Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

مریم نواز کہتی ہیں میری بہن اسما شریف کا بڑا بچہ ابراہیم جسکی عمر 18 سال ہے سپیشل چائلڈ ہے ۔۔ اور اس بچے سے ہم پوری فیملی پیار کرتے ہیں ۔۔ اس بچے کی وجہ سے پورے گھر میں رونق ہے برکت ہے خوشی ہے ۔۔ مریم صاحب...

22,506 views • 10 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

🚨🚨 مریم نواز صاحبہ، یہ ایک عورت پر تشدد کا واقعہ ہے۔ اس کی انکوائری کروائیں۔ شفقت عباسی پی ٹی آئی کا ایم این اے ہے اور ایک بدمعاش کی مدد کے لیے آگیا ہے۔ میں نے میانوالی سے پتا کیا ہے کہ مرسلین خان ایک بدمعاش غنڈا ہے۔ وہ اور اس کا بیٹا اپنی بہو کو مار رہے تھے اسے گھر میں بند کر رکھا تھا ۔ اس نے 15 پر کال کی تو پولیس فوری آئی اور انہیں نے مزاحمت کی پولیس پر حملہ کیا جس پر اسے تھانے لے گے تھانے میں اس نے اپنے کپڑے اتار کر شرمگاہ پکڑی اور پولیس سے کہا: میرا یہ دیکھو، تم نے ہمارے گھر کے معاملے میں مداخلت کیوں کی؟ پھر گالی گلوچ شروع کر دی۔ جھگڑا ہوا تو تھانیدار نے پکڑ کر اس کی مونچھیں مونڈ دیں۔ یہ تھانے کی ویڈیو ہے، اس کی گالی گلوچ سنیں۔ مرسلین کا قبیلہ اور برادری میانوالی میں طاقتور ہے، اس لیے سب اس کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ ڈی ایس پی نے ایس ایچ او کو معطل کر دیا اور وہ مظلوم عورت جس پر تشدد ہوا، اس کی جان خطرے میں ہے۔ یہ ہے پنجاب میں عورت کی اوقات۔

RAShahzaddk

14,220 views • 4 months ago

ملک میں جو خود کو ووٹ کو عزت دو کا سب سے بڑا چیمپئن سمجھتا ہے، اس کی حکومت ہے۔ پنجاب میں ان کی بیٹی کی حکومت ہے۔ آج صبح پنجاب میں ہمارا اپوزیشن لیڈر بات کر رہا تھا کہ اس وقت بھی میرے گھر کے سامنے پولیس کھڑی ہے۔ پنجاب میں اگر آپ کا تعلق اپوزیشن سے ہے تو آپ اپنے گھر میں بھی رہائش نہیں رکھ سکتے۔اس وقت نہ کوئی قانون ہے اور نہ ہی آئین، صرف ظلم اور جبر ہے۔ اور جب ظلم حد سے بڑھ جائے تو جہاد لازم ہو جاتا ہے۔ جہاد صرف تلوار اٹھانے کا نام نہیں، جدوجہد سے بھی کیا جاتا ہے، اور یہی جدوجہد ہم پر اس وقت لازم ہے۔عمران خان اس وقت جرأت اور ہمت کے ساتھ اپنا مقدمہ لڑ رہا ہے۔ جب 1992 کا ورلڈ کپ ہو رہا تھا تو وہ ایک کمزور ٹیم تھی، لیکن اللہ نے عمران خان کو عزت دینی تھی۔ پھر جب شوکت خانم ہسپتال بن رہا تھا تو میں خود اس مہم کا حصہ تھا۔ ہم نے پوسٹر لگائے، چندہ اکٹھا کیا۔ ہمیں بھی یہ ناممکن نظر آتا تھا، لیکن اللہ نے عمران خان کے خواب کو پورا کیا۔

Asad Qaiser

15,982 views • 9 months ago

اس شخص کاواحد قصور تھا یہ اپنی ویڈیو میں مریم نواز کو ٹک ٹاکر کہ کر بولتا تھا ۔۔۔ اور اسے نہ صرف کئی ماہ جیل میں رکھا گیا بلکہ بدترین تششدد کیا گیا ۔۔ ڈکی بھای کو دو چار تھپٹر کیا پڑ گے ۔۔ پوری قوم ماتم کرنے لگی ۔۔ صحافی بولنے لگے لبرل بولنے لگے ۔۔ مگر اس شخص کیلے کسی نے آواز نہی اٹھای کیونکہ یہ غریب صحافی تھا ۔۔ سلام ہے اس کی جرات کو ڈٹ کر مقابلہ کیا مگر حق سے پیچھے نہی ہٹا ۔۔ اور ان بد مست ہاتھیوں سے سوال ہے جو ہم پر حکمرانی کر رہے ہیں ۔۔ اپ نے غریب کو مار دیا ہے ۔۔ اپ نے متوسط طبقہ ختم کر دیا اپ نے ملک تباہ کر دیا اس سے بھی دل نہی بھرا اپ نے گلف کنٹری سے خود پاکستانی عوام کے ویزے کرواے ۔۔ بات یہاں بھی نہی رکی ۔۔ اپ نے اب ہر تیس کلومیٹر کے فیصلہ پر ٹول پلازے لگانے کا فیصلہ کر لیا ہے کوی اک انڈسٹری بتا دیں جو اس ملک میں زندہ ہو ۔۔ صحت کارڈ ختم کر دیے ۔۔ بجلی مہنگی کر دی پٹرول آسمان پر لے گے ۔۔ اس کے باوجود اپ ٹک ٹاک پر ڈرامے کریں کہ سب اچھا ہے تو عوام آپ کو کیا بولے ۔۔ پتہ نہی اور کیا کیا دیکھنا ہے اس ملک میں ۔۔

Saleem Speaks

72,397 views • 9 months ago

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان کا سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کے اجلاس میں ایف آئی اے کی جانب سے بے بنیاد الزامات میں گرفتار کسٹم کلکٹر ڈاکٹر کرم الہی بارے اظہار خیال 🟥ڈاکٹر کرم الہی جس کا تعلق پختونخوا کے ضلع دیر سے ہے، ایک نہایت ایماندار کسٹم کلکٹر ہے 🟥عوامی نیشنل پارٹی سے ان کا کوئی تعلق نہیں، نظریاتی طور پر ان کا گھرانہ جماعت اسلامی سے وابستہ ہے 🟥اس کو بلوچستان ٹرانسفر کیا گیا، وہ ایک دیانتدار آفیسر تھا اور کسی دباؤ میں نہیں آرہا تھا 🟥اس سے روابط ہوئے مگر اس نےکوئی بھی غیر قانونی کام سے انکارکیا 🟥دباؤ نہ ماننے کی پاداش میں آج اس کو نشان عبرت بنانے کی کوشش ہورہی ہے 🟥پہلے تو وہ غائب کردیا گیا، کسی کو معلوم نہیں تھا کہ وہ کہاں پر ہے 🟥اس کی فیملی کو ہراساں کیا گیا، اس کا ایک بھائی یونیورسٹی لیکچرر ہے، اس کو بھی اذیت دی گئی 🟥اس کا قصور یہ تھا کہ اس نے 600 کلو غیر قانونی چاندنی پکڑی تھی 🟥چاندنی پکڑنے کے بعد اس کو پختونخوا ٹرانسفر کیا گیا 🟥600 کلو کی چاندنی کی لاہور منتقلی کے وقت 200 کلو نقلی چاندنی کے ساتھ تبدیل کی گئی 🟥اگر اس نے کرپشن کی تھی تو گرفتاری کا بھی ایک طریقہ کار اور ادارے ہیں 🟥مگر یہاں تو 20 دن اس کا پتہ تک نہیں چل رہا تھا کہ وہ کہاں اور کس کے پاس ہے 🟥اگر اس نے کرپشن کی بھی ہے تو اس کے گھر والوں کا کیا قصور تھا کہ ان کو ہراساں کیا گیا 🟥آج وہ ایف آئی اے کی کسٹڈی میں ہے کیونکہ اس نے غیرت کی تھی اور غیر قانونی کام سے انکار کیا تھا #AimalWaliKhan | #ANP

Awami National Party

39,156 views • 1 month ago

میں کیا کہوں؟ پھر وہی عمران خان، کہتے کہتے ہم تھک گئے۔ آج تک اس کی ملاقات پر پابندی ہے! خطرناک؟ جب وہ خطرناک تھا تو پھر آپ نے اسے اپنا وزیرِاعظم کیوں بنایا؟ اور اب یہ غلطی کر رہے ہیں۔ جتنے دن آپ اسے رکھیں گے، اس کی پاپولرٹی آسمان تک پہنچ گئی ہے۔ ​جب عمران نے استعفیٰ دیا تھا یا عدم اعتماد (No-confidence) کی تحریک آئی تھی، تب پارٹی چھوڑنے پر تیار لیڈرز کا گراف نیچے آ گیا تھا۔ پھر خدا بھلا کرے ہمارے دوستوں کا، شہباز شریف اور ان کے دوسرے ساتھی کا؛ ان کو حکمرانی کا بڑا شوق تھا، انہوں نے حکمرانی لمبی کر دی اور عمران خان کی پاپولرٹی واپس بحال ہو گئی۔ ​اب جتنا اسے تنگ کیا جائے گا... آج انتخابات کروا لیں، کسی کو اچھا لگے یا برا، عمران خان پورے پاکستان کو سویپ (Sweep) کر جائے گا۔ پورا پاکستان! وہ بیمار ہے، قیدی ہے، اس کا مطالبہ بھی اتنا بڑا نہیں ہے۔ آپ اسے رات کو پمز ہسپتال لے آتے ہیں؛ وہ خود یا اس کی بہنیں کہتی ہیں کہ فلاں ہسپتال لے جاؤ، تو کسی کو بتائے بغیر لے جائیں، یہ پریشر کم ہو جائے گا۔ بہنیں ملنا چاہتی ہیں، کوئی دوست یا بچے ملنا چاہتے ہیں، بس یہ سختیاں لگی ہوئی ہیں۔ ​انہوں نے کوشش کی کہ وہ شریف آدمی ٹوٹ جائے، لیکن اگر ٹوٹ جاتا تو پتا نہیں کیا ہو جاتا! وہ نہیں ٹوٹا۔ جب نہیں ٹوٹا، تو اب مہربانی کریں اور اس سے بات کریں۔ "مائنس عمران خان" کا فارمولا کوئی قبول نہیں کرے گا۔ یا پھر دوسرا راستہ وہی ہے جو آپ لوگوں نے بھٹو کے ساتھ اپنایا تھا۔ بھٹو غریب ۱۲ مہینے جیل میں رہا، ملاقات کے لیے کم لوگ ملتے تھے، آپ نے جا کر اسے پھانسی چڑھا دیا۔ اب وہ، اس کی بیٹی، اس کا ایک بیٹا، وہ ایک مزارِ شہدا بن گیا جو سندھ کے تمام پیروں سے اوپر چلا گیا۔ اگر عمران خان کے ساتھ بھی یہی رویہ رکھنا ہے، تو پھر پاکستان کو خدا ہی خیر کرے۔ پاکستان، اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔ ​میں اپنے دوستوں سے اپیل کرتا ہوں، یہاں بھی اور اپنے بلوچ بھائیوں سے بھی، کہ مہربانی کریں، آئیں بھائی بندی کی طرح اس صوبے کو چلائیں، گزارا کریں۔ سرفراز، میں کیا کروں؟ مجھے دکھ ہوتا ہے اس کا نام لیتے ہوئے بھی۔ سب کچھ بک رہا ہے؛ نوکریاں بک رہی ہیں، پوسٹیں بک رہی ہیں، پتا نہیں اور کیا کیا بک رہا ہے۔ کہتے ہیں "مجھے وہاں لگا دو، اس کے کروڑ لے لو"، اور پھر ہم ایسے... قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

50,743 views • 3 months ago

یہ کوئی ساڑھے چار سال پہلے کی بات ہے۔ جب ہم بنی گالا شفٹ ہوئے تو ہمارے گھر کے بالکل سامنے ایک کھلا احاطہ ہے، جس کے اندر چار پانچ زیر تعمیر بنگلے ہیں۔ کئی سال سے یہ بنگلے جہاں تھے، وہیں رکے ہوئے ہیں۔ ان کی ایک لمبی چوڑی چھت تھی جہاں کبھی جانور، پرندے اور بلیاں آ کر وقت گزارتے تھے۔ ایک دن اسی چھت پر ہمیں ایک کتا نظر آیا۔ وہ زخمی نہیں بلکہ بیمار تھا اور خارش کی بیماری میں مبتلا تھا۔ اس کے گلے میں پٹا تھا، جس سے لگتا تھا کہ کبھی کسی کا پالتو کتا رہا ہوگا، مگر بیماری کی وجہ سے شاید اسے گھر سے نکال دیا گیا تھا۔ ہم نے دیکھا کہ اسے کھانا دینے والا کوئی نہیں۔ ہمارا گھر گلی کے دوسری طرف تھا، اس لیے ہم نے چھت پر کھانا پھینکنا شروع کر دیا۔ کبھی شاپر میں روٹی باندھ کر اس کی طرف پھینکتے۔ وہ خود شاپر کھول لیتا اور روٹی کھا جاتا۔ اگر روٹی نیچے گر جاتی تو سیڑھیوں سے اتر کر اسے اٹھاتا اور واپس اوپر لے جاتا۔ کئی مہینے وہ اسی چھت پر رہا۔ پھر ایک دن شاید کوئی جانور یا بچے اس کے پیچھے لگے تو وہ دیوار پھلانگ کر ہمارے دروازے تک آ گیا۔ اور پھر وہیں کا ہو کر رہ گیا۔ وہ دن اور کل کا دن، تقریباً ساڑھے چار سال تک، ہمارے دروازے پر رہا۔ آہستہ آہستہ اس کی صحت بہتر ہوئی اور اس نے ہمارے گھر کے تمام افراد کو پہچاننا شروع کر دیا۔ گھر کا کوئی فرد باہر نکلتا تو وہ اس کے ساتھ گلی کے ایک خاص موڑ تک جاتا اور پھر خود ہی واپس آ جاتا۔ رفتہ رفتہ ہمیں محسوس ہونے لگا کہ وہ ہماری زبان بھی سمجھتا ہے۔ کہتے، 'بیٹھ جاؤ' تو بیٹھ جاتا، 'پیچھے ہٹو' تو پیچھے ہٹ جاتا۔ کبھی کوئی دوسرا جانور ہمیں ناپسند ہوتا تو صرف اشارے سے سمجھ جاتا اور اسے بھگا دیتا۔ رات کے دو بجے بھی اگر میں یا میرے دوست زبیر علی خان گاڑی پر گھر آتے تو وہ گاڑی کی لائٹ پہچان لیتا اور گاڑی کے آگے آگے کودتا، ڈانس کرتا اور اپنی خوشی کا اظہار کرتا۔ اگر میں پیدل آتا تو وہ دروازے کے سامنے لیٹ کر میرا راستہ روک لیتا، جیسے پہلے مجھ سے کھیلنا چاہتا ہو۔ کئی بار میں اس کے اوپر سے گزر کر گھر میں داخل ہوتا، اور مجھے اس کی یہ ادا بہت پسند تھی۔ کبھی وہ اپنی اگلی ٹانگیں آگے پھیلا کر سر جھکا لیتا، جیسے ہمارا شکریہ ادا کر رہا ہو۔ گھر کے بچے چاہتے تھے کہ اسے اندر لے آئیں، لیکن اس کی بیماری کی وجہ سے یہ ممکن نہیں تھا۔ تقریباً ڈیڑھ دو سال پہلے میں نے سوچا کہ اسے کسی بہتر جگہ پر ہونا چاہیے۔ میں نے اس کی ایک ویڈیو بنائی اور فیس بک اور ایکس پر پوسٹ کر دی۔ لوگوں نے بہت محبت کا اظہار کیا اور ایک فیملی نے اسے گود لے لیا۔ وہ اسے اپنے گھر لے گئے، اس کی ویکسینیشن کروائی، اسے نہلایا دھلایا، مگر چار دن بعد معلوم ہوا کہ گھر کے تمام افراد دن بھر باہر رہتے ہیں اور وہ سارا دن اکیلا رہ کر پریشان ہوتا ہے۔ ڈاکٹر نے آٹے والی روٹی سے بھی منع کیا تھا اور صرف گوشت اس کی خوراک بنانا ان کے لیے ممکن نہیں تھا۔ یوں وہ دوبارہ ہمارے دروازے پر آ گیا۔ اس وقت تک وہ صرف ہمارا نہیں، پورے محلے کا کتا بن چکا تھا۔ کوئی اسے گوشت ڈالتا، کوئی ہڈی، کوئی چاول اور کوئی روٹی۔ وہ سب سے اپنا حصہ وصول کرتا اور پھر ہماری گاڑی کے نیچے جا کر لیٹ جاتا۔ سیڑھیوں سے کسی کے اترنے کی آواز آتی یا گاڑی ان لاک ہونے کی آواز سنائی دیتی تو وہ فوراً باہر آ جاتا۔ وہ ہمارا رکھوالا، دوست اور ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکا تھا۔ کچھ عرصہ پہلے وہ ایک دوسرے کتے کے کاٹنے سے زخمی ہوا۔ میرے بیٹے محمد اذان مظفر نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر اس کا علاج کیا اور کافی حد تک وہ ٹھیک بھی ہو گیا۔ ہمیں لگا کہ وہ دوبارہ صحت مند ہو جائے گا۔ لیکن پھر ایک دن ہماری گلی میں ایک بڑے گھر کے تین بہت بڑے کتے اپنے ملازم کے ساتھ سیر کے لیے نکلے اور اچانک انہوں نے ہمارے کتے پر حملہ کر دیا۔ اس وقت میں گھر پر نہیں تھا۔ میری بیٹی نے مجھے فون کیا۔ وہ اتنا رو رہی تھی کہ میری جان نکل گئی۔ اس نے کہا: 'بابا! ان بڑے کتوں نے ہمارے کتے پر حملہ کر دیا ہے۔ وہ اسے مار رہے ہیں۔' گھر کے بچے اور بڑے سب رو رہے تھے۔ گلی کے لوگ بھی باہر نکل آئے اور اسے بچانے کی کوشش کرنے لگے۔ میں شہر سے باہر تھا، اس لیے فوراً نہیں پہنچ سکا۔ محلے کے لوگوں سے کہا کہ کسی شیلٹر یا ریسکیو والے سے رابطہ کریں، لیکن اس وقت اس کی حالت بہت خراب ہو چکی تھی۔ واپس آ کر میں نے اس کے زخم دیکھے تو اندازہ ہوا کہ معاملہ کتنا سنگین ہے۔ میں نے اپنی دوست آسیہ انصر سے رابطہ کیا۔ ان کی بیٹی کی کوشش سے ایک شیلٹر ہوم کا بندوبست ہوا اور وہ لوگ اسے ریسکیو کر کے لے گئے۔ اپنی تابعدار عادت کے باعث ریسکیو کے وقت بھی اس نے کوئی ہنگامہ نہیں کیا بلکہ پنجرے کے اندر بھی میرے کہنے پر بیٹھ گیا اور چلا گیا۔ ہمیں تسلی ہوئی کہ اب کم از کم اس کا علاج ہو سکے گا۔

Bashir Chaudhary

15,284 views • 1 day ago