正在加载视频...

视频加载失败

مریم نواز نے جو ہار اپنی بیٹی کو پہنایا اس ہار کو پاکستان لایا گیا ہے اس ہار پر کوئی ٹیکس یا ڈیوٹی ادا کی گئی ؟ ہماری اطلاعات کے مطابق نہیں کی گئی 2 ارب کی لاگت پر %20 کسٹم ڈیوٹی اور فرض کیا سیلز ٹیکس %18 اور...

39,739 次观看 • 7 天前 •via X (Twitter)

15 条评论

Qaidi # 804 的头像
Qaidi # 8047 天前

جناب یہ ہار تو سب کرپشن میں ثابت ہو بھی جائے گا مگر کیا کوئی نئی بات ہوگی ؟ ہم سب جانتے ہیں کہ شریف تو پہلے دن سے ہی چور ہیں مگر کیا کسی نے باجوہ کی کرپشن پر ایسی فائلیں بنائیں ؟ کیا کسی اور جرنل کے بیوی بچوں کی جائیدادیں چیک کیں ہیں ؟ یہ شریفوں کی کرپشن آپ لوگ بھول جائیں گے لہذا جو اصل برائی کی جڑ پر زیادہ ٹائم لگائیں اور شریفوں اور زرداریوں پر اتنا ٹائم لگائیں جتنی ان کی کرپشن میں حصہ داری ہے ۔

شاکر بلوچ 的头像
شاکر بلوچ7 天前

ہیلو لنگڑیال صاحب نوٹس کریں پلیز @FBRSpokesperson

Vicky 的头像
Vicky7 天前

بھلا جنرل رانی سے بھی کوئی سوال کر سکتا نیب کی کیا مجال

🅢🅐🅜🅐🅝 的头像
🅢🅐🅜🅐🅝7 天前

ملک اب پاکستان نہیں شریفستان ہے جہاں چوروں کو چوری کی کھلی آزادی ہے

Zia ur Rehman 的头像
Zia ur Rehman7 天前

hu sakta london jany ka maqsad b woh necklece smuggle krna hu isi lya commercial flight se avoid kia gya

Saleem Akhter 的头像
Saleem Akhter7 天前

Halwaai ki dukaan NANA JI KI FAATEHA program jaaree hay bhai zaalimo ne loot maar program jaaree rukkha hua hay

Dr 的头像
Dr7 天前

میڈم اربوں کھربوں کی جائیداوں کے مالکوں کی لائ گئ ہے جو خود سرکاری تنخواہ میں اپنا حساب نہ دے سکیں اس کا کیا دیں گے ملک ایک بنانا ری پبلک ہے اور حالات اس سے بھی بدتر ہوتے جارہے ہیں

Khawaja Asif Tiger Force 的头像
Khawaja Asif Tiger Force7 天前

@AzmaBokhariPMLN take up this, matter

Shahina Awais 的头像
Shahina Awais7 天前

@asad_fozia22241 ھار ھی چوری کا ھے تو ڈيوٹی کيا لگے گی ۔ کبھی چور نے بھی اپنی جيب سے کچھ ديا ھے ۔ آپ اتنے سينير ھو کر بچوں جيسی بات کر رھے ھيں

mushtaq jumma 的头像
mushtaq jumma7 天前

اس پر سب سے ذیادہ خوش حمزہ شہباز شریف ھو رھا ھوگا

Mehwish Jabeen 的头像
Mehwish Jabeen7 天前

Where did funds for that expensive necklace originate?

Iram 的头像
Iram7 天前

@AzmaBokhariPMLN ????

Profile Pro 的头像
Profile Pro7 天前

Mariyam ne elections se pahlay aoni property 0 batai. Phr elections mai 2.5 cror k batai. Jab k beti k nikkah p 42 million dollar ka set bana diya. Baqi bhe kharcha isi hisab s hoga. Pvt plane mai saman kisne check krna. Jitny marzi bag 💰 le jao

PakiMamba 的头像
PakiMamba7 天前

Bro tomorrow if I bring PS5 to the airport. The customs will confiscate it until I pay the duties. And for them a $15M necklace comes but no taxes.

Liaqat Ali 的头像
Liaqat Ali7 天前

Punjab plane is for that purpose

相关视频

میں جس علاقے سے تعلق رکھتا ہوں، اس علاقے میں جو سب سے زیادہ فصل ہوتی ہے وہ تمباکو ہے۔ 70 فیصد میرے علاوہ تمباکو کے کاشتکار ہیں۔ یہ کیش کراپ ہے جس کی وجہ سے ہماری اکانومی چلتی ہے۔ یہاں میرے بارے میں ایک موصوف صاحب نے کہا کہ شاید میرا تمباکو کا کاروبار یا روزگار ہے۔ میں حلفیہ کہتا ہوں کہ نہ میرا تمباکو کا کوئی کاروبار ہے نہ روزگار ہے اور میں تمباکو کے پتے کو بھی نہیں جانتا۔ لیکن میں اس حلقے کا نمائندہ ہوں جہاں تمباکو کی فصل ہوتی ہے۔ آپ نے تمباکو پر 390 ارب روپے کا ٹیکس لگایا لیکن انٹرسٹنگ بات یہ ہے کہ جب آپ نے ٹیکس لگایا، اس سے پہلے 2023-24 میں ایف بی آر کے اعداد و شمار کے مطابق آپ کی ٹیکس کلیکشن 394 ارب روپے تھی، لیکن جب یہ ٹیکس لگایا تو آپ کی ٹیکس کلیکشن گر کر 165 ارب روپے ہو گئی۔ خیبر پختونخوا کے ان اضلاع میں جہاں تمباکو کی فصل ہوتی ہے، وہاں کے کسانوں کو بالکل کرش کر دیا گیا ہے، کسان بیچارے رو رہے ہیں۔ آپ نے مارکیٹ میں کمپٹیشن ختم کر دی، آپ نے چھوٹے اور بڑے کمپنیوں پر یکساں ٹیکس لگا دیا۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ تیسرا ٹیکس سلیب لے کر آئیں تاکہ کمپٹیشن میں اضافہ ہو اور کسانوں کو اپنی فصل کا اچھا نرخ مل سکے۔

Asad Qaiser

45,184 次观看 • 3 个月前

ہمیں بہت افسوس سے یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ مالاکنڈ ڈویژن اور فاٹا پر جو ٹیکس لگایا گیا ہے، وہاں کسٹم ایکٹ، انکم ٹیکس اور دیگر ٹیکسز کو توسیع دی گئی ہے۔ ہم اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں پہلے ہماری وزیرِ اعظم سے بات ہوئی، پھر وزیرِ خزانہ سے ہماری بات ہوئی، جن کے ساتھ رانا ثناء اللہ بھی تھے۔ بات ہوئی اور انہوں نے وعدہ کیا کہ ہم یہ ٹیکس نہیں لگائیں گے۔ دوسرا، تمباکو پر جو ٹیکس لگایا گیا ہے، اس پر بھی ہم نے بات کی، لیکن دونوں چیزیں انہوں نے مسترد کر دیں۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ خیبر پختونخوا کے جائز حقوق اور مطالبات کو خاطر میں نہیں لا رہے ہیں۔ این ایف سی میں ہمارے حصے کا مسئلہ ہے، جو ہمیں نہیں مل رہا۔ وفاق کے ذمے ہمارے 434 ارب روپے کے فنڈز ہیں، جو نہیں دیے جا رہے۔ ضم شدہ اضلاع کے بارے میں جو کمٹمنٹ کی گئی تھی، وہ بھی پوری نہیں کی جا رہی۔ میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ اسمبلی کے فلور پر ہم نے بھرپور آواز اٹھائی ہے۔ ان شاء اللہ ہم ہر موقع پر اپنے صوبے کے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں گے۔

Asad Qaiser

12,024 次观看 • 3 个月前

تنخواہ دار طبقے کے لیے ایک بہت بڑی وضاحت یہ ہے کہ جس شخص کی ماہانہ تنخواہ 50 ہزار روپے یا اس سے کم ہے، اس پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا۔ میں یہ بات بالکل واضح کر دوں کہ 50 ہزار روپے ماہانہ یا اس سے کم آمدنی پر زیرو ٹیکس ہوگا۔ اسی طرح جس شخص کی ماہانہ تنخواہ 50 ہزار روپے سے ایک لاکھ روپے کے درمیان ہے، اس پر صرف ایک فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔ اس کے اوپر والے تمام سلیبز میں بھی آپ نے دیکھا ہوگا کہ تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس میں کمی کی گئی ہے۔ اسی وجہ سے اس اقدام کو سراہا جا رہا ہے اور تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ 22 لاکھ سے 32 لاکھ سالانہ آمدن والے طبقے کیلئے ٹیکس کی شرح 23 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد کر دی گئی۔ 32 سے 41 لاکھ سالانہ آمدن والے طبقے کیلئے ٹیکس کی شرح 30 فیصد سے کم کر کے 25 فیصد کر دی گئی۔ 41 سے 56 لاکھ سالانہ آمدن والے طبقے کیلئے ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کر کے 29 فیصد کر دی گئی۔ 56 سے 70 لاکھ سالانہ آمدن والے طبقے کیلئے ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کر کے 32 فیصد کر دی گئی۔ تنخواہ دار طبقے کیلئے ٹیکس میں کمی کے علاوہ سرچارج کا مکمل خاتمہ جو کہ 9 فیصد تھا۔ وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ #AskYourGovernment

Ministry of Information & Broadcasting

22,048 次观看 • 3 个月前

فنڈ ریزنگ، ذمہ داری اور جواب دہی — ایک سنجیدہ سوال 26 نومبر کے المناک واقعے کے بعد بیرونِ ملک پاکستانیوں نے خلوصِ نیت اور انسانیت کے جذبے کے تحت تقریباً 38 کروڑ روپے عطیہ کیے۔ اس فنڈ کا مقصد اُن خاندانوں کی مدد تھا جنہوں نے اس سانحے میں اپنے پیارے کھوئے، یا جو شدید متاثر ہوئے۔ تاہم، آج تک دستیاب معلومات اور ذاتی علم کی حد تک، ایسا کوئی مستند ریکارڈ یا مثال سامنے نہیں آئی جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ اس فنڈ سے متاثرہ خاندانوں کی براہِ راست مالی معاونت کی گئی ہو۔ یہ ایک نہایت سنجیدہ سوال ہے جس کا جواب صرف بیانات سے نہیں بلکہ شفاف حقائق سے دیا جانا چاہیے۔ اگر کوئی متاثرہ خاندان یہ تصدیق کر سکتا ہے کہ اسے اس فنڈ سے کوئی رقم، مدد یا سہولت فراہم کی گئی، تو وہ سامنے آ کر قوم کو آگاہ کرے—یہی شفافیت کا تقاضا ہے۔ یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ متاثرہ خاندانوں کی عملی مدد اب تک علی امین خان کی صوبائی حکومت کی جانب سے کی گئی، جس کے ریکارڈ اور طریقۂ کار سب کے سامنے ہیں۔ اس کے علاوہ، اس عوامی عطیے کی رقم کہاں خرچ ہوئی، کیسے خرچ ہوئی، اور کن کے ذریعے خرچ ہوئی—اس بارے میں خاموشی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ یہ الزام نہیں، بلکہ جوابدہی کا مطالبہ ہے۔ یہ سیاست نہیں، بلکہ امانت کا معاملہ ہے۔ اور یہ اختلاف نہیں، بلکہ متاثرین کے حق کا سوال ہے۔ بیرونِ ملک پاکستانیوں نے یہ رقم اعتماد کے ساتھ دی تھی۔ اب اسی اعتماد کا تقاضا ہے کہ: فنڈز کی مکمل تفصیل سامنے لائی جائے وصولی اور تقسیم کا آڈٹ کیا جائے اور قوم کو بتایا جائے کہ 38 کروڑ روپے آخر گئے کہاں؟ شفافیت اعتماد کو جنم دیتی ہے، اور خاموشی شکوک ک-- ⚖️ ۔

Sher Afzal Khan Marwat

22,192 次观看 • 9 个月前