Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

محسن صاحب نے بات کی نہ میں رہوں گا یا نہیں رہوں گا :نجم سیٹھی نوکری رہے یا نہ رہے لیکن ممدانی اور صادق خان آئیں گے :عائشہ ناز پچھلے 6 ماہ بڑے مشکل رہے محسن نقوی کے لئے دو منسٹریز کو ہینڈل کرنا اس کے بعد پھر خارجہ...

23,489 Aufrufe • vor 13 Tagen •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

پارلیمان کے باہر کھڑے ہو کر یہ بات کرنا برا لگتا ہے، میں کل اس پر بولوں گا۔ کل بولوں گا۔ بات یہ ہے کہ... دکھ ہوتا ہے۔ اس پارلیمنٹ ہاؤس میں، پارلیمنٹ کی وردیاں پہن کر لوگ، پارلیمنٹ کے ممبران کو چوہوں کی طرح ڈھونڈ رہے تھے۔ نہ کسی کو معطل کیا گیا، نہ کسی کو نکالا گیا اور نہ کسی پر یہ الزام لگا کہ تم کون ہو؟ تم کون ہوتے ہو پارلیمنٹ میں آ کر لوگوں کو اٹھانے والے؟ جو سارجنٹ ایٹ آرمز تھا، اسے تو ڈی جی کوسٹ گارڈ لگا دیا گیا۔ کیپٹن اشفاق کو اپ گریڈ کر کے آپ کے صوبے میں ڈی جی کوسٹ گارڈ لگا دیا گیا، جس نے آ کر اس کارِ خیر میں حصہ ڈالا تھا۔ یہ کیسے چلے گا؟ یہ کیسے ہوگا؟ آپ پوچھیں، کل ہم اس پر بھی بولیں گے۔ میں نے تو بار بار کہا ہے، پتا نہیں مجھے کیا بیماری لگ گئی ہے کہ میں بار بار یہ شور مچا رہا ہوں (رولا ڈال رہا ہوں) کہ مینڈیٹ کی چوری ہوئی ہے، یہ غلط حکومت ہے۔ لیکن بار بار یہ باتیں کرنا برا لگتا ہے۔ لوگوں کو بار بار یہ کہنا برا لگتا ہے۔ جس طرح یہ حکومت آئی ہے، آپ بھی جانتے ہیں اور میں بھی جانتا ہوں۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ یہ سب کام ان اداروں نے کیا ہے جو خود کو پاکستان کا سب سے وفادار اور طاقتور (پاورفل) ادارہ سمجھتے ہیں۔ ​کیوں؟ کیا کبھی آپ نے دیکھا ہے کہ اسمبلیوں میں منڈیاں لگائی جاتی ہوں؟ سینیٹ کی قیمت یہ ہے، قومی اسمبلی کی قیمت یہ ہے، صوبائی اسمبلی کی قیمت یہ ہے... کون بولیاں دے گا؟ آپ جیسا غریب آدمی؟ یا یہ شرارتی آدمی بولیاں دے سکے گا؟ ڈرگ ٹریفکرز (منشیات فروش) بولیاں دیں گے، سمگلر بولیاں دیں گے۔ پھر اس ملک کا کیا حال ہوگا؟ اور پھر صادق سنجرانی جیسا آدمی آئے گا، اس قسم کا ایوان (ہاؤس) بنے گا جس میں عوام نہ ہوں، غریب نہ ہوں، صحیح نمائندے نہ ہوں۔ ​عمران کے ساتھ میرا کیا واسطہ ہے؟ عمران جب اس پارلیمنٹ کا گھیراؤ کر رہا تھا تو میں اس کا مخالف تھا، میں اس کا سب سے بدترین مخالف تھا۔ لیکن یہ پارلیمنٹ ہمیں عزیز ہے۔ اس کے خلاف جو بھی آگے بڑھے گا، کوئی اور کھڑا ہو یا نہ ہو، محمود کھڑا ہوگا۔ قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

13,758 Aufrufe • vor 3 Monaten

سوال: اچھا مولانا صاحب ملک کے بہتر مفاد میں آپ عمران خان سے بھی مل سکتے ہیں ان کو شامل ہونے کی دعوت دے سکتے ہیں؟ جواب: دیکھیے ہر چیز باوقار انداز سے ہو اس میں کوئی شک نہیں کہ دس بارہ سال ہم ایک دوسرے کے بڑے مد مقابل رہے ہیں اور ہمارے بڑے تحفظات ہیں اور ان کو اگر دور کیا جاتا ہے تو ہم سیاسی لوگ ہیں مذاکرات سے بھی انکار نہیں کریں گے اور مذاکرات کے لیے اگر ماحول بنتا ہے تو اس کی بھی حوصلہ افزائی کریں گے ہم کوئی مستقل جھگڑے اور جنگ اور تلخیاں اس کو باقی رکھنا نہ ملک کے مفاد میں سمجھتے ہیں نہ ہمارے سوسائٹی کے مفاد میں ہے۔ سوال: آپ کی طرف سے ویلکم ہے عمران خان کے لیے۔۔ تو یہ ذرا واضح کیجیے گا اگر آپ کو ضرورت پڑتی ہے یا۔۔۔۔ جواب: میرے پاس ان کے دو وفود آئے ہیں اس کے باوجود ان کے لوگ جو ہیں وہ مجھے مسلسل مل رہے ہیں چاہے آف دی ریکارڈ مل رہے ہیں یا میڈیا کے سامنے بھی مل رہے ہیں تو ملتے ہیں اور یہی گفتگو چل رہی ہے کہ آپس کے جو تحفظات ہیں کس طرح ان کو دور کرنے کے لیے ماحول بنایا جائے۔ سوال: مولانا صاحب ابھی آپ نے فرمایا کہ 10 12 سال کی تلخیاں تھی اب آپ سیاسی طور پر کہہ رہے ہیں کہ سیاسی لوگ دروازے کھلے رکھتے ہیں تو جو سب سے زیادہ پچھلے سات آٹھ سالوں میں آپ کی طرف سے الزام کہ یہ یہودی لابی ہے تو یہ سیاسی تلخیاں ختم ہوں گی تو آپ ان کو یہودی لابی سے مسلمان لابی میں کیسے دیکھیں گے؟ جواب: یہ بات ذہن میں رکھے اگر ہم نے برصغیر کی سیاست میں کسی کو انگریز کا ایجنٹ کہا ہے یا ہم نے عالمی سطح پر کسی کو امریکہ کا ایجنٹ کہا ہے تو یہ عنوان ہے یہ گالی نہیں ہے مطلب یہ ہے کہ جو عالمی سطح پر ایک ورلڈ وائڈ جو ایکنامک نیٹ ورک ہے اور اس کے اوپر جو جیوش کی ایک بالادستی ہے جب میں دیکھوں گا کہ میرے ملک کو بھی اس نیٹ ورک کے اندر ڈالا جا رہا ہے اور یہاں پر میں سود کے خاتمے کی بات کرتا ہوں اور میں مکمل طور پر عالمی سطح پر سودی نظام کے اندر جا رہا ہوں ان کی معیشت کے اصولوں کے مطابق چلوں گا تو اس سے میرا اختلاف ہوگا اب اس اختلاف کا عنوان اگر یہ ہے کہ یہودی ایجنٹ تو اس کو گالی کیوں کہا گیا اس کو سنجیدگی سے لینا چاہیے تھا مجھ سے پوچھنا چاہیے تھا کہ آپ یہ بات کیوں کہہ رہے ہیں اگر میں کہتا ہوں کہ قادیانیوں کو دوبارہ مسلم سٹیٹس پاکستان میں دینا یہ میرے تحفظات ہیں بجائے اس کے کہ آپ مجھے اس کے بدلے میں گالیاں دیں آپ مجھے مطمئن کریں میں پاکستان کا شہری ہوں میرے پیچھے کچھ لوگ ہیں ان کے ایک سوچ ہے ان کے تحفظات ہیں میں ان کے نمائندگی کر رہا ہوں اگر میں کہتا ہوں کہ پاکستان میں مغربی تہذیب کو فروغ دیا جا رہا ہے اور ہماری اسلامی اور مشرقی تہذیب جو ہے اس کا خاتمہ کیا جا رہا ہے اس کے بدلے میں گالی دینے کی بجائے مجھ سے پوچھا جائے مجھ سے بات کی جائے سیاستدان کا کام یہی ہوتا ہے اگر میں نے آپ کے اوپر کوئی اعتراض کیا ہے یا آپ کے ساتھ میں کوئی ایک تحفظات کا اظہار کیا ہے تو اپ کا فرض بنتا ہے کہ آپ یہ بات کہے کہ فضل الرحمان یہ بات آپ کیوں کر رہے ہیں مجھے تاکہ جب میں آپ کے ساتھ اپنی بات رکھوں تو آپ یا مجھے مطمئن کر سکیں اس بات پر کہ میں میرے ایجنڈا نہیں ہے یا یہ کہ یہ میرا ایجنڈا ہے اور آپ کے مفاد کے لیے ہے کچھ تو کرنا پڑے گا نا جی تو یہ چیزیں جو ہیں ان کو سیاسی طور پر ہم لے رہے ہیں اور آج جب ان کے لوگ آئے ہیں اگر یہ لوگ 12 سال پہلے بھی اتے تب بھی میرے یہی ایٹیٹیوڈ ہوتا اور اگر آج آئے ہیں تب بھی میرا وہی ایٹیٹیوڈ ہے

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,018 Aufrufe • vor 2 Jahren

بریکنگ نیوز 🚨خان کا سچا کھلاڑی چھا گیا، شہباز گل صاحب نے اعلٰی ظرفی کی مثال قائم کردی۔ شفیع جان کو معاف کرتے ہوئے ساتھ ہی بڑا اعلان کردیا۔ کوئی بھی اب تنقید نہ کرے شفیع جان پر 🔥🔥 ایک دو دن پہلے شفیع جان صاحب جو مجھ سے چھوٹے بھی ہیں، ہماری پارٹی کے بھی ہیں۔ چلیں جو بھی انہوں نے کہا ان کی مہربانی۔ میں سب سے یہ بھی ریکویسٹ کروں گا کہ اب شفیع جان پر مزید تنقید کرنا بند کر دیجئے۔ جو بھی ہے ہماری پارٹی سے ہے۔ چھوٹا ہے ہم سے، ظاہر ہے وہ وہاں پر جن کے ہاتھوں میں جکڑے ہوئے ہیں، میرا خیال ہے ان کے ہاتھوں اتنے مجبور ہیں کہ انہوں نے اپنے بڑے بھائی کے گریبان پر بھی ہاتھ ڈال لیا۔ میرے خیال میں یہ سہیل آفریدی کی اور شفیع جان کی شاید، میں حسنِ ظن رکھتے ہوئے یہ سوچتا ہوں کہ شاید ان کا اپنا فیصلہ نہ ہو، انہیں شاید یہ بھی کہا گیا ہو یا مجبور کیا گیا ہو یہ کرنے کے لیے۔ یا وہ اتنے رَیٹل ہو گئے، رَیٹل کا مطلب یہ کہ یہ جو پریشر آیا، پہلے بھی پریشر میں ہیں، پھر ۲۷ پر علیمہ خان صاحبہ نے بھی سوال اٹھا دیا کہ ۱۳ اگست کیوں نہیں، میں نے بھی اٹھا دیا باقی لوگوں نے بھی۔ ہم نے جو سوالات اٹھائے اس میں شاید ان کو پتہ تھا اور یہ بھی ان کی مہربانی کہ انہوں نے علیمہ خانم صاحبہ پر حملہ نہیں کیا، وہ ہم سب کے لیے بڑی عزت کی جگہ پہ ہیں، انہوں نے اس کام کے لیے مجھے چنا تو میں ان کا شکر گزار ہوں کہ کم از کم انہوں نے علیمہ خانم صاحبہ کو بخشا اور میرا انہوں نے انتخاب کیا کہ انہوں نے مجھ پر تنقید کرنی ہے، لیکن اب جو بھی ہوا، شاید وہ پریشر میں ہوا، دل سے ہوا، بددلی سے ہوا، جیسے بھی ہوا۔ لیٹس گیٹ اوور اٹ (Let's get over it)۔ اب ان پر مزید، آپ سے میری التماس ہے کہ مزید شفیع جان پر کسی قسم کی تنقید مت کیجئے۔ میں بھی کوشش کروں گا کہ اگلے ۱۵ سے ۲۰ دن، یہ جو ۲۷ تاریخ کا انہوں نے دن چنا ہے، اس پر میں ذاتی حیثیت میں کوئی تنقید نہ کروں۔ ہاں اگر کوئی ڈیولپمنٹ (development) ہوتی ہے، اہم ایشو ہوتا ہے، کسی کا بیان ہے، کسی کا ایکسپریشن (expression) ہے، وہ تو آپ کے سامنے رکھوں گا، لیکن کوشش کروں گا کہ وہ جو کچھ لوگ ہماری پارٹی میں یہ کہتے ہیں کہ یہ وقت اکٹھے ہونے کا ہے، جیسی تیسی بھی انہوں نے اب کال دے دی ہے، آپ ان کے پیچھے کھڑے ہوں اور آپ ان پر تنقید نہ کریں، میں اب ان کے، آپ یہ کہیے کہ ان کی دلجوئی کے لیے کوشش کروں گا کہ اگلے ۱۵ سے ۲۰ دن اس پر بات نہ کروں اور اگر ان ۱۵ سے ۲۰ دنوں میں مجھے کچھ ہوتا ہوا نظر آیا، تو پھر میں ۲۷ ستمبر تک جیسے میں نے پہلے ۵ مہینے ان کنڈیشنلی (unconditionally) سہیل آفریدی کے جو پہلے ۵ سے ۶ مہینے تھے، وہ آؤٹ آف دی وے (out of the way) جا کے انہیں سپورٹ کیا، کوئی احسان نہیں کیا، میرا کرنا بنتا تھا، ابھی بھی کوشش کروں گا۔ اگلے ۱۵ سے ۲۰ دن اگر تو وہ کچھ نہ کچھ کرتے ہیں ان ۱۵ سے ۲۰ دنوں میں، تو میں وہ بھی سپورٹ کروں اور پھر ۲۷ تاریخ تک بھی بھرپور سپورٹ کروں اور دیکھوں کہ کیا کرتے ہیں۔ لیکن اگر اگلے ۱۵ سے ۲۰ دن تک ہم نے وہی کام دیکھا جو عمران خان رہائی فورس کے وقت تھا، رمضان سے پہلے جو ایک اعلان کیا گیا، پورا رمضان گزرا، چھوٹی عید، پھر سارا درمیان کا وقت، پھر بڑی عید، پھر محرم، سب کچھ گزر گیا لیکن رہائی فورس میں کچھ ہوتا ہوا ہمیں نظر نہیں آیا۔ اگر اگلے ۱۵ دن میں وہی سب کچھ ہوا اور کوئی ایکٹیویٹی (activity) نظر نہ آئی، تو پھر مجھے دوبارہ سے تنقید کرنی پڑے گی، میری چوائس (choice) نہیں ہوگی، میری مجبوری ہوگی، مجھے لگے گا کہ یہ بددیانتی ہے عمران خان کے ساتھ، ڈاکٹر یاسمین راشد کے ساتھ، بشریٰ بی بی کے ساتھ، جتنی سخت جیل وہ قیدِ تنہائی میں کاٹ رہے ہیں۔

‏زہـــرہ لیــاقت

12,770 Aufrufe • vor 1 Monat

اگر جنرل صاحب کہتے ہیں آپ مجھے بھی کچھ نہ کہیں میں جو کچھ کروں میری مرضی ہے نہ میری عقل کسی کی پابند ہے نہ میری محنت کسی کی پابند ہے میرے خیال میں یہ درست نہیں ہے اگر ہم سیاسی جماعتوں پر تنقید کر سکتے ہیں ہم صدر اور وزیراعظم پر تنقید کر سکتے ہیں یا تو پھر یہ کہیں کہ ہمارا ادارہ جو ہے وہ سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور جنرل آ کر ٹی وی پر کبھی کہتے بھی ہیں کہ ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں لیکن اگر واقعتا ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے الیکشن میں کوئی دھاندلی نہیں کرتے الیکشن میں ان کا کوئی کردار نہیں ہوتا تو پھر تو ہم بھی کہیں گے کہ ہم نے غلط کیا لیکن اگر وہ الیکشن میں بھی اپنی دھاندلیاں کرتے رہے یعنی عجیب بات یہ ہے کہ اس 24 کے الیکشن میری معلومات کے مطابق 70 ارب روپیہ ایک صوبے سے انہوں نے نکالا کہتے ہیں کہ کس طرح ہم ان کو کہیں ابھی کہتے ہیں کہ اپ حافظ جی یا نابینہ کو نابینا نہ کہیں وہ بتائیں کہ اگر نابینے کو نابینا نہیں دیں گے تو کیا کہیں گے۔ مولانا عطاء الرحمن صاحب #سلیکشن_مافیا_نامنظور #آئین_شکن_مقدس_گائے #معافی_مائی_فٹ #لشکر_نہیں_خود_لڑو #شہداء_کو_ڈھال_نہ_بناؤ #پروپیگنڈہ_چھوڑو_امن_دو

Sadaqat Khan

19,578 Aufrufe • vor 2 Monaten