Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

لیک ہونے والی ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک بلوچ طالب علم نے خود کو پاکستانی قرار دیتے ہوئے کسی بھی غیر قانونی یا دہشت گرد تنظیم سے وابستہ ہونے سے انکار کیا، جس پر مبینہ طور پر BLA کی جانب سے اس پر...

89,774 просмотров • 3 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

یہ ویڈیو مردار قدرت کرد کے خودکش حملے سے پہلے کے لمحات کی ہے ایسے لمحات جن میں اس کے چہرے پر خوف، بے بسی اور ٹوٹے ہوئے انسان کی جھلک صاف دکھائی دیتی ہے۔ یہ منظر کسی ایک فرد کی کہانی نہیں، بلکہ اس تلخ حقیقت کی گواہی ہے کہ کس طرح بلوچستان کے نوجوانوں کو ذہنی دباؤ، نفسیاتی تشدد اور بلیک میلنگ کے ذریعے زبردستی موت کے راستے پر دھکیلا جاتا ہے۔ یہ دہشت گرد تنظیم BLA کا پرانا اور مسلسل ہتھکنڈہ ہے: ہمدردی، مظلومیت اور نام نہاد نعروں کی آڑ میں معصوم بلوچ نوجوانوں کو اپنے شیطانی مقاصد کے لیے استعمال کرنا ان نوجوانوں کے خواب، ان کے گھرانے اور ان کی زندگیاں سب کچھ اس سفاک کھیل کی نذر کر دیا جاتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ BYC اور اختر مینگل جیسے گروہ اس انسانیت سوز جرم پر خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں یہ خاموشی محض لاتعلقی نہیں، بلکہ عملی طور پر اس ظلم میں شریک ہونے کے مترادف ہے بلوچ نوجوان بندوق نہیں، مستقبل چاہتے ہیں؛ انہیں استعمال نہیں، تحفظ چاہیے۔ اب وقت ہے کہ اس بربریت کے خلاف سچ پوری قوت سے بولا جائے۔ #Balochistan #Quetta #بلوچستان

Mahnoor Haider

11,665 просмотров • 7 месяцев назад

لیبیا میں ایک خاتون کو سرِعام 100 کوڑوں کی سزا دینے کی وڈیو سامنے آئی ہے۔یہ صرف ایک قانونی سزا کا معاملہ نہیں بلکہ انسانی وقار، بنیادی انسانی حقوق اور ریاستی اختیار کی حدود پر ایک سنجیدہ سوال ہے۔ کسی بھی جرم کے الزام میں انصاف کا تقاضا ہے کہ ملزم کو شفاف عدالتی کارروائی، دفاع کا حق اور منصفانہ سماعت حاصل ہو۔ لیکن سزا کا ایسا طریقہ جس میں انسان کو مجمع کے سامنے جسمانی اذیت اور تذلیل کا سامنا کرنا پڑے، انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں سے شدید تصادم پیدا کرتا ہے۔ مذہب، قانون اور ثقافت کے نام پر ہونے والی ہر کارروائی کو تنقید سے بالاتر نہیں سمجھا جا سکتا۔ انسانی وقار ایک بنیادی قدر ہے، اور ریاست کی طاقت کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ سزا دیتے ہوئے بھی انسان کی عزت کو برقرار رکھے۔ جرم کی سزا ضروری ہو سکتی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا انصاف کا مقصد انسان کو درست کرنا ہے یا اسے سب کے سامنے ذلیل کرنا؟ ایک مہذب معاشرے میں قانون کی حکمرانی کے ساتھ انسانی حقوق، شفاف انصاف اور انسانی وقار کا تحفظ بھی لازم ہے۔

Ather Salem®

40,184 просмотров • 1 месяц назад

اسلام آباد: خاتون صحافی روخانہ رحیم وزیر اور خاندان کی مبینہ بے دخلی، انسانی حقوق پر سنگین سوالات اسلام آباد سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق خاتون صحافی اور کالم نگار روخانہ رحیم وزیر اور ان کے خاندان کو مبینہ طور پر ڈی پورٹ کرنے کی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق انہیں فارن ایکٹ کی دفعہ 14-A کے تحت آج کیمپ میں زبردستی انگوٹھے لگوائے جا رہے ہیں اور براہِ راست طورخم بارڈر منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔ روخانہ رحیم وزیر کا تعلق وزیرستان سے بتایا جاتا ہے اور وہ اسلام آباد میں قائم “نوے ژوند ادبی، ثقافتی و فلاحی تنظیم” کی پریس سیکرٹری بھی ہیں۔ وہ آئی بی سی اردو IBC URDU کی مستقل کالم نگار ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان کا خاندان گزشتہ تین ماہ سے شناختی کارڈ بلاک ہونے کے باعث افغان مہاجر ہونے کے شبے میں سی ٹی ڈی اسلام آباد کی تحویل میں حاجی کیمپ میں رکھا گیا ہے۔ان کی باقی فیملی پاکستانی ہے ہے یہ افغانی ، عجیب صورتحال ہے ۔ اس پیش رفت نے انسانی حقوق کے حوالے سے کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔ قانونی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ کیا کسی پاکستانی شہری کو محض شبے کی بنیاد پر اپنے ہی ملک سے بے دخل کیا جا سکتا ہے؟ ناقدین کے مطابق اگر ایسا ہے تو یہ اقدام آئینِ پاکستان اور بنیادی انسانی حقوق کی واضح خلاف ورزی کے مترادف ہو سکتا ہے۔ سماجی و صحافتی حلقوں کی جانب سے اربابِ اختیار اور ریاستی اداروں سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی گئی ہے۔ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس کارروائی کو فی الفور روکا جائے، معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کرتے ہوئے انہیں باعزت شہری کے طور پر زندگی گزارنے کا حق دیا جائے۔

Sabookh Syed | Journalist

25,358 просмотров • 6 месяцев назад

بلوچستان میں جبری گمشدگی جیسے سنگین انسانی مسئلے کو کبھی جھوٹ اور من گھڑت قرار دیا جاتا ہے، کبھی کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ لاپتہ نہیں بلکہ پہاڑوں پر چلے گئے ہیں، اور کبھی اس مسئلے کے وجود ہی سے انکار کر دیا جاتا ہے۔ اور ایک ہفتے کے اندر اندر انہی حکومتی نمائندوں کی جانب سے جبری گمشدگیوں کے مسئلے پر مختلف اور متضاد بیانات دئے گئے ہیں۔ دس دن قبل وزیراعلیٰ نے بیان دیا کہ 2 فروری کے بعد کسی کو جبری طور پر لاپتہ نہیں کیا جائے گا۔ یہ بیان بذاتِ خود اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ بلوچستان میں برسوں سے جبری گمشدگیاں ہوتی رہی ہیں۔ اس کے برعکس، ایک ہفتہ قبل وزیر خواجہ آصف نے کہا کہ مسنگ پرسنز کا مسئلہ سراسر فراڈ ہے اور اس کا کوئی وجود ہی نہیں۔ جبکہ پاکستان کے وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ وفاقی حکومت جبری طور پر لاپتہ افراد کے دیرینہ مسئلے کی مزید تحقیقات کے لیے ایک نئی کمیٹی تشکیل دے رہی ہے۔ کل آصمہ جہانگیر کانفرنس میں رانا ثناء اللہ نے نہ صرف اس سنگین مسئلے کو مرغی اور انڈے جیسی غیر سنجیدہ مثال سے جوڑ کر کم اہم ظاہر کرنے کی کوشش کی بلکہ یہ بھی واضح الفاظ میں کہا کہ جب تک بلوچستان میں دہشتگردی ہے، جبری گمشدگیاں ہوتی رہیں گی۔ یہ بیان خود اس بات کا اعتراف ہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیاں ہو رہی ہیں اور آئندہ بھی جاری رہیں گی۔ یہ بات ایک اس بیٹی کے سامنے کہی گئی جس کے والد گزشتہ سترہ برسوں سے جبری طور پر لاپتہ ہیں اور وہ انکی واپسی کی راہ دیکھ رہی ہیں اور اسی بیٹی کے ساتھ اور دیگر گمشدہ افراد کے لواحقین سے ستمبر 2022 میں رانا ثناء اللہ اور اعظم نذیر تارڑ نے کوئٹہ ریڈ زون میں دھرنے کے دوران ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں لواحقین کے دکھ درد کو سمجھنے کا دعویٰ کیا گیا، ایک کمیشن بھی قائم کیا گیا اور واضح الفاظ میں وعدہ کرکے یقین دہانی کرائی گئی کہ آئندہ جبری گمشدگیاں نہیں ہوں گی، جس شخص پر بھی الزام ہے اسے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا اور قانون کے مطابق شفاف ٹرائل کیا جائے گا۔ مگر کل میرے سامنے یہ کہا گیا کہ اگر کسی کو اٹھایا جائے گا تو اسے قانون کے مطابق ڈیل نہیں کیا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس آئین اور قانون کی بالادستی کی بات کی جاتی ہے، خود ایک وفاقی وزیر اس کی نفی کر رہا ہے۔ بطور ایک ایسی بیٹی جس کا والد جبری طور پر لاپتہ ہے، کیا میں یہ امید بھی نہ رکھوں کہ ہمارے پیاروں کو آئین اور قانون کے مطابق ٹریٹ کیا جائے گا؟ جب ایک وزیر خود آئین کی عملداری پر سوال اٹھا دے تو عام شہری انصاف کی امید کس سے رکھے؟ اور آج انہی وعدوں کی نفی خود حکومتی بیانات سے ہو رہی ہے۔ جبری گمشدگیوں کے مسئلے پر ریاست اور ریاست سرگردان ہے حکومتی نمائندے خود شدید تضاد اور کنفیوژن کا شکار ہیں۔ کبھی اس مسئلے کو مکمل طور پر جھٹلایا جاتا ہے اور کبھی دہشتگردی کے نام پر اسے جائز قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مگر یہ جبری گمشدگیاں ریاست کے ماتھے پر سیاہ دھبہ بن چکی ہیں اور جب تک اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل نہیں کیا گیا ہے اس پر بات ہوتی رہے گی، حکومتی نمائندے اس مسئلے کو جیسے چاہیں جھٹلائیں یا جائز قرار دیں اس مسئلے کو حل کئے بغیر بری الزمہ نہیں ہوسکتے ہیں۔ Rana Sana Ullah Khan Azam Nazeer Tarar

Sammi Deen Baloch

31,666 просмотров • 7 месяцев назад

احمدیوں پر آئینی پابندیاں اپنی جگہ لیکن مذہبی انتہاپسندوں کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت کس نے دی ؟؟ پاکستان کے آئین میں آرٹیکل 260(3) کے تحت احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہے، جبکہ آرڈیننس XX (1984) کے مطابق احمدی کوئی بھی اسلامی شعار اپنانے، خود کو مسلمان کہنے یا اپنے عبادتی مقامات کو مسجد کہنے کے مجاز نہیں ہیں۔ آرٹیکل 14 (پرائیویسی اور انسانی وقار کے تحفظ) آئینی نقطہِ نظر : پاکستان کا آئین ہر شہری کو مذہبی آزادی، پرائیویسی اور بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔آرٹیکل 20 ہر شخص کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کا حق دیتا ہے۔آرٹیکل 14 انسانی عزت و وقار اور پرائیویسی کی حفاظت کرتا ہے۔کسی کی پرائیوٹ پرالرٹی میں زبردستی گھس کر ان کی عبادت میں مداخلت کرنا اور ہتک آمیز سلوک روارکھنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔ پرائیویسی اور انسانی حقوق: کسی بھی فرد یا گروہ کا کسی کی عبادت گاہ میں گھس کر انہیں نشانہ بنانا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان دستخط کنندہ ہے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے (UDHR) کا، جس کی آرٹیکل 18 ہرانسان کے مذہبی آزادی کے حق کو تسلیم کرتی ہے،اور آرٹیکل 12 پرائیویسی کے حق کی حفاظت کرتی ہے یہ قوانین ریاستی سطح پر ایک مخصوص مذہبی گروہ کے عقیدے کو محدود کرتے ہیں، جبکہ احمدی خود کو غیر مسلم نہیں مانتے۔ یہی نکتہ بنیادی انسانی حقوق، مذہبی آزادی، اور بین الاقوامی قوانین سے متصادم ہو جاتا ہے۔مسلۂ یہی سے شروع ہوتا ہے کہ اگر وہ اپنی عبادت اپنے گھروں یا اپنی عبادت گاہوں میں کریں، تو وہاں ریاست یا عوام کا دخل دینا آئین کے آرٹیکل 14 (پرائیویسی اور انسانی وقار کے تحفظ) کے خلاف جاتا ہے۔ جنازہ اور تدفین کا حق/قبر اور کتبے کی روایت: مذہب یا انسانی ارتقا؟ کسی بھی انسان کو دفنانے کا حق محض ایک اسلامی فریضہ نہیں بلکہ ایک عالمی انسانی قدر ہے۔ تدفین اور قبروں پر نشانات (کتبے) لگانے کی روایت صرف اسلام تک محدود نہیں بلکہ انسانی تہذیب کے آغاز سے موجود ہے۔ قدیم ترین انسانی معاشروں، جیسے مصر، میسوپوٹیمیا، یونان،رومن سلطنت،اور وادیٔ سندھ میں تدفین ایک عام رواج تھا۔ انسان ہمیشہ سے اپنے مُردوں کوعزت کے ساتھ دفنانے اوران کی قبروں کی نشاندہی کرنے کا طریقہ اپناتا آیا ہے، تاکہ وہ یادگار رہیں اورنسلیں بعد میں ان سے جُڑی رہیں۔ اسلامی نقطۂ نظر: اسلام نے تدفین کو اہمیت دی اور اس میں سادگی پر زور دیا، مگر قبروں کی بےحرمتی اور لاشوں کی بےعزتی کو سختی سے منع کیا۔ نبی اکرم ﷺ نے دشمنوں کی لاشوں تک کی بےحرمتی سے منع فرمایا اور انہیں دفنانے کا حکم دیا۔ ٹی ایل پی کا کسی بھی فرد کی تدفین میں مداخلت، قبروں کو مسمار کرنا، یا لاشوں کی بےحرمتی کرنا اسلامی تعلیمات، انسانی اقدار، اور قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ کسی کی قبر کو نقصان پہنچانا نہ صرف قرآن و حدیث کے خلاف ہے بلکہ یہ ایک وحشیانہ اور غیر انسانی فعل بھی ہے، کُجا کہ تازہ قبریں کھول کر اسلام کی خدمت سمجھنا۔ کسی بھی گروہ کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اسلام کے نام پر دوسروں کی تدفین روکے یا قبروں کو نقصان پہنچائے۔یہ نہ صرف اسلامی اصولوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ معاشرتی بربریت اور قانون شکنی کا مظہر بھی ہے یہ ایک سنگین مسئلہ ہے کہ عام شہری کسی بھی گروہ کے خلاف خود عدالت، پولیس اور جلاد بن بیٹھتے ہیں۔ قانونی لحاظ سے، کسی بھی جرم کی تحقیقات اور سزا کا اختیار عدالت کے پاس ہوتا ہے، نہ کہ کسی ہجوم یاگروہ کے پاس۔ مگر ہوتا کیا ہے؟ •شدت پسند گروہ (جیسے TLP) ایک ہجوم اکٹھا کرتے ہیں۔ •پولیس اکثر یا تو بے بس ہوتی ہے یا خود بھی ایسے گروہوں کے دباؤ میں آکر ان کے ساتھ کھڑی ہو جاتی ہے۔ •عدالتیں بھی اکثر ان معاملات میں فوری ایکشن نہیں لیتیں، جس کی وجہ سے یہ رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ صورت حال ایک “موب جسٹس” کو فروغ دے رہی ہے،جس میں لوگ خود ہی جج، جیوری،اور جلاد بن جاتے ہیں، جو کہ ایک مکمل لاقانونیت (Anarchy) کی علامت ہے۔ •پولیس اکثر مذہبی انتہا پسند گروہوں کو کنٹرول کرنے کے بجائے ان کے دباؤ میں آکر ان کے احکامات پر چلتی ہے۔ •TLP جیسے گروہوں کو ریاست کبھی کبھار اپنے مفادات کے لیے بھی استعمال کرتی ہے۔ •اگر ریاست یا اسٹیبلشمنٹ کو کسی بڑے سیاسی یا سیکیورٹی معاملے سے عوام کی توجہ ہٹانی ہو، تو ایسے مذہبی گروہوں کو فعال کر دیا جاتا ہے تاکہ عوام کا غصہ کسی اور طرف منتقل ہو جائے۔ یہ ایک بڑا سوال ہے کہ کیا ریاست مذہبی شدت پسندی کو اپنے سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے؟ بلوچوں نے ٹرین پر حملہ کیا اور یرغمال بنایا، جو ریاست کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ ایسے وقت میں جب میڈیا اور عوام کا فوکس بلوچ مسئلے پر ہونا چاہیے تھا،اچانک TLPاور مذہبی شدت پسندی کے واقعات بڑھ جاتے ہیں۔ تحریر :سونیا خان خٹک

Sonia Khan khattak(SK)

31,678 просмотров • 1 год назад