Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

عاصم منیر نے بھارت سے جنگ جیتنے کا دعویٰ کیا، خود کو فیلڈ مارشل بنوایا,امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کروائی تو خود کو بہترین ثالث کے طور پر پیش کیا, مکہ پیکٹ ہوا تو گودی میڈیا سے اپنی شان میں قصیدے پڑھوائے۔ مگر کیا وہ عوامی محبت کا...

32,132 просмотров • 28 дней назад •via X (Twitter)

Комментарии: 5

Фото профиля Ainne .
Ainne .28 дней назад

I have tears in my eyes

Фото профиля Rodium-A
Rodium-A28 дней назад

Same to same 🥹

Фото профиля FunkyDesi
FunkyDesi28 дней назад

@imranP1999 Allah khush rakhay aapko. 🙏🏽🙏🏽🙏🏽🙏🏽

Фото профиля Rodium-A
Rodium-A28 дней назад

@imranP1999 آمین

Фото профиля راجہ نواز
راجہ نواز28 дней назад

@Kingkong876840 اُنھوں راہواں تے آکھیاں وچھا دیساں جہناں راہواں توں سجن چل آسی 🌹🌹🙏

Похожие видео

ہم جس حال میں خیبر پختونخوا میں حکومت کر رہے ہیں، کوئی ہمیں حکومت کرنے کے لیے چھوڑ بھی نہیں رہا . صوبے کے چیف منسٹر کو اپنے لیڈر سے ملاقات نہیں کرنے دیا جا رہا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کو نہیں روکا جا سکتا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کی جا سکتی ہے۔ عمران خان اس ملک کے وزیر اعظم رہے ہیں اور ایک منتخب چیف منسٹر اس سے ملاقات نہیں کر سکتا۔ کیا پاکستان کسی ضابطے اور اصول پر چلتا ہے نہیں، یہ صرف ڈھنڈے سے چلتا ہے۔ ظلم اور ڈھنڈے کا یہ نظام ہمیں کسی صورت منظور نہیں ہے۔ اس ملک میں اگر ہم نے رہنا ہے تو قانون اور آئین کے تحت رہنا ہے۔ یہ جو ظلم ہو رہا ہے، یہ صرف عمران خان کے ساتھ نہیں ہو رہا، عوام کے ساتھ ہو رہا ہے۔ عوام سے ان کے ووٹ کا حق چھینا گیا، یہ فیصلہ عوام نے نہیں کرنا ہے کہ ہم نے کس کو ووٹ دینا ہے۔ ووٹ ڈالنے والے سے ووٹ گننے والا اہم ہے۔ اگر کسی ممبر عوامی نمائندے کو معلوم ہو کہ اس کے ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں، تو کیا وہ آپ کی بات مانے گا۔ عوام کے پاس ووٹ کا حق ہے تو آپ کا نمائندہ آپ کی قدر کرتا ہے۔ ابھی جو ہری پور ضمنی انتخابات میں ہوا ہے، ووٹ کسی اور کو پڑا اور رکن کوئی بن گیا۔ فارم 45 کے مطابق سب کچھ ٹھیک ہے، لیکن کمپیوٹر پر بیٹھا آدمی اپنی مرضی کا ڈیٹا فیڈ کر رہا ہے۔ کس قسم کی عدالت، کس قسم کی الیکشن کمیشن، عدالتوں کو انتظامیہ کے ماتحت کیا گیا ۔

Asad Qaiser

16,009 просмотров • 8 месяцев назад

نئے صوبوں سے متعلق سوال پر امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا جواب: ایک بات میں پہلے آپ صحافیوں سے کرنا چاہوں گا جی، ذرا مہربانی کریں، آپ میڈیا کی دنیا میں حمایت اور مخالفت کی لکیر نہ کھینچیں۔ یہ ایک ڈیبیٹیبل ایشو ہے اور اس پر مختلف پہلوؤں سے بات ہو سکتی ہے۔ اصولی طور پر ایک مسئلے کی پوزیشن اور ہوتی ہے، عملی طور پر جب آپ آتے ہیں تو پھر اس کی صورت اور ہوتی ہے۔ اصولی طور پر آپ کو حق ہے کہ آپ اپنا گھر بنائیں، لیکن کیا آپ کے پاس وسائل ہیں کہ آپ بنا سکیں؟ وسائل نہیں ہیں، جیب خالی ہے اور آپ جا کر وہاں اینٹیں رکھنا شروع کر دیں تو لوگ کہیں گے کہ یہ کیا کر رہا ہے؟ تو وہ ایک خامخواہ ضائع ہونے والی بات ہو جاتی ہے۔ میری اپنی ذاتی رائے یہ ہے کہ اصولی طور پر تو ہم یونٹس کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم نے اس سے پہلے بہاولپور صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے سرائیکی صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے ہزارہ صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے خود فاٹا کو صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم سندھ ذرا اس سے مختلف تھا کہ سندھ کے عوام صوبے کی تقسیم کے لیے آمادہ نہیں تھے، اس وقت بھی نہیں تھے اور اب بھی نہیں ہیں۔ لیکن جو میری معلومات ہیں، جب اس وقت صوبہ، صوبہ ہو رہا تھا تو اسٹیبلشمنٹ بھی اس کی مخالف تھی۔ چنانچہ ان عناصر کی حوصلہ شکنی کی گئی جو صوبہ، صوبہ کر رہے تھے اور حکومتوں اور اسمبلیوں میں وہ لوگ نہیں آ سکے، کمزور پوزیشن میں آئے اور بالآخر ان کو وہ ایشوز چھوڑنے پڑ گئے۔ آج پھر کون سی ایسی وحی آ گئی ہے ان کے اوپر کہ آؤ، ان کو پتا نہیں کتنے اور کوئی نقشہ بھی نہیں ہے۔ کبھی آپ سولہ یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی آپ بتیس یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی ہر ڈویژن کو صوبے کا درجہ دے رہے ہیں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ نقشہ کیا ہے۔ تو ایک بات کہہ دینا اور پھر لوگوں کو چھوڑ دینا کہ وہ اس پر بحث کرتے رہیں، میرے خیال میں ملک کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ ایشو پھینکا گیا ہے۔ اس میں کوئی سنجیدگی ہے، نہ اس کے لیے اس وقت کوئی ماحول موجود ہے اور نہ ہی اس کے لیے کوئی تیاری موجود ہے۔ جب ماحول بھی نہیں ہے، اس وقت تیاری بھی نہیں ہے، تو خامخواہ ایک غیر سنجیدہ گفتگو، جس کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔ ہمارے حکمران اس وقت باہر کی دنیا کے ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہیں اور ان کو یہ اندازہ نہیں ہے کہ پاکستان کی سرزمین جو خون سے سرخ ہے، اس کو بھی تو ہمیں سنبھالنا ہے۔ تو جہاں خون بہہ رہا ہو، جہاں ملکی زمین جو ہے وہ خون سے سرخ ہو اور آپ باہر دنیا میں جا کر وہاں پر ریڈ کارپٹ سے لطف اندوز ہو رہے ہوں، تو ذرا گھر کو تو ٹھیک کریں۔ ہم نہیں کہتے کہ آپ باہر کی دنیا سے اچھے تعلقات نہ رکھیں۔ ہم نے تو امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کو سپورٹ کیا ہے۔ ہم نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے کو سپورٹ کیا ہے۔ ترکی کی شمولیت کو ہم نے سپورٹ کیا ہے۔ مصر اس میں آتا ہے، ایران اس میں آتا ہے۔ خیر، مقدم کریں گے ایک اسلامی بلاک کے قیام کا۔ یہ خود جمعیت علماء اسلام کے منشور کا حصہ ہے۔ تو جو چیزیں دنیا میں ہمارے اپنے فکر اور ہمارے نظریے کے مطابق آگے بڑھیں گی، ہم اس کو سپورٹ کریں گے۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

11,368 просмотров • 1 месяц назад

خیبرپختونخوا کی عوام کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث توانائی کے بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے جبکہ مہنگائی میں مسلسل اضافہ عوام کے لئے مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔ خیبرپختونخوا کے عوام نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ اور ایران کی جانب سے مسلم ممالک پر مبینہ حملوں کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ عوام کا کہنا ہے کہ ایران کو مسلم ممالک کے خلاف کارروائیوں سے گریز کرنا چاہیے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کو فوری طور پر ختم ہونا چاہئے۔ مزید کہا گیا کہ پاکستان کو اس تنازع سے کوئی فائدہ نہیں ہو رہا بلکہ نقصان کا سامنا ہے، جبکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عوام کی زندگیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ عوام نے اپیل کی کہ تمام اسلامی ممالک اس جنگ بندی کے لئے کردار ادا کریں۔ ان کے مطابق اسرائیل کی کوشش ہے کہ مسلم ممالک کو آپس میں تقسیم کیا جائے، اور باہمی اختلافات یا جنگ کی صورت میں صرف نقصان ہی ہوگا۔

Shazia

10,610 просмотров • 6 месяцев назад

اللہ کی فوج کے ساتھ لاکھ سپاہیوں سے دوسرا سوال: آپ کے ادارے کے سربراہ اس سدیوں میں پیدا ہونے والے لیڈر کو torture کر رہے ہیں۔ یہ وہ بندہ ہے جس سے آپ کے ملک کی پہچان ہے اور جب آپ یہ وڈیو دیکھیں گے تو مانیں گے کہ یہ سچ میں ہماری قوم کے غریبوں کے لیے درد رکھتا ہے! آپ سب فوج میں آکر شاید اپنے آپ کو عام پاکستانیوں سے الگ سمجھنے لگے ہیں، اس لیے شاید درد نہیں ہوتا آپ کے دل میں جب قوم کے لیڈر کو اس طرح ٹارچر کیا جارہا ہو ؛ آج آپ شاید محفوظ ہوں مگر یہ جو نانصافی اور ظلم ہے ، یہ آپ کے گھر تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ بس پوچھنا یہ تھا کہ ادارے کے بڑوں کو خط یا WhatsApp بھیجنے کی اجازت ہے؟ اور اگر ہے تو کچھ گلہ کیا یا پھر یہ سمجھانے کی کوشش کی اتنا ظلم بےگناہوں پر نہیں کرنا چاہیے؟ اور اگر نہیں ہمت ہوئی یہ سب کہنے کی تو کس منہ سے اپنے بچوں کو بہادری اور حق بات کرنا سکھائیں گے؟ بندوق استعمال کرلینا بہادری نہیں ہوتی، وہ تو جنگ کے کچھ دنوں میں چلتی ہے، مگر روز مرہ زندگی میں تو اصولوں کی جنگ ہوتی ہے، کس منہ سے اصول سکھائیں گے؟ جب وہ بڑے ہو کر پچھلے تین سال کے واقعات پڑھ کر آپ سے پوچھیں گے کہ آپ کی ظالموں تک رسائی تھی مگر پھر بھی کچھ نہیں بولے ان کو! لوگوں کو بہت مان تھا آپ سب پر۔ ایک ظلم کو جھیلنے کا دکھ تو ہے ہی سب کو مگراس سے بڑا دکھ شاید مان ٹوٹنے کا ہے۔ کچھ کریں ناُ کریں، موقعہ ملے تو یہ ضرور پوچھیے گا اپنے بڑوں سے اور کچھ ساتھیوں سے کہ گولی کیوں چلائی اللہ کی فوج نے اللہ کے پر امن اور نہتے بندوں پر !

Jibran Ilyas

45,535 просмотров • 9 месяцев назад

صحافی: مولانا صاحب آپ نے تقریر میں غزہ کا ذکر کیا فلسطین کا ذکر بھی کیا اور آپ نے کہا کہ یہ جو بالائے طاق رکھ کے آواز ہونی چاہیے، آپ سمجھتے ہیں کہ جو بڑے ممالک ہیں اسلامی ممالک ہیں سعودی عرب ہے پاکستان ہے ترکی ہے ان سب کو بڑی توانا طریقے سے آواز اٹھانی چاہیے پلیٹ فارم کی شکل میں تاکہ یہ ظلم و بربریت کا خاتمہ ہوسکے مولانا: ہم نے تو یہاں تک تجویز دی ہے کہ اسلامی امت کی اسی حوالے سے ایک تنظیم ہونی چاہیے اور اس تنظیم کی قیادت سعودی عرب کرے کہ مرکز اسلام کی نگرانی وہ کر رہے ہیں مرکز اسلام کی خدمت وہ کر رہے ہیں تو مکہ اور مدینہ دونوں مسلمانوں کے مراکز ہیں اسلام کے مراکز ہیں اور جن کی خدمت کی ذمہ داری جو ہے اس وقت خادم الحرمین الشریفین کے ذمے ہے تو یہ مقام ان کا ہے کہ وہ اسلامی دنیا کی قیادت کریں اس حوالے سے اور اس کو منظم کریں، اسی نظم کے ساتھ اور اسی وحدت کے ساتھ ہم دشمن سے دفاع کر سکیں گے مسلمانوں کا دفاع کر سکیں گے ان سے ان کے بشر حقوق کا دفاع کر سکیں گے ورنہ اسی طریقے سے دنیا ہمارا کھیلے گی کیا ہوا کیا گزرے افغانستان کے اوپر، کیا گزری عراق کے اوپر، کیا گزری لیبیا کے اوپر، کیا گزری شام کے اوپر اور اس وقت سعودی عرب اور یمن کے درمیان جو صورتحال ہے اس پر بھی اسلامی دنیا یقیناً پریشان ہے اور یہ حق ہے اس کا اور اس وقت جو فلسطینیوں پہ گزر رہی ہے حد کر دی ہے کہ کس طریقے سے یہ لوگ آئندہ انسان کی بات کریں گے یا انسانی حق کی بات کریں گے، تو یہ ضروری ہے کہ اسلامی دنیا کی طرف انہوں نے متوجہ کیا ہے اور ہم رابطہ عالمی اسلامی کے اور خادم الحرمین الشریفین کے اور ان کے ولی عہد کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس اقدام سے امت کو اس اہم مقصد کی طرف متوجہ کیا۔ صحافی: مولانا صاحب کچھ ممالک نے اسرائیل کو اسلامی ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہوا ہے تو آپ سمجھتے ہیں پاکستان پر بھی دباؤ ہو رہا ہے تو اس ساری صورتحال میں کیا لائحہ عمل ہو سکتا ہے کہ یو این تو اس پہ خاموش ہے امریکہ اس کا ساتھ دے رہا ہے تو کس طرح اسلامی ممالک اسرائیل کو روک سکیں گے؟ مولانا: اسلامی ممالک کی وحدت اور ایک موقف کے اوپر مجتمع ہونا، آج ایک موقف ہے سب کا کہ اسرائیل جو ہے وہ قابض ہے اور اس کا تسلط ہے اور فلسطینی جو ہے وہ آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں لہذا اسرائیل کو تسلیم کرنا یہ مسئلہ نہیں ہے بلکہ فلسطین کی آزادی یہ مسئلہ ہے مسلمانوں کا اور مسلمانوں کو اصل مسئلے کی طرف متوجہ ہونا چاہیے، ہمیں ایک غیر ضروری موقف کی طرف لے جایا جا رہا ہے جس میں خالصتاً یا اسرائیل کا مفاد ہے یا مغربی دنیا اور امریکہ کا مفاد ہے مسلمان کا مفاد کہاں گیا امت مسلمہ کا مفاد کہا گیا اور مسجد اقصیٰ کا حق کہاں چلا گیا جس پر مسلمانوں کا حق ہے پھر فلسطین جو ہے وہ ارض فلسطین مسلمانوں کی سرزمین ہے فلسطینیوں کی سرزمین ہے ان کی آزادی کا جو بنیادی سوال ہے جو 75 سال سے زندہ ہے کیا اس مقصد کو بھی ہم حاصل کریں گے یا نہیں کریں گے یہ بڑا بنیادی سوال ہے جی۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

13,145 просмотров • 2 лет назад

پاکستان نے اس وقت جو ایران امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا ہے اور اس کے جو دنیا میں مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں، پاکستان کے اندر ان کو ہمیں سمیٹنا چاہیے، حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ اس طرز عمل کو اس کے مفادات کو سمیٹے، لیکن جہاں وہ باہر سے کما رہے ہیں پاکستان کے اندر اس کو گنوا رہے ہیں، یہاں حکومت کی ان کامیابیوں کے عوام پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہو رہے ہیں۔ یہاں امن و امان نہیں ہے اور خیبر پختونخوا، بلوچستان میں تو پہلے ہی امن و امان نہیں تھا، سندھ کے لوگ ڈاکوں کے ہاتھوں محکوم نظر آ رہے ہیں، لیکن اگر کشمیر کی بھی ایسی صورت حال بنتی ہے تو جہاں فوج کو یا بارڈرز پہ ہونا چاہیے یا بیرکوں پہ ہونا چاہیے آج وہ پاکستان کے صحراؤں میں پھیلے ہوئے ہیں، پاکستان کے پہاڑوں میں پھیلے ہوئے ہیں، ان کے فوجی شہید ہو رہے ہیں، اور اس مشکل میں ریاست پھنسی ہوئی ہے کہ اس مشکل وقت میں انہیں قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔ اگر ان حالات میں بھی حکومت کی طرف سے ایسے بیانات آئے کہ جس سے قوم تقسیم ہو، جس سے اپوزیشن کو سخت سے ردعمل دینا پڑے تو پھر میں نہیں سمجھتا کہ یہ ملک کی یکجہتی کے لیے کوئی کردار ہوگا، بلکہ ملک کو تقسیم کرنے کا سبب بنے گا۔ بہت زیادہ اشتعال ہے ملک کے اندر، ہم نے پرسوں چارسدہ میں جلسہ کیا، ہم نے اس سے پہلے پشین میں جلسہ کیا، لاکھوں لوگ وہاں اکٹھے ہوئے، بہت ہی کامیاب اجتماعات، پبلک نے اتفاق کیا اور یہ وہ میدان ہے کہ اگر ایک سیاسی جماعت پبلک میں اترتی ہے اور تاحد نظر انسانوں کا سمندر اکٹھا کرتی ہے یہ ایک وہ سیاسی جنگ ہے کہ جہاں قوم کا مورال بلند ہوتا ہے اور آپ کے کارکنوں کا مورال بلند ہوتا ہے، امن پسندوں کا مورال بلند ہوتا ہے، اور مسلح قوتوں کا مورال گر جاتا ہے، تو میرے خیال میں ہم جس محاذ پر کام کر رہے ہیں، میں تو سمجھتا ہوں کہ ہمیں پبلک کی طرف سے زبردست قسم کا ایک مثبت ردعمل ملا ہے، کیا وہ ردعمل حکومتی پارٹی کو بھی مل سکتا ہے؟ میرے خیال میں اس وقت ان کے لئے وہ حالات نہیں ہیں۔ آپ کو وہ حالات بنانے ہوں گے، کہ ہم یکجہتی کا اظہار کریں۔ قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن کا پارلیمنٹ ہاوس میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,165 просмотров • 2 месяцев назад

غزوۂ احد کے بعد جب نبی کریم ﷺ زخمی ہوئے اور دندان مبارک شہید ہوا، تو آپ ﷺ نے کچھ وقت کے لیے جبل احد کی طرف رخ فرمایا۔ روایت کیا جاتا ہے کہ وہاں ایک غار میں قیام ہوا اور صحابہ کرام نے آپ ﷺ کی مرہم پٹی کی۔ بیان کیا جاتا ہے کہ جب آپ ﷺ اس جگہ سے باہر تشریف لائے تو قریب موجود ایک چٹان کو اپنے دست مبارک سے چھوا، اور اسی مقام سے پانی جاری ہو گیا۔ آپ ﷺ نے اس پانی سے استفادہ فرمایا۔ اسی نسبت سے وہاں ایک چشمے کا ذکر کیا جاتا ہے جسے اہل محبت عقیدت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ آج بھی جو زائرین مدینہ منورہ حاضر ہوتے ہیں، وہ جبل اُحد کے دامن میں موجود اس مقام کو احترام سے دیکھتے ہیں۔ وہاں چشمے کے آثار سے منسوب جگہ دکھائی جاتی ہے، اور دلوں میں محبت و عقیدت کی ایک خاص کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ عاشقان رسول ﷺ کے نزدیک اصل چیز محبت اور نسبت ہے۔ ان کے لیے یہ مقام اس نسبت کی علامت ہے کہ جہاں بھی رسول اکرم ﷺ نے قدم رکھا وہ جگہ بابرکت ہو گئی۔ یہی احساس دلوں کو سکون دیتا اور روحوں کو تازگی بخشتا ہے۔

حَرَمَيْنُ الشَّرِيفَيْن

10,476 просмотров • 4 месяцев назад

بریکنگ نیوز 🚨غیرت مند، حلالی ماں کا حلالی بیٹا، جسٹس انوارالحق پنوں چھا گیا۔ شہباز گل نے اپنے ویلاگ میں مکمل کلپ چلا دی۔ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے کچھ پلے نہ چھوڑا، پچھلے اگلے ریکارڈ توڑ ڈالے۔ آج تک آپ نے اپنی پوری زندگی میں کسی جج کی ایسی دبنگ، باکمال، حق پر مبنی گفتگو نہیں سنی ہوگی۔ ایک ایک الفاظ سننے سے تعلق رکھتا ہے۔ شروع سے لے کر اینڈ تک سننا، مس مت کرنا 🔥🔥 ہم جھوٹے ہیں، ہم دغاباز ہیں، ہماری ویلیو سسٹم اپنی زمین کی اتھاہ گہرائیوں میں جا چکا ہے۔ اس لیے اس سے کسی قسم کی توقع فوری طور پر کئی نئے صوبے بنا لیں، لوکل گورنمنٹ لے آئیں، کوئی چانس بہتری کا نہیں ہے۔ مجھے ان دو تین ٹرمز سے بڑی حیرت ہوتی ہے، فلاں حکمران خاندان ڈیموکریسی میں بھی کبھی یہ تصور ہوتا ہے کہ جی فلاں حکمران خاندان، فلاں مقتدرہ۔ کیا ڈیموکریسی میں بھی کسی اسٹیبلشمنٹ کو مقتدرہ کہا جاتا ہے؟ تو جب تک یہ لوگ اپنے اپنے آربٹ (مدار) میں نہیں جاتے، اور یہ اب نہیں جائیں گے، اس لیے کہ اس ملک کے وسائل کم ہوتے جا رہے ہیں، ان کی خواہشات بڑھتی چلی جا رہی ہیں۔ ان کو کاکروچ ماننے کو بھی تیار نہیں ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ انہوں نے انڈیا والوں نے تو خود کو کاک روچ سے آئڈینٹیفائی کیا، ایک سمبولیکلی (علامتی طور پر) کیا کہ ہماری حیثیت یہ ہے، مگر انہوں نے ایک ڈیموکریٹک سسٹم کے اندر ڈیمونسٹریشن کرنے کے بعد اپنی ایک بات کو منوایا۔ یہاں تو آزادی سے سوچنے کی اجازت نہیں ہے۔ حالانکہ آپ کسی سے شیئر نہیں کر رہے، آپ کو سوچنے کی اجازت نہیں ہے، آپ کو کسی سے شیئر کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ جس ملک میں آزادی سے سوچنے کی اجازت نہ ہو، جس ملک میں آزادی سے بات کرنے کی اجازت نہ ہو، وہ ملک کسی قیمت پر ترقی نہیں کر سکتا۔ یہ آفاقی اصول ہیں۔ آپ دنیا بھر کے جو ملک ہیں، جس جس ملک نے ترقی کی ہے، اگر انہوں نے کسی اصول پر، ادارے قائم کر کے ترقی کی ہے، تو ہمیں بھی اسی پر جانا پڑے گا۔ ہمارا کوئی علیحدہ سے خطہ اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم کسی کے کہنے پر یہ اسمبلیاں 15 دنوں میں، 5 دنوں میں اتنی بڑی امینڈمنٹس (ترامیم) ہوتی ہیں، کیا وزیر قانون کو بھی نہیں پتہ ہونا چاہیے کہ کیا امینڈمنٹ انٹروڈیوس ہو رہی ہے؟ کیا پاکستان کی عدلیہ جو ہے، اس کو اس حد تک سبجوگیٹ (ماتحت) ہونا چاہیے تھا؟ کیا پنجاب کے اندر ہر روز ہاف فرائی اور فل فرائی کی جو ٹرم چل رہی ہے، وہ ہزاروں لوگ قتل ہو گئے، یہ گڈ گورننس ہے؟ یہ کیا ہو رہا ہے اس ملک کے ساتھ؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس طرح سے آپ بہت دیر وقت گزار لیں گے؟ ان کو سیکنڈ کون کر رہا ہے؟ اور اس کے بعد ایک ٹی وی پروگرام جو کل میں نے دیکھا، وہ ایک منصور علی خان کوئی جرنلسٹ ہیں، جس انداز میں انہوں نے بات کی ہے، فائلیں تیار ہو چکی ہیں، فلاں جو مسلم لیگ ن ہے اس کی جو لیڈرشپ ہے اس کو یہ کیا جائے گا۔ کیا ہو رہا ہے؟ یہ کیا کر رہے ہیں آپ؟ یہ آپ کا اختیار ہے؟ یہ آپ کے کہنے پر صوبے بننے چاہئیں؟ یہ اس ملک کے جن کی زمین ہے، جن کا آسمان ہے، جن کی فضا ہے، یہ ان کے لیے، ان کے کہنے پر بننے چاہئیں۔ اس ملک کو تنخواہ دار طبقے نے لوٹا ہے۔ خود کو مالک سمجھ کر خواہ ججز ہوں، خواہ بیوروکریٹس ہوں، خواہ فوجی ہوں، انہوں نے تباہ کیا ہے اور ابھی تک کر رہے ہیں۔

‏زہـــرہ لیــاقت

14,184 просмотров • 1 месяц назад

اس لڑکی نے جو کیا، وہ واقعی آپ کو غصہ دلا سکتا ہے۔ ایک لڑکی اپنی گاڑی میں پیٹرول ڈلوانے کے لیے ایک پیٹرول پمپ پر پہنچی۔ انتظار کے دوران وہ مسلسل فون پر بات کرنے میں مصروف رہی۔ اس دوران پمپ ملازم نے گاڑی کی ٹینکی مکمل بھر دی۔ لیکن جیسے ہی ٹینکی بھر گئی، اس کے بعد جو ہوا، اس کا کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق، پیٹرول ڈلوانے کے بعد لڑکی مبینہ طور پر رقم ادا کیے بغیر وہاں سے چلی گئی۔ اگر یہ بات درست ہے، تو اس کا سب سے بڑا نقصان اکثر پیٹرول پمپ کے اُس ملازم کو اٹھانا پڑتا ہے، جسے کئی جگہوں پر یہ رقم اپنی جیب سے ادا کرنا پڑتی ہے۔ مہنگی گاڑی کا مالک ہونا کسی کو اچھا انسان نہیں بنا دیتا۔ انسان کی اصل پہچان اس کی دیانت داری اور دوسروں کے ساتھ اس کے رویے سے ہوتی ہے۔ محنت مزدوری کرنے والے کی حلال کمائی ہڑپ کر کے کوئی بھی عظیم نہیں بن سکتا۔ ایک غریب اور محنت کش انسان کا جائز حق چھین لینے سے بڑھ کر شاید ہی کوئی ظلم ہو۔

Hassan Zaib

85,404 просмотров • 1 месяц назад

میجر عدنان جیسے بہادر سپوتوں کا ذکر کرکے آج پھر ان تمام شہداء کی روحوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے جو ہمارے آج کو محفوظ بنانے کے لیے کل کا سودا کر گئے۔ تنخواہ تو صرف ایک "وسیلہ" ہے، جبکہ اصل "مقصد" اللہ کی رضا اور اس پاک دھرتی کی حرمت ہے۔ شہادت کو مادی تول سے پاک رکھا جانا چاہیے؟ عظیم قربانی کا تقدس جب ایک فوجی میدانِ جنگ میں جاتا ہے، تو وہ یہ نہیں سوچتا کہ اس کے خاندان کو کتنے پیسے ملیں گے۔ وہ صرف یہ سوچتا ہے کہ اس کے ملک کا پرچم ہمیشہ سر بلند رہے۔ یہ سوچ ہی اسے "عام انسان" سے "شہید" کے درجے پر فائز کرتی ہے۔ ایمان کی بلندی شہادت کا تعلق "ایمان" سے ہے۔ جن کے دلوں میں وطن کی محبت کا دیا جلتا ہو، وہ دنیاوی مراعات کے پیچھے نہیں بلکہ آخرت کی ابدی کامیابی کے پیچھے ہوتے ہیں۔ توہینِ شہداء جو کوئی بھی شہادت کو تنخواہ سے جوڑتا ہے، وہ دراصل اپنی کم ظرفی کا مظاہرہ کر رہا ہوتا ہے۔ میجر عدنان جیسے عظیم ہیروز کی قربانیوں کا بدلہ تاریخ بھی نہیں چکا سکتی، تو دنیاوی رقم کیسے چکائے گی؟

Sajid usmani

22,300 просмотров • 2 месяцев назад