Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

لیں جی۔۔ اسلام آباد کے شہریوں کے ذلیل ہونے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔۔ پارلیمنٹ کے ڈی چوک پر کنٹینرز کی آمد شروع۔۔ 20 ستمبر جماعت اسلامی، 25 ستمبر کسان اتحاد اور 27 ستمبر پی ٹی آئی لانگ مارچ۔۔ مگر سوال یہ ہے کہ حکومت وقت سے پہلے معاملات...

45,131 views • 11 days ago •via X (Twitter)

10 Comments

RAShahzaddk's profile picture
RAShahzaddk11 days ago

آسان طریقہ معاملات طے کرنے کا یہی ہے جو آپ نے ویڈیو میں لگا دیا ہے

Sajid Khan's profile picture
Sajid Khan11 days ago

یہ حرامزادے ملک نہیں چلا رہے بلکہ اپنی جیبیں بھرنے میں مصروف ہیں جب تک ملک کو پورا تباہی کے دہانے پر پہنچا نہیں دینگے یہ بیغیرت ٹولہ یہی کرتے رہیں گے اور ان سے بڑے بیغیرت اسٹیبلشمنٹ ہے جو یہ کروا رہے ہیں ایک زہنی مریض جرنیل کے لیے

Sajid Khan's profile picture
Sajid Khan11 days ago

معاملات وہ حکومت طے کرتی ہے جو عوام کی اکثریت سے منتخب ہو یہ لٹیروں کی جماعت ہے جو زبردستی مسلط کی گئی ہے تو یہ آخری دم تک لوٹتے رہیں گے

Fiayaz Gilani's profile picture
Fiayaz Gilani11 days ago

Negociated settlements r not our strength,cantanerisation is ugly,o.k,what solutions r there 2 avoid onslaught on capital city 2 jam the functions of govt.

Ayub Khalid's profile picture
Ayub Khalid11 days ago

یہ بات حکومت کے ہاتھ میں بھی نہیں کہ معاملات طے کرے

S Shamshad Mirza's profile picture
S Shamshad Mirza11 days ago

جب عدل و انصاف نہی ہوتا تو عوام کے پاس احتجاج کے سوا کوئی چارہ باقی نہی رہتا عمران خان جماعت اسلامی اور کسانوں کو چھوڑ کر پوری قوم ہی ایک عذاب میں مبتلا ہے قتل و غارت معیشت کی بدحالی اسٹیبلشمنٹ کی فرعونیت کی طور اشارہ کرتی ہے

Muhammad Farooq's profile picture
Muhammad Farooq11 days ago

اگر آزادی چاہیئے، اپنے بچے بچیوں کو جنسی درندوں سے پچانا ہے تو یہ روکاوٹئیں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں عوام کے سامنے اب پنجاب کو خود سوچنا ہوگا، غلامی یا آزادی

Arif Mehmood's profile picture
Arif Mehmood11 days ago

پازیٹیو

project's profile picture
project11 days ago

ایک تو یہ پڑھے لکھے نہیں ہیں اور پھر سمجھنا بھی نہیں چاھتے

Saad Cheema's profile picture
Saad Cheema11 days ago

@javerias PLMN is worse thing that can happen to Pakistan

Related Videos

🚨🚨 بریکینگ نیوز : پی ٹی آئی کا چھکا, لانگ مارچ پر پی ٹی آئی نے اپنی Strategy تبدیل کرکے حکومت کیلئے مزید پریشانی کھڑی کردی,!!!🔥🔥🔥🛑 پی ٹی آئی اپنا احتجاج شروع تو 27 ستمبر سے ہی کر رہی ہے, لیکن اسلام آباد اکتوبر کے پہلے ہفتے تک آئینگے ۔ وزیر اعلیٰ ہاؤس پشاور میں پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا, جس میں لانگ مارچ کے حوالے سے مشاورت کی گئی کہ, پارٹی قیادت نے پنجاب کی سرحد پر دھرنوں اور مرحلہ وار آگے بڑھنے کی تجویز دی گئی ۔ یعنی ہم مرحلہ وار اسلام آباد پہنچیں گے, ایسا نہیں ہوگا کہ یہاں سے نکلیں اور اگلے دن اسلام آباد پہنچ جائیں ۔ مجوزہ حکمت عملی کے تحت اٹک پل, ہزرو کے قریب موٹر وے, ہری پور, اور کوہاٹ کے خوشحال گڑھ یعنی وہ تمام راستے جہاں سے اسلام آباد انٹر ہوا جاسکتا ہے ۔ وہاں سے انٹر ہونے کی کوشش کی جائیگی ۔ اور اگر انہیں حکومت روکنے کی کوشش کرے گی تو یہ وہیں دھرنا دے کر بیٹھ جائیں گے ۔اور اس میں الزام حکومت پر آئیگا کہ حکومت راستے بند کر رہی ہے ۔ پی ٹی آئی نہیں کر رہی ۔ تجویز کے تحت اکتوبر کے پہلے ہفتے میں اسلام آباد کی جانب پیش قدمی کی جاسکتی ہے ۔ تقریباً 2 گھنٹے جاری رہنے والے اجلاس میں احتجاج کی حکمت عملی پر فیصلہ نہ ہو سکا ۔ حتمی لائحہ عمل کیلئے 5 ستمبر کو دوبارہ اجلاس بلایا گیا ہے ۔یہ جان بوجھ کر بھی پی ٹی آئی ابھی فیصلہ نہیں کر رہی, تاکہ حکومت کو اپنی حکمت عملی بنانے کا موقع نہ ملے۔ اسداللہ خان 🔥🔥🚨

Anisha KHAN

73,001 views • 3 days ago

پاکستان تحریکِ انصاف کے 27 ستمبر کے لانگ مارچ کو رکوانے کے لیے عاصم منیر رجیم کا عدلیہ کا استعمال، اچانک ہی ایک محب وطن شہری وقاص احمد پیدا ہو گیا ہے جسے لانگ مارچ سے ملک کو نقصان کا خطرہ ہے جس کی درخواست بھی فوراً اسلام آباد ہائیکورٹ میں لگ گئی اور عسکری چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سرفراز ڈوگر نے لارجر بینچ بنا کر 10 ستمبر کی تاریخ بھی دے دی ہے، عسکری جج سرفراز ڈوگر نے چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز، آئی جیز، ایڈوکیٹ جنرلز، اسلام آباد کے آئی جی، چیف کمشنر، ڈی سی اور عدالتی معاونت کے لیے اٹارنی جنرل آف پاکستان کو بھی طلب کر لیا ہے، یہ آرمی اسٹیبلشمنٹ کے بہت پرانے ہتھکنڈے ہیں کہ ضرورت پڑنے پر عدالتوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے اپنے محب وطن پاکستانی عدالتوں میں لے آتے ہیں اور اس مرتبہ تو اسٹیبلشمنٹ کا ذاتی ملازم چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کی کرسی پر بیٹھا ہے، عاصم منیر رجیم کو پتہ ہے کہ عوام اس نظام سے تنگ آ چکی ہے اور 27 ستمبر کو بہت بڑی تعداد میں عوام نے نکلنا ہے اس لیے لانگ مارچ رکوانے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ #FascismUnderAsimLaw #PakistanUnderMartialLaw

Qasim Khan Suri

23,119 views • 17 days ago

پنجاب میں اہم قانون سازی۔۔ انسداد دہشت گردی ایکٹ میں ترمیم۔۔ نامعلوم جج، نامعلوم وکیل، نامعلوم استغاثہ ہو گا۔۔ پولیس آفیسر ڈیفنس کونل خفیہ ہوں گےگواہوں کے نام کی جگہ نمبر ہوں گے۔ پی ٹی آئی کمیٹیوں میں نہیں ہے اس لیے یہ بل پنجاب کی کمیٹیوں سے منظور ہو گیا۔۔ مگر جب ایوان میں آیا تو شور مچا۔۔ یہ وہ اختیار ہے جوپہلے عدلیہ کے پاس تھا اور اب 20 گریڈ کے افسر کو دے دیا گیا۔۔ آج اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ عمران خان اور بشری بی بی کو قید تنہائی میں نا رکھا جائے، انہیں ٹی وی، کتابیں، اخباریں دی جائیں اور ملاقاتیں بحال کی جائیں اور آج ہی عمران خان سے ان کی فیملی کی ملاقاتیں نہیں کروائی گئیں۔۔ دوسری جانب اہم ترین یہ کہ ذرائع کے مطابق ملک میں انتظامی یونٹس کے قیام پر حکومت کو نومبر کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے۔۔۔ 16 ستمبر کو توہین عدالت،، 27 ستمبر کا لانگ مارچ، پیپلز پارٹی کی بدلتی سیاست، اور انتظامی یونٹس پر نومبر اہم۔۔۔ ہونے کیا جا رہا ہے۔ #FaislaAapKa TEAM | Hum News

Asma Shirazi

25,423 views • 25 days ago

سات ستمبر کو یومِ فتح سے قبل ہم چھ ستمبر کو یومِ دفاع بھی مناتے ہیں،تسلسل کے ساتھ پاکستان ایک دن چھ ستمبر اور اگلے روز سات ستمبر کا دن مناتا ہے۔ چھ ستمبر 1965 کو جب سیالکوٹ اور لاہور کی سرحدات پر انڈیا کی فوجوں نے حملہ کیا اور ہماری افواجِ پاکستان نے اپنی جانوں پر کھیل کر دشمن کو پسپا کیا،وہ بھی تاریخی دن تھا۔ چھ ستمبر پاکستان کی جغرافیائی حدود کے تحفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے، اور سات ستمبر 1974 کا واقعہ پاکستان کی نظریاتی حدود کے تحفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ تو یہ سمجھ دینا چاہیے کہ جہاں پاکستان کو جغرافیائی حدود کے تحفظ کی ضرورت ہے، وہاں پاکستان کو نظریاتی حدود کے تحفظ کی بھی ضرورت ہے، اور یہ دونوں مل کر ہمیں جاننے چاہیے۔ پاکستان کے عوام پاکستان اور اسلام سے محبت کرتے ہیں، البتہ دونوں حوالوں سے، پاکستان کی جغرافیائی حیثیت کے حوالے سے بھی اور پاکستان کے نظریات کے حوالے سے بھی، پاکستان کا عوام اس وقت عدمِ تحفظ کے احساس سے وابستہ ہے۔ ہمیں ایک مضبوط پاکستان چاہیے اور ہمیں ایک اسلامی عادلانہ مملکت چاہیے، ایک ایسا نظامِ عدل جو انسانی حقوق کا محافظ ہے، جو قیامِ امن کا ضامن ہو، جو خوشحال معیشت کی ضمانت دیتا ہو۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

19,920 views • 18 days ago

27 ستمبر کو اسلام آباد ایک بار پھر سیاسی میدانِ جنگ بن سکتا ہے۔ ایک طرف پی ٹی آئی نے عمران خان کی رہائی اور آئین کی بالادستی کے نام پر لانگ مارچ کا اعلان کردیا ہے، دوسری طرف حکومت نے کنٹینرز، ہزاروں پولیس اہلکار، گرفتاریوں اور غیر معمولی سکیورٹی انتظامات کے ذریعے دارالحکومت کو تقریباً سیل کرنا شروع کردیا ہے۔پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ اس کے تقریباً 1500 کارکن گرفتار ہوچکے ہیں جبکہ عمران خان کی تینوں بہنوں کو بھی 30 دن کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔ اٹک پل سمیت اہم راستوں پر دو ہزار سے زائد کنٹینرز لگائے جاچکے ہیں اور ہزاروں اضافی پولیس اہلکار اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔ افسوسناک حقیقت ہے کہ یہ ناممکن ہے کہ 27 ستمبر کو پی ٹی آئی احتجاج سیاسی طاقت کا پرامن مظاہرہ رہے کیونکہ اب تک کہ حکومتی اقدامات ایک نئے تصادم کی جانب بڑھتے نظر آرہے ہیں آج آن مائی ریڈار میں سینئر تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی اور فہد حسین اس انتہائی نازک صورتحال کا گہرا تجزیہ کریں گے۔ مکمل شو دیکھنے کے لیے OMR یوٹیوب لنک پر کلک کریں

Kamran Khan

35,312 views • 4 days ago

🚨🚨 بریکینگ نیوز : حکومت کو گھر جانے کا خوف, اگلے چھ ماہ تک پنڈی پر مکمل فوج کا قبضہ, سید ذیشان عزیز کا اہم تجزیہ۔!!!!🔥🔥🔥 پنڈی مکمل فوج کے حوالے کر دیا گیا ہے, وفاقی حکومت نے یہ بڑا اقدام اٹھایا ہے ۔ اور اگلے چھ ماہ کیلئے پنڈی میں فوج تعینات کردی گئی ہے ۔ اگلے چھ ماہ جو ہم آپکو بتاتے آرہے ہیں کہ ستمبر, اکتوبر, نومبر یہ انتہائی اہم ہیں, پاکستان کی سیاست کے لیے ۔ ایک تو پی ٹی آئی اعلان کر چکی ہے, 27 ستمبر کی کال کا۔ جب کل سہیل آفریدی سے پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا 27 ستمبر کی کال برقرار ہے ۔ اور پہلے سے زیادہ شدت سے ہوگی ۔ اور عمران خان نے اندر سے جو پیغام بھیجا ہے, سہیل آفریدی کے لئے وہ پیغام اب مزید پریشر بنا چکا ہے ۔ پہلے تو یہ ایک خدشہ تھا کہ عمران خان لانگ مارچ کا کہتے ہیں یا نہیں ۔ اب تو پیغام آگیا ہے۔ کہ لانگ کرو, لانگ مارچ ہر صورت کرنا ہے ۔ اور تیزی سے کرو ۔ دوسراں آگے 28ویں ترامیم آنی ہے, جس میں سیاسی جماعتیں یا لوگوں کیطرف سے کچھ ایسے ری ایکشن کی امید کی جا رہی ہے, کہ کہیں لوگ باہر نہ نکل آئیں ۔ اس کے تناظر میں بھی یہ باتیں ہورہی ہیں, کہ یہ جو چھ ماہ کیلئے پنڈی فوج کے حوالے دیا ہے, یہ وہ وجہ ہوسکتی ہے ۔اور پھر آگے وکلاء کی بھی چند activities ہونی ہیں ۔ جس کا علی احمد کرد اعلان کرچکے ہیں, اور آج لاہور ہائیکورٹ بار کے جو صدر ہیں, بابر مرتضی انہوں نے بھی یہ اعلان کیا ہے کہ, اگر حکومت عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال شفٹ نہیں کرتی ہے۔ تو پھر چھٹیاں ختم ہونے کے بعد پنجاب اسمبلی کے باہر دھرنا دیا جائیگا ۔ تو یہی وجہ ہے کہ حکومت کو آنے والے مہینوں میں شدید خطرہ ہے کہ وہ کسی نہ کسی طریقے سے جاسکتی ہے, ۔ ان کے اوپر پریشر بلڈ ہوسکتا ہے ۔ اس لئے پنڈی کو تو پہلے ہی فوج کے حوالے کر دیا ہے ۔🔥🔥🔥🚨

Anisha KHAN

38,036 views • 1 month ago