انقلاب آیا پھر ہم نے ان کے خلاف جہاد اس وقت ہم امریکہ جب آیا تو ہم بھی شامل ہو گئے، پھر وہی امریکہ تھا اس نے طرف تبدیل کر دیا تو مشرف کے زمانے میں ہم پھر امریکہ کی جنگ لڑ رہے تھے، آج ہم پھر ایک دفعہ امریکہ کی خواہشات کی مطابق، یہ کیسا امریکہ ہے کہ پاکستان کی اگر انڈیا سے لڑائی ہو تو کریڈٹ لیتا ہے کہ میں نے جنگ بند کرا دی اور اگر افغانستان کے ساتھ لڑائی ہو جائے تو کہتے ہیں پاکستان ٹھیک جا رہا ہے اس کو اور کرنا چاہیے۔ تو یہ چیزیں ان کی بدنیتی پر دلالت کرتی ہے اور ہمیں کسی کے ٹریپ میں نہیں آنا چاہیے وہ اب خود ٹریپ میں آ چکے ہیں، پھنسے ہوئے ہیں، مشکلات کے شکار ہیں اور وہ کامیابیاں حاصل نہیں کر پا رہے ہیں، پاکستان کو ہر قدم احتیاط سے اٹھانا چاہیے اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی گفتگو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

30,044 views • 5 months ago

میرے خیال میں اب صورت حال وہ نہیں ہے اب امریکہ سپر طاقت نہیں رہا ہے، وہ اپنا ایک بھرم رکھنے کے لئے یہ سارا کچھ کر رہا ہے، بلکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شاید ٹرمپ اپنے ذاتی دفاع کیلئے یہ سب کچھ کر رہا ہے، امریکہ کی دفاع کیلئے بھی نہیں کر رہا اور وہاں پر اس وقت امریکہ کی عوامی تائید بھی اس وقت حاصل نہیں ہے، بڑا سوال یہ ہے کہ جس شخص نے الیکشن لڑا کہ دنیا سے جنگ ختم کروں گا اس نے اقتدار میں آ کر دنیا پر جنگ مسلط کر دی ہے یہ خود امریکیوں کے اور امریکی عوام کے نظر میں بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ سو اس وقت پوری دنیا ازسر نو سوچ رہی ہے اور ظاہر ہے سوویت یونین کی ٹوٹنے کے بعد ہم پہلے سے کہہ رہے ہیں کہ عالمی تبدیلی اور تغیرات آئیں گی سو اس وقت پوری دنیا امریکہ سے لے کر روس تک اور چین تک یہ عالمی تغیرات کی زد میں ہیں اور ہمیں خود بیٹھ کر خود اعتمادی کے ساتھ اپنے مستقبل کو خود تراشنا ہوگا۔ ہمیں یہی سوال ہے کہ اس وقت ثالثی کی باتیں بھی ہو رہی ہیں کیا پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ وہ ثالثی کر سکے اور شہباز شریف جیسے حکمران کے ٹویٹ پر ٹرمپ کا ٹویٹ آنا خود ٹرمپ کی کمزوری اور امریکی پالیسی کی کمزوری کی عکاس ہے۔ سو اس حوالے سے ہمیں سوچنا چاہیے۔ صحافی: کیا ہماری طاقت عکاس نہیں ہے؟ نہیں پاکستان بہرحال محاصرے میں ہے اور سوائے ثالثی کے کردار کے ہمارے پاس اور کون سا راستہ ہے؟ جب تک ہمارے دماغ سے یہ کیڑا نہیں نکلے گا کہ ہم نے افغانستان کو زیر نگیں رکھنا ہے اور افغانستان میں کوئی حکومت وہ ہماری مرضی کے بغیر نہیں چلے گی اس وقت تک معاملات ٹھیک نہیں ہو سکتے، ہمیں ایک آزاد افغانستان ایک صاحب استقلال افغانستان ایک خودمختار افغانستان اس پر توجہ رکھنی چاہیے اور ماضی کے جو ہمارے اس حوالے سے قربانیاں ہیں ان کو کسی ایک کامیاب نتائج تک ہمیں پہنچانا چاہیے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں سفارتی جو ہماری ستتر یا اٹھتر سالہ کوششیں ہیں وہ اب تک کیوں ناکام ہیں یہ مستقل ایک سوال ہے، یہ کافی نہیں ہے ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے اور ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے، مسئلہ یہ نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ کیوں نہیں مانتے، کیا ساری غلطیاں ستتر سال سے انہی کی طرف ہیں اور کیا ہمارے طرف بلکل کوئی غلطی نہیں ہے، یہ بھی ہمیں قومی سطح پر سوچنا چاہیے، افغانستان صرف حکومت کا نام نہیں ہے، افغانستان صرف وہاں امارت اسلامیہ کا نام نہیں ہے، افغانستان وہاں کے عوام کا بھی نام ہے، افغان قوم کا نام ہے، افغان قوم کے ہمارے ساتھ رشتے ہیں، ہمارے ساتھ ان کے تعلقات ہیں، ہمارے ساتھ ان کی برادریاں شریک ہیں اور ہمارے ساتھ ان کی معاشرت شریک ہے، ان تمام رشتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں افغانستان کے حوالے سے سوچنا چاہیے، یہ ہر وقت رجیم چینج اور رجیم چینج کے باتیں یہ شاید نہ ختم ہونے والا سلسلہ بنے، ہم نے ظاہر شاہ کے خلاف انقلاب کی حمایت کی، پھر اس کے بعد کمیونسٹ انقلاب آیا پھر ہم نے ان کے خلاف جہاد اس وقت ہم امریکہ جب آیا تو ہم بھی شامل ہو گئے، پھر وہی امریکہ تھا اس نے طرف تبدیل کر دیا تو مشرف کے زمانے میں ہم پھر امریکہ کی جنگ لڑ رہے تھے، آج ہم پھر ایک دفعہ امریکہ کی خواہشات کی مطابق، یہ کیسا امریکہ ہے کہ پاکستان کی اگر انڈیا سے لڑائی ہو تو کریڈٹ لیتا ہے کہ میں نے جنگ بند کرا دی اور اگر افغانستان کے ساتھ لڑائی ہو جائے تو کہتے ہیں پاکستان ٹھیک جا رہا ہے اس کو اور کرنا چاہیے۔ تو یہ چیزیں ان کی بدنیتی پر دلالت کرتی ہے اور ہمیں کسی کے ٹریپ میں نہیں آنا چاہیے وہ اب خود ٹریپ میں آ چکے ہیں، پھنسے ہوئے ہیں، مشکلات کے شکار ہیں اور وہ کامیابیاں حاصل نہیں کر پا رہے ہیں، پاکستان کو ہر قدم احتیاط سے اٹھانا چاہیے اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ دیکھیے سفارت کاریاں حکومتوں کا کام ہے، ریاستوں کا کام ہے، پارٹیوں کا کام نہیں ہوتا ہے، ہم پبلک ٹو پبلک ریلیشنز جو ہیں اس میں مدد دے سکتے ہیں، ہم سب مسلمان ہیں ہم سب بھائی بھائی ہیں ہم ایک دوسرے پر ڈیپنڈ کر رہے ہیں، لیکن عوام کی ضرورتوں اور خواہشات کو مد نظر رکھتے ہوئے ریاستیں فیصلہ کریں، بین الاقوامی قوتوں کے تابع فیصلہ نہ کریں، اپنے ملک کے عوام کے خواہشات اور ان کی ضرورتوں کے تابع فیصلے کریں۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی ڈیرہ اسماعیل خان میں گفتگو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,445 views • 6 months ago

پاکستانی فوج اور اس کے ادارے یہ نہیں چاہتے کہ پشتون جہاں کہیں بھی ہوں، وہ سکون اور امن کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکیں یا روزگار کے لیے کاروبار کر سکیں۔ ملک کے مختلف حصوں سے لوگوں کو نکالنے کی کوشش کی گئی۔ جب وہ لوگ اپنے وطن واپس جانے کے لیے طورخم بارڈر کے قریب پہنچے تو سرحد کو بند کر دیا گیا اور انہیں آگے جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ کئی مہینے گزر جانے کے باوجود بارڈر نہیں کھولا گیا۔ اس دوران وہ لوگ وہیں خیموں میں رہنے پر مجبور رہے اور وطن واپسی کے انتظار میں مشکلات برداشت کرتے رہے۔ اب ایک بار پھر پاکستانی فوج کی جانب سے ان پر سختی اور تشدد کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، جس کی وجہ سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالات کشیدہ ہو گئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ سرحدی علاقوں میں کارروائیوں کے دوران معصوم افراد بھی متاثر ہوئے، اور فضائی حملوں اور گولہ باری سے جانی نقصان ہوا۔ ان حالات کے باعث خیموں میں مقیم لوگوں کی زندگیاں مزید خطرے میں پڑ گئیں، جس کی وجہ سے کچھ افراد نے دوبارہ پشاور کی طرف واپس جانے کا رخ کیا، کیونکہ وہ خود کو دونوں جانب سے غیر محفوظ محسوس کر رہے تھے. #StopStateTerrorism #Afghanistan #StopPashtunsGenocide

Saleem Afridi

36,140 views • 6 months ago

یہ میرا پہلا پروگرام ہے پی ٹی بی پر جو 2007 میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔۔ اج سے تقریبا 19 سال پہلے۔ عراق اور افغانستان کی جنگیں جاری تھیں اور جنرل مشرف کا دور تھا۔ اس پروگرام میں اپ کو اشارہ مل جائے گا کہ ہم نے واضح طور پر بتا دیا تھا کہ امریکی جنرل مشرف سے ناراض ہیں اور اب جنرل مشرف کو ہٹانے کی سازش کی جائے گی۔ یہ وہ دور تھا جب کوئی خواب میں نہیں سوچ سکتا تھا کہ جنرل مشرف کو ہٹایا جائے گا ‌۔ چند ہفتوں مہینوں کے بعد ہی ان کے خلاف تحریک شروع ہو گئی۔ اس وقت بھی امریکیوں نے کوشش کی تھی کہ پاکستان اپنی فوجیں عراق بھیجے اور امریکی فوج کا نقصان کم ہو اور پاکستانی فوج استعمال ہو عراقی مزاحمت کے خلاف۔۔ یہی کھیل امریکیوں نے 2015 میں کھیلنے کی کوشش کی جب سعودی عرب کے ذریعے پاکستانی فوج کو یمن کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی۔‌ وہاں بھی ہم نے رکاوٹ ڈالی ‌ اور اب یہ تیسری کوشش کی گئی کہ جب پاکستانی فوج کو ٹرمپ معاہدے کے ذریعے فلسطین بھیج کر غزہ کے مجاہدین کے خلاف استعمال کیا جائے۔‌ اللہ کا شکر ہے کہ یہ سازش بھی امریکیوں کی ناکام ہوئی۔. پچھلے 18 برس میں اللہ نے ہمارا کوئی تجزیہ غلط ثابت نہیں کیا الحمدللہ۔۔ لوگوں کو دیر سے سمجھ اتی ہے۔

اللہ کے بندے۔۔۔

26,846 views • 11 months ago

(پاکستان 🇵🇰 💪) یہ مولانا شیخ عمران حسین ہیں جنہوں نے 2004 میں ٹرینیڈاڈ میں دجال دی فالس مسیحا یا اینٹی کرائسٹ پر اپنے لیکچر کی وضاحت کی- (اس دلچسپ ویڈیو کے ٹرانسکرپٹ کا مکمّل اردو ترجمہ پیش کر رہا ہوں- اسے ضرور پڑھیں اور سنیں)- "اور میں آپ سے کہہ رہا ہوں، اگر آپ پیسوں کی دنیا کو دیکھیں تو آپ کو دیوار پر لکھا نظر آئے گا- بریٹن ووڈز معاہدہ ٹوٹ رہا ہے، یہ پہلے ہی ٹوٹ چکا ہے اور ایک نیا بین الاقوامی مالیاتی نظام قریب ہے، جس میں امریکی ڈالر غائب ہو جائے گا- اور جب امریکی ڈالر کریش ہو گا تو امریکی معیشت اس کے ساتھ کریش ہو جائے گی- میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ امریکہ پر 11 ستمبر کا حملہ 1914 کے موسم گرما کے دہشت گردانہ حملے سے غیر معمولی مماثلت رکھتا ہے- اور یہ کہ جو واقعات اب دنیا میں رونما ہو رہے ہیں، افغانستان پر حملہ، عراق پر حملہ، نئی امریکی سامراج جو دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے، ان سب کا مقصد ایک مشن ہے، اسرائیل کے ساتھ ایک بڑی جنگ کی راہ ہموار کرنا- اور اس بڑی جنگ کے نتیجے کے طور پر جو اسرائیل چھیڑنے جا رہا ہے، اسرائیل کی ریاست کا علاقہ ڈرامائی طور پر پھیلتا جا رہا ہے تاکہ اسرائیل کی مقدس سرزمین کی بائبل میں بتائی گئی سرحدوں کو گھیر لیا جا سکے- بائبل کہتی ہے، "مصر کے دریا سے لے کر دریائے فرات تک"، لیکن یہ سچ نہیں ہے۔ مصر کے دریا سے لے کر دریائے فرات تک مقدس سرزمین کا درحقیقت کوئی ذکر موجود نہیں ہے، یہ ایک گڑھا ہوا جھوٹ ہے- لیکن اب یہ بائبل میں موجود ہے، انہوں نے اسے زبردستی داخل کیا ہے۔ اور اس لیئے اسرائیل کو ایک بڑی جنگ چھیڑنی ہے، جس سے ریاست کے علاقے میں ڈرامائی طور پر توسیع ہو جائے گی، تاکہ اسرائیل نہر سویز کو کنٹرول کر لے- اور اسرائیل کل خلیج کے تیل کو کنٹرول کر لے گا- اور امریکی ڈالر پر ایک ساتھ حملہ آور ہو گا اور امریکی ڈالر گرتا جائے گا- اور جب یہ گرے گا تو کاغذی کرنسی کی پوری دنیا کو اپنے ساتھ لپیٹ لے گا- جب اسرائیل وہ بڑی جنگ چھیڑتا ہے، میں توقع کرتا ہوں کہ اسرائیل جنگ کے ایسے ہتھیار اتارے گا جو ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھے- اور اس کے اختتام پر اسرائیل دنیا میں ایک نئی حکمران ریاست کے طور پر امریکہ سے اقتدار سنبھال لے گا- لیکن، اسرائیل اس جنگ کو نہیں چھیڑ سکتا، کیوں کہ اب بھی راستے میں بہت خاص رکاوٹیں موجود ہیں- اور اب اپنی سوچ کی ٹوپی پہن لیجیئے- کہ وہ کونسی سب سے اہم رکاوٹ ہے، جو اب بھی اسرائیل کی ایک بڑی جنگ چھیڑنے کی راہ میں کھڑی ہے؟ اور یہ ہے پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کی صلاحیت- اور اس کے ساتھ ایران کی میزائل صلاحیت بھی ہے- اور اس طرح، ہم اس وقت جتنے بھی ہنگاموں سے گزر رہے ہیں، دنیا کی بساط پر وہ تمام تدبیریں، جب اسرائیل وہ بڑی جنگ چھیڑتا ہے اور امریکہ کی جگہ دنیا میں ایک حکمران ریاست کے طور پر آتا ہے، پہلی حکمران ریاست برطانیہ تھی، دوسری حکمران ریاست امریکہ تھی، تیسرا اور آخری یہ دھوکے باز، اسرائیل کی ریاست ہوگی- اس لیئے میں آپ کو یہ تجویز کر رہا ہوں کہ اینٹی کرایسٹ یا دجال اب مرحلہ دوم مکمل کر چکے ہوں گے، ایک دن جو ایک مہینے کے برابر ہے، اور تیسرے مرحلے کا آغاز ہو گا، ایک دن جو ایک ہفتے کے برابر ہے، یعنی بہت کم مدت- یہ وہ وقت ہے جب دہشت گردی اپنے عروج پر ہے- انہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ ان تمام لوگوں کو قتل کرنا جاری رکھیں گے جو اسرائیل کی ریاست کے خلاف ہاتھ اٹھانے کی جرات کرتے ہیں۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد ہے- لیکن CNN آپ کو یہ کبھی نہیں بتائے گا۔ میری بات سننے کا شکریہ-

Amir H. Qureshi

13,333 views • 6 months ago