Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

سینیٹر ر مشتاق اسرائیل میں قید ھوا تھا لہذا سنگل پیس میں نہایا دھویا واپس ھوگیا ہے ورنہ اگر بلوچستان یا وزیرستان میں پاکستانی فوج کے ہاتھوں گرفتار ھوتا تو کسی ویرانے سے مسخ شدہ لاش ملتی یا اگر زندہ واپس آتا تو زندہ لاش بن چکا ھوتا،ہڈیاں ٹوٹی...

29,496 Aufrufe • vor 10 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

میرے بیٹے کے قاتل کا نام قیوم تھا، وزیرستان سے اسکا تعلق تھا اور حکیم اللہ محسود و بیت اللہ محسود کے ساتھ ہوتا تھا وہ کراچی میں گرفتار ہوا تھا، دوران تفشیش اس نے میاں راشد حسین کی ٹارگٹ کلنگ کا انکشاف کیا میرے بیٹے کی شہادت کے بعد وہ ترقی پاکر کراچی میں کمانڈر بن گیا تھا گرفتاری کے کچھ عرصہ بعد خبر آئی کہ اسکی ضمانت ہونے جارہی ہے اطلاع دی گئی کہ اگر آپ اسکی رہائی نہیں چاہتے تو آپ اسکے خلاف دعویداری کرے مجھے اس کا کافی دکھ ہوا اور میں نے انکو بتایا کہ میری کسی کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے میرا بیٹا قوم کی جنگ میں شہید ہوا تھا، دہشتگردی کے خلاف ریاست کی ایک پالیسی تھی اور میں حکومت کا ایک نمائندہ تھا ہماری حکومت تھی، میں اطلاعات کا صوبائی وزیر تھا اور اسکی پاداش میں میرے بیٹے کو شہید کیا گیا تھا اگر کسی آپریشن کے دوران فوج، پولیس، ایف سی یا دیگر ادارے کا کوئی اہلکار شہید ہوجائے تو اسکی دعویداری ریاست کرتی ہے یا اسکا خاندان؟ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ شہید ہونے والے کا کیس آگے لیکر جائے اگر میں ذاتی دعویداری کروں گا تو یہ بیٹے کے خون سے غداری ہوگی میری کوئی بھی ذاتی دشمنی نہ پہلے تھی اور نہ اب ہے، ہم امن اور محبت کے پیروکار ہیں اس کے بعد معلوم نہیں کہ اس کیس میں اب تک کیا پیشرفت ہوئی ہے اگر کوئی ریاستی پالیسی کی راہ میں قربان ہوجائے تو اسکو تحفظ فراہم کرنا چاہيئے اور ریاست کو اس کی اونر شپ لینی چاہیئے ایسا کرنے سے دہشتگرد ذاتی طور پر کسی کو ٹارگٹ نہیں کریں گے اور ان کو پیغام جائے گا کہ یہ پوری قوم کی نمائندگی پر ہورہا ہے میاں افتخار حسین صدر عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا Mian Iftikhar Husain #ANP | #AwamiNationalParty | #MianIftikharHussain

Awami National Party

90,207 Aufrufe • vor 2 Jahren

پختون اگر ارشد شریف صاحب سے خفا ہیں تو اُسکی وجہ ماضی میں کی گئی اس طرح کی صحافت ہے ۔جسکا ایک نمونہ یہ ہے ۔۔۔اب کچھ لوگوں کو یہ بات بُری لگے گی ۔ لیکن یہ سچ ہے کہ جب ہم صحافت چھوڑ کر ماوتھ پیس بنتے ہیں نا بس وہیں ہم پھنس جاتے ہیں ۔۔۔یہ ماضی میں بھی لوگوں کے ساتھ ہوا اور اب بھی ہو رہا ہے ۔۔اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اسے ہی کامیابی کا زینہ سمجھا گیا مجھے یاد ہے کہ جب طورخم بارڈ پر شہید ایس پی طاہر داوڑ کی لاش پڑی تھی اور مسئلہ اُسکو وصول کرنے پر تھا تو کس طرح کے بیپر یا رپورٹنگ مین سٹریم میڈیا پر ہوئی ۔میں نے اپنے بیپر میں صرف اتنا کہا کہ اگر لاش دینے والے پختونخوا اسمبلی کے ایم پی ایز کی بجائے محسن داوڑ کو لاش دینا چاہتے ہیں تو دینے دیں۔وہ بھی تو پارلیمنٹ کا ممبر ہے ۔ایک شہید کی لاش پڑی ہے گھر والے انتظار میں ہیں اسمیں مسئلہ کیا ہے تو نیوز اینکر نے کہا بہت شکریہ فرزانہ علی اور پھر میری لائن کٹ گئی یا پھر خڑ کمر والا معاملہ تھا ۔۔بہت کچھ ہے کہنے کو کہانی میں کئی پیچیدہ مراحل ہیں جسمیں رپورٹنگ کا جھکاو ایک جانب رہا ۔۔یہ حقیقت ہے اور اُسکو مان کر ہی آگے بڑھنا ہو گا ۔۔بصورت دیگر جوکل کر رہے تھے وہ آج والوں پر انگلیاں اٹھائیں گے اور آج والے کل والوں کو غدار ٹھہرائیں گے

Farzana Ali

32,457 Aufrufe • vor 10 Monaten

جب میرے والد صاحب ہم کا انتقال ہوا تو میں بارہویں جماعت میں پڑھتا تھا اور اپنے گھر میں سب سے بڑا تھا۔ ہمارا تعلق کسی جاگیردارانہ یا صنعتی پس منظر سے نہیں بلکہ ایک عام درمیانے طبقے سے تھا۔ محنت اور یکسوئی کے ساتھ میں نے بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور پھر اپنے ملک کی خدمت کے لیے واپس لوٹ آیا۔ میں نے عوامی خدمت کے میدان میں آنے کے لیے دس سال کا ہدف مقرر کیا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل اور محنت سے میں نے وہ منزل سات سال میں ہی حاصل کر لی۔ آج اگر میں کابینہ کے اس اہم مقام پر پہنچ کر ملک و قوم کی خدمت کر رہا ہوں تو یہ صرف اور صرف محنت، لگن اور اللہ کے کرم کا نتیجہ ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ ہمارے نوجوانوں کو بھی صرف اپنے اہداف اور منزل پر نظر رکھنی ہے اور محنت کرنی ہے۔ جب میں ایک عام درمیانے طبقے سے نکل کر اس مقام تک پہنچ سکتا ہوں، تو ہمارے ملک کا کوئی بھی باصلاحیت نوجوان اپنی منزل حاصل کر سکتا ہے! #YouthPower #HardWork #Inspiration #SelfBelief #UraanPakistan #PakistanZindabad

Ahsan Iqbal

63,527 Aufrufe • vor 6 Tagen

پنجاب میں متعارف کروایا گیا نیا قانون "پنجاب کنٹرول آف ہیبیچوئل آفینڈرز اور اینٹی سوشل بیہیویئر ایکٹ "اگر پاس کروا لیا جاتا ہے تو یہ شخصی اور جمہوری آزادیوں کو مزید محدود کرنے کا باعث بن سکتا۔ قانون میں اینٹی سوشل بیہیویئر یا سماج دشمن سرگرمیوں کی تعریف میں جو نکات شامل کیے گئے ہیں ان کی تعریف کافی وسیع ہے اور اس کی زد میں کوئی بھی آسکتا ہے! یا لایا جاسکتا ہے! جیسے : جانوروں سے ناروا سلوک۔سوشل میڈیا پر غلط معلومات یا خبریں، افواہیں یا اشتعال انگیز مواد پھیلانا - ٹریفک میں رکاوٹیں پیدا کرنا! ضلعی انٹیلی جنس کمیٹی کسی شخص کے خلاف یہ اقدامات کر سکتی ہے:،نام PNIL لسٹ میں ڈالنے کی سفارش -پاسپورٹ ضبط کرنے کی سفارش،شناختی کارڈ یا پاسپورٹ بلاک کرنے کی سفارش، سوشل میڈیا اکاؤنٹ ختم کرنے کی سفارش، موبائل، لیپ ٹاپ یا دیگر آلات ضبط کرنا۔اسلحہ لائسنس منسوخ کرنے کی سفارش۔جائیداد یا سامان ضبط کرنا (عدالتی منظوری کے ساتھ)۔بینک اکاؤنٹس فریز کرنے کی سفارش جدید ٹیکنالوجی سے نگرانی؛ الیکٹرانک ٹریکر (ٹخنے یا بریسلٹ) لگانا! Habitual Offender (عادی مجرم) وہ شخص عادی مجرم قرار دیا جا سکتا ہے: جس کے خلاف مقدمہ چل چکا ہو، یا جو بار بار جرائم میں پکڑا گیا ہو، یا جو مسلسل سماج دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہو ایسے شخص کے لیے:الیکٹرانک مانیٹرنگ ڈیوائس لگائی جا سکتی ہے،پولیس کو رپورٹ کرنا ہوگی،اس کا ڈیٹا رجسٹری میں رکھا جائے گا۔اگر وہ ٹریکر توڑے یا شرائط کی خلاف ورزی کرے:3 سال تک قید, جرمانہ ہوسکتا ہے۔اگر کوئی شخص انٹیلی جنس کمیٹی کے حکم کی خلاف ورزی کرے تو 1سے 4 سال تک قید اور لاکھوں روپے جرمانہ ہوسکتا ہے۔بار بار خلاف ورزی پر سزا بڑھ سکتی ہے۔ اپیل کے حق کی بات کریں تو اگر کسی شخص کے خلاف کارروائی ہو تو وہ پہلے ڈویژنل کمیٹی میں اپیل،پھر صوبائی کمیٹی اور پھر اپیلیٹ کمیٹی میں اپیل کرسکتا ہے۔ مکمل بل کا لنک:

Ather Kazmi

26,567 Aufrufe • vor 2 Monaten

پتہ نہیں میں بزدل ہوں، کمزور ہوں، یا ایمان ضعیف ہے، یہ تو اللہ کو بہتر پتا ہے۔ مطلب، جب بھائی آپ کا شہید کیا جائے، والد آپ کا شہید کیا جائے، کزن آپ کا اٹھا کر چھ مہینے غائب رکھا جائے اور پھر مسخ شدہ لاش آپ کے ہاتھ میں تھما دی جائے، اور جیتا ہوا الیکشن آپ سے چھین لیا جائے، تو پھر آپ کیا کریں گے؟ یہ تو پتہ نہیں، میں نے آپ کو کہا تھا کہ میں دوسروں کا نام نہیں لیتا، اپنی بات تو کر سکتا ہوں۔ آپ کی نظر میں پتہ نہیں میں بزدل ہوں، میں کمزور ہوں، یا میں کس سوچ اور فکر کا مالک ہوں، پھر بھی ہم کہتے ہیں کہ نہیں، خدا را! آپ ملازم کو نہیں بخش رہے۔ ایک ملازم کی کیا سزا ہو سکتی ہے؟ ایک سادہ سی ڈیمانڈ ہے، ڈی آر اے ہے اور یکساں نظامِ تنخواہ (Salary System) ہے۔ آپ کی نظر میں وہ بھی بد ہے۔ اب تو دروازے بند کر رہے ہو، عدالتوں سے انصاف کی توقعات آپ نے ختم کر دی ہیں، پارلیمنٹ کی خودمختاری آپ نے پاؤں تلے روند دی ہے۔ مطلب، وہ کیا کریں؟ وسائل ہمارے لوٹے جا رہے ہیں، اور ہم سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔ میرے گھر کے سامنے سے گیس نکل رہی ہے، مگر میں اس سے مستفید نہیں ہوں؛ لوگوں کے کارخانے اس سے چل رہے ہیں۔ میرے گھر سے سونا نکالا جا رہا ہے، کوئلہ نکالا جا رہا ہے، لیکن میں دو وقت کی روٹی کے لیے ترس رہا ہوں۔ یعنی میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں: کیا اس وقت پاکستان کی اہمیت پنجاب کے کیلے اور مالٹے ہیں، یا بلوچستان اور پشتونخوا کے ساحل اور وسائل؟ اصغر خان اچکزئی (صدر، اے این پی بلوچستان)

Asghar khan Achakzai

54,628 Aufrufe • vor 6 Monaten

🛑پاکستان کسی کی جنگ میں نہیں آتا پاکستان صرف وہی کرتا ہے جو پاکستان کے دفاع اور سلامتی کے لئے بہتر ہوتا ہے بالفرض اگر مان بھی لیا جائے کہ پراوین ساہنی یا اس ایسے دوسرے لوگوں کی رائے پاکستان میں ایک جیسی ہے تو اپنا دفاع کرنا پاکستان کا حق ہے جو پاکستان ہمیشہ کرتا رہے گا پھر چاہے وہ کسی کی مدد کرکے ہو یا ڈائریکٹ اٹیک کرکے ہو💪 کیونکہ سب سے پہلے پاکستان 🇵🇰❤️ 🛑پاکستانی جنرلز اپنی قومی سلامتی اور قومی مفاد کے بارے میں اچھی طرح جانتے ہیں نواز شریف دور میں جب امریکہ نے ایٹمی تجربہ کرنے سے منع کیا تو جنرل جہانگیر کرامت نے صاف کہہ دیا کہ دھماکے تو ہوں گے 9/11 کے بعد جب بش نے جنرل مشرف سے کہا کہ ہمارا ساتھ دو تو مشرف نے حامی تو بھر لی لیکن کیا وہی جو پاکستان کے مفاد میں تھا موجودہ صورتحال میں بھی مجھے لگتا ہے پاکستان ایران کی زمینی مدد کر رہا ہے جس پر روس اور چین پاکستان سے بہت خوش ہیں انڈین دفاعی تجزیہ " پراوین ساہنی"

بانکے میاں

27,948 Aufrufe • vor 5 Monaten

آج پنجابی بھی بول رہا ہے کہ افغانی ہمارے بھائی ہیں وہ کہتے ہیں کہ ظلم ہو رہا ہے جس طریقے سے افغانوں کو نکالا جا رہا ہے، فوج پھر ہمیں ڈالری جنگ کی طرف بھیج رہی ہے، خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کا جوان تو سمجھتا ہے لیکن آج عمران خان کی وجہ سے پنجاب کا نوجوان بھی یہ بات کہنے پر مجبور ہو گیا ہے کہ اگر فوج افغانستان کے ساتھ لڑے گی تو وہ ظلم کرے گی اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں پاکستانی عوام کبھی بھی پاکستانی فوج کا ساتھ نہیں دے گی اگر وہ ڈالر کے لیے افغانستان کے خلاف لڑے گی، عوام کو پتا ہے کہ یہ ڈالری جنگ لڑی جائے گی یہ کسی اور کی جنگ ہم پر مسلط کریں گے، آج نوجوان اور عوام میں شعور آ چکا ہے یہ عمران خان کا دیا ہوا شعور ہے شعور کا جو جن بوتل سے باہر آ چکا ہے آپ اس کو واپس بوتل میں نہیں ڈال سکتے، دیکھیں یہ سری لنکا کی طرح ہے یہ جس طرح پوری دنیا میں ہو رہا ہے ابھی آپ نے دیکھا نیپال میں ہوا ہے، یہ وقت پاکستان میں بھی آئے گا آج غربت اتنی بڑھ چکی ہے پاکستان کے اندر آج روزگار نہیں رہا ہے، آپ دیکھیں گے کہ عمران خان جو باتیں کہہ رہا ہے یہ سب باتیں درست ثابت ہوں گی۔ #FascismUnderAsimLaw

Qasim Khan Suri

26,408 Aufrufe • vor 11 Monaten

جب پچھلی بار شمالی وزیرستان میں فوج نے عام شہریوں کو اس طرح قتل کیا تھا جیسے آج وادی تیراہ میں کیا، اُس وقت کے ایم این اے مراد سعید نے فوج کا دفاع کیا تھا اور مظاہرین کو دہشت گرد اور غدار قرار دیا تھا۔ پچھلے تین سالوں میں جو کچھ ہو چکا ہے، اس کے باوجود آج کے واقعے پر مراد سعید سے کسی 'سخت' بیان کی توقع نہ رکھیں، نہ ہی یہ توقع رکھیں کہ وہ اپنے دوست گنڈاپور یا اپنی سڑی ہوئی آئی ایس ایف کی ٹیم، جو اسمبلی میں بیٹھی ہوئی ہے، کو کور کمانڈر پشاور کے دفتر کے باہر فوج کے خلاف احتجاج کرنے یا تیراہ میں فوج کے خلاف ایف آئی آر درج کروانے پر زور دیں گے۔ اگر مراد کوئی پوسٹ کرے گا بھی، تو وہ ایک چالاکی سے تیار کیا گیا، مبہم اور شاعری سے بھرپور لمبا سفارتی بیان ہوگا، جو اس کے جذباتی فالوورز کو تسلی دے گا، بالکل ویسے ہی جیسے وہ گزشتہ دو سالوں میں ہر سلگتے مسئلے پر کرتا آیا ہے، چاہے وہ مائنز اینڈ منرلز بل ہو، کے پی کا بجٹ ہو، ڈرون حملے ہوں، یا سینیٹ سیلیکشن اسکینڈل۔ مانتے ہیں کہ سیاست میں آپ سیاسی نظریے کی بنیاد پر فوج کی حمایت یا مخالفت کر سکتے ہیں، لیکن اگر آپ کھلے عام قتل جیسے واقعے پر فوج کا دفاع کرتے ہیں اور ان کا ورژن بیچتے ہیں، چاہے کسی بھی وجہ سے، تو آپ کا وجود ہی صحیح نہیں ہے۔ میرا کام آپ کو کڑوی حقیقت بتانا ہے، نہ کہ کوئی میٹھی جھوٹی کہانی۔ کڑوی حقیقت یہ ہے کہ مراد کوئی انقلابی نہیں ہے، اور اس کی عمران خان کو الو کی طرح تکتے ویڈیوز اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ انقلابی ہے۔ وہ ایک چالاک اور سفارتی سیاستدان ہے جو طاقت کی سیاست کو سمجھتا ہے۔ فوج نے خرم ذیشان اور عرفان سلیم کو سینیٹ جانے سے روکا، لیکن مراد کو جانے دیا، یہی پوری کہانی ہے۔ مراد خوش قسمت ہے کہ عمران خان نے کسی وجہ سے اسے زیرِ زمین رہنے کو کہا۔ اگر وہ باہر ہوتا، تو غالب امکان یہی ہے کہ وہ بھی اس تحریک کو گنڈاپور، حماد اظہر، جنید اکبر اور باقی سب کی طرح مایوس ہی کرتا۔ نہیں، میں یہ نہیں کہہ رہی کہ مراد غدار ہے۔ وہ عمران خان کا انتہائی وفادار ہے۔ سچ بولیں تو غدار گنڈاپور بھی نہیں ہے۔ وہ بھی سیاست ہی کر رہا ہے۔ لیکن مراد انقلابی نہیں ہے، جیسا کہ آپ میں سے اکثر لوگ سمجھتے ہیں۔ مراد مجھے غلط ثابت کر سکتا ہے، اگر وہ تیراہ کے قتل عام پر دوٹوک اور واضح بیان دے، بغیر کسی ابہام کے، لیکن میں جانتی ہوں کہ وہ ایسا نہیں کرے گا۔ اور آپ بھی یہ بات جانتے ہیں۔

Pakistan Walli

14,170 Aufrufe • vor 1 Jahr

پاکستان ہر سال ایک نیوزی لینڈ، یا ایک ناروے،یا ایک فن لینڈ،یا ایک آئرلینڈ،یا ایک ڈنمارک، یا ایک سنگاپور اپنے اندر شامل کر رہا ہے۔ پاکستان کی ہر سال 65 لاکھ آبادی بڑھ رہی ہے،دنیا میں 24 ترقی یافتہ ممالک ہیں جن میں سے ہر ایک کی کل آبادی 65 لاکھ سے کم ہے۔ اب اگر پاکستان سے 10 لاکھ لوگ سالانہ باہر بھی جاتے رہیں تو پاکستان پر اس کا برا نہیں بلکہ بہت اچھا اثر پڑ رہا ہوتا ہے۔ چھوٹی سی زمین پر آباد اگر اتنا بڑا آبادی کا حامل ملک اگر 10 لاکھ لوگ بھی پاکستان سے باہر بھیجتا جائے تو سمجھیں کہ پاکستان اپنی"ہیومن ریسورس"ایکسپورٹ کر رہا ہے۔ پاکستان کی ترسیلات زر ملکی مجموعی برآمدات سے زیادہ ہیں اگر 10 لاکھ لوگ سالانہ ملک سے باہر جاتے ہیں تو سالانہ 4 سے 5 ارب ڈالرز مزید زرمبادلہ پاکستان بھجوانے کا باعث بنتے ہیں۔ اور پاکستان سے باہر رہ کر وہ پاکستان کے"سٹرٹیجک مفادات"کا تحفظ کرنے کا بھی باعث بنتے ہیں۔ پاکستان کی نمائندگی گلوبل ورلڈ میں بڑھتی ہے،سٹیک ہولڈنگ بڑھتی ہے۔ یہ برین ڈرین نہیں کہا جا سکتا کیونکہ آپ کے پاس پھر بھی سالانہ 55 لاکھ لوگ ملکی آبادی میں ایڈ ہوتے جا رہے ہیں۔ ملکی معیشت اگر بہت ہی اچھی بھی ہو جائے تو بھی پاکستان کی زمین اتنی ہی رہے گی۔ کینیڈا کا رقبہ پاکستان سے 10 گنا سے زیادہ ہے اور آبادی صرف 4 کروڑ ہے۔ وسائل کے حساب سے دنیا میں آبادی کا توازن ہونا ایک بہتر عمل ہے۔یہ توازن جن بھی وجوہات سے بن رہا ہے اس کو بننے دینا چاہیے۔ اس پر غیر ضروری شور مچا کر حکومتوں کو انڈرپریشر تو کیا جا سکتا ہے۔مگر معروضی حالات کے مطابق یہ عمل ہوتے رہنا چاہیے۔ سوائے اس کے کہ آبادی بڑھنے کی شرح منفی میں لے جائی جائے۔ اور اس آبادی بڑھنے کے موضوع پر کوئی اینکر،دانشور مذہبی عقائد کی وجہ سے یا مختلف وجوہات کی وجہ سے بولنے کو تیار نہیں۔ لہذا اپنی معیشت کو مضبوط کرنے کے دوران بھی جو جا رہا ہے،اس کی حوصلہ افزائی کریں۔جو آ رہا ہے اسے آنے دیں۔بس یہ کریں کہ جو جا رہے ہیں ان کو اچھی تعلیم دیکر یا ہنرمند بنا کر بھیجیں۔ دنیا گلوبل ہو چکی ہے،سب کو اپنی اپنی دوڑ لگانے دیں، جو جاتے ہیں وہ جب چاہیں واپس بھی آ سکتے ہیں۔ (اسد آر چوہدری)

Asad R Chaudhry

20,820 Aufrufe • vor 7 Monaten

میں نے اس وقت بھی یہ بات کہی تھی جب پشاور سکول پر اندوہناک حملہ ہوا تھا اور میاں نواز شریف بطور وزیراعظم فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ انہوں نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیا جس میں عمران خان اور مولانا فضل الرحمٰن سمیت تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت موجود تھی۔ اس اجلاس میں میں نے مولانا فضل الرحمٰن سے مخاطب ہو کر کہا کہ آپ ایک عالمِ دین ہیں، میرا آپ سے یہ سوال ہے (جس کا تذکرہ میں نے بعد ازاں قومی اسمبلی کے فلور پر بھی کیا) کہ کیا کسی بھی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف، بندوق یا ماضی کی طرح تلوار کی نوک پر، مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے؟ مولانا صاحب کا واضح جواب نفی میں تھا۔ اس پر میں نے اپنا دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا ہے، تو پھر آپ لوگ بندوق کی نوک پر ہم بلوچوں کو بھی زبردستی محبِ وطن یا اپنے تصور کے مطابق پاکستانی نہیں بنا سکیں گے۔ بندوق کی نوک پر حب الوطنی ہرگز مسلط نہیں کی جا سکتی، اس سے محض نفرتیں جنم لیتی ہیں۔ ناانصافیاں، ظلم اور زیادتیاں ہمیشہ دوریاں اور بالآخر بغاوت کو جنم دیتی ہیں۔ آج کے حالات کا بغور جائزہ لیا جائے تو بلوچستان ایک 'نفرتستان' میں تبدیل ہو چکا ہے۔ جس بے دردی سے بلوچستان کو قبرستان بنایا گیا ہے، اس کے نتیجے میں آج وہاں ریاستی پالیسیوں کے خلاف نفرت اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔ یاد رکھیں کہ یہ نفرت نہ ٹینکوں سے ختم ہو سکے گی، نہ عام بموں سے اور نہ ہی ایٹم بم کے استعمال سے۔ اگر طاقت کے زور اور بمباری سے نفرتوں کا خاتمہ ممکن ہوتا، تو ویتنام میں امریکہ کے خلاف، یا جاپان اور افغانستان میں روس، امریکہ اور نیٹو کے خلاف پنپنے والی نفرتیں کب کی دم توڑ چکی ہوتیں۔ زور زبردستی سے آپ کسی سے کچھ نہیں منوا سکتے۔ جہاں تک میرے ذاتی، سیاسی اور سماجی نظریات کا تعلق ہے، تو وہ نہایت واضح ہیں: سیاست اور مزاحمت: میں سنجیدہ سیاسی لوگوں کے ساتھ شائستہ سیاست، جبکہ بدمعاشوں اور غنڈہ عناصر کے خلاف بھرپور مزاحمت پر یقین رکھتا ہوں۔ بات چیت اور طاقت کا استعمال: عقلمندوں اور باشعور لوگوں کے ساتھ بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل نکالا جانا چاہیے، جبکہ سرپھروں سے نمٹنے کے لیے طاقت کا استعمال ہی واحد راستہ ہے۔ بلوچستان کا بنیادی مسئلہ: میرے نزدیک بلوچستان کا سب سے بڑا اور سنگین مسئلہ 'بلوچ قومی شناخت' کا تسلیم نہ کیا جانا ہے۔ ریاستی اور مقامی غلطیاں: ملکی سطح پر اگر ہم پاکستان کی غلطیوں کا جائزہ لیں، تو یہ کوئی ایک نہیں بلکہ ہزاروں، بلکہ شاید لاکھوں کی تعداد میں ہوں گی۔ دوسری جانب، اگر بلوچ قیادت کی سب سے بڑی خامی کی بات کی جائے تو وہ ان کی باہمی نااتفاقی ہے۔ اپنی فکری نشوونما کے حوالے سے بات کروں تو قید و بند کی صعوبتوں کے دوران میں نے متعدد کتب کا مطالعہ کیا۔ تاہم، بچپن میں پڑھی جانے والی پہلی کتاب جس نے میرے ذہن پر گہرے نقوش چھوڑے، وہ سوویت انقلاب کے موضوع پر لکھی گئی 'دارالرسن کی آزمائش' تھی۔ اسی طرح، جہاں تک کسی ایک شخصیت سے متاثر ہونے کا سوال ہے، تو ہر انسان کے نزدیک اس کا اپنا ایک منفرد معیار اور آئیڈیل ہوتا ہے۔ سربراہ بی این پی مینگل اختر جان مینگل Akhtar Mengal

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

91,944 Aufrufe • vor 1 Monat

بلوچستان میں فیکٹریاں نہیں ہیں صرف حب کے اندر کچھ فیکٹریز ہیں وہاں بھی کراچی کے لوگ آکے کام کرتے ہیں، بلوچستان میں پانی کی شدید قلت ہے زیر زمین پانی تیزی سے نیچے جا رہا ہے ریسورسز نہیں ہیں وہاں پر زراعت کوئی نہیں ہے صرف جعفر آباد نصیر آباد بیلٹ میں گندم ہوتی ہے باقی پورے بلوچستان میں خشک سالی ہے، بلوچستان میں یا تو سرکاری ملازمتیں ہیں یا پھر افغان بارڈر سے جو کاروبار ہوتا ہے، عاصم منیر رجیم نے جنگی حالات کر دیئے ہیں افغانستان کے ساتھ انہوں نے بگاڑ پیدا کیا ہوا ہے اس بارڈر سے بھی چیزیں نہیں آ رہی ہیں، چیزیں آتی ہیں تو چیک پوسٹوں پر بیٹھے ہوئے فوجیوں کی رضا مندی سے، وہ پیسے کھاتے ہیں اور جو بھی چیزیں آتی ہیں وہ ان کے ذریعے پاکستان میں آتی ہیں، اسی طرح جو ڈیزل آ رہا تھا وہ روزگار کا کچھ ذریعہ تھا بلوچ بیلٹ کے اندر اور وہ ڈیزل بھی فوج کے مدد ہی سے وہاں آتا ہے، بلوچستان میں جن سے بات ہوتی ہے کاروبار بلکل تباہ ہو گیا ہے وہاں پہ لوگوں کے پاس کھانے کے پیسے نہیں ہیں بجلی کے بل نہیں دے سکتے ہیں ایک عام آدمی بھی اب غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہو گیا ہے، بلوچستان میں بہت زیادہ لوٹ مار شروع ہو چکی ہے روڈوں پر مال سے بھرے ہوئے ٹرک لوٹ لیے جاتے ہیں، کوئٹہ شہر سے باہر اگر نکل جائیں تو آپ کی جان اور مال کا کوئی ذمہ دار نہیں ہے اور خوف کا ایک عالم ہے، مسافر سفر نہیں کر سکتے ہیں، روزانہ کی بنیاد پر خبریں آتی ہیں کہ مسافروں کو لوٹ لیا گیا ٹرک ڈرائیورز اور ان کے جو سامان سے لدے ٹرک لوٹ لیے جاتے ہیں، گاڑیوں کو لوٹ لیا جاتا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، اے سی، ڈی سی تک کو اغوا کر لیا جاتا ہے یونیورسٹیز کے چانسلرز، پرو چانسلرز اغوا کر لیے جاتے ہیں، 15،16 ڈسٹرکٹ میں حکومتی رٹ ہی نہیں ہے۔ #PakistanUnderMartialLaw

Qasim Khan Suri

36,278 Aufrufe • vor 3 Monaten